کیمسڑی

زندگی کے سفر میں ہم مسلسل سرگرداں ہیں ۔ ہر وقت اپنی زندگی کے مختلف نشیب و فراز سے متعارف ہوتے رہتے ہیں ۔ ان نشیب و فراز کی نوعیت موجودہ صورتحال اور وقت کی مناسبت کے پیشِ نظر ہمہ وقت تبدیل ہوتی رہتی ہے ۔ اپنی پیدائش سے لیکر اپنی آخری سانس تک ہم زندگی کے مختلف نشیب و فراز دیکھتے ہیں ۔ ان نشیب و فراز کے کئی روپ ہیں ۔ جو تعلقات اور رشتوں میں پنہاں ہیں ۔ اور یہ تعلقات اور رشتے کچھ اس طرح ظہور پذیر ہوتے ہیں کہ ان کی چھاپ زندگی کے ہر روپ پر حاوی دکھائی دیتی ہے ۔ کچھ رشتے زندگی کے وجود کے لیئے بنیادی اساس کا درجہ رکھتے ہیں ۔ ہم انہی رشتوں کی ڈور پر اپنے زندگی کی پتنگ کو فضاؤں میں بلند کرتے ہیں ۔ یہ پتنگ ، مناسب بلندی پر ایک متوازی پرواز صرف اسی صورت میں قائم رکھنے میں کامیاب ہوتی ہے ۔ جب ان رشتوں کی ڈور مضبوط ہوتی ہے ۔ اور یہ ڈور “ کیمسٹری “ کہلاتی ہے ۔ ہم اکثر یہ لفظ سنتے ہیں ۔ جس کا تعلق سائنس سے ہے ۔ مگر میں نے اس لفظ کو رشتوں کے باہمی تعلق کے تناظر میں ‌جانچا ہے ۔ ہر انسان میں مختلف کیمیائی عمل رواں ہیں ۔ ایک کیمیائی عمل آپ کو بتاتا ہے کہ آپ کے آس پاس موجود مخلتف لوگوں ‌کے کیمیائی عمل سے آپ کا کیمیائی عمل کتنا مطابقت رکھتا ہے ۔ یہ مخصوص کیمیائی عمل “ احساس “ ہے ۔ جسے قدرت نے انسان میں‌ ودیعت کر رکھا ہے ۔ یہی احساس آپ کو رشتوں کی افادیت اور مضبوطی کا یقین دلاتا ہے ۔ کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے ۔ ہم اس عمل کو مکمل ہونے نہیں دیتے ۔ اور اسی دوران احساس شعور تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے ۔ اور شعور اس احساس کی نفی کردیتا ہے جو نامکمل ہوتا ہے ۔ شعور اور احساس کے اس نامکمل رابطے کی پپیچیدگی‌ سے جو خلاء پیدا ہوتا ہے ۔ وہ زندگی کو غیر متوازی سطح پر لے آتا ہے ۔ ۔ ہر چیز اپنے مرکز سے ہٹ جاتی ہے ۔ جس سے زندگی سے منسلک دوسرے رابطے بھی اپنے مستقر سے بھٹک جاتے ہیں ۔پھر ایک دن یہ ڈور ٹوٹ جاتی ہے ۔ اور پتنگ ڈولتی ہوئی نظروں سے اوجھل ہوجاتی ہے ۔
میں اکثر سوچتا ہوں کہ اس عمل کے مکمل ہونے کا ادراک کیسے ممکن ہو ۔ کیونکہ زندگی میں ہم بہت سے فیصلے کرتے ہیں ۔ کچھ فیصلے عمومی ہوتے ہیں اور کچھ بہت ہی خاص ۔ مگر یہ بہت مشکل ہے کہ ہر فیصلے میں ہی “ کیمسڑی“ متحرک ہو ۔ مگر چند فیصلے جو صدیوں پر میحط ہوتے ہیں ۔ وہاں اس کیمسٹری کا اطلاق بہت نمایاں‌ ہونا چاہیئے ۔ اور یہ صرف اُسی صورت میں ممکن ہے کہ جہاں ایک طرف آپ کوئی فیصلہ کر رہے ہیں ۔ تو دوسری طرف بھی آپ کی اس کیمسٹری کا دوسرا مرکب موجود ہو ۔ اور وہ دوسرا مرکب وہ کرنٹ ہے جس کو ہم “ محبت “ کہتے ہیں ۔ جو آپ کے احساس کو آپ کے شعور سے منسلک کردیتا ہے ۔ جب آپ کا شعور اس کوڈ کو قبول کرلیتا ہے تو آپ کی کیمسٹری مکمل ہوجاتی ہے ۔ شاید پھر بہت ممکن ہو کہ آپ اپنی اس “ پتنگ “ کو بہت بلندی پر ایک متوازن سطح پر بہت دیر تک اُڑاتے رہیں ۔ بصورتِ دیگر بقول شاعر آپ کو ہر دم یہی گلہ رہے گا کہ :
کچھ لوگ شہر میں ہم سے بھی خفا ہیں
ہر ایک سے اپنی بھی طبیعت نہیں ملتی

Advertisements

8 تبصرے (+add yours?)

  1. افتخار اجمل بھوپال
    نومبر 26, 2010 @ 05:59:57

    بہت خُوب ۔ اچھی کيمياء ہے
    ميں نے يہ تجزيہ کسی زمانہ ميں سٹَيٹِک چارج کے حوالے سے کيا تھا
    ميں انجيئر ہوں کيميادان نہيں

    جواب دیں

  2. zafriusa
    نومبر 26, 2010 @ 15:16:30

    شکریہ اجمل صاحب کہ آپ ہمارے اس خستہ بلاگ پر تشریف لائے ۔ خستہ اس حوالے سے کہا کہ بدتمیز نے ہمارا پچھلا بلاگ تو ڈبو دیا تھا ۔ بہت سی تحریریں تھیں جو دریا بُرد ہوگئیں ۔ اب دوبارہ تنکے جوڑ جوڑ کر یہ بلاگ بنایا ہے ۔ اس دوران آپ کی آمد یقیناِ میرے لیئے انتہائی با مسرت اور تقویت کا باعث ہے ۔
    آپ کا تجزیہ یقیناً انتہائی اعلیٰ سطح کا ہوگا کہ آپ نے اسٹیٹک چارج کا حوالہ دیا ۔ میں‌ نے تو بس اپنی عمومی سوچ کو یہاں کچھ سطروں سے پیوست کردیا ہے ۔ آپ نے اس کی بھی تعریف کی میں اس کے لیئے آپ کا بیحد مشکور ہوں ۔ مزے کی بات یہ کہ میں بھی کیمیادان نہیں ، انجیئنر ہوں ۔ مگر میں نے سائنسی توجہات سے کترا کر فلسفہ کا سہارا لیا ہے ۔ اُمید ہے آپ آئندہ بھی حوصلہ افزائی کرتے رہیں گے ۔

    جواب دیں

  3. افتخار اجمل بھوپال
    دسمبر 05, 2010 @ 22:03:48

    کہاں رہ گئے مہندس صاحب ؟
    آپ نے اپنی الکيماء ميں برقی رو کی بات کی تھا تو ميرا خيال تھا کہ بات اب اليکترونيا پر پہنچے گی ۔ مگر انتظار انتظار انتظار

    جواب دیں

    • zafriusa
      دسمبر 09, 2010 @ 21:09:07

      جناب ! میں‌ نے تو اپنی دماغی برقی رو کا رخ فلسفے کی طرف موڑ دیا تھا ۔ اور میں یہ توقع کر رہا تھا کہ شاید اب آپ اسٹیٹک چارج کے حوالے سے کوئی بات شروع کریں گے ۔

      جواب دیں

  4. احمد عرفان شفقت
    دسمبر 05, 2010 @ 23:05:37

    یہ جان کر افسوس ہوا کہ آپکی بہت سی تحریریں تھیں جو دریا بُرد ہوگئیں۔
    مجھے تجربہ ہے ایسا۔بہت صدمہ ہوتا ہے تحریریں جو یوں ضائع ہو جائیں۔
    کسی نہ کسی شکل میں کم از کم تحریروں کا بیک اپ ضرور رکھنا چاہیے۔ ورڈ پریس میں تو بہت سہولت سے یہ کام ہو سکتا ہے ایکسپورٹ کے ذریعے۔ ایک کلک سے پوسٹس، کمنٹس، ٹیگز وغیرہ ہمارے کمپیوٹر پرڈاونلوڈ ہو جاتے ہیں اور بعد میں واپس ورڈپریس پر امپو رٹ ہو جاتے ہیں۔

    جواب دیں

    • zafriusa
      دسمبر 09, 2010 @ 21:12:41

      شکریہ شفقت صاحب کہ آپ اس بلاگ پر تشریف لائے ۔ آپ کی تعزیت کے لیئے بھی ممنون ہوں جو آپ نے میری مرحوم تحریروں کے لیئے کی ۔ آپ کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے اپنی لکھی ہوئی تحریروں کو اب محفوظ کرنے کا انتظام شروع کردیا ہے ۔ امید ہے مستقبل میں نوحہ گری سے نجات مل جائے گی ۔

      جواب دیں

  5. شگفتہ
    دسمبر 30, 2010 @ 00:45:27

    السلام علیکم ، اس تحریر کی نشاندہی کے لیے شکریہ ، اچھی تحریر ہے ، اس موضوع پر کافی کچھ لکھا جا سکتا ہے ۔ دلچسپ لکھا آپ نے اور کیمسٹری کی اصطلاح بھی خوب ہے ۔

    جواب دیں

  6. zafriusa
    دسمبر 30, 2010 @ 05:08:55

    وعلیکم السلام شگفتہ جی ۔ شکریہ کہ آپ نے اس تحریر کو پڑھا اور سراہا بھی ۔ اس سلسلے میں آپ نے مذید لکھنے کا جو اشارہ دیا ہے ۔ اس ضمن میں مجھے خوشی ہوگی کہ اگر آپ اس سلسلے کو اپنے بلاگ پر آگے بڑھائیں ۔ تاکہ مجھے بھی تحریک ملے کہ کیا کیا نقاط لکھنے سے رہ گئے ہیں‌ اور ان پر مذید کیا اور لکھا جاسکتا ہے ۔ ہوسکتا ہے کہ کوئی اجتماعی کمیسٹری کی کتاب مرتب ہوسکے ۔ 🙂
    بہرحال بلاگ پر ایک بار پھر تشریف لانے کا بہت بہت شکریہ ۔

    جواب دیں

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: