کچھ حسینوں کے خطوط ، کچھ تصویرِ بُتاں ( سانحہِ سوئم )

ہم حسبِ وعدہ شاہد صدیقی کے اسکول پہنچ گئے ۔ ہم نے کارٹن کی شرٹ اور بلو جینز زیب تن کی ہوئی تھی ۔ ہماری معصوم سی شکل سے متاثر ہوکر اسکول کے چوکیدار نے ہمارے پسندیدہ لباس کو اسکول کی یونیفارم سمجھ کر ہمیں اندر جانے سے روک دیا اور کہا ” اوئے خوچہ ! تم اتنی دیر سے اسکول کیوں آیا اے ۔ ام تم کو اندر نئیں جانے دیگا ۔ ”
ہم نے کہا ” خان صاحب ! آپ کو سمجھنے میں غلطی فہمی ہوئی ہے ۔ ام ۔۔۔۔ ہمارا مطلب ہے کہ ہم ۔۔۔ اس اسکول میں پڑھنے نہیں بلکہ پڑھانے آئے ہیں ۔”
خان صاحب بولے ” اوئے امارا ساتھ مخولی مت کرو اور اپنا والدینِ محترم کو ساتھ لاؤ ۔ ”
ابھی یہ بحث جاری تھی کہ شاہد صاحب اندر سے نمودار ہوئے اور کہا ” یار کہاں رہ گئے تھے اور یہاں گیٹ پر کیا کررہے ہو ۔ ”
ہم نے کہا ” لگتا ہے خان صاحب چوکیداری سے پہلے انڈر 19 کرکٹ ٹیم کی سلکیشن کمیٹی میں تھے کہ ان کو اپنی عمر کا یقین دلانا مشکل ہو رہا ہے ۔”
شاہد صاحب نے ہماری بات کو نظرانداز کرتے ہوئے کہا کہ ” چھوڑو اس قصے کو ، اندر چلو ۔ پرنسپل صاحب انتظار کر رہے ہیں ۔ ”
ہم شاہد صاحب کیساتھ پرنسپل کے کمرے میں داخل ہوئے تو پرنسپل صاحب نے ہمیں بیٹھنے کو کہا ۔
پرنسپل صاحب نے ہمارے تعارف اور تعلیمی اسناد دیکھنے کے بعد کہا ۔
” شاہد صاحب نے آپ کواسکول کے قوانین اور باقی تفصیلات سے آگاہ کردیا ہوگا ۔ ”
” آپ کو دن میں چار پریڈز لینے ہیں ۔ دو نویں اور باقی دسویں کلاس میں ۔۔۔۔۔ میں آپ کو ہزار روپے ماہانہ دوں گا ۔ آپ کو قبول ہے ۔ ؟ ”
ہمیں تو پرنسپل صاحب ، پرنسپل سے زیادہ قاضی لگے ۔
اور موصوف ہمیں ایک ہزار روپوں کی نوید ایسے سنا رہے تھے جیسے کسی خزانے کی کنجی ہمارے ہاتھ میں پکڑا رہے ہوں ۔ خیر ہمیں اپنے مقصد کی تکمیل سے غرض تھی اور وہ ان پیسوں کیساتھ پوری ہو رہی تھی تو کیا برا تھا ۔ ؟
جی ۔۔۔ میں راضی ہوں ۔
ہم نے ” قبول ” ہے کہنے سے قدرے اجتناب کیا ۔
"گڈ ۔۔۔۔۔ شاہد صاحب ! آپ انہیں ان کی کلاسز دکھادیں ۔ امید ہے کہ آپ کا یہاں وقت اچھا گذرے گا ۔ ”
پرنسپل صاحب نے گویا ہمیں جانے کی اجازت دیدی ۔
اسکول میں لڑکوں اور لڑکیوں کی تعداد کے تناسب میں خاصا فرق تھا ۔بعد میں ہم نے حساب لگایا تو یہ تناسب لڑکیوں کے حق میں نکلا ۔ یعنی 73 فیصد لڑکیاں اور 27 فیصد لڑکے ۔
سب سے پہلے شاہد صاحب ہمیں اسٹاف روم لے گئے ۔ اور ہمارا تعارف تمام اساتذہ سے کرایا ۔ ہمیں یہ دیکھ کر بیحد خوشی ہوئی کہ پرنسپل صاحب نے ٹیچرز کی تعداد میں بھی اسکول کے طلباء و طالبات جیسا تناسب رکھا ہوا تھا ۔ یعنی یہاں بھی خواتین کو مردوں کی تعداد پر سبقت حاصل تھی ۔ شاہد صاحب کے علاوہ ایک اور حضرت اساتذہ کی فہرست کا حصہ تھے ۔ جن کا نام مجاہد معلوم ہوا ۔ شکل سے ہمیں حُجتی لگے ۔ ماشاءاللہ وہ اتنے باریش تھے کہ ان کو اپنے گربیاں کے چاک ہونے کی چنداں فکر کھانےکی کوئی ضرورت نہیں تھی ۔انہیں اسلامیات کے مضامین پڑھانے کے لیئے مقرر کیا گیا تھا ۔ ہم تینوں کے سوا باقی سب خاتون ٹیچرز تھیں ۔ جن کی تعداد ہم پہلی نظر میں گن چکے تھے ۔ تعداد تواصولاً 9 بنتی تھی ۔ مگر ایک خاتون ٹیچر اتنی صحت مند تھیں کہ ہم اس تعداد کو ساڑھے 9 سے کم قرار دینے پر ہرگز تیار نہ ہوئے ۔ چند ایک اتنی حسین تھیں کہ سوچا کہ آج ہی سے اپنے عشق کے رجسٹر میں کسی ایک کا کھاتہ کھول دیں ۔ مگر شاہد صاحب کی نظروں میں اپنے لیئے تنبیہہ پا کر ہم اس ارادے سے باز رہے ۔ شاہد صاحب نے مذید کہا کہ ابھی چند ٹیچرز کچھ دنوں‌کی رخصت پر ہیں ۔لہذاٰ اُن سے تعارف اُنکی واپسی پر موقوف ٹہرا ۔ یہاں سے شاہد صاحب ہمیں نویں و دسویں کی کلاسز میں لے گئے اور وہاں بھی ہمارا تعارف کرایا گیا ۔ ہمیں محسوس ہوا کہ ہماری اور طلباء و طالبات کی عمروں میں کچھ زیادہ فرق نہ ہونے کی وجہ سےطالبات ہمیں شوخی اور طلباء شکی نظروں سےدیکھ رہے ہیں ۔ خیر پہلا دن تعارف کی نظر ہوگیا ۔ اور ہم پرنسپل اور شاہد صاحب سے اجازت لیکر گھر روانہ ہوگئے ۔ہمیں کل سے باقاعدہ طور پر اسکول ایک استاد کی حثیت سے آنا تھا ۔
دوسرے دن ہم ایک ٹیچر کی حیثیت سے اسکول پہنچ گئے ۔ مگر خان صاحب کو دوبارہ گیٹ پر دیکھ کر ٹھٹکے ۔ لیکن خان صاحب نے ہمیں دیکھ کر اپنی باچھیں پھیلادیں ‘ اور کہا ” پخیر راغلے سر جی ۔۔۔۔آج آپ کو اسکول میں پہلا دن مبارک ہو ” ۔ ہم نے خان صاحب کا شکریہ ادا کیا اور اندر داخل ہوگئے ۔ شاہد صاحب کی ہدایت کے مطابق ہم پہلے اسٹاف روم گئے ۔ جہاں خاتون ٹیچرز کے علاوہ مجاہد صاحب بھی براجمان تھے ۔ ابھی اسکول کی اسمبلی شروع ہونے میں کچھ وقت باقی تھا ۔ سلام کے بعد مجاہد صاحب نے اپنی شخصیت کے تاثر کے عین مطابق باقاعدہ ہمارا انٹرویو لینے کا آغاز کردیا ۔ ہمیں بھی انٹرویو دینے میں کوئی ترّرد نہیں ہوا کہ تمام خاتون ٹیچرز کی نظریں اخبار اور کان ہمارے انٹرویو پر لگے ہوئے تھے ۔ ابھی وہ ہمارے شجرہ ِ نسب پر ہی تھے کہ شاہد صاحب آگئے ۔ جس سے انٹرویو کا سلسلہ موقوف ہوگیا ۔
اسمبلی کے دوران ہم سے شاہد صاحب نے سرگوشی میں پوچھا ” کیا کوئی پیش رفت ہوئی ۔ ؟ ”
ہم نے نفی سے سر ہلا دیا
” خیر ابھی پہلا دن ہے ۔ پہلے سب سے واقفیت پیدا کرلو ۔”
ہم نے شکر کیا کہ شاہد صاحب کےدماغ میں‌ یہ بات آگئی ۔
” آپ کی منظورِ نظر کہاں ہے ۔ آپ نے اس سے تعارف نہیں کرایا ۔ ”
ہم نےایک خدشے کے پیشِ نظر شاہد صاحب سے سوال کیا ۔
” کیوں ۔۔۔۔ اس کے بارے میں کیوں پوچھ رہے ہو ۔ ؟ ”
شاہد صاحب نے شکی لہجہ اختیار کرتے ہوئے ہم سے الٹا سوال کر ڈالا ۔
” وہ اس لیئے کہ کسی سے ” آنکھ مٹکا ” کرنے سے پہلے ہمیں یہ علم ہونا چاہیئے کہ وہ کہیں آپ کی منظورِ نظر تو نہیں ۔ ”
ہم نے جل کر جواب دیا ۔
” اوہ ۔۔۔ ہاں صحیح کہہ رہے ہو ۔ ” شاہد صاحب کے چہرے پر خجالت کے آثار نمودار ہوگئے ۔ مگر ان کی آنکھوں کے ڈیلے پھر بھی کسی تاثر سے بے نیاز رہے ۔
” وہ اپنی خالہ کے گھر لاہور گئی ہوئی ہے ۔ کچھ روز میں واپسی متوقع ہے ۔ ”
اپنی منظورِ نظر کا ذکر کرتے ہوئے ان کی آنکھوں کے ڈیلوں کےدرمیان تعلقات اچانک کشیدہ سے محسوس ہوئے ۔ شاید انہوں نے تصور میں اس کے سراپے کو مختلف زاویوں سے اپنے ڈیلوں میں سمونے کی کوشش کی تھی ۔
ہم اپنی باتونی طبعیت کے باعث خواتین ٹیچرز میں جلد ہی گھل مل گئے ۔ حسبِ توقع ہمیں کئی حسینوں نے آنکھوں کے راستے پیار کے سندیسے بھیجے ۔ جنہیں دیکھ کر ہمارا دل کئی بار مچلا ۔ مگر ہم نے اپنی فقیری عاشقانہ طبعیت کو مشکل سے قابو میں رکھا ، کیونکہ شاہد صاحب کے مشورے کے مطابق ہماری کوشش تھی کہ کسی کیساتھ اپنے مصنوعی عشق کا آغاز کریں ۔ مگر دل اس مصنوعی پن پر ہرگز راضی نہ ہوا ۔ کئی دن اسی شش و پنچ میں گذر گئے ۔ اسی دوران شاہد صاحب کی طبعیت ناساز ہوگئی اور وہ کچھ دن کی رخصت لیکر گھر پر آرام فرما ہوگئے ۔ چنانچہ ان کی کلاسیں لینا بھی ہمارا مقدر ٹہریں اور ہم مکمل طور پر تدریسی شعبے سے وابستہ ہوگئے ۔ ایک دن ہم دسویں کلاس کے آخری پریڈ میں جیومیٹری کے رازوں سے پردے اٹھا رہے تھے کہ اچانک ہماری نظر کلاس کے باہر کھڑکی سے باہر راہدری پر پڑی ۔ جیومیٹری کے جس زاویئے کی ہم تعریف کررہے تھے بلکل اسی زاویئے پر ہمارا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا ۔ ایسا حسین چہرہ ، ایسا حسین سراپا ، ہم نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا ۔ امی حضور کی تمام خواتین ڈائجسٹوں سے چوری چھپے پڑھی جانے والی کہانیوں کے تمام اقتباسات ہمارے ذہن میں یکدم روشن ہوگئے ۔ دودھیا رنگت پر کالی زلفیں ناگ بن کر اس کے کارٹن کے کُرتے پر بنے ہوئے ڈیزائن سے اٹھکھیلیاں کر تی ہوئی نظر آئیں ۔ ہرنی جیسی آنکھوں میں ستاروں جیسی چمک جھلملا رہی تھی ۔ سرخ انگوری ہونٹوں پر جان لیوا مسکراہٹ کا بسیرا لگا ۔ چوڑی دار پاجامے میں اس کی قد و قامت کسی دیودار کے درخت کی مانند لگی ۔ صراحی دار گردن میں ایک سنہری لاکٹ اپنی قسمت پر رشک کرتا ہوا نظر آیا ۔ کانوں میں سلور جُھمکے سورج کی سنہری تپش میں قوح و قزح کا سماں باندھتے ہوئے محسوس ہوئے ۔ سفید کُرتے کے گلے کے کڑائی کے کام میں ہمارا پسندیدہ نیلا رنگ نمایاں تھا ۔ اسکے بائیں رخسار پر پڑے ہوئے گڑھے کے بھنور میں ہم نے خود کو گویا ڈوبتا ہوا محسوس کیا ۔ خواتین ڈائجسٹ کی کہانیوں میں پڑھے ہوئے بہت سے جملے ابھی باقی تھے کہ وہ ظالم حسینہ ہمارے سامنے دیکھتے ہی دیکھتے ، ہرنی کی طرح قلانچیں بھرتی ہوئی نظروں سے اوجھل ہوگئی ۔ اور ہم پلٹ کر دیکھنے والے کی طرح پتھر کے بُت بنے رہ گئے ۔ کب پریڈ ختم ہوا ۔ کب چھٹی ہوئی ، کب کس اسٹوڈینٹ نے آکر ہمارا کُھلا ہوا منہ بند کیا ، کچھ یاد نہیں ۔ بس اتنا یاد ہے کہ اس نے ہمیں ایک لمحے ترچھی نظر سے دیکھا تھا ۔ جو تیر کی مانند ہماری آنکھوں سے ہوتا ہوا دل میں اتر گیا ۔ اور ہم یہ کہنے کی آس دل میں لیئے کھڑے رہ گئے کہ :
ترچھی نگاہ سے نہ دیکھو اپنے عاشق ِ دل گیر کو
کیسے تیر انداز ہو ، سیدھا تو کر لو تیر کو
اسکول کی چھٹی کے بعد ہم اُسے چاروں طرف دیوانہ وار ڈھونڈتے رہے لیکن وہ کہیں نظر نہیں آئی ۔ اور ہم اس تڑپ کیساتھ گھر واپس لوٹے کہ ” ایک بار دیکھا ہے ، دوسری بار دیکھنے کی ہوس ہے "۔ گھر آکر ہم کھانا کھائے بغیر اپنے کمرے میں چلے گئے اور اس کے تصور میں کھو گئے ۔ کاش کسی فلم کے ہیرو ہوتے تو خیالوں میں اس کے ساتھ کسی گانے میں جلوہ افراز ہوجاتے اور گانے کا ایک سین سنگاپور میں فلماتے تو دوسرا سین سوئیزلینڈ میں اور کوئی روک ٹوک بھی نہیں‌ہوتی ، بلکہ پورا فلمی اسٹاف ہمارے عشق کے تحفظ کی خاطر کیمرے لیئے ہمارے آگے پیچھے ہوتا ۔ رات خوابوں میں بھی وہی سراپا لہراتا رہا ۔ ہم خلاف ِمعمول صبح جلدی اٹھ گئے ۔ اور حسب ِ توقع والدِ محترم نے ہمیں حیرت سے دیکھا اور کہا ” جاؤ ! سو جاؤ ۔۔۔ میں دودھ لے آیا ہوں ۔ ” ہم ان کے طنز پر کوئی تبصرہ کیئے بغیر ، فجر کی نماز پڑھنے کا اعادہ کرتے ہوئے وضو کے لیئے باتھ روم میں گھس گئے۔ ہمیں یاد آیا کہ ہم نے آخری بار ساتویں کلاس میں فجر کی نماز پڑھی تھی جس میں اللہ میاں سے سالانہ امتحان کے پرچے میں ہونے والی غلطی کی درستگی کے لیئےگڑگڑا کے دعا کی تھی ۔ کیونکہ ہم تاریخ کے پرچے میں زبردست دھاندلی کے مرتکب ہوئے تھے کہ دیوارِ برلن توڑنے کا سہرا محمود غزنوی کے سر باندھ آئے تھے ۔

(جاری ہے )

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: