پت جھڑ اور تنہائی

پت جھڑ کا موسم بھی عجیب موسم ہوتا ہے ۔ سرد اور خشک ہواؤں سے سہمے ہوئے سوکھے پتے درختوں کی برہنہ ہوتی ہوئی شاخوں پر اپنی بقا کی آخری جنگ لڑتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ کچھ سوکھے پتے تھوڑی دیر اور ٹہرنا چاہتے ہیں ۔ جیسےانہیں اس بے ثبات دنیا کی بے ثباتی کا یقین نہ آیا ہو ۔ مگر پت جھڑ کا موسم اُنہیں اتنی مہلت نہیں دیتا ۔ جس طرح رشتوں کو کاٹتی ہوئی نفرت کی خلیج کبھی کم نہیں ہوتی ۔ بلکل اسی طرح سرد و خشک تیز ہوا ان سوکھے پتوں کو سسک سسک کر شاخوں سے جدائی پر مجبور کردیتی ہے ۔ اور پھر یہ سوکھے پتے بےجان ہوکر ہوا کے رحم وکرم پر لہراتے ہوئے زمین پر جاگرتے ہیں‌ ۔ جہاں ہر کوئی انہیں مسلنے کے لیئے ان کا منتظر ہوتا ہے ۔

تنہائی بھی زرد موسم کی مانند ہوتی ہے ۔ مگر پت جھڑ سے یوں مختلف ہوتی ہے کہ یہاں بے وفا شاخوں سے جھڑتے سوکھے پتے دکھائی نہیں دیتے۔ مگر اندر یادوں کے ان سوکھے ہوئے پتوں پر گذرے ہوئے کل کے سایوں کے چلنے کی چانپ صاف سنائی دیتی ہے ۔ پھر یہ چانپ اُمیدوں کی سرسراہٹ کا روپ دھار کر آدمی کو اس موسم میں‌ کچھ اس طرح منہمک کردیتی ہے کہ آدمی باہر کےشور اور اس رنگ بدلتی ہوئی دنیا سے کچھ دیر کے لیئے بے خبر ہوجاتا ہے ۔ اور پھر یہ محویت اس وقت ٹوٹتی ہے جب اندر کا یہ زرد موسم بہار کے کسی تازہ ہوا کے فریب میں آجاتا ہے ۔ مگر زرد موسم اور بہار ایک دوسرے کی ضد ہیں‌ ۔ ان کا ساتھ کب دیر تک ہوا ہے ۔ سو بہار کا یہ پُر فریب جھونکا گرم ہوا بن جاتا ہے کہ تازہ ہوا کو پت جھڑ بننے میں دیر ہی کتنی لگتی ہے مگر پت جھڑ کو بہار بننے میں صدیاں درکار ہوتیں ہیں ۔ اور بھلا صدیوں‌ تک کون جیتا ہے ۔

جب جب پت جھڑ میں پیڑوں سے پیلے پیلے
پتے میرے لان میں آکر گرتے ہیں
رات کو چھت پر جا کر میں
آکاش کو تکتا رہتا ہوں
لگتا ہے کمزور سا پیلا چاند بھی
پیپل کے سوکھے پتے سا
لہراتا لہراتا میرے لان میں آ کر اترے گا
(گلزار )

Advertisements

4 تبصرے (+add yours?)

  1. حجاب
    نومبر 04, 2010 @ 14:37:33

    اچھا لکھا ہے ظفری ۔۔ میری نقل کی ہے ناں 😛

    جواب

  2. zafriusa
    نومبر 04, 2010 @ 22:24:43

    شکریہ ۔۔۔۔ آپ یہاں کم از کم آئیں تو ۔۔۔ ویسے اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ کی نقل کی ہے ۔ 😛

    جواب

  3. محب علوی
    نومبر 05, 2010 @ 05:38:12

    ظفری نقل کرنا بری بات ہے تمہیں یہ کسی استاد یا استانی نے بتایا نہیں کبھی ویسے کچھ پڑھ لکھ جاتے تو آج نقل نہ کرتے پائے جاتے 🙂

    مذاق قائم ، تم نے پوسٹ میں پت جھڑ کا ذکر کیا ہے یا کسی فلم میں زیادتی کی تصویر کھینچی ہے

    جواب

  4. zafriusa
    نومبر 05, 2010 @ 11:36:59

    تمہاری پہلی سطر کا جواب یہ ہے کہ اس قسم کی نقل کے لیئے ایک خاص قسم کی عقل کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اور اس خاص عقل کی وجہ سے ہی میں‌ پڑھنے سے قاصر رہا ۔ 🙂
    تمہاری دوسری سطر سے سے گذر گئی ۔ ذرا وضاحت تو کرو ۔ 🙂

    جواب

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: