ہمارا معاشرہ ، تنزلی اور اس کا حل

کشمکش جو مذہبی طبقات میں ہے ، سیکولر طبقات میں ہے ، سیاسی جماعتوں میں ہے ، حکومتوں میں ہے ، ملک کے عام افراد میں ہے ، علماء میں ہے ۔ آخر ا سکو کسی جگہ ختم ہونا چاہیئے ۔ یعنی ہر وہ شخص جو اس قوم اور ملک کیساتھ محبت رکھتا ہے ۔ اُسے دیکھنا چاہیئے کہ یہ کشمکش کیسے ختم ہوسکتی ہے ۔
تحقیق کے نتیجے میں سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ خواہ ترکی ہو ، انڈونیشیا ہو ، سعودی عرب ہو ، مراکش ہو یا اپنا وطنِ عزیز ہو ۔ وہاں چند بینادی نکات ایسے ہیں ۔ جو ہماری ملت میں سرے ہی سے منقود ہیں ۔ ان باتوں کو ملحوظِ خاطر نہ رکھنے کہ وجہ سے یہ کشمکش کا طوفان اٹھ کھڑا ہوا ہے ۔ اور یہ کشمکش مخلتف طبقات میں اب جنگ وجدل کا مظہر بن چکی ہے ۔ ان نکات کو اہمیت کی ترتیب کے لحاظ میں یہاں بیان کرنے کی جسارت کررہا ہوں ۔
1 – پہلی بات یہ ہے کہ ہمارا دین بھی اس بات کا تقاضا کرتا ہے اور دنیا کی اقوام بھی صدیوں کے مختلف تجربات کے بات اس نتیجے پر پنہچیں ہیں کہ جہموری معاشرے کو قائم ہونا چاہیئے ۔ یہ پہلی بنیادی چیز ہے ۔ ایک حقیقی جہموریت جو ” اَمرًھُم شُوریٰ بنًیھُم ” کی بنیاد پر وجود میں آئے ۔ لوگوں کی تائید سے قائم رہے ۔ اور ان کی تائید سے محروم ہونے کے بعد اپنا جواز کھو دے ۔ کسی شخص کو یہ اختیار نہ دیا جائے کہ وہ آئین کو توڑ دے ۔ یا وہ کوئی ماورائے آئین اقدام کرے ۔ ایک حقیقی جہموریت ہماری ضرورت ہے ۔ ایک حقیقی جہموریت سے ہی ایک عام آدمی کو تشدد کا راستہ ترک کرنے پر مجبور کیا جاسکتا ہے کہ وہ رائے عامہ کی طرف جائے ۔ جو لوگوں کے افکار پر اثر انداز ہو ۔ اور اس طرح کے پُرامن ذرائع سے ملک میںتبدلیاں لانے کے امکانات پیدا کرے ۔ مثبت تبدلیوں سے معاشرے کو درست کرنا انسان کا حق ہے ۔ اس کا طریقہ کیا ہے ۔؟ اس کا طریقہ یہ ہے کہ ہم اپنی قوم کو اس کا حق دیں ۔ اور قوم کے اس حق کو تسلیم کریں ۔ پارلیمنٹ کو حقیقی بالادستی حاصل ہو ۔ اور ایسا جہموری نظام وجود میں آئے جہاں مذکرات ہو سکیں ، جس میں اختلاف کو برداشت کیا جائے ۔ تو پھر مذہبی طبقات کو بھی یہ بات سمجھائی جاسکتی ہے کہ اگر وہ کسی چیز کو غلط سمجھتے ہیں تو وہ لوگوں کی طرف رجوع کرکے ان کے دل و دماغ کو بدلیں ۔ تشدد صرف اسی صورت میں‌ پیدا ہوتا ہے جب آپ یہ راستہ بند کر دیتے ہیں ۔ اور لوگ مجبوراً اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لیئے پھر غلط طریقے اختیار کرتے ہیں ۔
2 – دوسری چیز یہ ہے کہ نظام تعلیم کے بارے میں لوگ حساس ہوں ۔ کیونکہ نظامِ تعلیم ہی وہ چیز ہے جس سے آپ کسی قوم کو بناتے ہیں ۔ پڑھا لکھا طبقہ ہی پوری قوم پر موثر ہوتا ہے ۔ پاکستان کی بدقسمتی یہ ہے کہ پاکستانی قوم تین نظامِ ہائے تعلیم میں زندگی بسر کر رہے ہیں ۔ میرا خیال ہے کہ اب اس میں اضافہ ہوچکا ہے ۔ مذہبی اور غیر مذہبی کی تفریق موجود ہے ۔ اردو اور انگریزی کی تفریق موجود ہے ۔ دانشوروں کے مطابق بارہویں جماعت تک تعلیم ہر حال میں یکساں ہونی چاہیئے ۔ کسی شخص‌کو اس بات کی اجازت نہیں‌ ہونی چاہیئے کہ وہ اس کے مقابلے میں‌کوئی متوازی نظامِ تعلیم قائم کرنے کی کوشش کرے ۔ پوری قوم کے بچے اور بچیاں بارہویں تک ایک ہی تعلیمی نظام سے گذریں اور پھر اس کے بعد شعور پختہ ہونے کے بعد اگر وہ کسی خاس شعبے میں جانا چاہیں تو بے شک ا سکو اختیار کریں کہ ان کو عالم بننا ہے ، انجینیئر یا پھر ڈاکٹر بننا ہے ۔ مگر اس تفریق نے پوری قوم کو چھوٹے چھوٹے جزیروں میں بانٹ دیا ہے ۔ اور ہر نظام سے ایک نئی امت پیدا ہونی شروع ہوگئی ہے ۔ مدرسوں کی اصلاح سے کچھ حاصل نہیں ہوگا ۔ جب تک ملکی سطح پر ایک یکساں منظم تعلیمی نظام وجود پذیر نہیں ہوگا یہ تفریق قوم کو یونہی بھٹکاتی رہے گی ۔
3 – ہماری مسجدیں ایک بہت بڑا انسٹیٹوشنز ہیں ۔ اور اگر اسلامی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو یہ معلوم ہوگا کہ جمعہ کا دن مقرر کرنے کا مقصد یہ تھا کہ ریاست کو مسجد سے متعلق کیا جائے ۔ اسلامی قانون کے مطابق جمعہ کا منبر حکمرانوں کے ساتھ خاص ہے ۔ یہ ان کا کام ہے کہ وہ خطبہ دیں ۔ وہ نماز کا اہتمام کریں ۔ تاکہ معاشرے کے ساتھ ساتھ اللہ کے ساتھ بھی ان کا تعلق استوار ہو ۔ ہم نے یہ منبر علماء کے سپرد کردیا ہے ۔ اس کے نتیجے میں فرقہ بندی پیدا ہوئی اور اسی کے نتیجے میں مذہبی لوگوں کے درمیان قلعے وجود میں آئے ۔ اس سے مسجدوں کی تفریق کی بنیاد پڑی ہے ۔ اب وہی مسجدیں اور مسجدوں کا منبر ہے جہاں سے ایک دوسرے کے خلاف فتوے داغے جاتے ہیں اور یوں فساد کا ذریعہ پیدا ہوگیا ہے ۔ وہ جگہ جو ہمارے لیئے عبادت کی مقدس جگہ تھی ۔ اب اسی کو ہم سیاست کا اکھاڑہ بنائے ہوئے ہیں ۔ لہذا یہ ضروری ہے کہ اس بارے میں ریاست کے ذمہ دار لوگوں کو اس بات کی طرف توجہ دلائی جائے کہ اللہ کے پغیمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ منبر تمہارے سپرد کیا تھا ، اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرو ۔ اور جس طرح دوسرے کام کرتے ہو بلکل اسی طرح اس منبر کو بھی سنبھالو ۔ تاکہ یہ قومی وحدت کا ذریعہ بنے اور اس کے ذریعے ریاست اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے قابل ہو ۔
4 – یہ ایک حقیقت ہے کہ معاشرے میں لوگ زیادہ تر حساس سماجی برائیوں کے بارے میں ہوتے ہیں ۔ جرائم کے بارے تو قانون سازی ہوجاتی ہے کہ پولیس اور فوج آگے آجاتیں ہیں ۔ سماجی برائیوں کے بارے میں قرآن مجید نے بھی ہم پر یہ ذمہ داری ڈالی ہے ۔ پارلیمنٹ میں قانون سازی کرکے ” معروف منکر ” کے حدود متعین کرکے ہمیںچاہیئے کہ ہم اس مقصد کے لیئے ایک الگ محکمہ قائم کریں ۔ مذہبی لوگ یہی مطالبہ کرتے ہیں ۔ یہ بات قرآن مجید میں بھی بیان ہوگئی ہے ۔ لہذا سماجی برائیوں کے لیئے پارلیمنٹ میں قانون سازی کرکے علماء کو بڑی حد تک اس سے متعلق کیا جاسکتا ہے ۔ اس طرح وہ بھی ریاست کے نظام کا ایک حصہ بن کر اسے ایک چلینج سمجھ کر خدمات انجام دے سکتے ہیں۔ اگر ایسا نہیں کیا جائے گا تو اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ مطالبات کی صورت میں یہ چیزیں پیش ہوتیں رہیں گی اور ایک کشمکش کا میدان وجود میں آجائے گا ۔ سماجی برائیاں جیسے رشوت ، بدیانتی ، خیانت ، کم تولنا ، لوگوں کیساتھ ظلم کیساتھ پیش آنا اس طرح کی بہت سی چیزیں ہیں جس کا ہر حکومت قلم قلع کرنا چاہتی ہے ۔ لہذا اس کی قانون سازی کی ضرورت ہے ۔ اس کے حدود قرآن نے متعین کردیئے ہیں اور پارلیمنٹ بھی متعین کر سکتی ہے ۔ اس سے کسی بھی خفلشار کا اندیشہ پیدا نہیں ہوگا ۔ جرائم کے بارے میں پولیس سختی کرتی ہے ۔ مگر سماجی برائیوں کے لیئے اصلاح کا طریقہ اپنایا جائے ۔ یعنی یہ کوئی لوگوں کو سزا دینے کا محکمہ نہیں ہونا چاہیئے بلکہ اصلاح کا ، لوگوں سے رابطے کا ، یہ ایک سماجی شعور لوگوں میں بیدار کرنے کا ذریعہ ہونا چاہیئے ۔ اور اس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ یہ کام مذہبی لوگوں کے سپرد کردیا جائے ۔
5 – ہمارا عدالتی نظام جس حد تک پست ہوچکا ہے ۔ جس طرح لوگ اس نظام سے نالاں ہیں اور جس قدر اس سے لوگوں کی شکایتیں وابست ہوچکیں ہیں کیونکہ اس نظام میں انصاف بلکل منقود ہوچکا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انصاف ، ریاست میں ترجیح نہیں ہے ۔ اگر آپ انصاف کا اہتمام کردیتے ہیں تو لوگوں کو ایک چینل مہیا ہوجاتا ہے جہاں وہ جاکر باآسانی اپنی بات کہہ سکتے ہیں ۔ اور جو مشکلیں اور مصبیتیں ان کو درپیش ہوتیں ہیں ۔ وہ ان کا مداوا بنے کا موحب بن جاتا ہے ۔ انتشار اور خود ساختہ لاقانونیت ختم ہوجاتی ہے ۔
یہ وہ نکات ہیں کہ جو معاشرے میں‌ سرِفہرست موضوع بننے چاہئیں ۔ اس پر جہدوجہد ہونی چاہیئے ۔ اس پر ایک اتفاق رائے قائم ہونا چاہیئے ۔ تاکہ معاشرہ بحیثتِ مجموعی اس کو اپنے نظم کا حصہ بنائے ۔ اور جہاں تک میرے تاثر کی بات ہے کہ اگر ہم ا سکو اپنے معاشرے میں قائم کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو اس کمشکش کا بڑی حد تک خاتمہ کیا جاسکتا ہے ۔

چند حسینوں‌کے خطوط ، چند تصویرِ بُتاں ( قصہِ پنجم )

چند حسینوں‌کے خطوط ، چند تصویرِ بُتاں ( قصہِ پنجم )
ہم ہکا بکا بیھٹے رہ گئے ۔ ہمارے وہم و گماں میں بھی نہیں تھا کہ یہ حسینہ شاہد صاحب کی منظورِ نظر نکلے گی ۔ ہمیں یقین تھا کہ شاہد صاحب اپنے عشق کی آگ میں یکطرفہ جل رہے تھے ۔ کیونکہ قرائین و شواہد کہتے تھے کہ موصوفہ شاہد صاحب میں ہرگز دلچسپی نہیں رکھتی اور نہ ہی اس پر شاہد صاحب کے دل کی حالت عیاں ہے ۔ سو ایک تضاد تھا ۔ مگر ہم نے فلمی روایت پر عمل کرتے ہوئے دوستی پر اپنے عشق کو قربان کرنا بہتر سمجھا ۔ کیونکہ ہم نہیں چاہتے تھے کہ شاہد صاحب اپنے انٹولے جیسی آنکھوں میں آنسو لیئے گلی گلی گاتے پھریں کہ ” دوست دوست نہ رہا ، پیار پیار نہ رہا ” ۔
اس دن ہم نےاسکول میں بےکیف سا وقت گذارا ۔ اسکول واپسی پر راستے میں ہم نے شاہد صاحب کو اپنے موبائل سے فون کرکے ان کی محبوبہ کی آمد کی خبر سنا دی ۔ دوسری طرف سے ہمیں ایک ہچکی سی سنائی دی ۔ اب پتا نہیں وہ شاہد صاحب کی آخری ہچکی تھی یا اس خبر سے ان کی قوتِ گویائی کو کوئی نقصان پہنچ چکا تھا ۔ خیر ہم نے اپنا فرض ادا کردیا تھا ۔ مگر آج گھر جانے کے بجائے مرزا کباب والے کی دوکان پر رُک گئے کیونکہ سخت بھوک لگی ہوئی تھی ۔ ( ٹینشن میں ہمیں ہمیشہ بھوک لگتی ہے ) ۔ ہم نے مرزا جی سے کباب بنانے کو کہا اور وہاں بینچ پر بیٹھ گئے ۔ مرزا جی نے کباب کو سیخ پر گھماتے ہوئے کہا ” کیا بات ہے حجور ۔۔۔ آج سکل پر بارہ کیوں بج رہے ہیں ۔ ؟”
ہمارے خیمے میں پہلے سے ہی آگ لگی ہوئی تھی ۔ مرزا جی نے اور تیل چھڑک دیا ۔
ہم نے بھنا کر جواب دیا ” مرزا جی ! ماہر نفسیات مت بنو ، کباب بناؤ ”
ارے ارے ۔۔۔ ۔ آج تو چھوٹے خان صاحب کا مجاج انگاروں کے مافق گرم ہے ۔ خیر تو ہے ۔ ؟ ( والدِ محترم خان‌ صاحب کے لقب سے پہچانے جاتے تھے ) ۔ ” مرزا جی نے ہاتھ کے پنکھے سے انگاروں کو ہوا جھلتے ہوئے اپنی فکر کا اظہار کیا ۔
” ہاں ۔۔۔ سب ٹھیک ہے مرزا جی ” ۔ تھوڑا توقف کے بعد ہم نےکہا ۔
” نہیں ! حجور کوئی بات ہے جرور ۔۔۔ ۔۔ ہمیں تو چھوکری وکری کا چکر لگے ہے ۔ ”
ہمیں ایسا محسوس ہوا کہ جیسے مرزا جی نے سیخ پر کباب نہیں بلکہ ہمارا دل پرو کر انگاروں میں جھونک دیا ہو۔ ہم انکے قیاس پر حیران رہ گئے ۔
” تم یہ کیسے کہہ سکتے ہو‌۔ ؟ ہم نے حیران نہ ہونے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے پوچھا ۔
” ارے چھوٹے خان صاحب ۔۔۔ ۔ آپ کی سکل بتا رہی ہے کہ بہت بے آبرو ہوکے کسی کے کوچے سے نکلے ہو ۔” مرزا جی نے ہماری کیفیت سے لطف اندوز ہوتے ہوئے آنکھ مارتے ہوئے جواب دیا ۔
اچھا ۔۔۔ اچھا ۔۔۔ جلدی سے کباب دو اور ۔۔۔ تفتیش کا اگر اتنا ہی شوق ہے تو پولیس میں نوکری کرلو ۔ اور ہاں ۔۔۔ یہ ساری سیخیں بھی اپنے ساتھ لیتے جانا کہ شاید کسی ملزم سے کچھ اگلوانا پڑجائے ۔ ”
ہم نےجلے بھنے انداز میں ان کے صحیح قیاس پر اپنا ردعمل ظاہر کیا اور کباب لیکر بینچ پر دوبارہ بیٹھکر چپاتی اور کبابوں سے اپنے ناکام عشق کا بدلہ لینا شروع کردیا ۔ عشق کے معاملے میں ہم ہمیشہ چھپڑ پھاڑ قسمت کے مالک رہے تھے ۔مگر اس بار جس عشق کو ہم حتمی سمجھے تھے وہ نہ صرف غیر منطقی انجام کو پہنچا تھا بلکہ ساتھ ساتھ سوئمنامی طوفان کی طرح ہمارے دیگر عشقوں کو بھی بہا کر لے گیا تھا ۔اور ہم جیسے ، کیلے کے درخت پر لٹکے رہ گئے تھے ۔ جس پر زیادہ دیر تک لٹکنا بھی ممکن نہ تھا ۔
ہم اپنے بچھڑے ہوئے عشق کے تصور میں سوگواری کی کیفیت میں کبابوں کیساتھ تاتاریوں والا سلوک روا رکھے ہوئے تھے کہ کسی ہارن کی تیز اور مسلسل آواز نے ہماری سماعت پر برا اثر ڈالا اور ہم نے انتہائی کوفت کے عالم میں ہارن کی آواز کی سمت میں دیکھا تو ایک باریش بزرگ موٹر بائیک پر چلے آرہے تھے ۔ اور انہوں نے ہارن پر اپنی انگلی اس طرح رکھی ہوئی تھی کہ جیسے وہ وہاں سے آکسجین حاصل کر رہے ہوں ۔ بصورتِ دیگر اس طرح سے ہارن سے بدتمیزی کرنا کیا معنی رکھتا تھا ۔ جبکہ سڑک پر اتنا رش بھی نہیں تھا ۔ ان صاحب کے عقب میں ہم نے واضع طور پر کسی خاتون کو روایتی انداز میں موٹر بائیک پر بیٹھا ہوا دیکھا ۔ ہماری تو آج تک یہ سمجھ نہیں آیا کہ کوئی خاتون اس زاویئے سے موٹر بائیک کی پچھلی سیٹ پر بیٹھ کر اپنا توازن کیسے قائم رکھتیں ہیں ۔ یہ معمہ حل کرنے کے لیئے ایک دن ہم نے اپنے ایک دیرینہ دوست کو اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کی کہ وہ اپنی موٹر بائیک پر ہمیں اس طرح بیھٹنے کی اجازت دے تاکہ ہم اس توازن کی کوئی شرعی اور سائنسی توجہہ کو سمجھ سکیں ۔ ہمارے اس دوست نے کچھ دیر تو ہمیں بڑی عجیب نظروں سے دیکھا اور پھر موٹر بائیک اسٹارٹ کرکے یہ جا وہ جا ۔ کمبخت پتا نہیں ۔۔۔ کس قسم کے خیالات اپنے ذہن میں ہمارے خلاف برپا کرکے چلا گیا ۔ اس دن کے بعد ، ہم نے پھر اسے کبھی اپنے پاس پھٹکتے ہوئے نہیں دیکھا ۔ ہارن مسلسل بجتا رہا اور موٹر بائیک ہماری سمت بڑھتی ہوئی ہمارے سامنے سے اب گذرنے لگی تھی ۔ غیر ارادی طور پر ہماری نظر محترم بزرگ سے ہوتی ہوئی ان کے عقب میں بیٹھی ہوئی خاتون پر جا اٹکی، تو ہمیں احساس ہوا کہ وہ کسی کالج کی یونیفارم میں ملبوس کوئی طالبہ ہیں جو شاید اپنے والد کیساتھ موٹر بائیک پر کہیں جا رہیں تھیں ۔ ہم نے ایک اُچٹتی سی نظر اس کے چہرے پر ڈالی تو مرزا جی کا گولہ کباب ہمارے گلے میں گولے کی طرح پھنستے پھنستے رہ گیاسفید دوپٹے کے حصار میں وہ چہرہ ہمیں Pink Rose کی مانند لگا ۔ اللہ کی پناہ ۔۔۔ اتنی بڑی اور گہری سیاہ آنکھیں ہم نے پہلے زندگی میں کسی کی نہیں دیکھیں تھیں ۔
یہ سب لمحوں میں رونما ہوا ۔ اور موٹر بائیک ہمارے سامنے سے گذرگئی ۔ ہم نے تڑپ کر موٹربائیک کے تعاقب میں دیکھا تو موصوفہ دوسری طرف منہ کرکے بیٹھیں ہوئیں تھیں ۔ اب اس کا چہرہ جزوی چاند کی طرح سرسری دیدار تک ہی محدود رہ گیا ۔ اچانک اس نے ہمیں پلٹ کر دیکھا اور مسکرادی ۔ ہمارے جسم میں گویا کرنٹ سا دوڑ گیا ۔ بخدا وہ واقعی بہت بڑی اور روشن آنکھیں تھیں ۔ ہمیں وہ غزل یاد آگئی جس میں جگجیت سنگھ نے ہوش والوں کو بتایا تھا کہ ” بے خودی کیا چیز ہے ” ۔ لمحوں میں یہ قیامت کا سفر ختم ہوگیا ۔ اور موٹر بائیک ہماری نظروں سے اوجھل ہوچکی ہوگئی ۔
ہم عجیب سی سرشاری کے احساس کیساتھ واپس گھر لوٹے ۔ ہم جدھر بھی نظر ڈالتے ۔ وہاں ہمیں وہ دو بڑی بڑی ، کالی سیاہ روشن آنکھیں نظر آتیں ۔ اور ہم پر سرشاری کی کیفیت دوبارہ سوار ہوجاتی ۔ ٹی وی پر ڈرامہ دیکھتے ہوئے ہمیں ہیروئن کی آنکھیں بھی اسی کی مانند نظر آئیں ۔ مگر جب اس سراب کا اطلاق نثار قادری کے چہرے پر نظر آیا تو ہم لاحول پڑھتے ہوئے اس سراب کے گرداب سے باہر نکل آئے اور سونے کی تیاری میں مشغول ہوگئے ۔
صبح چھٹی تھی ۔ ہماری خواہش تھی کہ ہم دیر تک سوتے ۔ مگر جس باقاعدگی سے ہم علی الصباح روز اٹھ رہے تھے تو ڈر تھا کہ والد ِ محترم سے کہیں یہ جملہ سننا نہ پڑ جائے کہ ” اب اٹھے ہو ، آج تو دودھ سارا بک گیا ۔ ” سو نہ چاہتے ہوئے بھی اٹھ گئے ۔ ناشتے کے بعد ہمارا ارادہ تھا کہ آج کچھ بچھڑے ہوئے دوستوں کو اپنا شرفِ دیدار بخشیں گے ۔ چنانچہ اس مقصد کے لیئے جونہی ہم نے اپنی موٹر بائیک گھر سے باہر نکالی تو سامنے والے گھر سے وہی موٹربائیک والے بزرگ بھی اپنی موٹر بائیک باہر نکالتے ہوئے نظر آئے ۔ ہمیں بریک سا لگ گیا ۔ اور ہم گوند لگی گولی کی طرح اپنی موٹر بائیک سے چپک گئے اور اسے اسٹارٹ کر کے اس کے وہ حصے بھی صاف کرنے لگے ۔ جہاں ہاتھ تو درکنار انگلی کی بھی پہنچ ممکن نہیں تھی ۔ ہمیں حیرت تھی کہ جہاں ہم پیدا ہوئے ، جہاں بچپن گذارا اور پھر جوانی کا آغاز کیا ۔ عین اسی محلے میں اس قدر حسن برپا تھا اور ہمیں خبر نہ تھی ۔ اور جانے ہم کہاں کہاں بھٹک رہے تھے ۔ محترم بزرگ نے کسی کو اندر آواز دی اور موٹر بائیک اسٹارٹ کرنے لگے ۔ ہم اکنکھنیوں سے یہ سارا منظر دیکھنے لگے ۔ بزرگ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے وہی دوشیزہ دروازے پر نمودار ہوئی ۔ اس کے ہاتھ میں شاید کچھ کاغذات تھے جو وہ ان بزرگوار کو دینے آئی تھی ۔ اس دوران اس کی بھی نظر ہم پر پڑگئی ۔ اس کی جھیل جیسی آنکھوں میں حیرت کے سائے لہرائے ۔ مگر پھر وہ نارمل ہوگئی ۔ شاید اسے احساس ہوگیا تھا کہ ہمارا تعلق اسی گھر سے ہے ۔ بزرگ رخصت ہوچکے تھے ۔ ہم نے اپنی آنکھیں سامنے اور ہاتھوں کو موٹرسائیکل کی صفائی کی طرف مشغول کردیئے ۔ وہ ہمیں براہِ راست دیکھ رہی تھی اور ہونٹوں پر مسکراہٹ بھی نمایاں تھی ۔ موصوفہ پہلے دن سے ہی ہم میں دلچسپی لے رہیں تھیں ۔ ہمیں تو لگتا تھا کہ یہ سب اُس فئیر اینڈ لوَلی کا کمال ہے جو ہم نے ایک دوست کے کہنے پر گذشتہ ماہ سے استعمال کرنا شروع کی تھی ۔ ہم نے بھی جگجیت سنگھ کی غزل کی حقیقت کو سامنے رکھ کر ” بے خودی ” کے عالم میں موٹر بائیک صاف کرتے ہوئےاپنا ہاتھ جلتے ہوئے سائلنسر پر بھی رکھ دیا ۔ تھوڑی دیر تو کچھ محسوس نہیں ہوا ۔ مگر جب فضا میں مرزا کباب والے کے کبابوں سے ملتی جلتی بو ہم نے محسوس کی سخت تکلیف کا احساس ہوا ۔ پھر جھٹکے کیساتھ ہم نے اپنی ہتیھلی سائلنسر پر سے اٹھانے کی کوشش کی ۔ مگر ہتیھلی کو گویا وہ در چھوڑنا گوارا نہیں تھا ۔ ہم تکلیف سے بلبلا اٹھے ۔ ہماری حالت دیکھ کراُس سے رہا نہ گیا اور وہ حجاب کے تمام پردے چاک کرتی ہوئی ہمارے پاس آپہنچی ۔
” حد کرتے ہیں آپ بھی ۔۔۔ ۔۔ ” آواز تھی یا گویا کسی نے ستار کے تاروں کو چھیڑا تھا ۔ ہم اپنی تکلیف بھول گئے ۔ ہماری ہتیھلی پر دل جیسا نشان بن چکا تھا ۔ جسے وہ اپنے دوپٹے سے لپٹنے کی کوشش کر رہی تھی ۔
” میں ٹھیک ہوں ۔۔۔ ۔۔ میری فکر نہ کجیئے ‘” ہم نے پہلی بار اپنی عاشقانہ طبعیت کے برعکس متانت اور سنجیدگی سے کہا ۔ ( جس پر ہمیں خود بھی حیرت ہوئی ۔ ورنہ ہم سمجھے تھے کہ کسی فلمی گانے کا آغاز ہونے والا ہے )
” کیسے ٹھیک ہیں آپ ۔۔۔ ۔ دیکھیئے آپ نے اپنی ہتیھلی جلا لی ہے ۔ ” اس نے تشویش بھرے لہجے میں ہمیں ہماری ہتیھلی دکھانےکی کوشش کی ۔ اچانک اسے احساس ہوا کہ وہ اور میں عین گلی میں ہیں ۔
” دیکھئے آئندہ احتیاط سے کام لجیئے گا ۔ میں چلتی ہوں ۔ ” جس تیزی سے وہ ہماری طرف آئی تھی اسی تیزی سے وہ اپنے گھر کی طرف دوڑ گئی ۔
” آپ کا دوپٹہ ” ہم نے صدا لگائی ۔
مگر وہ جا چکی تھی ۔
ہم اپنا زخمی ہاتھ لیئے گلی کے کونے پر واقع اپنے جگری یار غیاث کے گھر گئے ۔ صبح کے 11 بج رہے تھے اور وہ صحن کے عین وسط میں منہ کھولے چارپائی پر سو رہا تھا ۔ اس کے چہرے پر چار پانچ مکھیاں منہ کے معائنے میں مصروف تھیں ۔ مگر جراثیموں کے ڈر کہ وجہ سے اندر جانے سےگریز کر رہیں تھیں ۔ ہم نے اس کو لات مار کر اٹھایا تو وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا ۔ ہمیں دیکھا تو کہنے لگا ” ظالم ۔۔۔ آخری سین چل رہا تھا ۔ ۔۔۔ گلے بھی ملنے نہیں دیا ۔ ” ہم نے کہا ” ابے ! اپنی فلم کا مہورت بند کر ۔۔ یہ دیکھ میرا ہاتھ جل گیا ۔ کسی ڈاکٹر کے پاس لے چل ۔
” اوہ ۔۔ یہ کیسے ہوا ۔ ”
” موٹر بائیک اسٹارٹ کرکے اس کی صفائی میں مصروف ہوگیا تھا ۔ بے دھیانی میں سائلنسر پر ہاتھ رکھ دیا ۔ ”
“چل ۔۔۔ ۔ کسی ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں ۔”
یار ۔۔۔ ہماری گلی میں عین میرے گھر کے سامنے کون آیا ہے ۔ پہلے تو یہاں فاروق صاحب رہتے تھے ۔
” تم نے جب سے کالج کی ہوا کھائی ہے ۔ محلے میں جھانک کر ہی کب دیکھا ہے ۔ دو مہینے قبل وہ مکان بیچ کر جاچکے ہیں اور وہاں نئے پڑوسی آئے ہیں ۔ ”
” ہوں ۔۔۔ ۔ ”
” ہوں ۔۔ کیا ” ۔۔۔ ۔۔۔ غیاث نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے استفار کیا ۔
” کچھ نہیں ۔۔۔ ۔ بعد میں بتاؤں گا ”
ڈاکٹر کے کلینک سے مرہم پٹی سے فارغ ہو کر ہم گھر واپس آگئے ۔
غیاث ہمیں گھر چھوڑ کر جاچکا تھا ۔ اور ہم اپنے کمرے میں بیڈ پر لیٹے والدِ محترم کا سپنس ڈائجسٹ چوری چھپے پڑھنے کی کوشش کررہے تھے ۔ مگر دھیان بار بار اسی کی طرف جا رہا تھا ۔ ہم نے سائیڈ ٹیبل سے اس کا دوپٹہ نکالا اور چہرے سے لگایا تو ایک معطر سی خوشبو دل و دماغ میں اُتر گئی ۔ مگر ہمیں ڈر تھا کہ محلے میں اس طرح کی کارستانی کی بھنک اگر والدِ محترم کو پڑگئی تو اس بار وہ چھتر سے نہیں بلکہ اپنی خاندانی بندوق سےگھر کی چھت پر کھڑا کرکے ہمیں شہزادہ سلیم کی طرح داغنے کی کوشش کریں گے ۔ تاریخ کے مطابق رعایا نے شہزادے سلیم کا ساتھ دیا تھا ۔ مگر یہاں سارا محلہ یہ کہتا ” خان صاحب ! ذرا دیکھ کر گولی ماریئے گا ۔ کہیں نشانہ خطا نہ ہوجائے ۔ ” اور والدِ محترم بھی کہتے ” پٹھان کا نشانہ کبھی خطا نہیں ہوتا ۔ اورلوگوں سے پوچھ پوچھ کر نشانہ داغتے ” ہم نے اس تصور کے خوف سے جھرجھری کھا کر دوپٹے سے کھیلنے کا ارادہ ترک کرکے اُسے واپس سائیڈ ٹیبل میں چھپا دیا ۔
ایک دن میں اتنے تغیرات پر ہم یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے کہ ہمارے ساتھ معاملہ کچھ خاص ہے ۔ کیونکہ ایک عشق ختم نہیں ہوتا دوسرا دروازے پر دستک دے رہا ہوتا ہے ۔ پھر اچانک ہماری نظروں کے سامنے پرنسپل کی صاحبزادی کا سراپا لہرایا تو ہمارے دل میں ایک ہوک سی اٹھی ۔ کیا زبردست خاتون تھیں ۔ مگر ہم نے اس عشق کی ناکامی کو قسمت کی ستم ظریفی سے جوڑتے ہوتے خود کو بڑی بڑی آنکھوں میں‌ غرق کرلیا اور نیند کی وادیوں میں کھو گئے ۔
دوسرے دن ہم اسکول روانہ ہوئے ۔ اسمبلی شروع ہونے میں ابھی کچھ دیر تھی ۔ ہم اسٹاف روم میں بیٹھے ہوئے تھے ۔اسی دوران ہمارے رقیبِ ُروسیا اسٹاف روم میں داخل ہوئے ۔ ہمیں بڑا غصہ آیا کہ ایک دن بھی صبر نہیں‌ ہوا اور فوراً ہی اپنی منظورِ نظر کے دیدار کو آدھمکے ۔ شاہد صاحب کو سب نے خوش آمدید کہا اور طبعیت پوچھی ۔ شاہد صاحب نے بڑی خوش دلی سے سب کا شکریہ ادا کیا ۔ منظورِ نظر سے متوقع ملاقات کی خوشی میں ان کی باچھیں ان کے کان سے بھی پیچھے جالگیں تھیں ۔ اور منہ ” بلیک ہول ” کی مانند کھلا ہوا تھا جس میں کم از کم آدھ سیر کا پورا سیب سمایا جاسکتا تھا ۔ شاہد صاحب ہمارے ساتھ والی کرسی پر بیٹھ گئے ۔
“یار ! آج ساتھ ہی رہنا ۔ آج دل قابو میں نہیں‌ ہے ۔ ”
شاہد صاحب نے سب کی نظر بچاتے ہوئے ہمارا ہاتھ دبا کر شادیِ مرگ کی کیفیت میں اپنے دل کی حالت بیان کرنے کی کوشش کی ۔
ہم کوئی جلا بھنا جواب دینے ہی والے تھے مگر شاہد صاحب کے چہرے پر خوشی دیکھ کر ہمیں ان پر ترس آگیا ۔
” یار حوصلہ کرو ۔۔۔ ۔ اگر یہی کیفیت تم پر طاری رہی تو کہیں ایسا نہ ہو کہ پرنسپل صاحب تمہیں اس کی شادی پر شامیانے میں کرسیاں لگانے پر مامور کردیں اور اس کو کسی اور کیساتھ روانہ کردیں۔“
دل میں نہ ہو جرات اسے محبت نہیں ملتی
خیرات میں اتنی بڑی دولت نہیں ملتی
یہ سنتے ہی شاہد صاحب تن کر بیٹھ گئے ۔
ہم نے کہا ” یار ۔۔ حوصلے کی بات کی ہے ۔ درزی کو شیروانی کے ناپ دینے کی نہیں ۔
خالد صاحب ایک دم سے جھینپ گئے ۔
” یار مذاق کر رہا ہوں ۔ اور تم نروس ہو رہے ہو ۔”
ہم نے اپنی ہنسی پر قابو پاتے ہوئے کہا ۔
” تمہیں کیا معلوم کہ حقیقی محبت کیا ہوتی ہے ۔ ؟ تم نے کبھی کی ہوتی تو معلوم ہوتا کہ اس کیفیت میں انسان کے دل کی کیا حالت ہوتی ہے ۔ ”
انہوں نے شکایتی لہجہ اختیار کرتے ہوئے جواب دیا ۔
شاہد صاحب کی اس بات پر ہمارے دل سے ایک آہ سی اٹھی مگر ہم نے اُسے ہونٹوں پر آنے نہ دیا ۔ ہم ان کو کیا بتاتے کہ ظالم ۔۔۔ ۔ حقیقی محبت کا آغاز ہوا ہی تھا کہ تم گرم ہوا بن کر چل پڑے ۔
” کیا آج تم نے اس کو دیکھا ۔؟ ”
شاہد صاحب نے اشتیاق کے عالم نے سوال کیا ۔
” نہیں ابھی تک تو دیدار نہیں ہوا۔ ”
شاہد صاحب خاموش ہوگئے ۔
تھوڑی دیر بعد وہ جلوہ افروز ہوگئی ۔
جیسے ہی وہ کرسی پر بیٹھی تو ہم نے سب سے اجازت چاہی کہ ہمیں پرنسپل صاحب سے ملنا ہے ۔ ہم نے واضع طور پر محترمہ کے چہرے پر حیرت کے آثار دیکھے ۔ پرنسپل صاحب سے ملنے کا مقصد ہمیں اپنے تدریسی شعبے سے سبکدوش ہونا مقصود تھا کہ وہ حسینہ ہماری نظروں کے سامنے کسی اور کی بن کر نظر آئے ۔ دل کو گوارا نہیں تھا ۔ پرنسپل صاحب موجود نہیں تھے ۔ لہذا ہم دوبارہ اسٹاف روم میں آگئے ۔ مگر شاہد صاحب کے چہرے پر معمول کے اثرات دیکھ کر ہمیں حیرت ہوئی ۔ ہم سمجھے تھے کہ اب تک وہ اپنی منظورِ نظر سے ملکر شادیِ مرگ کی کیفیت میں مبتلا ہوچکے ہونگے ۔ ہم ان کے برابر میں بیٹھ گئے ۔ ہم نے سامنے دیکھا تو وہ ہمیں ہی دیکھ رہی تھی اور اس کی نظروں میں بڑی کاٹ تھی ۔ ہم سمجھ گئے کہ وہ ہماری بے رخی پر رنجیدہ ہے ۔ مگر ہم اس کو کیا بتاتے ہم نے عشق پر دوستی کو مقدم رکھا ہے ۔ وہ اٹھ کر باہر چلی گئی ۔ اسی دوران شاہد صاحب نے ہمیں کہنی ماری اور کہا ۔ ” تم نے تو کہا تھا کہ وہ لاہور سے واپس آگئی ہے ” ۔
ہمیں ایک جھٹکا سا لگا ۔
” کیا مطلب ۔۔۔ ۔ یہ جو سامنے بیٹھی تھی ۔ یہی تو آپ کی منظورِ نظر ہے ناں ”
” ارے نہیں یار ۔۔۔ ۔ پرنسپل صاحب کی یہ لڑکی نہیں ، بلکہ اس سے بڑی والی جو کہ اسی کیساتھ لاہور گئی ہوئی تھی ۔ اس کی واپسی شاید اب تک نہیں ہوئی ہے ”
شاہد صاحب نے اپنے چہرے پر مایوسی سجاتے ہوئے ہماری عشق کی ناؤ میں ایک بار پر تلاطم پیدا کردیا ۔
ہم نے اپنا سر کرسی کی پشت پر ٹکا لیا ۔ اور واقعات ِ دہر کے معاملات پر غور کرنے لگے ۔
کل ہم نےاس عشق سے دستبرداری کا اعلان کیا تھا مگر ہمارے عشق کی چھپڑ پھاڑ قسمت نے فوراً ہی دوسرے عشق کی راہ ہموار کردی تھی ۔ ابھی اس تازہ عشق کا سرور اپنے عروج پر پہنچا ہی نہیں تھا کہ فقیر کی بدعا کی تیز ہوا نے ہماری کشتی کا رخ پھر طوفان کی طرف کردیا ۔ یعنی اب پھر وہی دو عشقوں کا معاملہ سامنے کھڑا تھا ۔
میں‌کہاں جاؤں ، ہوتا نہیں فیصلہ
ایک طرف اس کا گھر ، ایک طرف میکدہ
( جاری ہے )‌‌‌

چندہ برائے تحفظ

کالج کے اوائل دنوں کی بات ہے ۔ ہمارے محلے میں چوریاں اپنی عروج پر تھیں ۔ کہیں نہ کہیں کسی گھر میں چوری معمول بن چکی تھی ۔ بلکہ بعض اوقات تو ڈکیتی بھی ہورہی تھیں ، یعنی اسلحہ کے زور پر مال لوٹا جارہا تھا ۔ عموماً یہ وارداتیں رات کو انجام پا تیں ۔ اور سردیاں بھی اس وقت اپنے عروج پر تھیں ۔ اس خطرناک صورتحال کے پیشِ نظر محلے کے تمام نوجوانوں نے فیصلہ کیا کہ اب ہم جاگ کر محلے میں پہرہ دیں گے ۔اور اس کے لیئے جو بھی ضروری اقدامات درکار ہوں، وہ کریں گے ۔ چنانچہ کچھ کے پاس اسلحہ تھا ، کچھ ڈنڈوں اور دیگر لوازمات سے لیس تھے ۔ سب نے اپنی استعطاعت کے مطابق حفاظتی اقدامات کا بیڑہ اٹھا لیا تھا ۔ صورتحال جیسی بھی تھی مگر ہم سب کو ایک شغل ہاتھ آگیا تھا ۔ ہم نے گلی کے کونے پر واقع اعجاز کے گھر کے ایک ایسے کمرے پر قبضہ جمالیا ۔ جس کی کھڑکیوں سے پورے محلے کا منظر بآسانی دیکھا جاسکتا تھا ۔ ہم نے اسے ” ہیڈ کوارٹر ” کا نام دیا ۔ چونکہ 12 سے 15 لڑکوں کا گروپ تھا ۔ اس لیئے باقاعدہ ڈیوٹیاں لگتیں تھیں کہ کس گروپ کو کب پہرے پر نکلنا ہے ۔اور باقی لڑکے اسی کمرے میں‌ خوب تان کر سوتے ۔ ایک رات کے پہرے کے بعد احساس ہوا کہ چائے ، کھانا پینا اور کچھ گرم لحافوں کی بھی اشد ضرورت ہے ۔ جس کے بغیر یہ پہرہ داری بیکار ہے ۔ مگر اس کے لیئے سرمایہ درکار تھا ۔ جو وہ ہم کنگلوں کے پاس نہیں تھا ۔ لہذا مل جل کر مشورہ طے پایا کہ محلے والوں سے اس ” خدمت ” کے عوض کچھ مال بٹورا جائے ۔
دوسرے دن ہم نےگھر گھر جا کر چندے بٹورنا شروع کردیئے ۔ لوگوں نے بڑھ چڑھ کر اس کارِ خیر میں حصہ لیا ۔ کیونکہ ایک رات سکون سے گذر چکی تھی ۔ لہذا محلے والوں نے شکر کیا کہ وہ اب سکون سے سو سکیں گے ۔ لہذا انہیں چندہ دینے میں‌کوئی تامل نہیں ہوا ۔ مگر مسئلہ وہاں کھڑا ہوا ۔ جب انکل ماچس نے چندہ دینے سے انکار کیا ۔ اور ہمیں پیسہ بٹورنے اور ان پیسوں سے موج مستیاں اڑانے کا طعنہ دیا ۔ ( انکل ماچس ، محلے کے ایک بہت ہی تیز طرار ، جھگڑالو اور کاروباری آدمی تھے ۔ اور ستم تو یہ تھا کہ ان کی پوری پانچ صاحبزادیاں تھیں ۔ جن میں سے ایک صاحبزادی ہماری ٹیم کے اسلحہ بردار اعجاز کی ” منظورِ نظر ” تھیں ۔ ) ۔اعجاز اس “عزت “ پر بری طرح تلملا اٹھا ۔ مگر ہم سب اسے بہلا پھسلا کر وہاں سے لے آئے ۔ رات آئی تو ” مالِ غنیمت ” سے ایک بھرپور محفل کا اہتمام ہوا ۔ چائے ، بسکٹ ، ریسٹورینٹ کے مزے مزے کے کھانے، اور نئے نئے لحافوں کی گرمی نے وہ مزا دیا کہ سوچا یہ چوریاں ختم ہی نہ ہوں ۔ اور یہ من و سلویٰ اسی طرح چلتا رہے ۔
رات کو اپنی باری پر جب میں اپنے دیگر ساتھیوں کیساتھ پہرہ دیتا ہوا انکل ماچس کے گھر کے سامنے سے گذرا تو میرے ذہن میں ایک خیال بجلی کی مانند کوندا ۔ میں نے انکل ماچس کے گھر کے آگے پیچھے ہوکر جائزہ لیا ۔ جس کو میرے ساتھیوں نے بڑی تعجب کی نگاہ سےدیکھا ۔ میں نے انگلی کے اشارے سے انہیں کچھ کہنے سے منع کیا اور پھر ہم اپنا پہرہ ختم کرکے واپس ” ہیڈ کواٹر ” آگئے ۔ صبح ہونے سے پہلے میں نے سب کو جمع کیا اور اپنے منصوبے کے بارے میں بتایا تو سب کو منصوبہ بیحد پسند آیا اور سب سے زیادہ خوشی اعجاز کو ہوئی ۔ جس کی “منظورِ نظر ” اس گھر میں تھی ۔ اور خوشی میں اس کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا بلکہ لٹکا رہ گیا ۔ جسے بڑی مشکل سے بند کیا گیا ۔
منصوبہ یہ تھا کہ رات 3 بجے کے قریب ، دو لڑکے انکل ماچس کی چھت پر ، دو ان کے گھر کے پیچھے والی گلی Alley میں ، جبکہ اعجاز ( اسلحہ بردار ) اور میں ان کے گھر کے دروازے پر دستک دیں گے ۔ اور اس کے بعد کمانڈو ایکشن شروع ہوجائیگا ۔ سو پلان کے مطابق ہم نے انکل ماچس کے گھر پر دھاوا بول دیا ۔ اعجاز اور میں نے انکل ماچس کے گھر کا دروازہ بری طرح پِٹ ڈالا ، چھت پر سے لڑکوں کی آواز آئی ۔۔۔ پکڑو ۔۔۔۔ وہ انکل کے صحن میں کود گیا ہے ۔ ” سیٹوں اور دھما چوکڑیوں سے جو طوفان اٹھا اس سے سارا محلہ بیدار ہوگیا ۔ اور سونے پہ سہاگہ اعجاز نے اپنی زنگ آلود بندوق سے 2 ، 3 فائر بھی داغ ڈالے ۔جس سے ماحول اور بھی ” رومانوی ” ہوگیا ۔ انکل ماچس نےاس بات کی تسلی کے بعد کہ دروازے پر ہم کھڑے ہیں تو دروازہ کھول دیا ( ہم نے ان کو واضع طور پر کانپتے ہوئے دیکھا ) ۔ ہم دونوں دندناتے ہوئے ان کے گھر میں داخل ہوگئے ۔ اندر شور برپا تھا ۔ انکل ماچس کے پانچوں لڑکیاں اپنی اماں کیساتھ چلا چلا کر بنجیمن سسٹر کی طرح کورس میں رو رہیں تھیں ۔ چھت سے لڑکوں نے آواز لگائی ” وہ یہاں صحن میں کودا ہے ۔” یہ سنتے کیساتھ ہی اعجاز نے ایک اور فائر داغ دیا ۔ ( یہ فائر منصوبے کے مطابق نہیں تھا ، ہوسکتا ہے کہ اپنی ” منظورِ نظر ” کو دیکھ کر اس کے ہاتھ سے بندوق کی لبلبی دب گئی تھی ) ۔ چونکہ صحن میں تھوڑا اندھیرا تھا۔ میں‌ نے اس سے فائدہ اٹھا کر پچھلی گلی میں کھلنے والا دروازہ کھول دیا ۔ جہاں سے اور بھی لڑکے اندر آگئے ۔ اور پھر ہم سب نے پچھلی گلی کی طرف یہ کہتے ہوئے دوڑ لگا دی پکڑو ۔ جانے نہ دینا ۔ پھر منصوبے کے مطابق یہاں بھی اعجاز کو ایک فائر داغنا تھا مگر وہ اپنی ” منظورِ نظر ” کے تصور اس طرح کھویا ہوا تھا کہ مخالف سمت بھاگتے ہوئے بھی اس کا چہرہ انکل ماچس کے گھر کی طرف تھا ۔ ( میں نےگلی میں لگے ہوئے بجلی کے کھمبوں سے اُسے کئی بار بار بچایا ) ۔ لہذا وہاں فائر نہیں ہوسکا ۔
بہرحال منصوبہ میری توقع سے زیادہ کامیاب ثابت ہوا اور اس کا نتیجہ بھی جلد سامنے آگیا ۔ جب شام کو انکل ماچس ” ہیڈ کواٹر ” آئے اور بڑی معصوم صورت بنا کر ہماری کل رات کی سیکوریٹی کے اقدامات پر تقریباً جھک کر شکریہ ادا کیا ۔ اسی دوران انہوں نے اپنی واسکٹ کی جیب سے ایک پھولا ہوا لفافہ بھی ہماری نذر کیا اور جاتے جاتے بڑی رونی صورت میں درخواست بھی کی کہ ” کسی اور چیز کی ضرورت ہو تو بتا دینا ۔۔ بس میرے گھر کی طرف چکر لگاتے رہنا ۔ “‌ ‌

موٹر سائیکل

ایک دن میرے والد صاحب کے دوست “ انکل ماچس “ نے بلکل نئی موٹر سائیکل خریدی ۔ اور اپنے گھر کے سامنے ، اسے سارا دن چلائے بغیر اس پر ایسے بیٹھے رہتے جیسے کوئی راجہ سنگھاسن پر بیٹھتا ہے ۔ جب بھی میں وہاں سے گذرتا مجھے دیکھ کر وہ ایک آنکھ بھینچ کر اپنی موٹر سائیکل کپڑے سے صاف کرنے لگ جاتے ۔ ان سے میری روایتی دشمنی تو پہلے ہی سے جاری تھی سو مجھے ان کے اس حرکت سے اور بھی تپ چڑھتی ۔ شام کو میں اپنے دوستوں کے ساتھ گھر کے باہر کھڑا ہوا تھا کہ وہ موصوف اپنی اسی موٹر سائیکل پر آئے اور ابو کا پوچھنے لگے ۔دریں اثناء میرے ایک دوست نے پوچھا ” انکل موٹر سائیکل کتنے کی لی ۔ ؟ ” انہوں نے اپنی مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے کہا کہ ” پورے 55 ہزار کی ہے ” ۔ میں نے کہا ” انکل ۔۔۔ 18 روپے اور ملا کر نئی خرید لیتے ۔ ”
میرا خیال ہے اس دفعہ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ پھر میرے ساتھ کیا ہوا ۔🙂

گنجا لڑکا

ہم فرسٹ ائیر سے نکل سیکینڈ ائیر میں سُدھارے ۔ اسی دوران ہمارے تین جگری دوستوں میں سے ایک کے چھوٹے بھائی کا اسی کالج میں فرسٹ ائیر کے لیئے ایڈمیشن ہوگیا ۔ اب فیس جمع کروانی تھی ۔ مگر کیشئیر کی کھڑکی پر رش بہت تھا ۔ ہمارا پروگرام بنا تھا کہ مارننگ شو میں کیپری سنیما جاکر انگلش فلم دیکھیں گے ۔ مگر آثار بتا رہے تھے کہ اتنی لمبی قطار میں اگر کھڑے ہوئے تو شو نکل جائیگا ۔ مجھ سمیت تین دوست بھی اسی کالج میں پڑھتے تھے ۔ مگر خالد کے بھائی شاہد کا ایڈمیشن حال ہی ہوا تھا ۔ ہم کالج کے ماحول سے پوری طرح آشنا تھے ۔ لہذا اس واقفیت کی بناء پر مجھے ایک شیطانی خیال سُوجھا ۔ میں نے شاہد کو قطار میں کھڑا ہونے کو کہا اور باقی ساتھیوں کے ساتھ ، ہاتھ میں پتلون کا بیلٹ لیکر قطار کے گرد گھومنے لگا ۔اور جب کوئی لڑکا قطار سے ذرا بھی باہر نکلتا تو میں اسے زور سے بیلٹ مارتا اور غصے سے کہتا ” اگر اب تُو باہر نکلا تو کالج سے باہر نکال دوں گا “۔ نئے لڑکوں میں ہمارا گروہ دیکھ کرخوف پیدا ہوگیا تھا ۔ ان کی ہمت نہیں ہورہی تھی وہ ہم کو اس حرکت پر روکتے ۔ اسی دوران میں شاہد کو کھسکاتا ہوا تقربیاً کیشئیر کی کھڑکی تک لے آیا تھا ۔ قطار میں ایک چھوٹے سے قد کا گنجا لڑکا بھی کھڑا ہوا تھا ۔ اسے دیکھ کر پتا نہیں کیوں مجھے مستی سوجھی تھی کہ میں ہر چکر میں اس کے سر پر چپت لگانے کے بعد اسے دونوں کانوں سے پکڑ کر پنڈولم کی زور زور سےطرح ہلاتا اور کہتا ۔ “ ابے ! تُو یہاں کیوں آگیا ۔ ابھی تو تیرے دودھ پینے کے دن تھے “ ۔ اور وہ ہر بار میری اس حرکت پر غصے سے سرخ ہوجاتا ۔ اس کا غصہ دیکھ کر میں اُسے پھر کانوں سے پکڑ کر پنڈولم کی طرح ہلاتا اور پھر کہتا “ ابے ! مُنے کو بھی غصہ آتا ہے ۔ “ ہماری بدمعاشی دیکھ کر کسی کی ہمت نہیں ہورہی تھی کہ وہ شاہد کو قطار میں کھڑا کیئے کے بغیر کھڑکی تک جانے سے روک سکیں ۔ شاہد فیس جمع کروا کر فارغ ہوا تو میں سیدھا اسی گنجے لڑکے کے پاس گیا اور جیسے ہی اسے دوبارہ کانوں سے پکڑنے کی کوشش کی تو اس کا ضبط جواب دے گیا ۔ اور وہ مجھ سے گتھم گتھا ہوگیا اور پھر اسکو دیکھ کر لائن میں کھڑے سارے لڑکے بھی ہم چاروں پر پِل پڑے ۔ تعداد میں پچاس سے کیا کم رہے ہونگے ۔
میرا خیال ہے کہ ایک بار پھر یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ کیا ہوا ۔ ۔۔۔ بس اس دفعہ صرف میں ہی نہیں ، بلکہ میرے دیگر دوست بھی پدھارنے کی انمول صلاحیت سے محروم ہوگئے ۔ ( ویسے اس کارِ خیر میں کچھ خواتین نے بھی حصہ لیا تھا جو اپنے ” چھوٹے بھائیوں ” کے ساتھ داخلے کی فیس جمع کروانے آئیں تھیں ۔ پِیٹے پِٹتے جب میں ایک خاتون کے قدموں میں حفظِ ماتقدم کے تحت جا بیٹھا ( یہ الگ بات کہ اُسی خاتون نے مجھے سب سے زیادہ تبرکات سے نوازا تھا ) تو دیکھا کہ کالج کے یونیفارم کے مطابق وہ سب گورنمٹ ویمنز کالج برنس روڈ کی طالبات تھیں ۔ ) :)‌‌

ماچس کا ٹینک

زندگی میں بچپن کے دن بھی بہت عجیب ہوتے ہیں ۔ لاکھ بھلاؤ مگر نہیں بھولتے ۔ کیونکہ بہت سی اچھی یادیں ان دنوں سے وابستہ ہوتیں ہیں ۔ ان دنوں نہ کوئی فکر ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی فاقہ ۔ لہذا زیادہ تر لوگوں کا بچپن مختلف دلچسپ واقعات سے بھرا ہوتا ہے ۔ میں نے “ یادِ رفتگاں “ کے عنوان سے ایک زمرے کا آغاز کیا ہے ۔ جہاں میں اپنے بچپن سے ڈھونڈ ڈھونڈ کر کچھ دلچسپ واقعات آپ کے ساتھ شئیر کروں گا ۔ یہاں سب کو اجازت ہوگی کہ وہ بھی اسی نوعیت کے دلچسپ واقعات یہاں شئیر کرسکتے ہیں ۔
ماچس کا ٹینک :
ابو کے ایک دوست تھے ۔ بہت تند مزاج اور بہت جلد تپنے والے ۔ معلوم نہیں ان کو مجھ سے کیا پُرخاش تھی کہ میرے بارے میں ابو سے اکثر شکایتیں لگایا کرتے تھے کہ میں آج وہاں کھڑا ہوا تھا ، کل وہاں بیٹھا ہوا تھا ۔ دن کو گیا رہ بجے میرے گھر کے سامنے سے گذرا تھا ، کیا آج کل کالج نہیں جا رہا ؟ وغیرہ وغیرہ ۔ ابو بھی ان کی ” شکایت ” یا یوں کہہ لیں کہ ان کی فرمائش پر میری خوب کھنچائی کرتے تھے ۔ ایک دن میں Living Room میں بیٹھا ایک نئے کھیل کی ایجاد میں مصروف تھا کہ دروازے پر دستک ہوئی ۔ میں باہر گیا تو موصوف تھے ۔ انہوں نے ابو کے بارے میں پوچھا ، میں نے کہا “مسجد نماز پڑھنے گئے ہوئے ہیں “۔ انہوں نے درشتی سے کہا ” تم کیوں نہیں گئے ” ۔ دل تو چاہا کہوں کہ “ آپ یہاں کیا کر رہے ہیں “ ۔ مگر چپ رہا ۔ خیر وہ اندر آگئے ۔ انہوں نے دیکھا کہ میز پر ماچس کی تیلیاں بکھری پڑیں ہیں اور ساتھ ہی ماچس کا ڈبہ رکھا ہوا ہے ۔ کہنے لگے “ برخوردار سگریٹ پینے لگے ہو کیا ؟ “ ۔ مجھ سے رہا نہیں گیا اور سوچ لیا کہ اب ان کی کلاس لی جائے پھر جو ہو سو ہو ، دیکھا جائے گا ۔
میں نے کہا : ” نہیں انکل ۔۔۔۔ ایک قسم کا کھیل رہا تھا ۔ ”
” یہ کس قسم کا کھیل ہے ” انہوں نے شکی لہجے سے پوچھا ۔
یہ ایک فوجی کھیل ہے اگر آپ چاہیں تو کھیل سکتے ہیں ۔
شکی تو وہ تھے ہی ، لہذا یہ دیکھنے کے لیئے کہ میری بات صحیح ہے یا نہیں ، انہوں نے کھیلنے پر رضامندی ظاہر کردی ۔
میں نے ماچس کی کچھ تیلیاں میز پر ایک ساتھ رکھ کر ایک لکیر سی بنا دی ۔ اور اسے باڈر کا نام دیا ۔ پھر لکیر کی دوسری طرف ( یعنی ان کی طرف ) ماچس کی ڈبیہ میں ماچس کی ایک تیلی کچھ اس طرح آگے پھنسا دی جیسے وہ ماچس کی ڈبیہ گویا ایک ٹینک ہے ۔ اور خود اپنی طرف دو تیلیاں لیکر ایک تیلی کو رنگروٹ اور دوسری تیلی کو جرنیل کا نام دیکر کر اپنے ہاتھوں میں پکڑ لیں ۔
میں نے کہا ” انکل یہ باڈر ہے ۔ آپ کے پاس ٹینک ہے ۔۔۔ لہذا آپ منہ سے ٹینک کی آواز نکالتے ہوئے اس ٹینک کو آہستہ آہستہ کھسکاتے ہوئے بارڈر کی طرف لائیں ۔ ایک لمحے انہوں نے میری طرف بڑی عجیب نظروں سے دیکھا مگر پھر منہ سے آواز نکال کر آہستہ آہستہ ” ٹینک ” آگے بڑھانا شروع کردیا ۔
میں نے اپنی ہاتھ میں پکڑی ہوئی ایک تیلی ( جرنیل ) کو ہلایا اور دوسری تیلی ( رنگروٹ ) کو کہا کہ جاؤ دیکھ کر آؤ کہ اطلاع ملی ہے باڈر کی طرف دشمن کا ایک ٹینک آرہا ہے ۔
رنگروٹ لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہوا باڈر کی طرف گیا اور سرحد کے اس پار دیکھا اور پھر اسی طرح واپس آیا اور کہا ۔
جناب سرحد پر کوئی خطرہ نہیں ۔۔۔ ایک بیوقوف ماچس کا ٹینک بنا کر لارہا ہے ۔
اس واقعے کے بعد بس اتنا ہوا کہ ابو نے اس جنگ کے نتیجے میں‌ ، مجھے کچھ‌ اس طرح تمغوں سے نوازا کہ میں کئی دن تک تشریف رکھنے کی قدرتی صلاحیت سے محروم ہوگیا ۔

تعارف

“ تعارف “ سے واقفیت کم از کم میرے لیئے ایک مشکل ترین کام ہے ۔ کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ اپنی شناخت کا حوالہ دینا ہرگز آسان کام نہیں ہوتا کہ زندگی گذر جاتی ہے مگر خود کا سامنا تک نہیں ہو پاتا ، زندگی کے نشیب و فراز میں کئی ایسے بھی مرحلے آتے ہیں جب انسان کی شناخت اپنے لیئے بھی ناممکن ہوجاتی ہے ۔ ایسی صورت میں کسی کو اپنا تعارف دینا تو دور کی بات ہے ۔ اور سچ تو یہ ہے اگر کبھی یہ کوشش کی بھی جائے تو ذہن کے پردے پر تعارف کے حوالوں سے گویا ایک فلم سی چلنے لگتی ہے ۔ چند رفاقتوں کے چہرے ، چند بیتی ہوئی ساعتیں ، چند سُلگتی ہوئی یادیں ، ہاتھ میں تھمی ہوئی کاغذ کی چند ڈگریاں ، گھر کے دروازے پر لگی ہوئی نام کی جھولتی ہوئی تختی ، چند رنگ اُڑے خطوط ، جو باور کراتے ہیں کہ زمانے نے کبھی کوئی شناخت دی تھی ، مگر اب یہ شناخت انہی حوالوں کے وجود پر ہی قائم ہے ۔ پھر یہ حوالے ان گنت رنگوں سے مزین رشتوں میں جکڑے تعارف کے صفحے پر چند پھیکے رنگوں کی مانند بکھرے پڑے نظر آتے ہیں ۔ اور ان رنگوں کی خاص بات کہ یہ ایک دوسرے کے سامنے بہت پھیکے نظرآتے ہیں ۔ پھرانہی رنگوں کو لیکر کوئی نام سے جانتا ہے تو کوئی کام سے پہچانتا ہے ۔ کوئی حوالہ دیکھتا ہے تو کوئی ساخت پرکھتا ہے ۔ ہر کوئی اپنی حدِّ نظر کا پابند ہے ۔ ہر تعارف مدِّ مقابل میں اپنے غرض کی چیزوں کا جائزہ لینے سے مشروط ہوتا ہے ۔ اگر چیزوں میں اپنی مرضی کی مطابقت مل جائے تو تعارف مکمل ہوجاتا ہے ۔ ورنہ تعارف کسی کام کا نہیں ہوتا ۔
میں یہ نہیں کہتا کہ میرا کوئی تعارف نہیں ہے ۔ مگر میں جسے جانتا ہوں وہ مجھے نہیں پہچانتا ۔ میری اکثر نفی کر دیتا ہے ۔ اور پھر مجھے بھی اس کی نفی کر دینی پڑتی ہے ۔ گویا میں اور میرا تعارف ایک دوسرے کی ضد ہیں ۔ میرا تعارف وہ نہیں جو میں ہوں ، یا یوں کہہ لیں کہ جو میں ہوں وہ میرا تعارف نہیں ہے ۔ میں جیسا نظر آنا چاہتا ہوں اس سے میرا تعارف الجھن محسوس کرتا ہے اور الجھی چیزیں کوئی بھی پسند نہیں کرتا ۔ایک عجیب سی گتھی ہے ، جسے سلجھانا میرے بس کی بات نہیں ۔ سوچتا ہوں تعارف کے دائروں میں اپنی شخصیت کیوں مقید کروں ۔ کیوں ناں اس کو ایک آزاد پنچھی کی طرح اڑنے دوں ۔ ‌شاید کہیں میری ہی طرح کوئی اپنی شخصیت کو تعارف کی گرم لُو سے بچاتا ہوا کسی سایہ دار درخت کی سبز ٹہنی پر مجھ سے آن ملے اور شاید پھر میرا “ تعارف “ مکمل ہوجائے ۔

Previous Older Entries