چند حسینوں کے خطوط ، چند تصویرِ بُتاں ( قصہ دوم )

ہم نے شاہد صدیقی کو تلاش کیا اور انہیں ایک خان صاحب کے کیفے لے گئے ۔ ہمیں معلوم تھا کہ چائے شاہد صدیقی کی کمزوری ہے ۔ لہذا ان کی خاطر ومدارت بھی چائے سے کرنا لازم و ملزوم ٹہری ۔ ابھی چائے کا نزول ہوا ہی تھا کہ موصوف نے ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے چائے کا چینک ( کیتلی ) ایک سانس میں خالی کردیا ۔ اس قدر گرم چائے اور اس طرح حلق میں اُتارنے کا مظاہرہ ہم نے پہلی بار دیکھا تھا ۔ حلق میں جانے کس کمپنی کی فائبر آپٹیکل کیبل نصب کرائی ہوئی تھی کہ ساری چائے حلق چھوئے بغیر ان کے معدے میں براجمان ہوچکی تھی ۔ ہم نے خان صاحب کو دوسری چینک کا آرڈر دیا اور جلدی سے اپنا مسئلہ شاہد صدیقی کے سامنے گوشوار کردیا کہ ہمارے جیب میں اب مذید چائے کے لیئے معقول رقم موجود نہیں تھی ۔
ہماری داستانِ غم سن کر انہوں نے پہلے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو سر کے پیچھے باندھتے ہوئے ایک سرد آہ بھری اور پھر کسی سوچ میں گُم ہوگئے ۔ یہ بتانا بہت مشکل تھا کہ انہوں نے اپنی آنکھیں بھی بند کر لیں تھیں ۔ کیونکہ ان کی آنکھوں کے پپوٹے ان کی آنکھوں کے ڈیلوں سے بہت چھوٹے تھے ۔ ایک ڈیلے کا سائز تقریباً ایک سواتی سیب جتنا تھا ۔ اور ان پپوٹوں سے ان ڈیلوں کا احاطہ کرنا تقریباً ناممکن تھا ۔ ہم کچھ دیر تو صبر کرتے رہے ۔ مگر جب ان کا استغراق طول کھینچنے لگا تو ہمیں چائے کی آمد کی خبر دیکر ان کو اُلوؤں کی طرح شاخ سے اتارنا پڑا ۔ انہوں نے اپنی کھلی ہوئی آنکھوں کو مذید کھولنے کی ناکام کوشش کی اور میز پر انگلیاں بجاتے ہوئے خان صاحب کی طرف دیکھنے لگے ۔ ہم نے ان کو اپنا مدعا یاد دلایا تو بڑی گھمبیر آواز میں مخاطب ہوئے ۔
” یار تمہارا مسئلہ واقعی بہت پیچیدہ ہے ۔ اور حقیقت یہ ہے کہ تمہیں ایک عشق پانے کے لیئے دوسرے عشق سے دستبردار ہونا پڑے گا ۔”
ہم نے بڑی عاجزی سے عرض کیا ۔
” جی جناب ۔۔۔ ہمیں علم ہے ۔۔۔ مگر کسی ایک عشق سے ہاتھ دھونا ہمیں زندگی سے ہاتھ دھونے کے مترادف لگ رہا ہے ۔ سمجھ نہیں آتا کیا کروں ”
ہم نے شاہ رخ خان کی طرح گھیگیانے کی ناکام ایکٹنگ کی ۔
اے غمِ زندگی ، کچھ تو دے مشورہ
ایک طرف اس کا گھر ، ایک طرف میکدہ
شاہد صدیقی نے دوسری چینک کیساتھ بھی تاتاریوں جیسا سلوک روا رکھا ۔
” دیکھو ۔۔۔۔۔ ” شاہد صاحب نے جیسے کچھ کہنے کا آغاز کیا ۔
” لگتا یہی ہے کہ یہ عشق تمہارے روح کےاندر اُتر چکے ہیں ۔جن سے جدائی تمہارے لیئے ممکن نہیں ۔ اس کا علاج یہی ہے کہ کسی ایک عشق کا اثر تمہارے دل سے کچھ اس طرح زائل ہو جائے کہ دوسرا عشق تمہاری زندگی کی حتمی صورت بن جائے ۔ ”
” مگر یہ کیسے ممکن ہے ۔۔۔۔۔ ؟ ” ہم تقریباً گڑگڑائے ۔
ہمیں ان کے فلسفے سے زیادہ اپنے مسئلے کے حل کی فکر تھی ۔
انہوں نے میز پر دونوں کہنیاں ٹکاتے ہوئے اپنے بڑے بڑے ڈیلوں کو ہماری جھیل جیسی معصوم آنکھوں میں جھانکتے ہوئے جیسے ڈبونے کی کوشش کی اور پھر فلسفیانہ انداز میں کہا ۔
” تمہیں ۔۔۔ ایک تیسرا عشق کرنا پڑے گا ”
ہمیں ایسا لگا کہ کسی بچھو نے ہمیں ڈنگ مار دیا ہو ۔ مگر ہم پٹھان کے ہوٹل کی بوسیدہ چھت کا خیال کرکے اچھلنے سے باز رہے ۔
” شاہد صاحب ۔۔۔ ہم آپ کو اپنا مسیحا سمجھ کراپنا جیب خرچ بمعہ موٹر سائیکل کے پیٹرول کے پیسے ، چائے کی صورت میں آپ پر وار چکے ہیں ۔ کیا یہ صبح کا اجالا اور شام کی شفق ہماری ننھنی سی جان کے لیئے آزمائش نہیں تھا کہ آپ تیسرے عشق کا مشورہ فرما رہے ہیں ۔ کچھ تو خیال کجیئے ۔ ”
“یار ۔۔۔ تم نرے احمق ہو ۔ عشق کا روگ لگا لیتے ہو ۔ پھر دردِ دل کی دوا ڈھونڈتے ہو “۔ شاہد صدیقی نے تقریباً جھنجھلاتے ہوئے کہا ۔
دیکھو ۔۔۔۔ اگر تم تیسرا عشق کروگے تو تمہارے دل سے ان دو عشق میں سے کسی ایک عشق سے بیزاری خود بخود پیدا ہوجائے گی ۔ اور جس سے بیزاری پیدا ہوجائے اس کو الوادع کہہ کر دوسرے والے کو اپنی مستقل منزل بنالینا ۔ آسان سا حل ہے ۔ ”
” پھر تیسرے عشق کا کیا ہوگا ۔؟ ”
ہم نے اپنی زیرو وولیٹج والی کھوپڑی سے ان کے اس عظیم الشان منصوبے کو سمجھتے ہوئے اپنا خدشہ بیان کردیا ۔
” پھر وہی احمقوں والی بات ۔۔۔۔ ارے تم تیسرا عشق کونسا دل کے کہنے پر کروگے ۔ وہ عشق تو تم اپنے ان عشقوں میں سے کسی ایک عشق کو بھلانے کے لیئے انجام دوگے ۔ جب منصوبہ پایہ ِ تکمیل تک پہنچے گا تو تیسرے عشق کو بھلانا کونسا مشکل ہوگا کیونکہ اس کی افادیت صرف قیلوے کے مترادف ہوگی ۔ ”
شاہد صدیقی کو شاید ہماری طبعیت کا اندازہ نہیں تھا ۔ سو ہم نے ڈرتے ڈرتے ان سے سوال کیا
” اگر تیسرے عشق میں بھی ہم دل و جاں سے فدا ہوگئے تو ۔۔۔۔۔۔۔ ؟ ”
یہ سنتے ہی شاہد صدیقی نے پی آئی اے کے پرانے فوکر جہاز کی طرح کرسی پر بیھٹے بیھٹے کئی خوفناک جھٹکے لیئے اور پھر غصے سے کھڑے ہوگئے ۔
” یار ۔۔۔۔ عجیب آدمی ہو ۔۔۔۔ عشق بھی تم اس طرح ہضم کر لیتے ہو جیسے مولوی حلوے کا حشر کرتے ہیں ۔ میں تم کو اتنا مفید مشورہ دے رہا ہوں اور تم عشق میں ڈنڈی پہ ڈنڈی مار رہے ہو ۔ کچھ تو خوفِ خدا کرو ۔ ”
ہم ڈر گئے کہ شاہد صدیقی ناراض ہوگئے تو ان کو منانا پھر بہت مشکل ہوگا ۔
” سوری شاہد صاحب ۔۔۔۔۔ غلطی ہوگئی ۔۔۔ ٹہریئے ۔۔۔ میں چائے کا آرڈر دیتا ہوں۔ ”
ہم نے خان صاحب سے ادھار کا تقاضا کرتے ہوئے تیسری چینک کے لیئے استدعا کی ۔
“‌شاہد صاحب ۔۔۔۔ آپ کا مشورہ پوری طرح سمجھ آگیا ہے ۔ واقعی تیسرا مصنوعی عشق ہی اجالا اور شفق میں‌ سے ، کسی ایک کے انتخاب میں مدد دے سکتا ہے ۔ مگر ہنوز دلّی دور است ” ۔ ہم نے اپنی پریشانی پھر ظاہر کی ۔
” اب کیا ہوگیا ۔ ؟ ”
شاہد صدیقی نے بیزاری سے استفار کیا
” یہ تیسرے عشق کا سامان کہاں سے دستیاب ہوگا ۔ ؟ ”
ہم نے بلآخر اپنا حتمی مدعا بیان کردیا ۔
شاہد صدیقی صاحب نے اپنے ” انٹولے ” کو جیسے بھینچنے کی کوشش کی ۔ اس سے پہلے وہ ہمیں کچھ اور خطابات سے نوازتے ۔ ہم نے فوراً کہا ۔
” لجیئے شاہد صاحب ! چائے آگئی ۔۔۔ پیجیئے اور پلیز ہماری احمقانہ باتوں کو نظرانداز کرکے اس معاملے میں ہماری مدد فرمایئے۔ ”
چائے دیکھ کر شاہد صاحب کی آنکھیں واپس سواتی سیب جتنی ہوگئیں ۔
” میرے پاس اس کا بھی ایک حل ہے ۔ ” شاہد صدیقی نے کچھ توقوف کے بعد کہا ۔
ہماری باچھیں کان سے جا لگیں ۔
” جی جی ارشاد ۔۔۔۔ ”
ہم صبر کی آخری سرحدوں پر کھڑے ہوگئے۔
” میرے اسکول میں دسویں کلاس کے لیئے میتھ کے ٹیچر کی ضرورت ہے ۔ تم وہ جاب جوائن کرلو ۔ ”
ہمیں بہت غصہ آیا کہ پورے 33 امتیازی نمبروں کیساتھ ہم نے حساب کا پرچہ دسویں کلاس میں پاس کیا تھا ۔ اب موصوف ہمیں جانے کس آزمائش کی طرف دوبارہ دھکیل رہے تھے ۔
” اس سے کیا ہوگا جناب ۔۔۔۔ ” ہم نے بڑی عاجزی سے پوچھا ۔
” پوری بات سنو ۔۔۔۔۔ شاہد صاحب نے ایک مشہور مذہبی اسکالر کی طرح ہمیں مذید کچھ کہنے سے روک دیا ۔
” وہاں خاتون ٹیچرز ہیں ۔ جن میں سے اکثر میری طرح کالج میں بھی پڑھتیں ہیں اور اسکول میں بھی پڑھاتیں ہیں ۔ ان میں سے کسی ایک کے ساتھ آنکھ مٹکا کر لو ۔ ”
ہمیں ایسا محسوس ہوا کہ جیسے شاہد صاحب ،گاؤں کے کسی چودھری کی طرح ہمیں اپنا اُچکا سمجھ کر کسی کڑی کو چُک لینے کی بات کر رہے ہیں ۔
” جناب ۔۔ یہ آنکھ مٹکا تو فلرٹ کے دائرے میں آتا ہے ۔ کیا ایسا کرنا مناسب ہوگا۔؟ ”
ہم نے اپنی اخلاقی جرات کو بروئے کار لاتے ہوئے شاہد صاحب سے ان کے مشورے پر نظرِ ثانی کے لیئے اشارہ کیا ۔
” تمہیں فلرٹ ہی کرنا ہے ۔ اس لیئے اس لفظ کا انتخاب کیا ۔ اگر تیسرا سچا عشق کرنا ہے تو میری طرف سے کوئی پابندی نہیں ہے ۔ مگر خدا کے لیئے میرے پاس مت آنا ۔
شاہد صاحب نے ہری جھنڈی ہاتھ میں پکڑ لی ۔ اس سے پہلے وہ ہری جھنڈی لہراتے ۔ ہم نے کہا ۔
” ٹھیک ہے شاہد صاحب ۔۔۔۔ ہم اس منصوبے پر عمل کرنے کے لیئے پوری طرح تیار ہیں ۔ اب آگے آپ جو حکم کریں ”
“پیر کے دن میرے اسکول آجانا ۔ میں اپنے اسکول کے پرنسپل سے اس سلسلے میں بات کرلوں گا ۔ اُمید ہے وہ تمہیں انٹرویو کے بغیر ہی جاب دیدیں گے ۔ ”
ہم نے شاہد صاحب کا ہاتھ کسی مرشد کی طرح بڑی عقیدت سے چوما ۔ جس سے کسی تمباکو کے پان کی بُو آرہی تھی ۔ اور پیر کے دن حاضر ہونے کا وعدہ کرتے ہوئے اجازت طلب کی۔
ہم اپنی موٹر سائیکل پر بیٹھے ہی تھے کہ پیچھے سے شاہد صاحب نے آواز لگائی ۔
” ہاں ایک بات دھیان میں رکھنا ۔ ”
ہم ہمہ تن گوش ہوگئے ۔
” وہاں پرنسپل کی لڑکی بھی پڑھاتی ہے ۔ خبردار ۔۔۔۔ اس کی طرف نظر اٹھا کر بھی دیکھا ۔وہ ہماری منظورِ نظر ہے ۔ ”
” جو حکم جناب ۔۔ بندہ اس طرف دیوارِ چین تعمیر کرلے گا ۔ آپ بےفکر رہیں ۔ ”
” میں بے فکر نہیں رہ سکتا کہ تم وہاں نازل ہو رہے ہو ۔ خیر بس اب دھیان رکھنا ۔ خدا حافظ ”
ہم سوچ میں پڑگئے کہ کوئی لڑکی شاہد صاحب کی منظورِ نظر کیسے ہوگئی ۔ کیونکہ اگر وہ کسی مرد کی آنکھوں میں اپنی بیضوی آنکھوں سے دیکھ لیتے تھے تو وہ بھی چکرا جاتا تھا ۔ اور کسی صنف نازک کی آنکھوں میں براہ راست جھانکنے کا مطلب ، اس غریب کی بے ہوشی سے مشروط ہوتا ہوگا ۔ معاملہ یکطرفہ لگتا تھا ۔ خیر ہمیں اپنے معاملے کی فکر تھی ۔ لہذا ہم نے موٹر سائیکل اسٹارٹ کی اور گھر کی طرف روانہ ہوگئے ۔
(جاری ہے ) ‌

