تعارف

“ تعارف “ سے واقفیت کم از کم میرے لیئے ایک مشکل ترین کام ہے ۔ کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ اپنی شناخت کا حوالہ دینا ہرگز آسان کام نہیں ہوتا کہ زندگی گذر جاتی ہے مگر خود کا سامنا تک نہیں ہو پاتا ، زندگی کے نشیب و فراز میں کئی ایسے بھی مرحلے آتے ہیں جب انسان کی شناخت اپنے لیئے بھی ناممکن ہوجاتی ہے ۔ ایسی صورت میں کسی کو اپنا تعارف دینا تو دور کی بات ہے ۔ اور سچ تو یہ ہے اگر کبھی یہ کوشش کی بھی جائے تو ذہن کے پردے پر تعارف کے حوالوں سے گویا ایک فلم سی چلنے لگتی ہے ۔ چند رفاقتوں کے چہرے ، چند بیتی ہوئی ساعتیں ، چند سُلگتی ہوئی یادیں ، ہاتھ میں تھمی ہوئی کاغذ کی چند ڈگریاں ، گھر کے دروازے پر لگی ہوئی نام کی جھولتی ہوئی تختی ، چند رنگ اُڑے خطوط ، جو باور کراتے ہیں کہ زمانے نے کبھی کوئی شناخت دی تھی ، مگر اب یہ شناخت انہی حوالوں کے وجود پر ہی قائم ہے ۔ پھر یہ حوالے ان گنت رنگوں سے مزین رشتوں میں جکڑے تعارف کے صفحے پر چند پھیکے رنگوں کی مانند بکھرے پڑے نظر آتے ہیں ۔ اور ان رنگوں کی خاص بات کہ یہ ایک دوسرے کے سامنے بہت پھیکے نظرآتے ہیں ۔ پھرانہی رنگوں کو لیکر کوئی نام سے جانتا ہے تو کوئی کام سے پہچانتا ہے ۔ کوئی حوالہ دیکھتا ہے تو کوئی ساخت پرکھتا ہے ۔ ہر کوئی اپنی حدِّ نظر کا پابند ہے ۔ ہر تعارف مدِّ مقابل میں اپنے غرض کی چیزوں کا جائزہ لینے سے مشروط ہوتا ہے ۔ اگر چیزوں میں اپنی مرضی کی مطابقت مل جائے تو تعارف مکمل ہوجاتا ہے ۔ ورنہ تعارف کسی کام کا نہیں ہوتا ۔
میں یہ نہیں کہتا کہ میرا کوئی تعارف نہیں ہے ۔ مگر میں جسے جانتا ہوں وہ مجھے نہیں پہچانتا ۔ میری اکثر نفی کر دیتا ہے ۔ اور پھر مجھے بھی اس کی نفی کر دینی پڑتی ہے ۔ گویا میں اور میرا تعارف ایک دوسرے کی ضد ہیں ۔ میرا تعارف وہ نہیں جو میں ہوں ، یا یوں کہہ لیں کہ جو میں ہوں وہ میرا تعارف نہیں ہے ۔ میں جیسا نظر آنا چاہتا ہوں اس سے میرا تعارف الجھن محسوس کرتا ہے اور الجھی چیزیں کوئی بھی پسند نہیں کرتا ۔ایک عجیب سی گتھی ہے ، جسے سلجھانا میرے بس کی بات نہیں ۔ سوچتا ہوں تعارف کے دائروں میں اپنی شخصیت کیوں مقید کروں ۔ کیوں ناں اس کو ایک آزاد پنچھی کی طرح اڑنے دوں ۔ ‌شاید کہیں میری ہی طرح کوئی اپنی شخصیت کو تعارف کی گرم لُو سے بچاتا ہوا کسی سایہ دار درخت کی سبز ٹہنی پر مجھ سے آن ملے اور شاید پھر میرا “ تعارف “ مکمل ہوجائے ۔

ذاتی استدلال اور رائے ۔ ( اسلام اور موسیقی )

اسلام اور موسیقی کے حوالے سے میں ان تمام دوست و احباب کا مشکور ہوں جنہوں نے اپنی قیمتی رائے اور تبصرہ جات سے نوازا ۔ کچھ سوالات اس ضمن میں اٹھائے گئے ہیں ۔ چونکہ زیادہ تر سوالات میری ہی تحریر اور استدلال کے بارے میں ہے ۔ لہذاٰ میں نے کوشش کی ہے کہ میں اپنا وہ استدلال اور رائے واضع کرسکوں ۔ جس کے بارے میں میرا خیال ہے کہ میں اس کو وضع کرنے میں ناکام رہا ۔ میں اُمید کروں گا کہ بجائے اس کے کہ میرے استدلال ، دلائل اور ثبوت کو زیرِ بحث بنایا جائے ، دوست احباب اپنا استدلال ، دلائل اور ثبوت پیش کریں تاکہ ان کے مطالعہ سے کسی مثبت اور مفید بحث کا آغاز ہوسکے ۔ کسی کی بات پر استدلال پیش کرنا بہت آسان ہوتا ہے ۔ مگر جب یہ استدلال ، دلائل اور ثبوت کے ساتھ سامنے آئے تو ہوسکتا ہے کہ میری کم علمی کیساتھ کسی اور کی غلط فہمیوں کا بھی تدارک ممکن ہوسکے ۔
میں نے تحریر میں جس آیتِ کریمہ کا سب سے پہلے حوالہ دیا ہے ۔میرا خیال ہے آپ احباب اس آیاتِ کریمہ کے ترجمے پر غور کریں تو ان آیات ِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اشیاء کی حرمت کی پانچ اساسات بیان فرمائی ہیں۔
1- فواحش (بے حیائی )
2- اثم (حق تلفی )
3- ناحق زیادتی و سرکشی
4- شرک اور اس سے متعلق ہر شے
5- اللہ کی سند کے بغیر کسی چیز کو دین کے طور پر بیان کرنا (بدعت)
ان آیات کو سامنے رکھ کر یہ بات واضع ہوجاتی ہے کہ قرآنِ کریم میں آلاتِ موسیقی کی ممانعت کا براہِ راست حکم نہیں آیا ہے ۔چنانچہ اس کے بعد ان کی حرمت کے لیے ضروری ہے کہ ان کو مذکورہ بالا میں سے کسی کیٹگری سے متعلق کیا جائے ۔ ظاہر ہے کہ یہ ممکن نہیں ، بلکہ ان کا تعلق تو اس زینت سے ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ ان آیات میں دریافت فرماتے ہیں کہ انہیں کس نے حرام قرار دیا ہے؟
موسیقی کے حوالے سے ممانعت کا جو حکم ہمیں احادیث میں ملتا ہے ، اس کا پس منظر سمجھ لینا چاہیے ۔ رسول اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں آلاتِ موسیقی کا استعمال اپنے ساتھ بڑ ی آلائشیں پیدا کر چکا تھا۔ موسیقی کی محفلیں بیہودہ رقص، عریانی، بے حیائی، فحش کلمات و اعمال ، زنا اور شراب نوشی کے اہتمام کے ساتھ آراستہ کی جاتیں تھیں ۔ظاہر ہے کہ یہ چیزیں دین میں ممنوع اور حرام ہیں ۔ چنانچہ اسی پس منظر میں رسول اللہ علیہ وسلم نے “ سدِّ ذریعہ “ کے اصول پر لوگوں کو موسیقی سے سخت متنبہ کیا کیونکہ اس کے سارے لوازم معثیتِ رب کا باعث تھے ۔تاہم اپنی ذات میں چونکہ آلات موسیقی کوئی ممنوع شے نہیں ، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی پس منظر میں بعض موقعوں پر موسیقی کی اجازت دی ہے ۔جیسے:
’’سیدہ عائشہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور اس وقت میرے پاس دو لڑ کیاں جنگ بعاث کے حوالے سے گانا گا رہی تھیں ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا منہ دوسری طرف پھیر کر لیٹ گئے ۔اتنے میں حضرت ابوبکر تشریف لائے ۔ انہوں نے یہ دیکھا تو ناراضی سے فرمانے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں شیطانی آلات ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر سے فرمایا کہ ابو بکر جانے دو ۔(ایک دوسری روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ جانے دوآج ان کی عید کا دن ہے )۔‘‘
( صحیح بخاری: باب العیدین:527)
اگر موسیقی کے ساتھ کوئی فحش یا سفلی جذبات کو انگیخت کرنے والا کلام پڑھا جائے یا اسی مقصد کے تحت رقص وغیرہ کو ساتھ شامل کر لیا جائے تو ایسی موسیقی کی حرمت میں کسی کو اختلاف نہیں ہے۔ اصل اختلاف اس میں ہے کہ وہ زائد وجہ کون کون سی ہو سکتی ہے جس کے پیش نظر موسیقی کو حرام کہا جا سکتا ہے۔ جمہور علما کے نزدیک ایک بڑی اور بنیادی وجہ موسیقی کا ‘لہو’ ہونا ہے، یعنی یہ ایک ایسی چیز ہے جو انسان پر ایک خاص کیفیاتی لذت طاری کر کے اسے اللہ کی یاد سے غافل کر دیتی ہے۔ اب چونکہ یہ صورت کم وبیش ہر موسیقی میں پائی جاتی ہے، اس لیے جمہور علماء دف کے علاوہ ، جس کی اجازت حدیث میں منصوص طور پر بیان ہوئی ہے، باقی کسی بھی آلہ موسیقی کے استعمال کو ناجائز کہتے ہیں۔ اس کے برعکس بعض دوسرے اہل علم فی نفسہ کسی چیز کے ‘لہو’ ہونے کو حرمت کی کافی دلیل نہیں سمجھتے، کیونکہ دل کو بہلانے والے بہت سے امور کی اجازت شریعت میں ثابت ہے، بشرطیکہ وہ دل کو بہلانے تک محدود رہیں اور انسان اس سے آگے بڑھ کر ان میں اس طرح کھو نہ جائے کہ دین ودنیا کے فرائض اور ذمہ داریوں سے ہی غافل ہو جائے۔ مزید برآں ‘دف’ کی اجازت حدیث سے ثابت ہونے کے بعد دوسرے آلات موسیقی کو فی نفسہ مباح تسلیم نہ کرنے کی بھی کوئی معقول وجہ دکھائی نہیں دیتی، اس لیے کہ ایک دلکش اور سرور بخش آواز پید اکرنے میں تمام آلات موسیقی شریک ہیں، چنانچہ اگر باقی آلات موسیقی کو بھی ‘دف’ پر قیاس کرتے ہوئے فی نفسہ مباح کہا جائے تو بظاہر اس میں کوئی مانع دکھائی نہیں دیتا ۔
احادیث میں دف کے ذکر آنے کا پس منظر بھی یہی ہے کہ دین میں موسیقی “اصلاً “ ممنوع نہیں ۔اصل بات یہ ہے کہ دف کے استعمال میں آسانی کی بناء پر اسے پیشہ ور گانے والوں کے علاوہ عام لوگ بھی استعمال کرتے تھے ، اسی لیے اس کا ذکر آ جاتا ہے ۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ دف اسلامی ساز ہے اور باقی غیر اسلامی۔ عہدِ جدید میں تو آپ کا ٹیلفون ، موبائل، کال بیل وغیرہ سب ہی آلاتِ موسیقی بن چکے ہیں ۔ لہٰذا اصل بات یہ کہ اپنی ذات میں گانا اور موسیقی حرام نہیں ، لیکن جب جب اس میں کوئی دوسری اخلاقی آلائش شامل ہو گی (اور اکثر ہو ہی جایا کرتی ہے ) تو اس سے بچنا ضروری ہوجائے گا۔یہ بات ہمیشہ ملحوظ رکھی چاہیے ۔
ان معاملات میں انسانی نفسیات بہت اہم ہے ۔ اس طرح کے تمام معاملات میں انسانی ذہن جس طرح کام کرتا ہے ۔ اس میں وہ حقیقت کو سمجھے گا ۔ اور پھر حقیقت سے معاملات کا تعلق پیدا کرے گا ۔ یعنی چیز کو اصل میں‌ جانے گا اور پھر دیکھے گا کہ وہ فراء میں کیسے جارہی ہے ۔ یعنی انسانی نفسیات ان طرح کے معاملات کو قانونی زاویئے سے دیکھتی ہے ۔ اس سلسلے میں ایک قاعدہ وجود میں آتا ہے ۔ تاکہ لوگوں کو کوئی سوال کرنے کی ضرورت پیش نہ آئے ۔
اس کے برعکس اگر قرآن کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات واضع ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ طریقہ اختیار نہیں کیا ۔ یعنی اللہ کسی بھی چیز کو قانون کے دائرے میں رکھ کر انسانوں کے سامنے نہیں رکھتا ۔ بلکہ وہ اجمالی ہدایاتیں دیتا ہے ۔ بعض چیزوں کے حددو متعین کرتا ہے ۔ پھر اس کے بعد ایک دائرہ ہوگا جو انسانوں پر چھوڑ دیں گے ۔ کیونکہ انسانی فطرت اور مزاج میں‌ تنوع ہوتا ہے ۔ اس لیئے اللہ اس کا خاص خیال رکھتا ہے ۔
ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہی یہی ہے کہ ہم نے مذہب کو قانونی اصطلاحات میں اسیر کرکے ایک طاقت پر قائم رہ جانے والا نظام بنا کر پیش کیا ہے ۔ ہمارا معاشرہ ہو یا ریاست ، اس نے دین کے احکامات کی اخلاقی روح کو اقدار بنانے کے بجائے دین کے احکام کو مجموعہِ قوانین بنا کر اس کو بلا لحاظ نافذ کردینے کا ایک تصور پال رکھا ہے ۔ جو ہمارے یہاں ایک تنوع ، جبر اور ناکامی کا سبب بنا ہے ۔ جب ہم اسلام کو لوگوں کے سامنے پیش کر رہے ہوتے ہیں تو ایسا نہیں ہوتا کہ ہم اقدار پر مبنی کسی تصور کی بات کررہے ہیں بلکہ ہم قوانین پر ایک فکر کو فروغ دے رہے ہوتے ہیں جس پر ہمارا تمام اصرار اسی بات پر ہوتا ہے کہ یہ قانین نافذ کر دیئے جائیں یا یہ حدودِ قوانین آجائیں تو اس سے فلاح آسکتی ہے لہذاٰ اس طرزَ عمل سے اقدار کا جو تصور ہوتا ہے، وہ مجروع ہوجاتا ہے ۔ اسلام بنیادی طور پر اقدار پیدا کرنا چاہتا ہے ۔ مگر ہم اس کو ایک قانونی شکل دیکر معاشرے میں سختیاں اور رکاوٹیں پیدا کردیتے ہیں ۔ اور علامہ اقبال نے بھی شاید اسی بناء پر کہا تھا کہ “ مسلمانوں نے پانچ سو سالوں سے سوچنا چھوڑ دیا ہے ۔ “
موسیقی جائز ہے ، ناجائز ہے ، حلال ہے یا حرام ہے ۔ یہ اپنا زاویہِ نظر اور استدلال ہے ۔ اور یہ زاویہِ نظر اور استدلال اپنے مکتبِ فکر کا محتاج ہے ۔ میری ساری بات کا ماخذ یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جتنی بات فرمائی ہے ۔ ہم اس کو صرف اُتنا ہی رہیں دیں ۔ اس کے بعد اس باتوں پر اپنا کوئی استدلال پیش کرنا کوئی بری بات نہیں ہے ۔ مگر ہم اس کو فرمانِ الہی بھی نہیں بنا سکتے ۔ یہ درست ہے کہ گانوں کی شکل میں جو موسیقی ہر جگہ سنی اور سنائی جا رہی ہے ، اسے قابل قبول قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس طرح کی موسیقی سے پرہیز ہی کرنا چاہیے۔ “ لیکن دین کی اصولی بات بھی اپنی جگہ ہے ۔ اصولاً موسیقی کو ناجائز قرار دینے کی کوئی دلیل نہیں ہے “ ۔ ( میری ساری تحریر کا سارا ماخذ ہی یہی کلیہ تھا ) البتہ موسیقی کے عمومی استعمال میں جو قباحت موجود ہے ، اسے سامنے رکھتے ہوئے اگر استعمال درست نہ ہو تو یہ گنا ہ ہے۔ جائز موسیقی کی بعض صورتیں ہمارے ہاں بھی موجود ہیں، جیسے جنگی اور ملی ترانے ، حمدیہ اور نعتیہ کلام ، اچھے مضامین کی حامل غزلیں اور نظمیں ، جنھیں آلات موسیقی کے ساتھ اور فن موسیقی کے مطابق گایا جاتا ہے ، موسیقی کے صحیح استعمال کی مثالیں ہیں۔
چند دوستوں نے موجودہ تحریر کو سطحی قرار دیا ہے ۔ میں‌ ان کے کمنٹس کا احترام کرتا ہوں کہ میں‌ ایک طالب علم ہوں اور وہ بہت بڑے عالم ہیں ۔ مگر میں‌ نے جن علماء کی کتابوں کا تذکرہ اپنی جس تحریر میں کیا ہے ۔ اس کا مطالعہ شاید ابھی تک کسی نے نہیں کیا ۔ کیونکہ براہ راست ان کتب پر کوئی تنقید میرے سامنے اب تک نہیں آئی ہے ۔ ( واللہ عالم )

اسلام اور موسیقی

مسلمان معاشرے ان دنوں Transformation کے ایک دور سے گذر رہے ہیں ۔ عالم ِ اسلام میں ہر طرف روایت اور جدت کی ایک کشمکش ہے ۔ یہ کشمکش کسی قوم کے مستقبل کے لیئے بڑی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے ۔ علامہ اقبال نے اس طرف توجہ دیتے ہوئے فرمایا تھا کہ :
آئینِ نو سے ڈرنا ، طرزِ کوہن پہ اَڑنا
منزل یہی کھٹن ہے قوموں کی زندگی میں
کشمکش کے یہ میدان بہت سے ہیں ۔ لیکن اس میں سب سے واضع اور نمایاں میدان فنونِ لطیفہ کا ہے ۔ اور اس میں بھی نمایاں تر موسیقی کی بحث ہے ۔ ایک مسلمان معاشرے میں کیا موسیقی کے لیے گنجائش موجود ہے ۔ ؟ اسلام جس تہذیب کو فروغ دینا چاہتا ہے ۔ کیا اس میں موسیقی کے لیے کوئی جگہ ہے ۔ جو تزکیہ انسان کو مذہب میں مطلوب ہے کیا موسیقی اس میں معاون ہے یا اس کا کردار منفی ہے ۔ ؟
جو چیز انسان کو شرک اور بے حیائی کی طرف مائل کردے یا کوئی ایسی چیز جو انسان کو اس کی بنیادی ذمہ داریوں ، عبادات اور ضروریات سے غافل کردے ۔ ایسی صورت میں جو جائز چیز ہوگی وہ بھی اس وقت ناجائز ہوجائے گی ۔ اور اسکا تعلق صرف موسیقی سے ہی نہیں بلکہ وہ کوئی بھی چیز ہوسکتی ہے ۔ مثلاً اگر کوئی شخص صرف سیر وتفریح ہی کرنے لگے یا کوئی شخص اس طرح شاعری کرنے لگے کہ وہ اپنے فرائض سے غافل ہوجائے ۔ تو یہ چیزیں بھی ناجائز بن جائیں گی ۔ اگر بات موسیقی کی ہے تو پوری کائنات میں موسیقیت کے مظاہر ہر جگہ ملیں گے ۔ پانی کے جھرنوں کا گنگنانا ، پرندوں کا مخصوص انداز میں چہچہانا ، ہوا کی سرسراہٹ ۔ سب فطرت کی موسیقی کے ہی مظاہر ہیں ۔ اور قرآن نے جس طریقے سے کہہ دیا ہے ۔
کہ ۔
” قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِینَةَ اللهِ الَّتِی أَخْرَجَ لِعِبَادِہِ وَالطَّیِّبَاتِ مِنْ الرِّزْقِ قُلْ ہِیَ لِلَّذِینَ آمَنُوا فِی الْحَیَاةِ الدُّنْیَا خَالِصَةً یَوْمَ الْقِیَامَةِ کَذَلِکَ نُفَصِّلُ الْآیَاتِ لِقَوْمٍ یَعْلَمُونَ ۔ ( سورہ مائدہ ۔ آیت نمبر 90 )
ترجمہ: کہہ دو کہ کس نے اللہ کی اس زینت کو جو اس نے اپنے بندوں کے لئے پیدا کی ہے اور دلپسند اور پاکیز ہ رزق کو اپنے اوپر بغیر کی دلیل کے حرام قرار دیا ہے۔ کہہ دو کہ یہ نعمتیں دنیوی زندگی میں مومنین کے لئے ہیں (اگرچہ کفار بھی ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔)۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ موسیقی بنیادی طور سے جائز ہے بشرطیکہ اس میں شرک اور بے حیائی نہ ہو ۔ اور وہ انسان کو اس کی اہم زندگی کی ضروریات سے غافل نہ کردے ۔ یہی وجہ ہے کہ جب ہم قرآن مجید کو سامنے رکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ موسیقی کو حرام قرار دینے کے لیئے قرآن مجید میں کوئی بنیاد موجود نہیں ہے ۔ اور جب ہم احادیث کا مطالعہ کرتے ہیں تو جتنی بھی صحیح احادیث ہیں ۔ وہ موسیقی کی حلت پر یعنی اس کے حلال ہونے کی طرف اشارہ کرتیں ہیں ۔ اور جتنی بھی ضعیف احادیث ہیں وہ اس کو حرام قرار دیتیں ہیں ۔
ایک حدیث کی طرف توجہ مبذول کرواتا ہوں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ” مجھے آلاتِ موسیقی کو توڑنے کے لیئے بھیجا گیا ہے ” اور جب اس کی تفصیل میں جانے کا اتفاق ہوا تو معلوم ہوا کہ یہ ایک انتہائی ضعیف حدیث ہے ۔ یعنی اس بات کا تعلق حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ثابت نہیں ہوتا ۔ اس کو ثابت کرنا ایک بہت بڑی جسارت ہوگی ۔ لہذا ایسی احادیث پر کسی چیز کے حرام ہونے کا فتویٰ نہیں لگایا جاسکتا ۔
سو سال پہلے علامہ اقبال نے اپنے لیکچر Reconstruction Religoin Theory Of ISLAM میں کہا تھا کہ ” مسلمانوں نے پانچ سو سال سے سوچنا بند کردیا ہے ۔ ” اب ایک لکیر پر سفر شروع ہوگیا ہے ۔ اگر اس پر کسی قسم کے خیالات یا نظریات کا اظہار کیا جائے تو وہ فتوؤں کی گرفت میں آجاتا ہے ۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ موسیقی کے اکثر آلات مسلمانوں کی ہی ایجاد کردہ ہیں ۔ گٹار اسپین کے مسلمانوں نے ایجاد کیا ۔ طبلہ اور ستار امیر خسرو کی ایجاد ہیں ۔ ۔ مسلمان معاشرے میں جو بھی ترقی ہوئیں وہ پندرھویں یا سولویں صدی سے قبل کی ہیں کہ اس وقت مسلمان سوچ رہا تھا ۔ اور مسلمانوں نے اس قسم کی جو بھی ایجادات کیں وہ محض تفریح کے لیئے نہیں بلکہ ایک تخلیقی کام کو آگے بڑھانے اور زندہ رکھنے کے لیئے تھیں ۔ کیونکہ تفیہمِ نو کا سفر جاری تھا ۔
کسی بھی چیز کو ناجائز قرار دینے کے لیئے ایک مضبوط دلیل کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اس کو آپ محض کمزور احادیث پر حرام قرار نہیں دے سکتے ۔ جب ہم موسیقی کے حوالے سے تمام روایات کو اکٹھا کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ بخاری اور مسلم میں جو احادیث ہیں ۔ وہ اس طرف اشارہ کرتیں ہیں کہ بغیر کسی استثناء کے وہ تمام چیزیں جن میں شرک اور بےحیائی نہ ہو تو ان میں کوئی ناجائز ہونے کی بات نہیں ہے ۔
واحد صحیح حدیث جس میں موسیقی کا تذکرہ ملتا ہے وہ یہ ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ” جن چیزوں کی قیامت کے دن اکثریت ہوجائے گی ۔ ان میں سے ایک چیز موسیقی بھی ہے ۔ ”
یہ حدیث بلکل ٹھیک ہے ۔ لیکن اس حدیث میں خبر دی گئی ہے کوئی حکم نہیں دیا گیا ہے ۔ تو اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ قربِ قیامت میں لوگ ان چیزوں میں اس طرح منہمک ہوجائیں گے کہ وہ نہ صرف اپنی عبادات بلکہ اپنی زندگی کی ذمہ داریوں کو بھی بھلا دیں گے ۔ اب بانسری کی بات ہے تو ایک صحیح روایت میں یہ بات بھی آئی ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک سائبان کو بانسری بجاتے ہوئے دیکھا تو فرمایا کہ ” یہ سفر کی کلفت دور کرنے کا کتنا اچھا طریقہ ہے ۔ ” چنانچہ جتنی بھی دو چار حدیثیں جو موسیقی کے خلاف پیش کی جاتیں ہیں ۔ اور محدثین نے ان پر جس طرح کے اعتراضات کیئے ہیں اور بتایا ہے کہ ان میں سے ہر ایک روایت میں ایسی چیزیں ہیں جو ان کو کمزور بنا دیتیں ہیں اور جن بنیاد پر یہ کہنا کہ موسیقی حرام ہے یہ بات ٹھیک نہیں ہے ۔ البتہ اس کی بنیاد پر ہم یہ ضرور کہہ سکتے ہیں کہ وہ تمام چیزیں جو انسان جو بےحیائی کی طرف راغب کر ے اور ذمہ داریوں اور عبادات سے دور لے جائے ان میں موسیقی ” بھی ” ہوسکتی ہے ۔ ایسی صورت میں موسیقی کی بھی ممانیت ہوجائیگی ۔
اگر حضورِ پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی چیز کو حرام قرار دیا ہے اور ہم کوشش کر کے اس کو جائز ثابت کریں تو یہ دین سے انحراف کے مترادف ہوگا ۔ جس کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حرام قرار دیا ہو اس کو کوئی بھی مسلمان حلال قرار دے نہیں سکتا ۔ لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ بھی ایک ناپسندیدہ رویہ ہے کہ اگر ہمارے درمیان کوئی علمی اختلاف ہو رہا ہو اور اٹھ کر کوئی یہ کہہ دے کہ تم اپنی خواہشِ نفس کی بنیاد پر یہ بات یہ کہہ رہے ہو تو یہ بھی ایک ناپسندیدہ رویہ ہوگا جتنا کہ پہلے والا ہے ۔ لیکن اگر کوئی موسیقی کو سننا چاہتا ہے تو میں اس کے جواز کو مانتا ہوں ۔ اب یہ جواز کو ماننے والی بات کیا ہے کہ جتنی بھی چیزیں جو حلال و حرام اور گناہ کبیرہ کی نوعیت کی ہیں ۔ یا فرض کی نوعیت کی ہیں ۔ تو اس کا ذکر لازماً قرآن میں ہوا ہے ۔ کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوا ہو کہ
” یٰٓاَ یُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اِنَّمَا الْخَمْرُوَ الْمَیْسِرُ وَ الْاَنْصَابُ وَالْاَزْلَامُُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْہُ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ ہ ( سورہ اعراف ۔ آیت نمبر ( 32)
ترجمہ۔ اے ایماندارو! شراب، جوا، بت اور قرعہ کے تیر تو پلیدی اور شیطانی کاموں میں سے ہیں لہٰذا تم ان سے اجتناب کرو ہو سکتا ہے کہ تم فلاح پا جاؤ۔
یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ ان کے ساتھ اللہ موسیقی کو نہ ملائے ۔ اس کے بعد جب ہم روایت کی بنیاد پر آتے ہیں تو کسی روایت کے ذریعے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی ایسی بات ہمیں پہنچی ہوئی ہوتی کہ اے مسلمانو! موسیقی تم پر مکمل طور پر حرام ہے ۔ اس کے آلات تم پر حرام ہیں ۔ اس کا سننا تم پر حرام ہے تو مسلمان اس کے سامنے اپنا سرخم تسلیم کر لیتے ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کی کوئی بات موجود ہی نہیں ہے ۔ مہیز مختلف ذرائع سے سے بالواسطہ یہ بات لائی جانے کی کوشش کی جاتی ہے ۔
بہت ساری چیزیں ایسی ہیں کہ جو سنداً ثابت ہوجاتیں ہیں ۔ لیکن محدثین ان پر تنقید درایت کے اصولوں پر کرتے ہیں ۔ یہ ایسی ہی بات ہے کہ ایک دفعہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا کہ ” حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ گھر ، گھوڑے اور عورت میں نحوست ہوتی ہے ۔ ” یہ بات جب حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا تک پہنچی تو انہوں نے ارشاد فرمایا کہ ” ابوہریرہ نے ہمیں تو گھر اور گھوڑے کے ساتھ ملا دیا ۔ ” حقیقت یہ نہیں تھی کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسے فرمایا تھا ۔ بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوں ارشاد فرمایا تھا کہ ” زمانہ جاہلیت میں لوگ ان چیزوں کے درمیان نحوست محسوس کرتے تھے ۔ ” چناچہ درایت کے اصولوں کے مطابق بےشمار روایتوں پر نقد و جرح ہوچکی ہے اور یہ بات کہی جاچکی ہے کہ یہ چیز اس طرح عقل و فطرت اور قرآن مجید کے اصولوں کے خلاف ہے ۔ اور اس بنیاد پر ایسی روایات ماننے کے قابل نہیں ہوتیں ۔ جب ان تمام چیزوں کو اس طرح ملا لیا جاتا ہے ۔
اس سلسلے میں دو کتابیں پڑھنے کے قابل ہیں ۔
ایک ” اسلام اور موسیقی ” جو مولانا جعفر شاہ پھلواری نے لکھی ہے ۔
اور دوسری کتاب جس کا نام بھی ” اسلام اور موسیقی ” ہے ۔ اس کو جناب مفتی محمد شفیع نے لکھا ہے ۔
اگر ان دو کتابوں کو پڑھ لیا جائے اور پھر اپنے اندر کے مفتی سے پوچھا جائے تو وہ صاف طور پر بتا دیتا ہے کہ کونسی روایت غلط ہے اور کونسا اس کا طریقہ کمزور ہے ۔

رشتے

معاشرے میں لوگوں کے باہمی تعلقات اور روابط کو رشتوں کا نام دیا جاتا ہے ۔ یہ رشتے مخلتف نوعیت کے ہوسکتے ہیں ۔ چونکہ رشتوں کی نوعیت مخلتف ہوتی ہے ۔ اسی وجہ سے رشتوں میں پختگی ، مضبوطی ، اور دیگر عوامل کے معیار میں تضاد کا بھی امکان موجود رہتا ہے ۔ ایک فرد سے خاندان اور خاندان سے معاشرے تک رشتوں کا ایک طویل جال پھیلا ہوا ہوتا ہے ۔ ہر رشتے کی طنابیں ، احساس کی شدت سے مزین ہوتی ہیں ۔ یہ احساس ، انسان کے اندر اس کی اپنی فطرت ، ذاتی خواہشات اور دلچسپی کا مرہونِ منت ہوتا ہے ۔ چونکہ کسی بھی رشتہ کے وجود کے لیئے ایک سے زائد فرد کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اس لیئے کوئی بھی رشتہ ، فریقین کی صورت میں ظہور پذیر ہوجاتا ہے ۔ جہاں مختلف فطرت ، سوچ ، نظریات ، رحجانات اور توقعات کارفرما ہوتیں ہیں ۔ چنانچہ احساس کی شدت جو کسی بھی رشتے کے وجود کی بنیاد ہوتی ہے ۔ اس میں اتار چڑھاؤ ، وقت اور حالات کی تبدیلی کے ساتھ رونما ہوتا رہتا ہے ۔ رشتہ کسی بھی نوعیت کا ہو ۔ وہ احساس کی شدت کے گرد گھومتا ہے ۔ ہم اسی شدت کو خلوص ، محبت ، نفرت اور دیگر جذبات کے مخلتف پہلوؤں سے تعبیر کرتے ہیں ۔ اور اسی احساس کی شدت میں کمی وبیشی ہمیں رشتوں میں درجات بنانے پر مجبور کرتی ہے ۔
رشتوں میں کامیابی اور ناکامیابی کا انحصار فریقین کے مابین امیدوں اور توقعات کے توازن پر ہوتا ہے ۔ محبت خلوص سے مشروط ہے اور خلوص احساس سے ۔ احساس کی نوعیت جیسی ہوگی ۔ یہ عوامل بھی اسی سطح پر اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے ۔ ہر رشتے میں احساس خلوص کو متحرک کرتا ہے اور خلوص محبت کی صورت میں ظہور پذیر ہوجاتا ہے ۔ چونکہ رشتوں کی نوعیت مختلف ہوتی ہے لہذاٰ احساس کی شدت بھی قدرے مختلف ہوگی ۔ اسی شدت کے درجات پر رشتے کی کامیابی اور ناکامی کا دارومدار ہے ۔ انسان میں احساس ، خلوص کی انتہا پر ہو تو احساس کی شدت بھی انتہائی درجے پر ہوگی جوکہ رشتوں کی مناسبت سے محبت کی کسی بھی صورت میں ظاہر ہوجائے گی ۔ ایسی صورت میں انسان ہمیشہ اُس رشتے کو مقدم رکھے گا جس سے احساس اس درجہ منسلک ہوگا ۔ اگر یہ معاملہ کسی فریقین کے مابین موجود ہو تو رشتے میں ہم آہنگی پیدا ہوجائے گی اور رشتوں میں کامیابی کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے ۔ کیونکہ یہاں امیدوں اور توقعات کے درمیان ایسا توازن پیدا ہوجاتا ہے ، جو کبھی بھی اپنے دائرہِ اختیار سے باہر سفر اختیار نہیں کرتے ۔ اور یہی دائرہ رشتوں کو ایک دوسرے کی اہمیت کا احساس دلا کر انہیں مضبوطی سے ایک توازن میں قائم رکھتا ہے ۔ توازن کی اس شرح پر رشتہ ہمیشہ پائیدار اور دیرپا ہوگا ۔ بصورتِ دیگر اس میں دڑاریں پڑنے جانے کا احتمال رہنے کا امکان موجودرہے گا ۔
احساس ، انسان میں قدرت کی طرف سے ودیعت کردہ ایک ایسا عنصر ہے ۔ جو کہ انسان کو نہ صرف اس کے وجود کا جواز فراہم کرتا ہے بلکہ اس کے وجود سے منسلک ان تمام چیزوں کے تعلقات کی اہمیت کے ادراک کا مشاہدہ بھی کرواتا ہے ، جو انسان کی زندگی سے وابستہ ہوتیں ہیں ۔ میری نظر میں دراصل احساس ” زندگی ” کا نام ہے ۔ جس کو ہم “روح “ سے گردانتے ہیں ۔ ہرانسان کی زندگی فطرت کے مختلف اصولوں پر مرتب کی گئی ہے ۔ لہذاٰ جب انسان خود کو ان اصولوں پر پرکھتا ہے تو وہ خود کو دوسروں سے بلکل مخلتف پاتا ہے ۔ اور اسی اختلاف کی بناء پر وہ تعلقات اور رشتوں میں بھی امیتاز رکھنے پر مجبور ہوجاتا ہے ۔ جب انسان فطرت کے بنیادی اصولوں کے مطابق ، دوسرے انسان سے مخلتف ہے تو اس قاعدے کے مطابق اس میں دوسرے سے روابط رکھنے کا معیار کا پیمانہ بھی مخلتف ہوگا ۔ احساس چونکہ زندگی کا نام ہے ۔ چنانچہ جب زندگی میں کسی بھی رشتے کے تعلق کا فطری سفر عمل پذیر ہوگا تو اس میں سب سے پہلے امیدیں اور توقعات شامل ہونگیں ۔ اب چونکہ احساس کی نوعیت مخلتف ہے تو اس لیئے انسان پہلےاپنی امیدوں اور توقعات کو اسی نوعیت کے مطابق اہمیت دیگا۔ تاکہ احساس کو آسودگی میسر آسکے۔ اسی مقام پر خلوص ، احساس کی Intention کی وجہ سے پیدا ہوجائےگا ۔ اور یہی Intention رشتوں میں اپنی فطرت کے مطابق ، ترجیحات کے فارمولے پر عمل کرتے ہوئے درجات بناتی ہوئی نظر آئے گی ۔ اس وجہ سے رشتوں میں تفریق پیدا ہوجاتی ہے ۔
چونکہ رشتوں کے آغاز کے لیئے احساس کو سب سے اپنے وجود کا ثبوت فراہم کرنا پڑتا ہے ۔ لہذا ہر وہ شے میں جو اس کی زندگی سے منسلک ہونگیں ، اس میں اپنے وجود سے تعلق کی بنیاد تلاش کرنےکی کوشش کرے گا ۔ ہر تعلق خلوص اور Intention سے وابستہ ہوتا ہے ۔ مگر ہر تعلق میں خلوص یکساں نہیں رہ سکتا ۔ کیونکہ Intention ہر تعلق میں مختلف ہوتی ہے ، سو Intention ، محبت یا نفرت کی کسی بھی صورت میں نمودار ہوجائے گی ۔ یعنی احساس نے اپنے وجود کا جواز تعلقات میں ڈھونڈا ، تعلقات نے جذبات پیدا کیئے ( جو صریحاً انسان کی اپنی ذاتی فطرت کے مطابق خلوص اور Intention کے محتاج ہوتے ہیں ) ۔ جذبات نے شدت پیدا کی اور شدت نے رویوں کو روشناس کروایا ۔ رویوں نے رشتوں کے درجات بنائے ۔ اور کوئی بھی درجہ اپنی شدت کی شرح کی بنیاد پر محبت یا نفرت کی صورت میں سامنے آگیا ۔
احساس ، خلوص ( Intention ) اور محبت ایک ایسی عمارت بناتے ہیں ۔ جسے ہم کسی بھی رشتے سے تعبیر کرتے ہیں ۔ فرض کریں کہ آپ ایک آرٹیکٹ ہیں ۔ آپ نے سوچا کہ ایک عمارت بنائی جائے ۔ یہ احساس ہے ۔ آپ نے پوری تندہی ، لگن ، محنت سے اس ” احساس ” پر کام کرنا شروع کیا کہ کہاں کیسے چوکھٹیں لگائیں جائیں ۔ کہاں کیسا در ہوگا ۔ درودیوار پر روغن کیسا ہوگا ۔ یہ Intention یا خلوص ہے ۔ جب عمارت بن کر سامنے آگئی تو یہ وہ “ رشتہ “ ہے ۔ جس کی بقاء کا دارومداراُس محبت پر ہے ۔ جو Intention یا خلوص سے وجود میں آئی یا یوں کہہ لیں کہ احساس اور خلوص کے باہمی اشتراک سے وجود میں آئی ۔ احساس اور خلوص کی شدت محبت کی معراج متعین کرے گی ۔ جس پر کسی بھی رشتے (عمارت )
کی پائیداری کا انحصار ہوگا۔