ہمارا معاشرہ ، تنزلی اور اس کا حل

کشمکش جو مذہبی طبقات میں ہے ، سیکولر طبقات میں ہے ، سیاسی جماعتوں میں ہے ، حکومتوں میں ہے ، ملک کے عام افراد میں ہے ، علماء میں ہے ۔ آخر ا سکو کسی جگہ ختم ہونا چاہیئے ۔ یعنی ہر وہ شخص جو اس قوم اور ملک کیساتھ محبت رکھتا ہے ۔ اُسے دیکھنا چاہیئے کہ یہ کشمکش کیسے ختم ہوسکتی ہے ۔
تحقیق کے نتیجے میں سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ خواہ ترکی ہو ، انڈونیشیا ہو ، سعودی عرب ہو ، مراکش ہو یا اپنا وطنِ عزیز ہو ۔ وہاں چند بینادی نکات ایسے ہیں ۔ جو ہماری ملت میں سرے ہی سے منقود ہیں ۔ ان باتوں کو ملحوظِ خاطر نہ رکھنے کہ وجہ سے یہ کشمکش کا طوفان اٹھ کھڑا ہوا ہے ۔ اور یہ کشمکش مخلتف طبقات میں اب جنگ وجدل کا مظہر بن چکی ہے ۔ ان نکات کو اہمیت کی ترتیب کے لحاظ میں یہاں بیان کرنے کی جسارت کررہا ہوں ۔
1 – پہلی بات یہ ہے کہ ہمارا دین بھی اس بات کا تقاضا کرتا ہے اور دنیا کی اقوام بھی صدیوں کے مختلف تجربات کے بات اس نتیجے پر پنہچیں ہیں کہ جہموری معاشرے کو قائم ہونا چاہیئے ۔ یہ پہلی بنیادی چیز ہے ۔ ایک حقیقی جہموریت جو ” اَمرًھُم شُوریٰ بنًیھُم ” کی بنیاد پر وجود میں آئے ۔ لوگوں کی تائید سے قائم رہے ۔ اور ان کی تائید سے محروم ہونے کے بعد اپنا جواز کھو دے ۔ کسی شخص کو یہ اختیار نہ دیا جائے کہ وہ آئین کو توڑ دے ۔ یا وہ کوئی ماورائے آئین اقدام کرے ۔ ایک حقیقی جہموریت ہماری ضرورت ہے ۔ ایک حقیقی جہموریت سے ہی ایک عام آدمی کو تشدد کا راستہ ترک کرنے پر مجبور کیا جاسکتا ہے کہ وہ رائے عامہ کی طرف جائے ۔ جو لوگوں کے افکار پر اثر انداز ہو ۔ اور اس طرح کے پُرامن ذرائع سے ملک میںتبدلیاں لانے کے امکانات پیدا کرے ۔ مثبت تبدلیوں سے معاشرے کو درست کرنا انسان کا حق ہے ۔ اس کا طریقہ کیا ہے ۔؟ اس کا طریقہ یہ ہے کہ ہم اپنی قوم کو اس کا حق دیں ۔ اور قوم کے اس حق کو تسلیم کریں ۔ پارلیمنٹ کو حقیقی بالادستی حاصل ہو ۔ اور ایسا جہموری نظام وجود میں آئے جہاں مذکرات ہو سکیں ، جس میں اختلاف کو برداشت کیا جائے ۔ تو پھر مذہبی طبقات کو بھی یہ بات سمجھائی جاسکتی ہے کہ اگر وہ کسی چیز کو غلط سمجھتے ہیں تو وہ لوگوں کی طرف رجوع کرکے ان کے دل و دماغ کو بدلیں ۔ تشدد صرف اسی صورت میں‌ پیدا ہوتا ہے جب آپ یہ راستہ بند کر دیتے ہیں ۔ اور لوگ مجبوراً اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لیئے پھر غلط طریقے اختیار کرتے ہیں ۔
2 – دوسری چیز یہ ہے کہ نظام تعلیم کے بارے میں لوگ حساس ہوں ۔ کیونکہ نظامِ تعلیم ہی وہ چیز ہے جس سے آپ کسی قوم کو بناتے ہیں ۔ پڑھا لکھا طبقہ ہی پوری قوم پر موثر ہوتا ہے ۔ پاکستان کی بدقسمتی یہ ہے کہ پاکستانی قوم تین نظامِ ہائے تعلیم میں زندگی بسر کر رہے ہیں ۔ میرا خیال ہے کہ اب اس میں اضافہ ہوچکا ہے ۔ مذہبی اور غیر مذہبی کی تفریق موجود ہے ۔ اردو اور انگریزی کی تفریق موجود ہے ۔ دانشوروں کے مطابق بارہویں جماعت تک تعلیم ہر حال میں یکساں ہونی چاہیئے ۔ کسی شخص‌کو اس بات کی اجازت نہیں‌ ہونی چاہیئے کہ وہ اس کے مقابلے میں‌کوئی متوازی نظامِ تعلیم قائم کرنے کی کوشش کرے ۔ پوری قوم کے بچے اور بچیاں بارہویں تک ایک ہی تعلیمی نظام سے گذریں اور پھر اس کے بعد شعور پختہ ہونے کے بعد اگر وہ کسی خاس شعبے میں جانا چاہیں تو بے شک ا سکو اختیار کریں کہ ان کو عالم بننا ہے ، انجینیئر یا پھر ڈاکٹر بننا ہے ۔ مگر اس تفریق نے پوری قوم کو چھوٹے چھوٹے جزیروں میں بانٹ دیا ہے ۔ اور ہر نظام سے ایک نئی امت پیدا ہونی شروع ہوگئی ہے ۔ مدرسوں کی اصلاح سے کچھ حاصل نہیں ہوگا ۔ جب تک ملکی سطح پر ایک یکساں منظم تعلیمی نظام وجود پذیر نہیں ہوگا یہ تفریق قوم کو یونہی بھٹکاتی رہے گی ۔
3 – ہماری مسجدیں ایک بہت بڑا انسٹیٹوشنز ہیں ۔ اور اگر اسلامی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو یہ معلوم ہوگا کہ جمعہ کا دن مقرر کرنے کا مقصد یہ تھا کہ ریاست کو مسجد سے متعلق کیا جائے ۔ اسلامی قانون کے مطابق جمعہ کا منبر حکمرانوں کے ساتھ خاص ہے ۔ یہ ان کا کام ہے کہ وہ خطبہ دیں ۔ وہ نماز کا اہتمام کریں ۔ تاکہ معاشرے کے ساتھ ساتھ اللہ کے ساتھ بھی ان کا تعلق استوار ہو ۔ ہم نے یہ منبر علماء کے سپرد کردیا ہے ۔ اس کے نتیجے میں فرقہ بندی پیدا ہوئی اور اسی کے نتیجے میں مذہبی لوگوں کے درمیان قلعے وجود میں آئے ۔ اس سے مسجدوں کی تفریق کی بنیاد پڑی ہے ۔ اب وہی مسجدیں اور مسجدوں کا منبر ہے جہاں سے ایک دوسرے کے خلاف فتوے داغے جاتے ہیں اور یوں فساد کا ذریعہ پیدا ہوگیا ہے ۔ وہ جگہ جو ہمارے لیئے عبادت کی مقدس جگہ تھی ۔ اب اسی کو ہم سیاست کا اکھاڑہ بنائے ہوئے ہیں ۔ لہذا یہ ضروری ہے کہ اس بارے میں ریاست کے ذمہ دار لوگوں کو اس بات کی طرف توجہ دلائی جائے کہ اللہ کے پغیمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ منبر تمہارے سپرد کیا تھا ، اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرو ۔ اور جس طرح دوسرے کام کرتے ہو بلکل اسی طرح اس منبر کو بھی سنبھالو ۔ تاکہ یہ قومی وحدت کا ذریعہ بنے اور اس کے ذریعے ریاست اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے قابل ہو ۔
4 – یہ ایک حقیقت ہے کہ معاشرے میں لوگ زیادہ تر حساس سماجی برائیوں کے بارے میں ہوتے ہیں ۔ جرائم کے بارے تو قانون سازی ہوجاتی ہے کہ پولیس اور فوج آگے آجاتیں ہیں ۔ سماجی برائیوں کے بارے میں قرآن مجید نے بھی ہم پر یہ ذمہ داری ڈالی ہے ۔ پارلیمنٹ میں قانون سازی کرکے ” معروف منکر ” کے حدود متعین کرکے ہمیںچاہیئے کہ ہم اس مقصد کے لیئے ایک الگ محکمہ قائم کریں ۔ مذہبی لوگ یہی مطالبہ کرتے ہیں ۔ یہ بات قرآن مجید میں بھی بیان ہوگئی ہے ۔ لہذا سماجی برائیوں کے لیئے پارلیمنٹ میں قانون سازی کرکے علماء کو بڑی حد تک اس سے متعلق کیا جاسکتا ہے ۔ اس طرح وہ بھی ریاست کے نظام کا ایک حصہ بن کر اسے ایک چلینج سمجھ کر خدمات انجام دے سکتے ہیں۔ اگر ایسا نہیں کیا جائے گا تو اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ مطالبات کی صورت میں یہ چیزیں پیش ہوتیں رہیں گی اور ایک کشمکش کا میدان وجود میں آجائے گا ۔ سماجی برائیاں جیسے رشوت ، بدیانتی ، خیانت ، کم تولنا ، لوگوں کیساتھ ظلم کیساتھ پیش آنا اس طرح کی بہت سی چیزیں ہیں جس کا ہر حکومت قلم قلع کرنا چاہتی ہے ۔ لہذا اس کی قانون سازی کی ضرورت ہے ۔ اس کے حدود قرآن نے متعین کردیئے ہیں اور پارلیمنٹ بھی متعین کر سکتی ہے ۔ اس سے کسی بھی خفلشار کا اندیشہ پیدا نہیں ہوگا ۔ جرائم کے بارے میں پولیس سختی کرتی ہے ۔ مگر سماجی برائیوں کے لیئے اصلاح کا طریقہ اپنایا جائے ۔ یعنی یہ کوئی لوگوں کو سزا دینے کا محکمہ نہیں ہونا چاہیئے بلکہ اصلاح کا ، لوگوں سے رابطے کا ، یہ ایک سماجی شعور لوگوں میں بیدار کرنے کا ذریعہ ہونا چاہیئے ۔ اور اس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ یہ کام مذہبی لوگوں کے سپرد کردیا جائے ۔
5 – ہمارا عدالتی نظام جس حد تک پست ہوچکا ہے ۔ جس طرح لوگ اس نظام سے نالاں ہیں اور جس قدر اس سے لوگوں کی شکایتیں وابست ہوچکیں ہیں کیونکہ اس نظام میں انصاف بلکل منقود ہوچکا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انصاف ، ریاست میں ترجیح نہیں ہے ۔ اگر آپ انصاف کا اہتمام کردیتے ہیں تو لوگوں کو ایک چینل مہیا ہوجاتا ہے جہاں وہ جاکر باآسانی اپنی بات کہہ سکتے ہیں ۔ اور جو مشکلیں اور مصبیتیں ان کو درپیش ہوتیں ہیں ۔ وہ ان کا مداوا بنے کا موحب بن جاتا ہے ۔ انتشار اور خود ساختہ لاقانونیت ختم ہوجاتی ہے ۔
یہ وہ نکات ہیں کہ جو معاشرے میں‌ سرِفہرست موضوع بننے چاہئیں ۔ اس پر جہدوجہد ہونی چاہیئے ۔ اس پر ایک اتفاق رائے قائم ہونا چاہیئے ۔ تاکہ معاشرہ بحیثتِ مجموعی اس کو اپنے نظم کا حصہ بنائے ۔ اور جہاں تک میرے تاثر کی بات ہے کہ اگر ہم ا سکو اپنے معاشرے میں قائم کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو اس کمشکش کا بڑی حد تک خاتمہ کیا جاسکتا ہے ۔

چند حسینوں‌کے خطوط ، چند تصویرِ بُتاں ( قصہِ پنجم )

چند حسینوں‌کے خطوط ، چند تصویرِ بُتاں ( قصہِ پنجم )
ہم ہکا بکا بیھٹے رہ گئے ۔ ہمارے وہم و گماں میں بھی نہیں تھا کہ یہ حسینہ شاہد صاحب کی منظورِ نظر نکلے گی ۔ ہمیں یقین تھا کہ شاہد صاحب اپنے عشق کی آگ میں یکطرفہ جل رہے تھے ۔ کیونکہ قرائین و شواہد کہتے تھے کہ موصوفہ شاہد صاحب میں ہرگز دلچسپی نہیں رکھتی اور نہ ہی اس پر شاہد صاحب کے دل کی حالت عیاں ہے ۔ سو ایک تضاد تھا ۔ مگر ہم نے فلمی روایت پر عمل کرتے ہوئے دوستی پر اپنے عشق کو قربان کرنا بہتر سمجھا ۔ کیونکہ ہم نہیں چاہتے تھے کہ شاہد صاحب اپنے انٹولے جیسی آنکھوں میں آنسو لیئے گلی گلی گاتے پھریں کہ ” دوست دوست نہ رہا ، پیار پیار نہ رہا ” ۔
اس دن ہم نےاسکول میں بےکیف سا وقت گذارا ۔ اسکول واپسی پر راستے میں ہم نے شاہد صاحب کو اپنے موبائل سے فون کرکے ان کی محبوبہ کی آمد کی خبر سنا دی ۔ دوسری طرف سے ہمیں ایک ہچکی سی سنائی دی ۔ اب پتا نہیں وہ شاہد صاحب کی آخری ہچکی تھی یا اس خبر سے ان کی قوتِ گویائی کو کوئی نقصان پہنچ چکا تھا ۔ خیر ہم نے اپنا فرض ادا کردیا تھا ۔ مگر آج گھر جانے کے بجائے مرزا کباب والے کی دوکان پر رُک گئے کیونکہ سخت بھوک لگی ہوئی تھی ۔ ( ٹینشن میں ہمیں ہمیشہ بھوک لگتی ہے ) ۔ ہم نے مرزا جی سے کباب بنانے کو کہا اور وہاں بینچ پر بیٹھ گئے ۔ مرزا جی نے کباب کو سیخ پر گھماتے ہوئے کہا ” کیا بات ہے حجور ۔۔۔ آج سکل پر بارہ کیوں بج رہے ہیں ۔ ؟”
ہمارے خیمے میں پہلے سے ہی آگ لگی ہوئی تھی ۔ مرزا جی نے اور تیل چھڑک دیا ۔
ہم نے بھنا کر جواب دیا ” مرزا جی ! ماہر نفسیات مت بنو ، کباب بناؤ ”
ارے ارے ۔۔۔ ۔ آج تو چھوٹے خان صاحب کا مجاج انگاروں کے مافق گرم ہے ۔ خیر تو ہے ۔ ؟ ( والدِ محترم خان‌ صاحب کے لقب سے پہچانے جاتے تھے ) ۔ ” مرزا جی نے ہاتھ کے پنکھے سے انگاروں کو ہوا جھلتے ہوئے اپنی فکر کا اظہار کیا ۔
” ہاں ۔۔۔ سب ٹھیک ہے مرزا جی ” ۔ تھوڑا توقف کے بعد ہم نےکہا ۔
” نہیں ! حجور کوئی بات ہے جرور ۔۔۔ ۔۔ ہمیں تو چھوکری وکری کا چکر لگے ہے ۔ ”
ہمیں ایسا محسوس ہوا کہ جیسے مرزا جی نے سیخ پر کباب نہیں بلکہ ہمارا دل پرو کر انگاروں میں جھونک دیا ہو۔ ہم انکے قیاس پر حیران رہ گئے ۔
” تم یہ کیسے کہہ سکتے ہو‌۔ ؟ ہم نے حیران نہ ہونے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے پوچھا ۔
” ارے چھوٹے خان صاحب ۔۔۔ ۔ آپ کی سکل بتا رہی ہے کہ بہت بے آبرو ہوکے کسی کے کوچے سے نکلے ہو ۔” مرزا جی نے ہماری کیفیت سے لطف اندوز ہوتے ہوئے آنکھ مارتے ہوئے جواب دیا ۔
اچھا ۔۔۔ اچھا ۔۔۔ جلدی سے کباب دو اور ۔۔۔ تفتیش کا اگر اتنا ہی شوق ہے تو پولیس میں نوکری کرلو ۔ اور ہاں ۔۔۔ یہ ساری سیخیں بھی اپنے ساتھ لیتے جانا کہ شاید کسی ملزم سے کچھ اگلوانا پڑجائے ۔ ”
ہم نےجلے بھنے انداز میں ان کے صحیح قیاس پر اپنا ردعمل ظاہر کیا اور کباب لیکر بینچ پر دوبارہ بیٹھکر چپاتی اور کبابوں سے اپنے ناکام عشق کا بدلہ لینا شروع کردیا ۔ عشق کے معاملے میں ہم ہمیشہ چھپڑ پھاڑ قسمت کے مالک رہے تھے ۔مگر اس بار جس عشق کو ہم حتمی سمجھے تھے وہ نہ صرف غیر منطقی انجام کو پہنچا تھا بلکہ ساتھ ساتھ سوئمنامی طوفان کی طرح ہمارے دیگر عشقوں کو بھی بہا کر لے گیا تھا ۔اور ہم جیسے ، کیلے کے درخت پر لٹکے رہ گئے تھے ۔ جس پر زیادہ دیر تک لٹکنا بھی ممکن نہ تھا ۔
ہم اپنے بچھڑے ہوئے عشق کے تصور میں سوگواری کی کیفیت میں کبابوں کیساتھ تاتاریوں والا سلوک روا رکھے ہوئے تھے کہ کسی ہارن کی تیز اور مسلسل آواز نے ہماری سماعت پر برا اثر ڈالا اور ہم نے انتہائی کوفت کے عالم میں ہارن کی آواز کی سمت میں دیکھا تو ایک باریش بزرگ موٹر بائیک پر چلے آرہے تھے ۔ اور انہوں نے ہارن پر اپنی انگلی اس طرح رکھی ہوئی تھی کہ جیسے وہ وہاں سے آکسجین حاصل کر رہے ہوں ۔ بصورتِ دیگر اس طرح سے ہارن سے بدتمیزی کرنا کیا معنی رکھتا تھا ۔ جبکہ سڑک پر اتنا رش بھی نہیں تھا ۔ ان صاحب کے عقب میں ہم نے واضع طور پر کسی خاتون کو روایتی انداز میں موٹر بائیک پر بیٹھا ہوا دیکھا ۔ ہماری تو آج تک یہ سمجھ نہیں آیا کہ کوئی خاتون اس زاویئے سے موٹر بائیک کی پچھلی سیٹ پر بیٹھ کر اپنا توازن کیسے قائم رکھتیں ہیں ۔ یہ معمہ حل کرنے کے لیئے ایک دن ہم نے اپنے ایک دیرینہ دوست کو اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کی کہ وہ اپنی موٹر بائیک پر ہمیں اس طرح بیھٹنے کی اجازت دے تاکہ ہم اس توازن کی کوئی شرعی اور سائنسی توجہہ کو سمجھ سکیں ۔ ہمارے اس دوست نے کچھ دیر تو ہمیں بڑی عجیب نظروں سے دیکھا اور پھر موٹر بائیک اسٹارٹ کرکے یہ جا وہ جا ۔ کمبخت پتا نہیں ۔۔۔ کس قسم کے خیالات اپنے ذہن میں ہمارے خلاف برپا کرکے چلا گیا ۔ اس دن کے بعد ، ہم نے پھر اسے کبھی اپنے پاس پھٹکتے ہوئے نہیں دیکھا ۔ ہارن مسلسل بجتا رہا اور موٹر بائیک ہماری سمت بڑھتی ہوئی ہمارے سامنے سے اب گذرنے لگی تھی ۔ غیر ارادی طور پر ہماری نظر محترم بزرگ سے ہوتی ہوئی ان کے عقب میں بیٹھی ہوئی خاتون پر جا اٹکی، تو ہمیں احساس ہوا کہ وہ کسی کالج کی یونیفارم میں ملبوس کوئی طالبہ ہیں جو شاید اپنے والد کیساتھ موٹر بائیک پر کہیں جا رہیں تھیں ۔ ہم نے ایک اُچٹتی سی نظر اس کے چہرے پر ڈالی تو مرزا جی کا گولہ کباب ہمارے گلے میں گولے کی طرح پھنستے پھنستے رہ گیاسفید دوپٹے کے حصار میں وہ چہرہ ہمیں Pink Rose کی مانند لگا ۔ اللہ کی پناہ ۔۔۔ اتنی بڑی اور گہری سیاہ آنکھیں ہم نے پہلے زندگی میں کسی کی نہیں دیکھیں تھیں ۔
یہ سب لمحوں میں رونما ہوا ۔ اور موٹر بائیک ہمارے سامنے سے گذرگئی ۔ ہم نے تڑپ کر موٹربائیک کے تعاقب میں دیکھا تو موصوفہ دوسری طرف منہ کرکے بیٹھیں ہوئیں تھیں ۔ اب اس کا چہرہ جزوی چاند کی طرح سرسری دیدار تک ہی محدود رہ گیا ۔ اچانک اس نے ہمیں پلٹ کر دیکھا اور مسکرادی ۔ ہمارے جسم میں گویا کرنٹ سا دوڑ گیا ۔ بخدا وہ واقعی بہت بڑی اور روشن آنکھیں تھیں ۔ ہمیں وہ غزل یاد آگئی جس میں جگجیت سنگھ نے ہوش والوں کو بتایا تھا کہ ” بے خودی کیا چیز ہے ” ۔ لمحوں میں یہ قیامت کا سفر ختم ہوگیا ۔ اور موٹر بائیک ہماری نظروں سے اوجھل ہوچکی ہوگئی ۔
ہم عجیب سی سرشاری کے احساس کیساتھ واپس گھر لوٹے ۔ ہم جدھر بھی نظر ڈالتے ۔ وہاں ہمیں وہ دو بڑی بڑی ، کالی سیاہ روشن آنکھیں نظر آتیں ۔ اور ہم پر سرشاری کی کیفیت دوبارہ سوار ہوجاتی ۔ ٹی وی پر ڈرامہ دیکھتے ہوئے ہمیں ہیروئن کی آنکھیں بھی اسی کی مانند نظر آئیں ۔ مگر جب اس سراب کا اطلاق نثار قادری کے چہرے پر نظر آیا تو ہم لاحول پڑھتے ہوئے اس سراب کے گرداب سے باہر نکل آئے اور سونے کی تیاری میں مشغول ہوگئے ۔
صبح چھٹی تھی ۔ ہماری خواہش تھی کہ ہم دیر تک سوتے ۔ مگر جس باقاعدگی سے ہم علی الصباح روز اٹھ رہے تھے تو ڈر تھا کہ والد ِ محترم سے کہیں یہ جملہ سننا نہ پڑ جائے کہ ” اب اٹھے ہو ، آج تو دودھ سارا بک گیا ۔ ” سو نہ چاہتے ہوئے بھی اٹھ گئے ۔ ناشتے کے بعد ہمارا ارادہ تھا کہ آج کچھ بچھڑے ہوئے دوستوں کو اپنا شرفِ دیدار بخشیں گے ۔ چنانچہ اس مقصد کے لیئے جونہی ہم نے اپنی موٹر بائیک گھر سے باہر نکالی تو سامنے والے گھر سے وہی موٹربائیک والے بزرگ بھی اپنی موٹر بائیک باہر نکالتے ہوئے نظر آئے ۔ ہمیں بریک سا لگ گیا ۔ اور ہم گوند لگی گولی کی طرح اپنی موٹر بائیک سے چپک گئے اور اسے اسٹارٹ کر کے اس کے وہ حصے بھی صاف کرنے لگے ۔ جہاں ہاتھ تو درکنار انگلی کی بھی پہنچ ممکن نہیں تھی ۔ ہمیں حیرت تھی کہ جہاں ہم پیدا ہوئے ، جہاں بچپن گذارا اور پھر جوانی کا آغاز کیا ۔ عین اسی محلے میں اس قدر حسن برپا تھا اور ہمیں خبر نہ تھی ۔ اور جانے ہم کہاں کہاں بھٹک رہے تھے ۔ محترم بزرگ نے کسی کو اندر آواز دی اور موٹر بائیک اسٹارٹ کرنے لگے ۔ ہم اکنکھنیوں سے یہ سارا منظر دیکھنے لگے ۔ بزرگ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے وہی دوشیزہ دروازے پر نمودار ہوئی ۔ اس کے ہاتھ میں شاید کچھ کاغذات تھے جو وہ ان بزرگوار کو دینے آئی تھی ۔ اس دوران اس کی بھی نظر ہم پر پڑگئی ۔ اس کی جھیل جیسی آنکھوں میں حیرت کے سائے لہرائے ۔ مگر پھر وہ نارمل ہوگئی ۔ شاید اسے احساس ہوگیا تھا کہ ہمارا تعلق اسی گھر سے ہے ۔ بزرگ رخصت ہوچکے تھے ۔ ہم نے اپنی آنکھیں سامنے اور ہاتھوں کو موٹرسائیکل کی صفائی کی طرف مشغول کردیئے ۔ وہ ہمیں براہِ راست دیکھ رہی تھی اور ہونٹوں پر مسکراہٹ بھی نمایاں تھی ۔ موصوفہ پہلے دن سے ہی ہم میں دلچسپی لے رہیں تھیں ۔ ہمیں تو لگتا تھا کہ یہ سب اُس فئیر اینڈ لوَلی کا کمال ہے جو ہم نے ایک دوست کے کہنے پر گذشتہ ماہ سے استعمال کرنا شروع کی تھی ۔ ہم نے بھی جگجیت سنگھ کی غزل کی حقیقت کو سامنے رکھ کر ” بے خودی ” کے عالم میں موٹر بائیک صاف کرتے ہوئےاپنا ہاتھ جلتے ہوئے سائلنسر پر بھی رکھ دیا ۔ تھوڑی دیر تو کچھ محسوس نہیں ہوا ۔ مگر جب فضا میں مرزا کباب والے کے کبابوں سے ملتی جلتی بو ہم نے محسوس کی سخت تکلیف کا احساس ہوا ۔ پھر جھٹکے کیساتھ ہم نے اپنی ہتیھلی سائلنسر پر سے اٹھانے کی کوشش کی ۔ مگر ہتیھلی کو گویا وہ در چھوڑنا گوارا نہیں تھا ۔ ہم تکلیف سے بلبلا اٹھے ۔ ہماری حالت دیکھ کراُس سے رہا نہ گیا اور وہ حجاب کے تمام پردے چاک کرتی ہوئی ہمارے پاس آپہنچی ۔
” حد کرتے ہیں آپ بھی ۔۔۔ ۔۔ ” آواز تھی یا گویا کسی نے ستار کے تاروں کو چھیڑا تھا ۔ ہم اپنی تکلیف بھول گئے ۔ ہماری ہتیھلی پر دل جیسا نشان بن چکا تھا ۔ جسے وہ اپنے دوپٹے سے لپٹنے کی کوشش کر رہی تھی ۔
” میں ٹھیک ہوں ۔۔۔ ۔۔ میری فکر نہ کجیئے ‘” ہم نے پہلی بار اپنی عاشقانہ طبعیت کے برعکس متانت اور سنجیدگی سے کہا ۔ ( جس پر ہمیں خود بھی حیرت ہوئی ۔ ورنہ ہم سمجھے تھے کہ کسی فلمی گانے کا آغاز ہونے والا ہے )
” کیسے ٹھیک ہیں آپ ۔۔۔ ۔ دیکھیئے آپ نے اپنی ہتیھلی جلا لی ہے ۔ ” اس نے تشویش بھرے لہجے میں ہمیں ہماری ہتیھلی دکھانےکی کوشش کی ۔ اچانک اسے احساس ہوا کہ وہ اور میں عین گلی میں ہیں ۔
” دیکھئے آئندہ احتیاط سے کام لجیئے گا ۔ میں چلتی ہوں ۔ ” جس تیزی سے وہ ہماری طرف آئی تھی اسی تیزی سے وہ اپنے گھر کی طرف دوڑ گئی ۔
” آپ کا دوپٹہ ” ہم نے صدا لگائی ۔
مگر وہ جا چکی تھی ۔
ہم اپنا زخمی ہاتھ لیئے گلی کے کونے پر واقع اپنے جگری یار غیاث کے گھر گئے ۔ صبح کے 11 بج رہے تھے اور وہ صحن کے عین وسط میں منہ کھولے چارپائی پر سو رہا تھا ۔ اس کے چہرے پر چار پانچ مکھیاں منہ کے معائنے میں مصروف تھیں ۔ مگر جراثیموں کے ڈر کہ وجہ سے اندر جانے سےگریز کر رہیں تھیں ۔ ہم نے اس کو لات مار کر اٹھایا تو وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا ۔ ہمیں دیکھا تو کہنے لگا ” ظالم ۔۔۔ آخری سین چل رہا تھا ۔ ۔۔۔ گلے بھی ملنے نہیں دیا ۔ ” ہم نے کہا ” ابے ! اپنی فلم کا مہورت بند کر ۔۔ یہ دیکھ میرا ہاتھ جل گیا ۔ کسی ڈاکٹر کے پاس لے چل ۔
” اوہ ۔۔ یہ کیسے ہوا ۔ ”
” موٹر بائیک اسٹارٹ کرکے اس کی صفائی میں مصروف ہوگیا تھا ۔ بے دھیانی میں سائلنسر پر ہاتھ رکھ دیا ۔ ”
"چل ۔۔۔ ۔ کسی ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں ۔”
یار ۔۔۔ ہماری گلی میں عین میرے گھر کے سامنے کون آیا ہے ۔ پہلے تو یہاں فاروق صاحب رہتے تھے ۔
” تم نے جب سے کالج کی ہوا کھائی ہے ۔ محلے میں جھانک کر ہی کب دیکھا ہے ۔ دو مہینے قبل وہ مکان بیچ کر جاچکے ہیں اور وہاں نئے پڑوسی آئے ہیں ۔ ”
” ہوں ۔۔۔ ۔ ”
” ہوں ۔۔ کیا ” ۔۔۔ ۔۔۔ غیاث نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے استفار کیا ۔
” کچھ نہیں ۔۔۔ ۔ بعد میں بتاؤں گا ”
ڈاکٹر کے کلینک سے مرہم پٹی سے فارغ ہو کر ہم گھر واپس آگئے ۔
غیاث ہمیں گھر چھوڑ کر جاچکا تھا ۔ اور ہم اپنے کمرے میں بیڈ پر لیٹے والدِ محترم کا سپنس ڈائجسٹ چوری چھپے پڑھنے کی کوشش کررہے تھے ۔ مگر دھیان بار بار اسی کی طرف جا رہا تھا ۔ ہم نے سائیڈ ٹیبل سے اس کا دوپٹہ نکالا اور چہرے سے لگایا تو ایک معطر سی خوشبو دل و دماغ میں اُتر گئی ۔ مگر ہمیں ڈر تھا کہ محلے میں اس طرح کی کارستانی کی بھنک اگر والدِ محترم کو پڑگئی تو اس بار وہ چھتر سے نہیں بلکہ اپنی خاندانی بندوق سےگھر کی چھت پر کھڑا کرکے ہمیں شہزادہ سلیم کی طرح داغنے کی کوشش کریں گے ۔ تاریخ کے مطابق رعایا نے شہزادے سلیم کا ساتھ دیا تھا ۔ مگر یہاں سارا محلہ یہ کہتا ” خان صاحب ! ذرا دیکھ کر گولی ماریئے گا ۔ کہیں نشانہ خطا نہ ہوجائے ۔ ” اور والدِ محترم بھی کہتے ” پٹھان کا نشانہ کبھی خطا نہیں ہوتا ۔ اورلوگوں سے پوچھ پوچھ کر نشانہ داغتے ” ہم نے اس تصور کے خوف سے جھرجھری کھا کر دوپٹے سے کھیلنے کا ارادہ ترک کرکے اُسے واپس سائیڈ ٹیبل میں چھپا دیا ۔
ایک دن میں اتنے تغیرات پر ہم یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے کہ ہمارے ساتھ معاملہ کچھ خاص ہے ۔ کیونکہ ایک عشق ختم نہیں ہوتا دوسرا دروازے پر دستک دے رہا ہوتا ہے ۔ پھر اچانک ہماری نظروں کے سامنے پرنسپل کی صاحبزادی کا سراپا لہرایا تو ہمارے دل میں ایک ہوک سی اٹھی ۔ کیا زبردست خاتون تھیں ۔ مگر ہم نے اس عشق کی ناکامی کو قسمت کی ستم ظریفی سے جوڑتے ہوتے خود کو بڑی بڑی آنکھوں میں‌ غرق کرلیا اور نیند کی وادیوں میں کھو گئے ۔
دوسرے دن ہم اسکول روانہ ہوئے ۔ اسمبلی شروع ہونے میں ابھی کچھ دیر تھی ۔ ہم اسٹاف روم میں بیٹھے ہوئے تھے ۔اسی دوران ہمارے رقیبِ ُروسیا اسٹاف روم میں داخل ہوئے ۔ ہمیں بڑا غصہ آیا کہ ایک دن بھی صبر نہیں‌ ہوا اور فوراً ہی اپنی منظورِ نظر کے دیدار کو آدھمکے ۔ شاہد صاحب کو سب نے خوش آمدید کہا اور طبعیت پوچھی ۔ شاہد صاحب نے بڑی خوش دلی سے سب کا شکریہ ادا کیا ۔ منظورِ نظر سے متوقع ملاقات کی خوشی میں ان کی باچھیں ان کے کان سے بھی پیچھے جالگیں تھیں ۔ اور منہ ” بلیک ہول ” کی مانند کھلا ہوا تھا جس میں کم از کم آدھ سیر کا پورا سیب سمایا جاسکتا تھا ۔ شاہد صاحب ہمارے ساتھ والی کرسی پر بیٹھ گئے ۔
"یار ! آج ساتھ ہی رہنا ۔ آج دل قابو میں نہیں‌ ہے ۔ ”
شاہد صاحب نے سب کی نظر بچاتے ہوئے ہمارا ہاتھ دبا کر شادیِ مرگ کی کیفیت میں اپنے دل کی حالت بیان کرنے کی کوشش کی ۔
ہم کوئی جلا بھنا جواب دینے ہی والے تھے مگر شاہد صاحب کے چہرے پر خوشی دیکھ کر ہمیں ان پر ترس آگیا ۔
” یار حوصلہ کرو ۔۔۔ ۔ اگر یہی کیفیت تم پر طاری رہی تو کہیں ایسا نہ ہو کہ پرنسپل صاحب تمہیں اس کی شادی پر شامیانے میں کرسیاں لگانے پر مامور کردیں اور اس کو کسی اور کیساتھ روانہ کردیں۔“
دل میں نہ ہو جرات اسے محبت نہیں ملتی
خیرات میں اتنی بڑی دولت نہیں ملتی
یہ سنتے ہی شاہد صاحب تن کر بیٹھ گئے ۔
ہم نے کہا ” یار ۔۔ حوصلے کی بات کی ہے ۔ درزی کو شیروانی کے ناپ دینے کی نہیں ۔
خالد صاحب ایک دم سے جھینپ گئے ۔
” یار مذاق کر رہا ہوں ۔ اور تم نروس ہو رہے ہو ۔”
ہم نے اپنی ہنسی پر قابو پاتے ہوئے کہا ۔
” تمہیں کیا معلوم کہ حقیقی محبت کیا ہوتی ہے ۔ ؟ تم نے کبھی کی ہوتی تو معلوم ہوتا کہ اس کیفیت میں انسان کے دل کی کیا حالت ہوتی ہے ۔ ”
انہوں نے شکایتی لہجہ اختیار کرتے ہوئے جواب دیا ۔
شاہد صاحب کی اس بات پر ہمارے دل سے ایک آہ سی اٹھی مگر ہم نے اُسے ہونٹوں پر آنے نہ دیا ۔ ہم ان کو کیا بتاتے کہ ظالم ۔۔۔ ۔ حقیقی محبت کا آغاز ہوا ہی تھا کہ تم گرم ہوا بن کر چل پڑے ۔
” کیا آج تم نے اس کو دیکھا ۔؟ ”
شاہد صاحب نے اشتیاق کے عالم نے سوال کیا ۔
” نہیں ابھی تک تو دیدار نہیں ہوا۔ ”
شاہد صاحب خاموش ہوگئے ۔
تھوڑی دیر بعد وہ جلوہ افروز ہوگئی ۔
جیسے ہی وہ کرسی پر بیٹھی تو ہم نے سب سے اجازت چاہی کہ ہمیں پرنسپل صاحب سے ملنا ہے ۔ ہم نے واضع طور پر محترمہ کے چہرے پر حیرت کے آثار دیکھے ۔ پرنسپل صاحب سے ملنے کا مقصد ہمیں اپنے تدریسی شعبے سے سبکدوش ہونا مقصود تھا کہ وہ حسینہ ہماری نظروں کے سامنے کسی اور کی بن کر نظر آئے ۔ دل کو گوارا نہیں تھا ۔ پرنسپل صاحب موجود نہیں تھے ۔ لہذا ہم دوبارہ اسٹاف روم میں آگئے ۔ مگر شاہد صاحب کے چہرے پر معمول کے اثرات دیکھ کر ہمیں حیرت ہوئی ۔ ہم سمجھے تھے کہ اب تک وہ اپنی منظورِ نظر سے ملکر شادیِ مرگ کی کیفیت میں مبتلا ہوچکے ہونگے ۔ ہم ان کے برابر میں بیٹھ گئے ۔ ہم نے سامنے دیکھا تو وہ ہمیں ہی دیکھ رہی تھی اور اس کی نظروں میں بڑی کاٹ تھی ۔ ہم سمجھ گئے کہ وہ ہماری بے رخی پر رنجیدہ ہے ۔ مگر ہم اس کو کیا بتاتے ہم نے عشق پر دوستی کو مقدم رکھا ہے ۔ وہ اٹھ کر باہر چلی گئی ۔ اسی دوران شاہد صاحب نے ہمیں کہنی ماری اور کہا ۔ ” تم نے تو کہا تھا کہ وہ لاہور سے واپس آگئی ہے ” ۔
ہمیں ایک جھٹکا سا لگا ۔
” کیا مطلب ۔۔۔ ۔ یہ جو سامنے بیٹھی تھی ۔ یہی تو آپ کی منظورِ نظر ہے ناں ”
” ارے نہیں یار ۔۔۔ ۔ پرنسپل صاحب کی یہ لڑکی نہیں ، بلکہ اس سے بڑی والی جو کہ اسی کیساتھ لاہور گئی ہوئی تھی ۔ اس کی واپسی شاید اب تک نہیں ہوئی ہے ”
شاہد صاحب نے اپنے چہرے پر مایوسی سجاتے ہوئے ہماری عشق کی ناؤ میں ایک بار پر تلاطم پیدا کردیا ۔
ہم نے اپنا سر کرسی کی پشت پر ٹکا لیا ۔ اور واقعات ِ دہر کے معاملات پر غور کرنے لگے ۔
کل ہم نےاس عشق سے دستبرداری کا اعلان کیا تھا مگر ہمارے عشق کی چھپڑ پھاڑ قسمت نے فوراً ہی دوسرے عشق کی راہ ہموار کردی تھی ۔ ابھی اس تازہ عشق کا سرور اپنے عروج پر پہنچا ہی نہیں تھا کہ فقیر کی بدعا کی تیز ہوا نے ہماری کشتی کا رخ پھر طوفان کی طرف کردیا ۔ یعنی اب پھر وہی دو عشقوں کا معاملہ سامنے کھڑا تھا ۔
میں‌کہاں جاؤں ، ہوتا نہیں فیصلہ
ایک طرف اس کا گھر ، ایک طرف میکدہ
( جاری ہے )‌‌‌

چندہ برائے تحفظ

کالج کے اوائل دنوں کی بات ہے ۔ ہمارے محلے میں چوریاں اپنی عروج پر تھیں ۔ کہیں نہ کہیں کسی گھر میں چوری معمول بن چکی تھی ۔ بلکہ بعض اوقات تو ڈکیتی بھی ہورہی تھیں ، یعنی اسلحہ کے زور پر مال لوٹا جارہا تھا ۔ عموماً یہ وارداتیں رات کو انجام پا تیں ۔ اور سردیاں بھی اس وقت اپنے عروج پر تھیں ۔ اس خطرناک صورتحال کے پیشِ نظر محلے کے تمام نوجوانوں نے فیصلہ کیا کہ اب ہم جاگ کر محلے میں پہرہ دیں گے ۔اور اس کے لیئے جو بھی ضروری اقدامات درکار ہوں، وہ کریں گے ۔ چنانچہ کچھ کے پاس اسلحہ تھا ، کچھ ڈنڈوں اور دیگر لوازمات سے لیس تھے ۔ سب نے اپنی استعطاعت کے مطابق حفاظتی اقدامات کا بیڑہ اٹھا لیا تھا ۔ صورتحال جیسی بھی تھی مگر ہم سب کو ایک شغل ہاتھ آگیا تھا ۔ ہم نے گلی کے کونے پر واقع اعجاز کے گھر کے ایک ایسے کمرے پر قبضہ جمالیا ۔ جس کی کھڑکیوں سے پورے محلے کا منظر بآسانی دیکھا جاسکتا تھا ۔ ہم نے اسے ” ہیڈ کوارٹر ” کا نام دیا ۔ چونکہ 12 سے 15 لڑکوں کا گروپ تھا ۔ اس لیئے باقاعدہ ڈیوٹیاں لگتیں تھیں کہ کس گروپ کو کب پہرے پر نکلنا ہے ۔اور باقی لڑکے اسی کمرے میں‌ خوب تان کر سوتے ۔ ایک رات کے پہرے کے بعد احساس ہوا کہ چائے ، کھانا پینا اور کچھ گرم لحافوں کی بھی اشد ضرورت ہے ۔ جس کے بغیر یہ پہرہ داری بیکار ہے ۔ مگر اس کے لیئے سرمایہ درکار تھا ۔ جو وہ ہم کنگلوں کے پاس نہیں تھا ۔ لہذا مل جل کر مشورہ طے پایا کہ محلے والوں سے اس ” خدمت ” کے عوض کچھ مال بٹورا جائے ۔
دوسرے دن ہم نےگھر گھر جا کر چندے بٹورنا شروع کردیئے ۔ لوگوں نے بڑھ چڑھ کر اس کارِ خیر میں حصہ لیا ۔ کیونکہ ایک رات سکون سے گذر چکی تھی ۔ لہذا محلے والوں نے شکر کیا کہ وہ اب سکون سے سو سکیں گے ۔ لہذا انہیں چندہ دینے میں‌کوئی تامل نہیں ہوا ۔ مگر مسئلہ وہاں کھڑا ہوا ۔ جب انکل ماچس نے چندہ دینے سے انکار کیا ۔ اور ہمیں پیسہ بٹورنے اور ان پیسوں سے موج مستیاں اڑانے کا طعنہ دیا ۔ ( انکل ماچس ، محلے کے ایک بہت ہی تیز طرار ، جھگڑالو اور کاروباری آدمی تھے ۔ اور ستم تو یہ تھا کہ ان کی پوری پانچ صاحبزادیاں تھیں ۔ جن میں سے ایک صاحبزادی ہماری ٹیم کے اسلحہ بردار اعجاز کی ” منظورِ نظر ” تھیں ۔ ) ۔اعجاز اس “عزت “ پر بری طرح تلملا اٹھا ۔ مگر ہم سب اسے بہلا پھسلا کر وہاں سے لے آئے ۔ رات آئی تو ” مالِ غنیمت ” سے ایک بھرپور محفل کا اہتمام ہوا ۔ چائے ، بسکٹ ، ریسٹورینٹ کے مزے مزے کے کھانے، اور نئے نئے لحافوں کی گرمی نے وہ مزا دیا کہ سوچا یہ چوریاں ختم ہی نہ ہوں ۔ اور یہ من و سلویٰ اسی طرح چلتا رہے ۔
رات کو اپنی باری پر جب میں اپنے دیگر ساتھیوں کیساتھ پہرہ دیتا ہوا انکل ماچس کے گھر کے سامنے سے گذرا تو میرے ذہن میں ایک خیال بجلی کی مانند کوندا ۔ میں نے انکل ماچس کے گھر کے آگے پیچھے ہوکر جائزہ لیا ۔ جس کو میرے ساتھیوں نے بڑی تعجب کی نگاہ سےدیکھا ۔ میں نے انگلی کے اشارے سے انہیں کچھ کہنے سے منع کیا اور پھر ہم اپنا پہرہ ختم کرکے واپس ” ہیڈ کواٹر ” آگئے ۔ صبح ہونے سے پہلے میں نے سب کو جمع کیا اور اپنے منصوبے کے بارے میں بتایا تو سب کو منصوبہ بیحد پسند آیا اور سب سے زیادہ خوشی اعجاز کو ہوئی ۔ جس کی "منظورِ نظر ” اس گھر میں تھی ۔ اور خوشی میں اس کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا بلکہ لٹکا رہ گیا ۔ جسے بڑی مشکل سے بند کیا گیا ۔
منصوبہ یہ تھا کہ رات 3 بجے کے قریب ، دو لڑکے انکل ماچس کی چھت پر ، دو ان کے گھر کے پیچھے والی گلی Alley میں ، جبکہ اعجاز ( اسلحہ بردار ) اور میں ان کے گھر کے دروازے پر دستک دیں گے ۔ اور اس کے بعد کمانڈو ایکشن شروع ہوجائیگا ۔ سو پلان کے مطابق ہم نے انکل ماچس کے گھر پر دھاوا بول دیا ۔ اعجاز اور میں نے انکل ماچس کے گھر کا دروازہ بری طرح پِٹ ڈالا ، چھت پر سے لڑکوں کی آواز آئی ۔۔۔ پکڑو ۔۔۔۔ وہ انکل کے صحن میں کود گیا ہے ۔ ” سیٹوں اور دھما چوکڑیوں سے جو طوفان اٹھا اس سے سارا محلہ بیدار ہوگیا ۔ اور سونے پہ سہاگہ اعجاز نے اپنی زنگ آلود بندوق سے 2 ، 3 فائر بھی داغ ڈالے ۔جس سے ماحول اور بھی ” رومانوی ” ہوگیا ۔ انکل ماچس نےاس بات کی تسلی کے بعد کہ دروازے پر ہم کھڑے ہیں تو دروازہ کھول دیا ( ہم نے ان کو واضع طور پر کانپتے ہوئے دیکھا ) ۔ ہم دونوں دندناتے ہوئے ان کے گھر میں داخل ہوگئے ۔ اندر شور برپا تھا ۔ انکل ماچس کے پانچوں لڑکیاں اپنی اماں کیساتھ چلا چلا کر بنجیمن سسٹر کی طرح کورس میں رو رہیں تھیں ۔ چھت سے لڑکوں نے آواز لگائی ” وہ یہاں صحن میں کودا ہے ۔” یہ سنتے کیساتھ ہی اعجاز نے ایک اور فائر داغ دیا ۔ ( یہ فائر منصوبے کے مطابق نہیں تھا ، ہوسکتا ہے کہ اپنی ” منظورِ نظر ” کو دیکھ کر اس کے ہاتھ سے بندوق کی لبلبی دب گئی تھی ) ۔ چونکہ صحن میں تھوڑا اندھیرا تھا۔ میں‌ نے اس سے فائدہ اٹھا کر پچھلی گلی میں کھلنے والا دروازہ کھول دیا ۔ جہاں سے اور بھی لڑکے اندر آگئے ۔ اور پھر ہم سب نے پچھلی گلی کی طرف یہ کہتے ہوئے دوڑ لگا دی پکڑو ۔ جانے نہ دینا ۔ پھر منصوبے کے مطابق یہاں بھی اعجاز کو ایک فائر داغنا تھا مگر وہ اپنی ” منظورِ نظر ” کے تصور اس طرح کھویا ہوا تھا کہ مخالف سمت بھاگتے ہوئے بھی اس کا چہرہ انکل ماچس کے گھر کی طرف تھا ۔ ( میں نےگلی میں لگے ہوئے بجلی کے کھمبوں سے اُسے کئی بار بار بچایا ) ۔ لہذا وہاں فائر نہیں ہوسکا ۔
بہرحال منصوبہ میری توقع سے زیادہ کامیاب ثابت ہوا اور اس کا نتیجہ بھی جلد سامنے آگیا ۔ جب شام کو انکل ماچس ” ہیڈ کواٹر ” آئے اور بڑی معصوم صورت بنا کر ہماری کل رات کی سیکوریٹی کے اقدامات پر تقریباً جھک کر شکریہ ادا کیا ۔ اسی دوران انہوں نے اپنی واسکٹ کی جیب سے ایک پھولا ہوا لفافہ بھی ہماری نذر کیا اور جاتے جاتے بڑی رونی صورت میں درخواست بھی کی کہ ” کسی اور چیز کی ضرورت ہو تو بتا دینا ۔۔ بس میرے گھر کی طرف چکر لگاتے رہنا ۔ "‌ ‌

موٹر سائیکل

ایک دن میرے والد صاحب کے دوست “ انکل ماچس “ نے بلکل نئی موٹر سائیکل خریدی ۔ اور اپنے گھر کے سامنے ، اسے سارا دن چلائے بغیر اس پر ایسے بیٹھے رہتے جیسے کوئی راجہ سنگھاسن پر بیٹھتا ہے ۔ جب بھی میں وہاں سے گذرتا مجھے دیکھ کر وہ ایک آنکھ بھینچ کر اپنی موٹر سائیکل کپڑے سے صاف کرنے لگ جاتے ۔ ان سے میری روایتی دشمنی تو پہلے ہی سے جاری تھی سو مجھے ان کے اس حرکت سے اور بھی تپ چڑھتی ۔ شام کو میں اپنے دوستوں کے ساتھ گھر کے باہر کھڑا ہوا تھا کہ وہ موصوف اپنی اسی موٹر سائیکل پر آئے اور ابو کا پوچھنے لگے ۔دریں اثناء میرے ایک دوست نے پوچھا ” انکل موٹر سائیکل کتنے کی لی ۔ ؟ ” انہوں نے اپنی مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے کہا کہ ” پورے 55 ہزار کی ہے ” ۔ میں نے کہا ” انکل ۔۔۔ 18 روپے اور ملا کر نئی خرید لیتے ۔ ”
میرا خیال ہے اس دفعہ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ پھر میرے ساتھ کیا ہوا ۔ 🙂

گنجا لڑکا

ہم فرسٹ ائیر سے نکل سیکینڈ ائیر میں سُدھارے ۔ اسی دوران ہمارے تین جگری دوستوں میں سے ایک کے چھوٹے بھائی کا اسی کالج میں فرسٹ ائیر کے لیئے ایڈمیشن ہوگیا ۔ اب فیس جمع کروانی تھی ۔ مگر کیشئیر کی کھڑکی پر رش بہت تھا ۔ ہمارا پروگرام بنا تھا کہ مارننگ شو میں کیپری سنیما جاکر انگلش فلم دیکھیں گے ۔ مگر آثار بتا رہے تھے کہ اتنی لمبی قطار میں اگر کھڑے ہوئے تو شو نکل جائیگا ۔ مجھ سمیت تین دوست بھی اسی کالج میں پڑھتے تھے ۔ مگر خالد کے بھائی شاہد کا ایڈمیشن حال ہی ہوا تھا ۔ ہم کالج کے ماحول سے پوری طرح آشنا تھے ۔ لہذا اس واقفیت کی بناء پر مجھے ایک شیطانی خیال سُوجھا ۔ میں نے شاہد کو قطار میں کھڑا ہونے کو کہا اور باقی ساتھیوں کے ساتھ ، ہاتھ میں پتلون کا بیلٹ لیکر قطار کے گرد گھومنے لگا ۔اور جب کوئی لڑکا قطار سے ذرا بھی باہر نکلتا تو میں اسے زور سے بیلٹ مارتا اور غصے سے کہتا ” اگر اب تُو باہر نکلا تو کالج سے باہر نکال دوں گا “۔ نئے لڑکوں میں ہمارا گروہ دیکھ کرخوف پیدا ہوگیا تھا ۔ ان کی ہمت نہیں ہورہی تھی وہ ہم کو اس حرکت پر روکتے ۔ اسی دوران میں شاہد کو کھسکاتا ہوا تقربیاً کیشئیر کی کھڑکی تک لے آیا تھا ۔ قطار میں ایک چھوٹے سے قد کا گنجا لڑکا بھی کھڑا ہوا تھا ۔ اسے دیکھ کر پتا نہیں کیوں مجھے مستی سوجھی تھی کہ میں ہر چکر میں اس کے سر پر چپت لگانے کے بعد اسے دونوں کانوں سے پکڑ کر پنڈولم کی زور زور سےطرح ہلاتا اور کہتا ۔ “ ابے ! تُو یہاں کیوں آگیا ۔ ابھی تو تیرے دودھ پینے کے دن تھے “ ۔ اور وہ ہر بار میری اس حرکت پر غصے سے سرخ ہوجاتا ۔ اس کا غصہ دیکھ کر میں اُسے پھر کانوں سے پکڑ کر پنڈولم کی طرح ہلاتا اور پھر کہتا “ ابے ! مُنے کو بھی غصہ آتا ہے ۔ “ ہماری بدمعاشی دیکھ کر کسی کی ہمت نہیں ہورہی تھی کہ وہ شاہد کو قطار میں کھڑا کیئے کے بغیر کھڑکی تک جانے سے روک سکیں ۔ شاہد فیس جمع کروا کر فارغ ہوا تو میں سیدھا اسی گنجے لڑکے کے پاس گیا اور جیسے ہی اسے دوبارہ کانوں سے پکڑنے کی کوشش کی تو اس کا ضبط جواب دے گیا ۔ اور وہ مجھ سے گتھم گتھا ہوگیا اور پھر اسکو دیکھ کر لائن میں کھڑے سارے لڑکے بھی ہم چاروں پر پِل پڑے ۔ تعداد میں پچاس سے کیا کم رہے ہونگے ۔
میرا خیال ہے کہ ایک بار پھر یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ کیا ہوا ۔ ۔۔۔ بس اس دفعہ صرف میں ہی نہیں ، بلکہ میرے دیگر دوست بھی پدھارنے کی انمول صلاحیت سے محروم ہوگئے ۔ ( ویسے اس کارِ خیر میں کچھ خواتین نے بھی حصہ لیا تھا جو اپنے ” چھوٹے بھائیوں ” کے ساتھ داخلے کی فیس جمع کروانے آئیں تھیں ۔ پِیٹے پِٹتے جب میں ایک خاتون کے قدموں میں حفظِ ماتقدم کے تحت جا بیٹھا ( یہ الگ بات کہ اُسی خاتون نے مجھے سب سے زیادہ تبرکات سے نوازا تھا ) تو دیکھا کہ کالج کے یونیفارم کے مطابق وہ سب گورنمٹ ویمنز کالج برنس روڈ کی طالبات تھیں ۔ ) :)‌‌

ماچس کا ٹینک

زندگی میں بچپن کے دن بھی بہت عجیب ہوتے ہیں ۔ لاکھ بھلاؤ مگر نہیں بھولتے ۔ کیونکہ بہت سی اچھی یادیں ان دنوں سے وابستہ ہوتیں ہیں ۔ ان دنوں نہ کوئی فکر ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی فاقہ ۔ لہذا زیادہ تر لوگوں کا بچپن مختلف دلچسپ واقعات سے بھرا ہوتا ہے ۔ میں نے “ یادِ رفتگاں “ کے عنوان سے ایک زمرے کا آغاز کیا ہے ۔ جہاں میں اپنے بچپن سے ڈھونڈ ڈھونڈ کر کچھ دلچسپ واقعات آپ کے ساتھ شئیر کروں گا ۔ یہاں سب کو اجازت ہوگی کہ وہ بھی اسی نوعیت کے دلچسپ واقعات یہاں شئیر کرسکتے ہیں ۔
ماچس کا ٹینک :
ابو کے ایک دوست تھے ۔ بہت تند مزاج اور بہت جلد تپنے والے ۔ معلوم نہیں ان کو مجھ سے کیا پُرخاش تھی کہ میرے بارے میں ابو سے اکثر شکایتیں لگایا کرتے تھے کہ میں آج وہاں کھڑا ہوا تھا ، کل وہاں بیٹھا ہوا تھا ۔ دن کو گیا رہ بجے میرے گھر کے سامنے سے گذرا تھا ، کیا آج کل کالج نہیں جا رہا ؟ وغیرہ وغیرہ ۔ ابو بھی ان کی ” شکایت ” یا یوں کہہ لیں کہ ان کی فرمائش پر میری خوب کھنچائی کرتے تھے ۔ ایک دن میں Living Room میں بیٹھا ایک نئے کھیل کی ایجاد میں مصروف تھا کہ دروازے پر دستک ہوئی ۔ میں باہر گیا تو موصوف تھے ۔ انہوں نے ابو کے بارے میں پوچھا ، میں نے کہا “مسجد نماز پڑھنے گئے ہوئے ہیں “۔ انہوں نے درشتی سے کہا ” تم کیوں نہیں گئے ” ۔ دل تو چاہا کہوں کہ “ آپ یہاں کیا کر رہے ہیں “ ۔ مگر چپ رہا ۔ خیر وہ اندر آگئے ۔ انہوں نے دیکھا کہ میز پر ماچس کی تیلیاں بکھری پڑیں ہیں اور ساتھ ہی ماچس کا ڈبہ رکھا ہوا ہے ۔ کہنے لگے “ برخوردار سگریٹ پینے لگے ہو کیا ؟ “ ۔ مجھ سے رہا نہیں گیا اور سوچ لیا کہ اب ان کی کلاس لی جائے پھر جو ہو سو ہو ، دیکھا جائے گا ۔
میں نے کہا : ” نہیں انکل ۔۔۔۔ ایک قسم کا کھیل رہا تھا ۔ ”
” یہ کس قسم کا کھیل ہے ” انہوں نے شکی لہجے سے پوچھا ۔
یہ ایک فوجی کھیل ہے اگر آپ چاہیں تو کھیل سکتے ہیں ۔
شکی تو وہ تھے ہی ، لہذا یہ دیکھنے کے لیئے کہ میری بات صحیح ہے یا نہیں ، انہوں نے کھیلنے پر رضامندی ظاہر کردی ۔
میں نے ماچس کی کچھ تیلیاں میز پر ایک ساتھ رکھ کر ایک لکیر سی بنا دی ۔ اور اسے باڈر کا نام دیا ۔ پھر لکیر کی دوسری طرف ( یعنی ان کی طرف ) ماچس کی ڈبیہ میں ماچس کی ایک تیلی کچھ اس طرح آگے پھنسا دی جیسے وہ ماچس کی ڈبیہ گویا ایک ٹینک ہے ۔ اور خود اپنی طرف دو تیلیاں لیکر ایک تیلی کو رنگروٹ اور دوسری تیلی کو جرنیل کا نام دیکر کر اپنے ہاتھوں میں پکڑ لیں ۔
میں نے کہا ” انکل یہ باڈر ہے ۔ آپ کے پاس ٹینک ہے ۔۔۔ لہذا آپ منہ سے ٹینک کی آواز نکالتے ہوئے اس ٹینک کو آہستہ آہستہ کھسکاتے ہوئے بارڈر کی طرف لائیں ۔ ایک لمحے انہوں نے میری طرف بڑی عجیب نظروں سے دیکھا مگر پھر منہ سے آواز نکال کر آہستہ آہستہ ” ٹینک ” آگے بڑھانا شروع کردیا ۔
میں نے اپنی ہاتھ میں پکڑی ہوئی ایک تیلی ( جرنیل ) کو ہلایا اور دوسری تیلی ( رنگروٹ ) کو کہا کہ جاؤ دیکھ کر آؤ کہ اطلاع ملی ہے باڈر کی طرف دشمن کا ایک ٹینک آرہا ہے ۔
رنگروٹ لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہوا باڈر کی طرف گیا اور سرحد کے اس پار دیکھا اور پھر اسی طرح واپس آیا اور کہا ۔
جناب سرحد پر کوئی خطرہ نہیں ۔۔۔ ایک بیوقوف ماچس کا ٹینک بنا کر لارہا ہے ۔
اس واقعے کے بعد بس اتنا ہوا کہ ابو نے اس جنگ کے نتیجے میں‌ ، مجھے کچھ‌ اس طرح تمغوں سے نوازا کہ میں کئی دن تک تشریف رکھنے کی قدرتی صلاحیت سے محروم ہوگیا ۔

تعارف

“ تعارف “ سے واقفیت کم از کم میرے لیئے ایک مشکل ترین کام ہے ۔ کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ اپنی شناخت کا حوالہ دینا ہرگز آسان کام نہیں ہوتا کہ زندگی گذر جاتی ہے مگر خود کا سامنا تک نہیں ہو پاتا ، زندگی کے نشیب و فراز میں کئی ایسے بھی مرحلے آتے ہیں جب انسان کی شناخت اپنے لیئے بھی ناممکن ہوجاتی ہے ۔ ایسی صورت میں کسی کو اپنا تعارف دینا تو دور کی بات ہے ۔ اور سچ تو یہ ہے اگر کبھی یہ کوشش کی بھی جائے تو ذہن کے پردے پر تعارف کے حوالوں سے گویا ایک فلم سی چلنے لگتی ہے ۔ چند رفاقتوں کے چہرے ، چند بیتی ہوئی ساعتیں ، چند سُلگتی ہوئی یادیں ، ہاتھ میں تھمی ہوئی کاغذ کی چند ڈگریاں ، گھر کے دروازے پر لگی ہوئی نام کی جھولتی ہوئی تختی ، چند رنگ اُڑے خطوط ، جو باور کراتے ہیں کہ زمانے نے کبھی کوئی شناخت دی تھی ، مگر اب یہ شناخت انہی حوالوں کے وجود پر ہی قائم ہے ۔ پھر یہ حوالے ان گنت رنگوں سے مزین رشتوں میں جکڑے تعارف کے صفحے پر چند پھیکے رنگوں کی مانند بکھرے پڑے نظر آتے ہیں ۔ اور ان رنگوں کی خاص بات کہ یہ ایک دوسرے کے سامنے بہت پھیکے نظرآتے ہیں ۔ پھرانہی رنگوں کو لیکر کوئی نام سے جانتا ہے تو کوئی کام سے پہچانتا ہے ۔ کوئی حوالہ دیکھتا ہے تو کوئی ساخت پرکھتا ہے ۔ ہر کوئی اپنی حدِّ نظر کا پابند ہے ۔ ہر تعارف مدِّ مقابل میں اپنے غرض کی چیزوں کا جائزہ لینے سے مشروط ہوتا ہے ۔ اگر چیزوں میں اپنی مرضی کی مطابقت مل جائے تو تعارف مکمل ہوجاتا ہے ۔ ورنہ تعارف کسی کام کا نہیں ہوتا ۔
میں یہ نہیں کہتا کہ میرا کوئی تعارف نہیں ہے ۔ مگر میں جسے جانتا ہوں وہ مجھے نہیں پہچانتا ۔ میری اکثر نفی کر دیتا ہے ۔ اور پھر مجھے بھی اس کی نفی کر دینی پڑتی ہے ۔ گویا میں اور میرا تعارف ایک دوسرے کی ضد ہیں ۔ میرا تعارف وہ نہیں جو میں ہوں ، یا یوں کہہ لیں کہ جو میں ہوں وہ میرا تعارف نہیں ہے ۔ میں جیسا نظر آنا چاہتا ہوں اس سے میرا تعارف الجھن محسوس کرتا ہے اور الجھی چیزیں کوئی بھی پسند نہیں کرتا ۔ایک عجیب سی گتھی ہے ، جسے سلجھانا میرے بس کی بات نہیں ۔ سوچتا ہوں تعارف کے دائروں میں اپنی شخصیت کیوں مقید کروں ۔ کیوں ناں اس کو ایک آزاد پنچھی کی طرح اڑنے دوں ۔ ‌شاید کہیں میری ہی طرح کوئی اپنی شخصیت کو تعارف کی گرم لُو سے بچاتا ہوا کسی سایہ دار درخت کی سبز ٹہنی پر مجھ سے آن ملے اور شاید پھر میرا “ تعارف “ مکمل ہوجائے ۔

ذاتی استدلال اور رائے ۔ ( اسلام اور موسیقی )

اسلام اور موسیقی کے حوالے سے میں ان تمام دوست و احباب کا مشکور ہوں جنہوں نے اپنی قیمتی رائے اور تبصرہ جات سے نوازا ۔ کچھ سوالات اس ضمن میں اٹھائے گئے ہیں ۔ چونکہ زیادہ تر سوالات میری ہی تحریر اور استدلال کے بارے میں ہے ۔ لہذاٰ میں نے کوشش کی ہے کہ میں اپنا وہ استدلال اور رائے واضع کرسکوں ۔ جس کے بارے میں میرا خیال ہے کہ میں اس کو وضع کرنے میں ناکام رہا ۔ میں اُمید کروں گا کہ بجائے اس کے کہ میرے استدلال ، دلائل اور ثبوت کو زیرِ بحث بنایا جائے ، دوست احباب اپنا استدلال ، دلائل اور ثبوت پیش کریں تاکہ ان کے مطالعہ سے کسی مثبت اور مفید بحث کا آغاز ہوسکے ۔ کسی کی بات پر استدلال پیش کرنا بہت آسان ہوتا ہے ۔ مگر جب یہ استدلال ، دلائل اور ثبوت کے ساتھ سامنے آئے تو ہوسکتا ہے کہ میری کم علمی کیساتھ کسی اور کی غلط فہمیوں کا بھی تدارک ممکن ہوسکے ۔
میں نے تحریر میں جس آیتِ کریمہ کا سب سے پہلے حوالہ دیا ہے ۔میرا خیال ہے آپ احباب اس آیاتِ کریمہ کے ترجمے پر غور کریں تو ان آیات ِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اشیاء کی حرمت کی پانچ اساسات بیان فرمائی ہیں۔
1- فواحش (بے حیائی )
2- اثم (حق تلفی )
3- ناحق زیادتی و سرکشی
4- شرک اور اس سے متعلق ہر شے
5- اللہ کی سند کے بغیر کسی چیز کو دین کے طور پر بیان کرنا (بدعت)
ان آیات کو سامنے رکھ کر یہ بات واضع ہوجاتی ہے کہ قرآنِ کریم میں آلاتِ موسیقی کی ممانعت کا براہِ راست حکم نہیں آیا ہے ۔چنانچہ اس کے بعد ان کی حرمت کے لیے ضروری ہے کہ ان کو مذکورہ بالا میں سے کسی کیٹگری سے متعلق کیا جائے ۔ ظاہر ہے کہ یہ ممکن نہیں ، بلکہ ان کا تعلق تو اس زینت سے ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ ان آیات میں دریافت فرماتے ہیں کہ انہیں کس نے حرام قرار دیا ہے؟
موسیقی کے حوالے سے ممانعت کا جو حکم ہمیں احادیث میں ملتا ہے ، اس کا پس منظر سمجھ لینا چاہیے ۔ رسول اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں آلاتِ موسیقی کا استعمال اپنے ساتھ بڑ ی آلائشیں پیدا کر چکا تھا۔ موسیقی کی محفلیں بیہودہ رقص، عریانی، بے حیائی، فحش کلمات و اعمال ، زنا اور شراب نوشی کے اہتمام کے ساتھ آراستہ کی جاتیں تھیں ۔ظاہر ہے کہ یہ چیزیں دین میں ممنوع اور حرام ہیں ۔ چنانچہ اسی پس منظر میں رسول اللہ علیہ وسلم نے “ سدِّ ذریعہ “ کے اصول پر لوگوں کو موسیقی سے سخت متنبہ کیا کیونکہ اس کے سارے لوازم معثیتِ رب کا باعث تھے ۔تاہم اپنی ذات میں چونکہ آلات موسیقی کوئی ممنوع شے نہیں ، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی پس منظر میں بعض موقعوں پر موسیقی کی اجازت دی ہے ۔جیسے:
’’سیدہ عائشہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور اس وقت میرے پاس دو لڑ کیاں جنگ بعاث کے حوالے سے گانا گا رہی تھیں ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا منہ دوسری طرف پھیر کر لیٹ گئے ۔اتنے میں حضرت ابوبکر تشریف لائے ۔ انہوں نے یہ دیکھا تو ناراضی سے فرمانے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں شیطانی آلات ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر سے فرمایا کہ ابو بکر جانے دو ۔(ایک دوسری روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ جانے دوآج ان کی عید کا دن ہے )۔‘‘
( صحیح بخاری: باب العیدین:527)
اگر موسیقی کے ساتھ کوئی فحش یا سفلی جذبات کو انگیخت کرنے والا کلام پڑھا جائے یا اسی مقصد کے تحت رقص وغیرہ کو ساتھ شامل کر لیا جائے تو ایسی موسیقی کی حرمت میں کسی کو اختلاف نہیں ہے۔ اصل اختلاف اس میں ہے کہ وہ زائد وجہ کون کون سی ہو سکتی ہے جس کے پیش نظر موسیقی کو حرام کہا جا سکتا ہے۔ جمہور علما کے نزدیک ایک بڑی اور بنیادی وجہ موسیقی کا ‘لہو’ ہونا ہے، یعنی یہ ایک ایسی چیز ہے جو انسان پر ایک خاص کیفیاتی لذت طاری کر کے اسے اللہ کی یاد سے غافل کر دیتی ہے۔ اب چونکہ یہ صورت کم وبیش ہر موسیقی میں پائی جاتی ہے، اس لیے جمہور علماء دف کے علاوہ ، جس کی اجازت حدیث میں منصوص طور پر بیان ہوئی ہے، باقی کسی بھی آلہ موسیقی کے استعمال کو ناجائز کہتے ہیں۔ اس کے برعکس بعض دوسرے اہل علم فی نفسہ کسی چیز کے ‘لہو’ ہونے کو حرمت کی کافی دلیل نہیں سمجھتے، کیونکہ دل کو بہلانے والے بہت سے امور کی اجازت شریعت میں ثابت ہے، بشرطیکہ وہ دل کو بہلانے تک محدود رہیں اور انسان اس سے آگے بڑھ کر ان میں اس طرح کھو نہ جائے کہ دین ودنیا کے فرائض اور ذمہ داریوں سے ہی غافل ہو جائے۔ مزید برآں ‘دف’ کی اجازت حدیث سے ثابت ہونے کے بعد دوسرے آلات موسیقی کو فی نفسہ مباح تسلیم نہ کرنے کی بھی کوئی معقول وجہ دکھائی نہیں دیتی، اس لیے کہ ایک دلکش اور سرور بخش آواز پید اکرنے میں تمام آلات موسیقی شریک ہیں، چنانچہ اگر باقی آلات موسیقی کو بھی ‘دف’ پر قیاس کرتے ہوئے فی نفسہ مباح کہا جائے تو بظاہر اس میں کوئی مانع دکھائی نہیں دیتا ۔
احادیث میں دف کے ذکر آنے کا پس منظر بھی یہی ہے کہ دین میں موسیقی “اصلاً “ ممنوع نہیں ۔اصل بات یہ ہے کہ دف کے استعمال میں آسانی کی بناء پر اسے پیشہ ور گانے والوں کے علاوہ عام لوگ بھی استعمال کرتے تھے ، اسی لیے اس کا ذکر آ جاتا ہے ۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ دف اسلامی ساز ہے اور باقی غیر اسلامی۔ عہدِ جدید میں تو آپ کا ٹیلفون ، موبائل، کال بیل وغیرہ سب ہی آلاتِ موسیقی بن چکے ہیں ۔ لہٰذا اصل بات یہ کہ اپنی ذات میں گانا اور موسیقی حرام نہیں ، لیکن جب جب اس میں کوئی دوسری اخلاقی آلائش شامل ہو گی (اور اکثر ہو ہی جایا کرتی ہے ) تو اس سے بچنا ضروری ہوجائے گا۔یہ بات ہمیشہ ملحوظ رکھی چاہیے ۔
ان معاملات میں انسانی نفسیات بہت اہم ہے ۔ اس طرح کے تمام معاملات میں انسانی ذہن جس طرح کام کرتا ہے ۔ اس میں وہ حقیقت کو سمجھے گا ۔ اور پھر حقیقت سے معاملات کا تعلق پیدا کرے گا ۔ یعنی چیز کو اصل میں‌ جانے گا اور پھر دیکھے گا کہ وہ فراء میں کیسے جارہی ہے ۔ یعنی انسانی نفسیات ان طرح کے معاملات کو قانونی زاویئے سے دیکھتی ہے ۔ اس سلسلے میں ایک قاعدہ وجود میں آتا ہے ۔ تاکہ لوگوں کو کوئی سوال کرنے کی ضرورت پیش نہ آئے ۔
اس کے برعکس اگر قرآن کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات واضع ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ طریقہ اختیار نہیں کیا ۔ یعنی اللہ کسی بھی چیز کو قانون کے دائرے میں رکھ کر انسانوں کے سامنے نہیں رکھتا ۔ بلکہ وہ اجمالی ہدایاتیں دیتا ہے ۔ بعض چیزوں کے حددو متعین کرتا ہے ۔ پھر اس کے بعد ایک دائرہ ہوگا جو انسانوں پر چھوڑ دیں گے ۔ کیونکہ انسانی فطرت اور مزاج میں‌ تنوع ہوتا ہے ۔ اس لیئے اللہ اس کا خاص خیال رکھتا ہے ۔
ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہی یہی ہے کہ ہم نے مذہب کو قانونی اصطلاحات میں اسیر کرکے ایک طاقت پر قائم رہ جانے والا نظام بنا کر پیش کیا ہے ۔ ہمارا معاشرہ ہو یا ریاست ، اس نے دین کے احکامات کی اخلاقی روح کو اقدار بنانے کے بجائے دین کے احکام کو مجموعہِ قوانین بنا کر اس کو بلا لحاظ نافذ کردینے کا ایک تصور پال رکھا ہے ۔ جو ہمارے یہاں ایک تنوع ، جبر اور ناکامی کا سبب بنا ہے ۔ جب ہم اسلام کو لوگوں کے سامنے پیش کر رہے ہوتے ہیں تو ایسا نہیں ہوتا کہ ہم اقدار پر مبنی کسی تصور کی بات کررہے ہیں بلکہ ہم قوانین پر ایک فکر کو فروغ دے رہے ہوتے ہیں جس پر ہمارا تمام اصرار اسی بات پر ہوتا ہے کہ یہ قانین نافذ کر دیئے جائیں یا یہ حدودِ قوانین آجائیں تو اس سے فلاح آسکتی ہے لہذاٰ اس طرزَ عمل سے اقدار کا جو تصور ہوتا ہے، وہ مجروع ہوجاتا ہے ۔ اسلام بنیادی طور پر اقدار پیدا کرنا چاہتا ہے ۔ مگر ہم اس کو ایک قانونی شکل دیکر معاشرے میں سختیاں اور رکاوٹیں پیدا کردیتے ہیں ۔ اور علامہ اقبال نے بھی شاید اسی بناء پر کہا تھا کہ “ مسلمانوں نے پانچ سو سالوں سے سوچنا چھوڑ دیا ہے ۔ “
موسیقی جائز ہے ، ناجائز ہے ، حلال ہے یا حرام ہے ۔ یہ اپنا زاویہِ نظر اور استدلال ہے ۔ اور یہ زاویہِ نظر اور استدلال اپنے مکتبِ فکر کا محتاج ہے ۔ میری ساری بات کا ماخذ یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جتنی بات فرمائی ہے ۔ ہم اس کو صرف اُتنا ہی رہیں دیں ۔ اس کے بعد اس باتوں پر اپنا کوئی استدلال پیش کرنا کوئی بری بات نہیں ہے ۔ مگر ہم اس کو فرمانِ الہی بھی نہیں بنا سکتے ۔ یہ درست ہے کہ گانوں کی شکل میں جو موسیقی ہر جگہ سنی اور سنائی جا رہی ہے ، اسے قابل قبول قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس طرح کی موسیقی سے پرہیز ہی کرنا چاہیے۔ “ لیکن دین کی اصولی بات بھی اپنی جگہ ہے ۔ اصولاً موسیقی کو ناجائز قرار دینے کی کوئی دلیل نہیں ہے “ ۔ ( میری ساری تحریر کا سارا ماخذ ہی یہی کلیہ تھا ) البتہ موسیقی کے عمومی استعمال میں جو قباحت موجود ہے ، اسے سامنے رکھتے ہوئے اگر استعمال درست نہ ہو تو یہ گنا ہ ہے۔ جائز موسیقی کی بعض صورتیں ہمارے ہاں بھی موجود ہیں، جیسے جنگی اور ملی ترانے ، حمدیہ اور نعتیہ کلام ، اچھے مضامین کی حامل غزلیں اور نظمیں ، جنھیں آلات موسیقی کے ساتھ اور فن موسیقی کے مطابق گایا جاتا ہے ، موسیقی کے صحیح استعمال کی مثالیں ہیں۔
چند دوستوں نے موجودہ تحریر کو سطحی قرار دیا ہے ۔ میں‌ ان کے کمنٹس کا احترام کرتا ہوں کہ میں‌ ایک طالب علم ہوں اور وہ بہت بڑے عالم ہیں ۔ مگر میں‌ نے جن علماء کی کتابوں کا تذکرہ اپنی جس تحریر میں کیا ہے ۔ اس کا مطالعہ شاید ابھی تک کسی نے نہیں کیا ۔ کیونکہ براہ راست ان کتب پر کوئی تنقید میرے سامنے اب تک نہیں آئی ہے ۔ ( واللہ عالم )

اسلام اور موسیقی

مسلمان معاشرے ان دنوں Transformation کے ایک دور سے گذر رہے ہیں ۔ عالم ِ اسلام میں ہر طرف روایت اور جدت کی ایک کشمکش ہے ۔ یہ کشمکش کسی قوم کے مستقبل کے لیئے بڑی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے ۔ علامہ اقبال نے اس طرف توجہ دیتے ہوئے فرمایا تھا کہ :
آئینِ نو سے ڈرنا ، طرزِ کوہن پہ اَڑنا
منزل یہی کھٹن ہے قوموں کی زندگی میں
کشمکش کے یہ میدان بہت سے ہیں ۔ لیکن اس میں سب سے واضع اور نمایاں میدان فنونِ لطیفہ کا ہے ۔ اور اس میں بھی نمایاں تر موسیقی کی بحث ہے ۔ ایک مسلمان معاشرے میں کیا موسیقی کے لیے گنجائش موجود ہے ۔ ؟ اسلام جس تہذیب کو فروغ دینا چاہتا ہے ۔ کیا اس میں موسیقی کے لیے کوئی جگہ ہے ۔ جو تزکیہ انسان کو مذہب میں مطلوب ہے کیا موسیقی اس میں معاون ہے یا اس کا کردار منفی ہے ۔ ؟
جو چیز انسان کو شرک اور بے حیائی کی طرف مائل کردے یا کوئی ایسی چیز جو انسان کو اس کی بنیادی ذمہ داریوں ، عبادات اور ضروریات سے غافل کردے ۔ ایسی صورت میں جو جائز چیز ہوگی وہ بھی اس وقت ناجائز ہوجائے گی ۔ اور اسکا تعلق صرف موسیقی سے ہی نہیں بلکہ وہ کوئی بھی چیز ہوسکتی ہے ۔ مثلاً اگر کوئی شخص صرف سیر وتفریح ہی کرنے لگے یا کوئی شخص اس طرح شاعری کرنے لگے کہ وہ اپنے فرائض سے غافل ہوجائے ۔ تو یہ چیزیں بھی ناجائز بن جائیں گی ۔ اگر بات موسیقی کی ہے تو پوری کائنات میں موسیقیت کے مظاہر ہر جگہ ملیں گے ۔ پانی کے جھرنوں کا گنگنانا ، پرندوں کا مخصوص انداز میں چہچہانا ، ہوا کی سرسراہٹ ۔ سب فطرت کی موسیقی کے ہی مظاہر ہیں ۔ اور قرآن نے جس طریقے سے کہہ دیا ہے ۔
کہ ۔
” قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِینَةَ اللهِ الَّتِی أَخْرَجَ لِعِبَادِہِ وَالطَّیِّبَاتِ مِنْ الرِّزْقِ قُلْ ہِیَ لِلَّذِینَ آمَنُوا فِی الْحَیَاةِ الدُّنْیَا خَالِصَةً یَوْمَ الْقِیَامَةِ کَذَلِکَ نُفَصِّلُ الْآیَاتِ لِقَوْمٍ یَعْلَمُونَ ۔ ( سورہ مائدہ ۔ آیت نمبر 90 )
ترجمہ: کہہ دو کہ کس نے اللہ کی اس زینت کو جو اس نے اپنے بندوں کے لئے پیدا کی ہے اور دلپسند اور پاکیز ہ رزق کو اپنے اوپر بغیر کی دلیل کے حرام قرار دیا ہے۔ کہہ دو کہ یہ نعمتیں دنیوی زندگی میں مومنین کے لئے ہیں (اگرچہ کفار بھی ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔)۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ موسیقی بنیادی طور سے جائز ہے بشرطیکہ اس میں شرک اور بے حیائی نہ ہو ۔ اور وہ انسان کو اس کی اہم زندگی کی ضروریات سے غافل نہ کردے ۔ یہی وجہ ہے کہ جب ہم قرآن مجید کو سامنے رکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ موسیقی کو حرام قرار دینے کے لیئے قرآن مجید میں کوئی بنیاد موجود نہیں ہے ۔ اور جب ہم احادیث کا مطالعہ کرتے ہیں تو جتنی بھی صحیح احادیث ہیں ۔ وہ موسیقی کی حلت پر یعنی اس کے حلال ہونے کی طرف اشارہ کرتیں ہیں ۔ اور جتنی بھی ضعیف احادیث ہیں وہ اس کو حرام قرار دیتیں ہیں ۔
ایک حدیث کی طرف توجہ مبذول کرواتا ہوں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ” مجھے آلاتِ موسیقی کو توڑنے کے لیئے بھیجا گیا ہے ” اور جب اس کی تفصیل میں جانے کا اتفاق ہوا تو معلوم ہوا کہ یہ ایک انتہائی ضعیف حدیث ہے ۔ یعنی اس بات کا تعلق حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ثابت نہیں ہوتا ۔ اس کو ثابت کرنا ایک بہت بڑی جسارت ہوگی ۔ لہذا ایسی احادیث پر کسی چیز کے حرام ہونے کا فتویٰ نہیں لگایا جاسکتا ۔
سو سال پہلے علامہ اقبال نے اپنے لیکچر Reconstruction Religoin Theory Of ISLAM میں کہا تھا کہ ” مسلمانوں نے پانچ سو سال سے سوچنا بند کردیا ہے ۔ ” اب ایک لکیر پر سفر شروع ہوگیا ہے ۔ اگر اس پر کسی قسم کے خیالات یا نظریات کا اظہار کیا جائے تو وہ فتوؤں کی گرفت میں آجاتا ہے ۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ موسیقی کے اکثر آلات مسلمانوں کی ہی ایجاد کردہ ہیں ۔ گٹار اسپین کے مسلمانوں نے ایجاد کیا ۔ طبلہ اور ستار امیر خسرو کی ایجاد ہیں ۔ ۔ مسلمان معاشرے میں جو بھی ترقی ہوئیں وہ پندرھویں یا سولویں صدی سے قبل کی ہیں کہ اس وقت مسلمان سوچ رہا تھا ۔ اور مسلمانوں نے اس قسم کی جو بھی ایجادات کیں وہ محض تفریح کے لیئے نہیں بلکہ ایک تخلیقی کام کو آگے بڑھانے اور زندہ رکھنے کے لیئے تھیں ۔ کیونکہ تفیہمِ نو کا سفر جاری تھا ۔
کسی بھی چیز کو ناجائز قرار دینے کے لیئے ایک مضبوط دلیل کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اس کو آپ محض کمزور احادیث پر حرام قرار نہیں دے سکتے ۔ جب ہم موسیقی کے حوالے سے تمام روایات کو اکٹھا کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ بخاری اور مسلم میں جو احادیث ہیں ۔ وہ اس طرف اشارہ کرتیں ہیں کہ بغیر کسی استثناء کے وہ تمام چیزیں جن میں شرک اور بےحیائی نہ ہو تو ان میں کوئی ناجائز ہونے کی بات نہیں ہے ۔
واحد صحیح حدیث جس میں موسیقی کا تذکرہ ملتا ہے وہ یہ ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ” جن چیزوں کی قیامت کے دن اکثریت ہوجائے گی ۔ ان میں سے ایک چیز موسیقی بھی ہے ۔ ”
یہ حدیث بلکل ٹھیک ہے ۔ لیکن اس حدیث میں خبر دی گئی ہے کوئی حکم نہیں دیا گیا ہے ۔ تو اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ قربِ قیامت میں لوگ ان چیزوں میں اس طرح منہمک ہوجائیں گے کہ وہ نہ صرف اپنی عبادات بلکہ اپنی زندگی کی ذمہ داریوں کو بھی بھلا دیں گے ۔ اب بانسری کی بات ہے تو ایک صحیح روایت میں یہ بات بھی آئی ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک سائبان کو بانسری بجاتے ہوئے دیکھا تو فرمایا کہ ” یہ سفر کی کلفت دور کرنے کا کتنا اچھا طریقہ ہے ۔ ” چنانچہ جتنی بھی دو چار حدیثیں جو موسیقی کے خلاف پیش کی جاتیں ہیں ۔ اور محدثین نے ان پر جس طرح کے اعتراضات کیئے ہیں اور بتایا ہے کہ ان میں سے ہر ایک روایت میں ایسی چیزیں ہیں جو ان کو کمزور بنا دیتیں ہیں اور جن بنیاد پر یہ کہنا کہ موسیقی حرام ہے یہ بات ٹھیک نہیں ہے ۔ البتہ اس کی بنیاد پر ہم یہ ضرور کہہ سکتے ہیں کہ وہ تمام چیزیں جو انسان جو بےحیائی کی طرف راغب کر ے اور ذمہ داریوں اور عبادات سے دور لے جائے ان میں موسیقی ” بھی ” ہوسکتی ہے ۔ ایسی صورت میں موسیقی کی بھی ممانیت ہوجائیگی ۔
اگر حضورِ پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی چیز کو حرام قرار دیا ہے اور ہم کوشش کر کے اس کو جائز ثابت کریں تو یہ دین سے انحراف کے مترادف ہوگا ۔ جس کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حرام قرار دیا ہو اس کو کوئی بھی مسلمان حلال قرار دے نہیں سکتا ۔ لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ بھی ایک ناپسندیدہ رویہ ہے کہ اگر ہمارے درمیان کوئی علمی اختلاف ہو رہا ہو اور اٹھ کر کوئی یہ کہہ دے کہ تم اپنی خواہشِ نفس کی بنیاد پر یہ بات یہ کہہ رہے ہو تو یہ بھی ایک ناپسندیدہ رویہ ہوگا جتنا کہ پہلے والا ہے ۔ لیکن اگر کوئی موسیقی کو سننا چاہتا ہے تو میں اس کے جواز کو مانتا ہوں ۔ اب یہ جواز کو ماننے والی بات کیا ہے کہ جتنی بھی چیزیں جو حلال و حرام اور گناہ کبیرہ کی نوعیت کی ہیں ۔ یا فرض کی نوعیت کی ہیں ۔ تو اس کا ذکر لازماً قرآن میں ہوا ہے ۔ کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوا ہو کہ
” یٰٓاَ یُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اِنَّمَا الْخَمْرُوَ الْمَیْسِرُ وَ الْاَنْصَابُ وَالْاَزْلَامُُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْہُ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ ہ ( سورہ اعراف ۔ آیت نمبر ( 32)
ترجمہ۔ اے ایماندارو! شراب، جوا، بت اور قرعہ کے تیر تو پلیدی اور شیطانی کاموں میں سے ہیں لہٰذا تم ان سے اجتناب کرو ہو سکتا ہے کہ تم فلاح پا جاؤ۔
یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ ان کے ساتھ اللہ موسیقی کو نہ ملائے ۔ اس کے بعد جب ہم روایت کی بنیاد پر آتے ہیں تو کسی روایت کے ذریعے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی ایسی بات ہمیں پہنچی ہوئی ہوتی کہ اے مسلمانو! موسیقی تم پر مکمل طور پر حرام ہے ۔ اس کے آلات تم پر حرام ہیں ۔ اس کا سننا تم پر حرام ہے تو مسلمان اس کے سامنے اپنا سرخم تسلیم کر لیتے ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کی کوئی بات موجود ہی نہیں ہے ۔ مہیز مختلف ذرائع سے سے بالواسطہ یہ بات لائی جانے کی کوشش کی جاتی ہے ۔
بہت ساری چیزیں ایسی ہیں کہ جو سنداً ثابت ہوجاتیں ہیں ۔ لیکن محدثین ان پر تنقید درایت کے اصولوں پر کرتے ہیں ۔ یہ ایسی ہی بات ہے کہ ایک دفعہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا کہ ” حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ گھر ، گھوڑے اور عورت میں نحوست ہوتی ہے ۔ ” یہ بات جب حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا تک پہنچی تو انہوں نے ارشاد فرمایا کہ ” ابوہریرہ نے ہمیں تو گھر اور گھوڑے کے ساتھ ملا دیا ۔ ” حقیقت یہ نہیں تھی کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسے فرمایا تھا ۔ بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوں ارشاد فرمایا تھا کہ ” زمانہ جاہلیت میں لوگ ان چیزوں کے درمیان نحوست محسوس کرتے تھے ۔ ” چناچہ درایت کے اصولوں کے مطابق بےشمار روایتوں پر نقد و جرح ہوچکی ہے اور یہ بات کہی جاچکی ہے کہ یہ چیز اس طرح عقل و فطرت اور قرآن مجید کے اصولوں کے خلاف ہے ۔ اور اس بنیاد پر ایسی روایات ماننے کے قابل نہیں ہوتیں ۔ جب ان تمام چیزوں کو اس طرح ملا لیا جاتا ہے ۔
اس سلسلے میں دو کتابیں پڑھنے کے قابل ہیں ۔
ایک ” اسلام اور موسیقی ” جو مولانا جعفر شاہ پھلواری نے لکھی ہے ۔
اور دوسری کتاب جس کا نام بھی ” اسلام اور موسیقی ” ہے ۔ اس کو جناب مفتی محمد شفیع نے لکھا ہے ۔
اگر ان دو کتابوں کو پڑھ لیا جائے اور پھر اپنے اندر کے مفتی سے پوچھا جائے تو وہ صاف طور پر بتا دیتا ہے کہ کونسی روایت غلط ہے اور کونسا اس کا طریقہ کمزور ہے ۔

رشتے

معاشرے میں لوگوں کے باہمی تعلقات اور روابط کو رشتوں کا نام دیا جاتا ہے ۔ یہ رشتے مخلتف نوعیت کے ہوسکتے ہیں ۔ چونکہ رشتوں کی نوعیت مخلتف ہوتی ہے ۔ اسی وجہ سے رشتوں میں پختگی ، مضبوطی ، اور دیگر عوامل کے معیار میں تضاد کا بھی امکان موجود رہتا ہے ۔ ایک فرد سے خاندان اور خاندان سے معاشرے تک رشتوں کا ایک طویل جال پھیلا ہوا ہوتا ہے ۔ ہر رشتے کی طنابیں ، احساس کی شدت سے مزین ہوتی ہیں ۔ یہ احساس ، انسان کے اندر اس کی اپنی فطرت ، ذاتی خواہشات اور دلچسپی کا مرہونِ منت ہوتا ہے ۔ چونکہ کسی بھی رشتہ کے وجود کے لیئے ایک سے زائد فرد کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اس لیئے کوئی بھی رشتہ ، فریقین کی صورت میں ظہور پذیر ہوجاتا ہے ۔ جہاں مختلف فطرت ، سوچ ، نظریات ، رحجانات اور توقعات کارفرما ہوتیں ہیں ۔ چنانچہ احساس کی شدت جو کسی بھی رشتے کے وجود کی بنیاد ہوتی ہے ۔ اس میں اتار چڑھاؤ ، وقت اور حالات کی تبدیلی کے ساتھ رونما ہوتا رہتا ہے ۔ رشتہ کسی بھی نوعیت کا ہو ۔ وہ احساس کی شدت کے گرد گھومتا ہے ۔ ہم اسی شدت کو خلوص ، محبت ، نفرت اور دیگر جذبات کے مخلتف پہلوؤں سے تعبیر کرتے ہیں ۔ اور اسی احساس کی شدت میں کمی وبیشی ہمیں رشتوں میں درجات بنانے پر مجبور کرتی ہے ۔
رشتوں میں کامیابی اور ناکامیابی کا انحصار فریقین کے مابین امیدوں اور توقعات کے توازن پر ہوتا ہے ۔ محبت خلوص سے مشروط ہے اور خلوص احساس سے ۔ احساس کی نوعیت جیسی ہوگی ۔ یہ عوامل بھی اسی سطح پر اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے ۔ ہر رشتے میں احساس خلوص کو متحرک کرتا ہے اور خلوص محبت کی صورت میں ظہور پذیر ہوجاتا ہے ۔ چونکہ رشتوں کی نوعیت مختلف ہوتی ہے لہذاٰ احساس کی شدت بھی قدرے مختلف ہوگی ۔ اسی شدت کے درجات پر رشتے کی کامیابی اور ناکامی کا دارومدار ہے ۔ انسان میں احساس ، خلوص کی انتہا پر ہو تو احساس کی شدت بھی انتہائی درجے پر ہوگی جوکہ رشتوں کی مناسبت سے محبت کی کسی بھی صورت میں ظاہر ہوجائے گی ۔ ایسی صورت میں انسان ہمیشہ اُس رشتے کو مقدم رکھے گا جس سے احساس اس درجہ منسلک ہوگا ۔ اگر یہ معاملہ کسی فریقین کے مابین موجود ہو تو رشتے میں ہم آہنگی پیدا ہوجائے گی اور رشتوں میں کامیابی کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے ۔ کیونکہ یہاں امیدوں اور توقعات کے درمیان ایسا توازن پیدا ہوجاتا ہے ، جو کبھی بھی اپنے دائرہِ اختیار سے باہر سفر اختیار نہیں کرتے ۔ اور یہی دائرہ رشتوں کو ایک دوسرے کی اہمیت کا احساس دلا کر انہیں مضبوطی سے ایک توازن میں قائم رکھتا ہے ۔ توازن کی اس شرح پر رشتہ ہمیشہ پائیدار اور دیرپا ہوگا ۔ بصورتِ دیگر اس میں دڑاریں پڑنے جانے کا احتمال رہنے کا امکان موجودرہے گا ۔
احساس ، انسان میں قدرت کی طرف سے ودیعت کردہ ایک ایسا عنصر ہے ۔ جو کہ انسان کو نہ صرف اس کے وجود کا جواز فراہم کرتا ہے بلکہ اس کے وجود سے منسلک ان تمام چیزوں کے تعلقات کی اہمیت کے ادراک کا مشاہدہ بھی کرواتا ہے ، جو انسان کی زندگی سے وابستہ ہوتیں ہیں ۔ میری نظر میں دراصل احساس ” زندگی ” کا نام ہے ۔ جس کو ہم “روح “ سے گردانتے ہیں ۔ ہرانسان کی زندگی فطرت کے مختلف اصولوں پر مرتب کی گئی ہے ۔ لہذاٰ جب انسان خود کو ان اصولوں پر پرکھتا ہے تو وہ خود کو دوسروں سے بلکل مخلتف پاتا ہے ۔ اور اسی اختلاف کی بناء پر وہ تعلقات اور رشتوں میں بھی امیتاز رکھنے پر مجبور ہوجاتا ہے ۔ جب انسان فطرت کے بنیادی اصولوں کے مطابق ، دوسرے انسان سے مخلتف ہے تو اس قاعدے کے مطابق اس میں دوسرے سے روابط رکھنے کا معیار کا پیمانہ بھی مخلتف ہوگا ۔ احساس چونکہ زندگی کا نام ہے ۔ چنانچہ جب زندگی میں کسی بھی رشتے کے تعلق کا فطری سفر عمل پذیر ہوگا تو اس میں سب سے پہلے امیدیں اور توقعات شامل ہونگیں ۔ اب چونکہ احساس کی نوعیت مخلتف ہے تو اس لیئے انسان پہلےاپنی امیدوں اور توقعات کو اسی نوعیت کے مطابق اہمیت دیگا۔ تاکہ احساس کو آسودگی میسر آسکے۔ اسی مقام پر خلوص ، احساس کی Intention کی وجہ سے پیدا ہوجائےگا ۔ اور یہی Intention رشتوں میں اپنی فطرت کے مطابق ، ترجیحات کے فارمولے پر عمل کرتے ہوئے درجات بناتی ہوئی نظر آئے گی ۔ اس وجہ سے رشتوں میں تفریق پیدا ہوجاتی ہے ۔
چونکہ رشتوں کے آغاز کے لیئے احساس کو سب سے اپنے وجود کا ثبوت فراہم کرنا پڑتا ہے ۔ لہذا ہر وہ شے میں جو اس کی زندگی سے منسلک ہونگیں ، اس میں اپنے وجود سے تعلق کی بنیاد تلاش کرنےکی کوشش کرے گا ۔ ہر تعلق خلوص اور Intention سے وابستہ ہوتا ہے ۔ مگر ہر تعلق میں خلوص یکساں نہیں رہ سکتا ۔ کیونکہ Intention ہر تعلق میں مختلف ہوتی ہے ، سو Intention ، محبت یا نفرت کی کسی بھی صورت میں نمودار ہوجائے گی ۔ یعنی احساس نے اپنے وجود کا جواز تعلقات میں ڈھونڈا ، تعلقات نے جذبات پیدا کیئے ( جو صریحاً انسان کی اپنی ذاتی فطرت کے مطابق خلوص اور Intention کے محتاج ہوتے ہیں ) ۔ جذبات نے شدت پیدا کی اور شدت نے رویوں کو روشناس کروایا ۔ رویوں نے رشتوں کے درجات بنائے ۔ اور کوئی بھی درجہ اپنی شدت کی شرح کی بنیاد پر محبت یا نفرت کی صورت میں سامنے آگیا ۔
احساس ، خلوص ( Intention ) اور محبت ایک ایسی عمارت بناتے ہیں ۔ جسے ہم کسی بھی رشتے سے تعبیر کرتے ہیں ۔ فرض کریں کہ آپ ایک آرٹیکٹ ہیں ۔ آپ نے سوچا کہ ایک عمارت بنائی جائے ۔ یہ احساس ہے ۔ آپ نے پوری تندہی ، لگن ، محنت سے اس ” احساس ” پر کام کرنا شروع کیا کہ کہاں کیسے چوکھٹیں لگائیں جائیں ۔ کہاں کیسا در ہوگا ۔ درودیوار پر روغن کیسا ہوگا ۔ یہ Intention یا خلوص ہے ۔ جب عمارت بن کر سامنے آگئی تو یہ وہ “ رشتہ “ ہے ۔ جس کی بقاء کا دارومداراُس محبت پر ہے ۔ جو Intention یا خلوص سے وجود میں آئی یا یوں کہہ لیں کہ احساس اور خلوص کے باہمی اشتراک سے وجود میں آئی ۔ احساس اور خلوص کی شدت محبت کی معراج متعین کرے گی ۔ جس پر کسی بھی رشتے (عمارت )
کی پائیداری کا انحصار ہوگا۔

Previous Older Entries