Advertisements

2 تبصرے (+add yours?)

  1. محب علوی
    اکتوبر 17, 2010 @ 04:21:00

    کیا خوبصورت بلاگ سجایا ہے ظفری اور بہت اچھا کیا کہ ورڈ پریس پر بلاگ بنا لیا اور آزاد خیال ہو گئے 🙂

    جواب

  2. zafriusa
    اکتوبر 19, 2010 @ 21:34:52

    ہاں بھئی ۔۔۔ بلآخر بلاگ بن ہی گیا ۔ اس سلسلے میں حجاب کا شکرگذار ہوں کہ ان کی مسلسل یاد دہانی کی وجہ سے اس بلاگ کی تعمیر ممکن ہوسکی ۔ رضوان لالے کا بھی شکریہ کہ انہوں نے پہلی فرصت میں یہاں آکر اس بلاگ کا افتتاح کیا ۔ اب تم بھی آگئے ہو تو اُمید ہے کہ آتے رہو گے ۔ باقی احباب بھی آئیں تو بلاگ کی مقصدیت کو تقویت مل سکتی ہے ۔ باقی اللہ مالک ہے ۔
    ہاں ۔۔۔ ہم آزاد خیال تو تھے ہی مگر خیال کچھ آوارہ سے تھے ۔ اب سمجھدار ہوگئے ہیں ۔ آج کل گھر ہی بھی رہتے ہیں ۔ 🙂

    جواب

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: