اسلام اور موسیقی

مسلمان معاشرے ان دنوں Transformation کے ایک دور سے گذر رہے ہیں ۔ عالم ِ اسلام میں ہر طرف روایت اور جدت کی ایک کشمکش ہے ۔ یہ کشمکش کسی قوم کے مستقبل کے لیئے بڑی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے ۔ علامہ اقبال نے اس طرف توجہ دیتے ہوئے فرمایا تھا کہ :
آئینِ نو سے ڈرنا ، طرزِ کوہن پہ اَڑنا
منزل یہی کھٹن ہے قوموں کی زندگی میں
کشمکش کے یہ میدان بہت سے ہیں ۔ لیکن اس میں سب سے واضع اور نمایاں میدان فنونِ لطیفہ کا ہے ۔ اور اس میں بھی نمایاں تر موسیقی کی بحث ہے ۔ ایک مسلمان معاشرے میں کیا موسیقی کے لیے گنجائش موجود ہے ۔ ؟ اسلام جس تہذیب کو فروغ دینا چاہتا ہے ۔ کیا اس میں موسیقی کے لیے کوئی جگہ ہے ۔ جو تزکیہ انسان کو مذہب میں مطلوب ہے کیا موسیقی اس میں معاون ہے یا اس کا کردار منفی ہے ۔ ؟
جو چیز انسان کو شرک اور بے حیائی کی طرف مائل کردے یا کوئی ایسی چیز جو انسان کو اس کی بنیادی ذمہ داریوں ، عبادات اور ضروریات سے غافل کردے ۔ ایسی صورت میں جو جائز چیز ہوگی وہ بھی اس وقت ناجائز ہوجائے گی ۔ اور اسکا تعلق صرف موسیقی سے ہی نہیں بلکہ وہ کوئی بھی چیز ہوسکتی ہے ۔ مثلاً اگر کوئی شخص صرف سیر وتفریح ہی کرنے لگے یا کوئی شخص اس طرح شاعری کرنے لگے کہ وہ اپنے فرائض سے غافل ہوجائے ۔ تو یہ چیزیں بھی ناجائز بن جائیں گی ۔ اگر بات موسیقی کی ہے تو پوری کائنات میں موسیقیت کے مظاہر ہر جگہ ملیں گے ۔ پانی کے جھرنوں کا گنگنانا ، پرندوں کا مخصوص انداز میں چہچہانا ، ہوا کی سرسراہٹ ۔ سب فطرت کی موسیقی کے ہی مظاہر ہیں ۔ اور قرآن نے جس طریقے سے کہہ دیا ہے ۔
کہ ۔
” قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِینَةَ اللهِ الَّتِی أَخْرَجَ لِعِبَادِہِ وَالطَّیِّبَاتِ مِنْ الرِّزْقِ قُلْ ہِیَ لِلَّذِینَ آمَنُوا فِی الْحَیَاةِ الدُّنْیَا خَالِصَةً یَوْمَ الْقِیَامَةِ کَذَلِکَ نُفَصِّلُ الْآیَاتِ لِقَوْمٍ یَعْلَمُونَ ۔ ( سورہ مائدہ ۔ آیت نمبر 90 )
ترجمہ: کہہ دو کہ کس نے اللہ کی اس زینت کو جو اس نے اپنے بندوں کے لئے پیدا کی ہے اور دلپسند اور پاکیز ہ رزق کو اپنے اوپر بغیر کی دلیل کے حرام قرار دیا ہے۔ کہہ دو کہ یہ نعمتیں دنیوی زندگی میں مومنین کے لئے ہیں (اگرچہ کفار بھی ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔)۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ موسیقی بنیادی طور سے جائز ہے بشرطیکہ اس میں شرک اور بے حیائی نہ ہو ۔ اور وہ انسان کو اس کی اہم زندگی کی ضروریات سے غافل نہ کردے ۔ یہی وجہ ہے کہ جب ہم قرآن مجید کو سامنے رکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ موسیقی کو حرام قرار دینے کے لیئے قرآن مجید میں کوئی بنیاد موجود نہیں ہے ۔ اور جب ہم احادیث کا مطالعہ کرتے ہیں تو جتنی بھی صحیح احادیث ہیں ۔ وہ موسیقی کی حلت پر یعنی اس کے حلال ہونے کی طرف اشارہ کرتیں ہیں ۔ اور جتنی بھی ضعیف احادیث ہیں وہ اس کو حرام قرار دیتیں ہیں ۔
ایک حدیث کی طرف توجہ مبذول کرواتا ہوں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ” مجھے آلاتِ موسیقی کو توڑنے کے لیئے بھیجا گیا ہے ” اور جب اس کی تفصیل میں جانے کا اتفاق ہوا تو معلوم ہوا کہ یہ ایک انتہائی ضعیف حدیث ہے ۔ یعنی اس بات کا تعلق حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ثابت نہیں ہوتا ۔ اس کو ثابت کرنا ایک بہت بڑی جسارت ہوگی ۔ لہذا ایسی احادیث پر کسی چیز کے حرام ہونے کا فتویٰ نہیں لگایا جاسکتا ۔
سو سال پہلے علامہ اقبال نے اپنے لیکچر Reconstruction Religoin Theory Of ISLAM میں کہا تھا کہ ” مسلمانوں نے پانچ سو سال سے سوچنا بند کردیا ہے ۔ ” اب ایک لکیر پر سفر شروع ہوگیا ہے ۔ اگر اس پر کسی قسم کے خیالات یا نظریات کا اظہار کیا جائے تو وہ فتوؤں کی گرفت میں آجاتا ہے ۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ موسیقی کے اکثر آلات مسلمانوں کی ہی ایجاد کردہ ہیں ۔ گٹار اسپین کے مسلمانوں نے ایجاد کیا ۔ طبلہ اور ستار امیر خسرو کی ایجاد ہیں ۔ ۔ مسلمان معاشرے میں جو بھی ترقی ہوئیں وہ پندرھویں یا سولویں صدی سے قبل کی ہیں کہ اس وقت مسلمان سوچ رہا تھا ۔ اور مسلمانوں نے اس قسم کی جو بھی ایجادات کیں وہ محض تفریح کے لیئے نہیں بلکہ ایک تخلیقی کام کو آگے بڑھانے اور زندہ رکھنے کے لیئے تھیں ۔ کیونکہ تفیہمِ نو کا سفر جاری تھا ۔
کسی بھی چیز کو ناجائز قرار دینے کے لیئے ایک مضبوط دلیل کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اس کو آپ محض کمزور احادیث پر حرام قرار نہیں دے سکتے ۔ جب ہم موسیقی کے حوالے سے تمام روایات کو اکٹھا کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ بخاری اور مسلم میں جو احادیث ہیں ۔ وہ اس طرف اشارہ کرتیں ہیں کہ بغیر کسی استثناء کے وہ تمام چیزیں جن میں شرک اور بےحیائی نہ ہو تو ان میں کوئی ناجائز ہونے کی بات نہیں ہے ۔
واحد صحیح حدیث جس میں موسیقی کا تذکرہ ملتا ہے وہ یہ ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ” جن چیزوں کی قیامت کے دن اکثریت ہوجائے گی ۔ ان میں سے ایک چیز موسیقی بھی ہے ۔ ”
یہ حدیث بلکل ٹھیک ہے ۔ لیکن اس حدیث میں خبر دی گئی ہے کوئی حکم نہیں دیا گیا ہے ۔ تو اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ قربِ قیامت میں لوگ ان چیزوں میں اس طرح منہمک ہوجائیں گے کہ وہ نہ صرف اپنی عبادات بلکہ اپنی زندگی کی ذمہ داریوں کو بھی بھلا دیں گے ۔ اب بانسری کی بات ہے تو ایک صحیح روایت میں یہ بات بھی آئی ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک سائبان کو بانسری بجاتے ہوئے دیکھا تو فرمایا کہ ” یہ سفر کی کلفت دور کرنے کا کتنا اچھا طریقہ ہے ۔ ” چنانچہ جتنی بھی دو چار حدیثیں جو موسیقی کے خلاف پیش کی جاتیں ہیں ۔ اور محدثین نے ان پر جس طرح کے اعتراضات کیئے ہیں اور بتایا ہے کہ ان میں سے ہر ایک روایت میں ایسی چیزیں ہیں جو ان کو کمزور بنا دیتیں ہیں اور جن بنیاد پر یہ کہنا کہ موسیقی حرام ہے یہ بات ٹھیک نہیں ہے ۔ البتہ اس کی بنیاد پر ہم یہ ضرور کہہ سکتے ہیں کہ وہ تمام چیزیں جو انسان جو بےحیائی کی طرف راغب کر ے اور ذمہ داریوں اور عبادات سے دور لے جائے ان میں موسیقی ” بھی ” ہوسکتی ہے ۔ ایسی صورت میں موسیقی کی بھی ممانیت ہوجائیگی ۔
اگر حضورِ پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی چیز کو حرام قرار دیا ہے اور ہم کوشش کر کے اس کو جائز ثابت کریں تو یہ دین سے انحراف کے مترادف ہوگا ۔ جس کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حرام قرار دیا ہو اس کو کوئی بھی مسلمان حلال قرار دے نہیں سکتا ۔ لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ بھی ایک ناپسندیدہ رویہ ہے کہ اگر ہمارے درمیان کوئی علمی اختلاف ہو رہا ہو اور اٹھ کر کوئی یہ کہہ دے کہ تم اپنی خواہشِ نفس کی بنیاد پر یہ بات یہ کہہ رہے ہو تو یہ بھی ایک ناپسندیدہ رویہ ہوگا جتنا کہ پہلے والا ہے ۔ لیکن اگر کوئی موسیقی کو سننا چاہتا ہے تو میں اس کے جواز کو مانتا ہوں ۔ اب یہ جواز کو ماننے والی بات کیا ہے کہ جتنی بھی چیزیں جو حلال و حرام اور گناہ کبیرہ کی نوعیت کی ہیں ۔ یا فرض کی نوعیت کی ہیں ۔ تو اس کا ذکر لازماً قرآن میں ہوا ہے ۔ کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوا ہو کہ
” یٰٓاَ یُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اِنَّمَا الْخَمْرُوَ الْمَیْسِرُ وَ الْاَنْصَابُ وَالْاَزْلَامُُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْہُ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ ہ ( سورہ اعراف ۔ آیت نمبر ( 32)
ترجمہ۔ اے ایماندارو! شراب، جوا، بت اور قرعہ کے تیر تو پلیدی اور شیطانی کاموں میں سے ہیں لہٰذا تم ان سے اجتناب کرو ہو سکتا ہے کہ تم فلاح پا جاؤ۔
یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ ان کے ساتھ اللہ موسیقی کو نہ ملائے ۔ اس کے بعد جب ہم روایت کی بنیاد پر آتے ہیں تو کسی روایت کے ذریعے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی ایسی بات ہمیں پہنچی ہوئی ہوتی کہ اے مسلمانو! موسیقی تم پر مکمل طور پر حرام ہے ۔ اس کے آلات تم پر حرام ہیں ۔ اس کا سننا تم پر حرام ہے تو مسلمان اس کے سامنے اپنا سرخم تسلیم کر لیتے ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کی کوئی بات موجود ہی نہیں ہے ۔ مہیز مختلف ذرائع سے سے بالواسطہ یہ بات لائی جانے کی کوشش کی جاتی ہے ۔
بہت ساری چیزیں ایسی ہیں کہ جو سنداً ثابت ہوجاتیں ہیں ۔ لیکن محدثین ان پر تنقید درایت کے اصولوں پر کرتے ہیں ۔ یہ ایسی ہی بات ہے کہ ایک دفعہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا کہ ” حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ گھر ، گھوڑے اور عورت میں نحوست ہوتی ہے ۔ ” یہ بات جب حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا تک پہنچی تو انہوں نے ارشاد فرمایا کہ ” ابوہریرہ نے ہمیں تو گھر اور گھوڑے کے ساتھ ملا دیا ۔ ” حقیقت یہ نہیں تھی کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسے فرمایا تھا ۔ بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوں ارشاد فرمایا تھا کہ ” زمانہ جاہلیت میں لوگ ان چیزوں کے درمیان نحوست محسوس کرتے تھے ۔ ” چناچہ درایت کے اصولوں کے مطابق بےشمار روایتوں پر نقد و جرح ہوچکی ہے اور یہ بات کہی جاچکی ہے کہ یہ چیز اس طرح عقل و فطرت اور قرآن مجید کے اصولوں کے خلاف ہے ۔ اور اس بنیاد پر ایسی روایات ماننے کے قابل نہیں ہوتیں ۔ جب ان تمام چیزوں کو اس طرح ملا لیا جاتا ہے ۔
اس سلسلے میں دو کتابیں پڑھنے کے قابل ہیں ۔
ایک ” اسلام اور موسیقی ” جو مولانا جعفر شاہ پھلواری نے لکھی ہے ۔
اور دوسری کتاب جس کا نام بھی ” اسلام اور موسیقی ” ہے ۔ اس کو جناب مفتی محمد شفیع نے لکھا ہے ۔
اگر ان دو کتابوں کو پڑھ لیا جائے اور پھر اپنے اندر کے مفتی سے پوچھا جائے تو وہ صاف طور پر بتا دیتا ہے کہ کونسی روایت غلط ہے اور کونسا اس کا طریقہ کمزور ہے ۔

Advertisements

43 تبصرے (+add yours?)

  1. Tariq
    دسمبر 11, 2010 @ 03:45:35

    Hi bro
    I am agree with you just want to add on my openion Religion is something very personal, if we taking it as whole then we are creating a space for doubt. I again want encourage you for your effort… Good
    Tariq from singapore

    جواب دیں

    • zafriusa
      دسمبر 12, 2010 @ 00:39:00

      طارق صاحب ۔۔۔ اس آرٹیکل کی پسندیدگی اور آپ کی حوصلہ افزائی کے لیئے میں آپ کا بیحد ممنون ہوں ۔ آپ کی آمد میرے لیئے یقیناً آئندہ بھی اسی طرح لکھنے کا جواز بنے گی ۔

      ‌‌‌‌‌‌‌‌

      جواب دیں

  2. احمد عرفان شفقت
    دسمبر 11, 2010 @ 04:03:13

    میں نے دلچسپی اور توجہ سے یہ پوسٹ پڑھی ہے۔ کافی فوڈ فار تھاٹ ہے اس میں۔
    اگر اس بات کو کوئی اہمیت دی جا ئے کہ وہ موسیقی جو شرک اور بے حیائی کو اپنے دامن میں لیئے ہوئے ہے وہ حرام ہے تو مروجہ موسیقی کا ایک بڑا حصہ تو ویسے ہی سننے دیکھنے کے قابل نہیں رہتا۔۔۔مثلاً قبروں پر اور ادھر ادھر گائی جانے والی قوالیاں۔۔۔جن میں کراہت کی حد تک شرکیہ کلمات و خیالات کی بھر مار ہوتی ہے۔ اور بے حیائی سے لبریز وہ موسیقی جو ٹی وی وغیرہ پر فلموں ڈراموں میں دن رات دیکھی سنی جاتی ہے۔۔۔گھروں میں، گاڑیوں میں، بازاروں میں، ہوٹلوں میں۔۔۔ہر جگہ اس "روح کی غذا” کا وافر اہتمام ہوتا ہے۔
    آپ نے ایک اہم موضوع کے بہت سے پہلو بہت اچھی طرح مذکور کیے ہیں اس تحریر میں۔ شکریہ

    جواب دیں

    • zafriusa
      دسمبر 12, 2010 @ 00:35:15

      احمد عرفان شفقت صاحب ۔۔۔۔ میں تہہ دل سے آپ کا شکرگذار ہوں کہ آپ نے اس بلاگ کو اپنا قیمتی وقت دیا ۔ اور اپنی مفید آراء کا اظہار کیا ۔ اُمید ہے آپ اسی طرح آتے رہیں گے اور میری حوصلہ افزائی کرتے رہیں گے ۔

      ‌‌‌‌‌‌‌‌

      جواب دیں

  3. ابوشامل
    دسمبر 11, 2010 @ 06:49:38

    جناب محترم ظفر صاحب! آپ کی تحریر تو وقت چاہتی ہے پڑھنے کے لیے فی الوقت علامہ اقبال کا پہلا شعر درست کر لیجیے:
    آئین نو سے ڈرنا، طرز کہن پہ اَڑنا
    منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں

    جواب دیں

    • zafriusa
      دسمبر 12, 2010 @ 00:31:12

      ابوشامل ۔۔۔۔ کیسے ہیں آپ اُمید ہے خیریت سے ہونگے ۔ ہم پاکستان آئے ، آپ اور مغل جی نے تو ہمیں ٹرخا دیا ۔ 🙂 ۔۔۔
      خیر ۔۔۔ آپ نے جس غلطی کی طرف نشان دہی کی ہے اس کو درست کردیا گیا ہے ۔ میں اس طرف توجہ دلانے پر آپ کاشکریہ ادا کرتا ہوں ۔

      ‌‌‌‌‌‌

      جواب دیں

  4. یاسر خوامخواہ جاپانی
    دسمبر 11, 2010 @ 07:13:24

    دلچسپ تحریر ھے۔میں بھی احمد عرفان شفقت سے متفق ہوں۔

    جواب دیں

    • zafriusa
      دسمبر 12, 2010 @ 00:28:27

      یاسر صاحب ۔۔ آپ کے تشریف آوری کا شکریہ ۔۔۔۔ آپ کو اس تحریر میں دلچسپی کا پہلو جہاں نظر آیا ہے ۔ براہِ کرم اس کی نشان دہی کردیجیئے ۔ تاکہ میں اس کی تصحیح کرسکوں ۔ کیونکہ یقین مانیئے ، میں نے اس کو انتہائی سنجیدگی سے لکھا تھا ۔

      ‌‌‌‌‌

      جواب دیں

  5. مکی
    دسمبر 11, 2010 @ 07:56:56

    اچھی تحریر ہے، یہ فرمائیے گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور ان کے صحابہ نے موسیقی کی کتنی محفلوں کا اہتمام یا ان میں شرکت کی تھی؟

    جواب دیں

    • zafriusa
      دسمبر 12, 2010 @ 00:24:04

      مکی صاحب ۔۔۔ آپ کی تشریف آوری میرے لیئے بہت عزت کا باعث ہے کہ آپ ایک بہت قابلِ احترام ہستی ہیں ۔ اردو کے لیئے آپ کی خدمات لاوزال ہیں ۔
      میں بڑی ادب سے عرض کرتا ہوں کہ اگر آپ کا اعتراض کسی علمی پہلو سے ہوتا تو مجھے بیحد خوشی ہوتی کہ آپ نے جو سوال اٹھایا ہے ۔ اس کو مدِ نظر رکھ کر ایسی کئی باتیں اور چیزیں ہیں ۔ جو اس دور میں نہیں کی گئیں ۔ مگر ہم اس کو آج کل ایمان کا حصہ بنا کر بڑے دھڑلے سے کرتے ہیں ۔ خیر آپ آئے ۔۔۔ اپنے نے اپنے خیالات شئیر کیئے اس کے لیئے میں آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں ۔

      ‌‌‌‌‌

      جواب دیں

  6. khokhar976
    دسمبر 11, 2010 @ 08:08:19

    بہت اعلیٰ تحریر ہے۔ موسیقی کے معاملہ میں شریعت خاموش ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ محتاط رہا جائے۔ آج کل کچھ طبقات سماع کو عبادت سمجھنے لگ گئے ہیں اور سند اس کی صوفیاء سے لاتے ہیں۔ حالانکہ ان کے سماع اور آج کی قوالیوں اور ناشیدوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ مزید یہ کہ موسیقی میں مغربی اقوام نے کمال حاصل کیا تو بیٹہوون اور شوپن پیدا ہوئے جن کی دھنیں کیا خوبصورت سماں باندھ دیتی ہیں۔ مسلمانوں میں امیر خسرو اور ان کے طریقہ کے موسیقاروں نے کمال پایا۔ اور ان کے راگ اور الاپ بھی روح تک جاتے ہیں۔ میں مان ہی نہیں سکتا کہ ایسی موسیقی منع کی جا سکتی ہے۔
    استعمال اگر بے محل اور بے موقع ہو تو پانی بھی حرام ہے۔

    جواب دیں

    • zafriusa
      دسمبر 12, 2010 @ 00:20:09

      کھوکھر صاحب ۔۔۔ آپ کی تشریف آوری کے لیئے آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں ۔ آپ کی بات بجا ہے کہ کوئی ایسی مستند اور واضع حدیث یا کوئی ایسا حکم قرآن میں موجود نہیں ہے کہ جو براہ راست موسیقی کو حرام قرار دیدے ۔ باقی میں نے جو کچھ لکھا ہے ۔ اگر کسی صاحب کو اس پر “ علمی تناظر “ کے نکتہِ نظر سے کوئی اعتراض ہے تو سرِ خم تسلیم ہے کہ وہ بلا جھجھک بیان کردیں ۔ مجھے خوشی ہوگی ۔ اگر جس حصے پر اعتراض ہو تو اُسے کوٹ کردیں تو اور بھی مہربانی ہوگی کہ میں شاید اس طرف زیادہ توجہ سے رجوع کرسکوں ۔

      ‌‌‌‌‌

      جواب دیں

  7. دوست
    دسمبر 11, 2010 @ 12:19:47

    یہ بہت پرانا مسئلہ ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے لے کر آج تک علماء اس بات پر متفق نہیں ہوسکے کہ موسیقی حلال ہے یا حرام۔ میں ذاتی طور پر موسیقی کو اس وقت تک حلال سمجھتا ہوں جب تک یہ فرائض سے غافل کرنے والی نہ ہو۔ جعفر شاہ پھلواری کی کتاب میں اچھی تحقیق کی گئی ہے موسیقی کے بارے احادیث کی۔

    جواب دیں

    • zafriusa
      دسمبر 12, 2010 @ 00:14:34

      شاکر ۔۔۔ یہی رحجان میرا بھی ہے کہ میری معلومات بھی یہی کہتی ہے ۔ اور اس کی حلت کے بارے میں اس آرٹیکل میں خاصہ وضاحت موجود ہے ۔ بہرحال شکریہ کہ تم ادھر آئے ، کمنٹس دیئے ۔ اس کے لیئے میں آپ کو مشکور ہوں

      ‌‌‌‌

      جواب دیں

  8. fikrepakistan
    دسمبر 11, 2010 @ 16:55:27

    ہجرت مکہ کے وقت جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہہ اور راستہ بتانے والے بدو اوریقت کے ساتھھ جب مدینے پنہنچے تب لوگوں نے ڈف کی تھاپ پر آپ صلی علیہ وسلم کا استقبال کیا تھا اور اس وقت ان لوگوں میں جید صحابہ اکرام رضی اللہ بھی شامل تھے۔

    جواب دیں

  9. zafriusa
    دسمبر 12, 2010 @ 00:40:01

    میں فرداً فرداً تمام احباب کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ سب اس بلاگ پر تشریف لائے اور اپنی قیمتی آراء سے نوازا ۔ میں نے نیا بلاگ بنایا ہے ۔ کئی افسانے لکھ مارے کوئی ادھر نہیں پھٹکا ، مزاح لکھ کر سب کا دل لبھانے کی کوشش کی ، مگر ناکام رہا ، فلسفہ جھاڑا شاید کوئی ادھر توجہ دے ۔۔۔۔ پھر بھی جواب ندارد ، ماسوائے چند پرانے احباب کے جن کے اصرار پر بلاگ لکھنا شروع کیا ، سوچا اب کیا کیا جائے تو ذہن میں یہی آیا کہ مذہب کے حوالے سے کوئی تحریر لکھی جائے ۔ جن پر مختلف آراء اہلِ علم کے درمیان موجود ہوں ۔ سو موسیقی کا چناؤ کیا ۔ الحمداللہ ۔۔۔ آپ تمام احباب نے اس پر لیبک کہا اور ایک دن میں اتنے کمنٹس جمع ہوگئے کہ کئی ماہ میں بھی نہیں ہوئے تھے ۔ میں اس شخصیت کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں ، جنہوں نے مجھ اس موضوع پر لکھ کر احباب کی توجہ حاصل کرنے کا کہا ۔ میں ان کے تجربے کا قائل ہوگیا ہوں ۔ 🙂
    خیر مذاق برطرف میں کوشش کرتا ہوں کہ فرداً فرداَ جواب دے سکوں۔

    ‌‌‌

    جواب دیں

  10. عثمان
    دسمبر 12, 2010 @ 00:47:01

    جناب آپ کا بلاگ حال ہی میں اردو سیارہ پر ابھرا ہے۔ نیز آپ بلاگستان کے دوسرے بلاگز پر بھی دیکھائی نہیں دیتے۔ اس لئے تعارف کم ہے اور قارئین و مبصرین کی تعداد خاطر خواہ نہیں ہوسکی۔ بہرحال آپ کی چند تحاریر نظر سے گذری ہیں۔ اچھا ، پختہ اورمدلل انداز بیان ہے۔ امید ہے اردو محفل کی طرح یہاں اردو بلاگستان کو بھی آپ اپنا قیمتی وقت دے سکیں گے۔ لکھتے رہیے۔ ہم آتے رہیں گے۔

    جواب دیں

    • zafriusa
      دسمبر 12, 2010 @ 01:10:51

      عثمان صاحب ۔۔۔ پہلے تو آپ کا شکریہ کہ آپ یہاں تشریف لائے ۔ آپ نے صحیح فرمایا کہ میرا بلاگستان پر کم ہی آنا رہا ہے ۔ آپ کی پسندیدگی کا شکریہ ادا کرتا ہوں ۔ اردو محفل کا حوالہ دیا تو لگتا ہے کہ آپ سے اتنی بھی نا آشنائی نہیں ہے ۔ 🙂
      ان شاءاللہ کوشش کروں گا کہ بلاگستان کا مستقل اور ریگولر رکن بن سکوں ۔

      ‌‌‌‌‌‌‌‌

      جواب دیں

  11. مکی
    دسمبر 12, 2010 @ 06:47:09

    zafriusa صاحب آپ کی بات بجا ہے کہ ایسے بہت سے کام جو اس دور میں نہیں کیے گئے ہم انہیں آج ایمان کا حصہ سمجھتے ہیں، اس ‘ ہم ‘ میں سے آپ مجھے نکال سکتے ہیں، جہاں تک بات علمی پہلو کی ہے تو میں دلائل کا اتنا بڑا پہاڑ کھڑا کر سکتا ہوں کہ آپ کا مضمون ان دلائل کے نیچے دب کر رہ جائے گا، مگر نا ہی مذہب میرا میدان عمل ہے اور نا ہی میرے پاس اس قسم کی بحثوں کے لیے وقت، بس بصد احترام اتنا عرض کروں گا کہ اس بحث کے حوالے سے آپ کا مضمون کافی سطحی اور دلائل سے عاری ہے…

    یہ میری ذاتی رائے، امید ہے آپ ناراض نہیں ہوں گے..

    جواب دیں

    • zafriusa
      دسمبر 12, 2010 @ 13:38:59

      میں نظریات اور عقائد کی اس جنگ میں‌ کسی بھی بہتان اور بے سروپا باتوں پر قطعاً ناراض نہیں‌ ہوتا ۔ کم از کم یہ خیال تو آپ دل سے نکال دیں ۔ مگر مجھے یہ جان کر خوشی ہوئی آپ ایک اعلیٰ پائے کی عالم بھی ہیں‌، یقین مانیئے مجھے اس بارے میں قطعاً علم نہیں تھا ۔ میں نے جو لکھا آپ کی اس آراء کے بعد مجھے وہ واقعی سطحی اور دلائل سے عاری لگا ۔ حلانکہ کہ میری کوشش تھی کہ جو دوست تنقید کرے کم از وہ میری کسی سطر کو کوٹ کر کے کہے کہ یہاں جو بات کہی گئی ہے ۔ وہ غلط ہے ۔ صحیح بات یہ ہے ۔ پھر وہ اس پیرائے میں دلائل اور ثبوت مہیا کردے ۔طالبان والا رویہ اپنانے سے بحث مثبت رخ پر جانے سے تو رہی

      جواب دیں

  12. یاسر خوامخواہ جاپانی
    دسمبر 12, 2010 @ 07:51:11

    جناب کیا یہی کم دلچسپ بات ھے ۔کہ موسیقی کو حلال کرنے کی چھری بھی نہ پھیری اور اپنی بات بھی کہہ گئے۔

    جواب دیں

    • zafriusa
      دسمبر 12, 2010 @ 13:45:02

      محترم ۔۔۔۔ آپ کی آراء کا احترام کرتا ہوں ۔ کیا اچھا ہی ہوتا کہ میری کسی سطر کو کوٹ کرکے کہتے کہ دلچسپی یہاں پیدا ہوئی ہے ۔ اصل آیت اور حدیث کچھ یوں ہے ۔ اور اس کا مفہوم اس طرح واضع ہوتا ہے تو شاید مجھے اپنی اصلاح میں کچھ آسانی پیدا ہوجاتی ۔

      جواب دیں

  13. عامر شہزاد
    دسمبر 12, 2010 @ 08:03:31

    اسلام علیکم،

    ؛اگر بات موسیقی کی ہے تو پوری کائنات میں موسیقیت کے مظاہر ہر جگہ ملیں گے ۔ پانی کے جھرنوں کا گنگنانا ، پرندوں کا مخصوص انداز میں چہچہانا ، ہوا کی سرسراہٹ ۔ سب فطرت کی موسیقی کے ہی مظاہر ہیں ۔؛ جناب آپ بے شک ان سے لطف اندوز ہوں مگر آج کل کی راج موسیقی مختلف چیز ہے۔ اس دلیل سے موسیقی کو درست کہنا غلط ہے۔

    ؛اس کا مطلب یہ ہوا کہ موسیقی بنیادی طور سے جائز ہے بشرطیکہ اس میں شرک اور بے حیائی نہ ہو ۔؛ جناب قران کی آیت کو حوالہ دے کر آپ غلط نتیچے پر پہنچے۔ اس دلیل سے موسیقی کو درست کہنا غلط ہے۔

    ؛جب ہم احادیث کا مطالعہ کرتے ہیں تو جتنی بھی صحیح احادیث ہیں ۔ وہ موسیقی کی حلت پر یعنی اس کے حلال ہونے کی طرف اشارہ کرتیں ہیں۔؛ کیا آپ ان صحیح احادیث کی طرف اشارہ کرنا پسند کریں گے؟

    ؛قابل ذکر بات یہ ہے کہ موسیقی کے اکثر آلات مسلمانوں کی ہی ایجاد کردہ ہیں ۔؛ اس دلیل سے موسیقی کو درست کہنا غلط ہے۔

    ؛واحد صحیح حدیث جس میں موسیقی کا تذکرہ ملتا ہے وہ یہ ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ” جن چیزوں کی قیامت کے دن اکثریت ہوجائے گی ۔ ان میں سے ایک چیز موسیقی بھی ہے ۔ ” یہ حدیث بلکل ٹھیک ہے ۔ لیکن اس حدیث میں خبر دی گئی ہے کوئی حکم نہیں دیا گیا ہے ۔؛ اس حدیث کو پڑھ کر موسیقی کا منفی پہلو سامنے آتا ہے یا مثبت؟ یہ موسیقی کی خرابی ظاہر کر رہی ہے۔ اس دلیل سے موسیقی کو غلط کہنا درست ہے (:

    ؛ب یہ جواز کو ماننے والی بات کیا ہے کہ جتنی بھی چیزیں جو حلال و حرام اور گناہ کبیرہ کی نوعیت کی ہیں ۔ یا فرض کی نوعیت کی ہیں ۔ تو اس کا ذکر لازماً قرآن میں ہوا ہے؛ موسیقی اگرچہ گناہ کبیرہ نہ بھی ہو پھر بھی گناہ کے زمرے میں شامل ہے جیسا کہ اوپر بیان کردہ ؛واحد صحیح حدیث؛ میں موجود ہے۔

    آپ قران مجید کا ارشاد لکھ کر یہ کہتے ہیں کہ ؛یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ ان کے ساتھ اللہ موسیقی کو نہ ملائے ۔؛، اس دلیل سے موسیقی کو درست کہنا غلط ہے۔

    جواب دیں

    • zafriusa
      دسمبر 12, 2010 @ 13:48:57

      محترم ۔۔۔۔ آپ کا نکتہِ نظر سامنے آگیا ۔ اب ایک احسان کجیئے کہ وہ تمام آیتیں اور صحیح حدیث جو موسیقی کی عملاً مخالفت کرتیں ہیں ۔ اس کو اپنے اگلے کمنٹس میں یہاں درج کر دیجیئے تاکہ مجھے اپنی اصلاح کا موقع ملے ۔ شکریہ

      جواب دیں

  14. احمد عرفان شفقت
    دسمبر 12, 2010 @ 09:00:43

    یہ جو سب سے پہلے کمنٹ میں کہا گیا ہے کہ Religion is something very personal یہ بات میں نے پہلے بھی کئی بار سنی ہے مگر آج تک یہ نہیں جا ن سکا کہ اس سے آخر مراد کیا ہے۔

    جواب دیں

  15. یاسر خوامخواہ جاپانی
    دسمبر 12, 2010 @ 21:32:17

    ظفری صاحب لگتا ھے آپ نے تبصرے وصول کرنے کیلئے مبصرین اور بلاگرز کے مزاج کا کافی مطالعہ کیا ھے۔اس لئے محترم آپ کا پلہ بھاری ھے۔
    ویسے اگر ہم نے ٹینشن ہی پالنی ہو اور وقت کو ضائع کرنا ہی ہو۔تو
    کاپی اینڈ پیسٹ کرکے دلائل کا انبار لگا دیں۔
    لیکن حاصل کیا ہوگا ۔۔۔نہ آپ متفق نہ ہم۔
    اس لئے مکی صاحب کا تبصرہ ہی آپ کی ہر بات کا جواب ھے۔
    ویسے مجھے آپ کا انداز پسند آیا۔اور نہ ہی آپ کی اس پوسٹ پر کوئی خاص اعتراض ھے۔
    امید ھے۔اچھی تحاریر پڑھنے کو ملیں گی۔
    ہم بھی آپ کی خواہش پوری کرنے کیلئے تبصرہ فرمانا نہیں بھولیں گے۔

    جواب دیں

    • zafriusa
      دسمبر 12, 2010 @ 23:40:04

      یاسر صاحب ۔۔۔ ایک سادہ سی مگر ذرا طویل بات کہنے کی جسارت کروں گا ۔ میں نے کوئی نئی بات نہیں کی ہے ۔ تحریر کے آخر میں دو علماؤں کی کتابوں کا حوالہ دیا ہے ۔ میں ایک طالب علم ہوں کوئی محقق یا عالم نہیں ۔ اپنی طرف سے کوشش کرکے ہر مکتبِ فکر کی نظریات سمجھنے اور جاننے کی کوشش کرتا ہوں ۔ اللہ اور رسول اللہ صلی علیہ وآلہ وسلم نے جو فرمایا وہ حرفِ آخر ہے ۔ اس سے معمولی سا بھی انحراف گویا ایمان سے محروم ہونا ہے ۔ اس کے بعد ہمارے محقیقن ، علماء اور اسلاف ہیں ۔ جن کی دین کے لیئے گرانقدر خدمات ہیں ۔ جہاں دین میں ہم کو کوئی بات سمجھ نہیں آتی ۔ وہاں ہم ان کی تشریح و اشاعت سے وہ بات سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ میری کوشش ہوتی ہے کہ میں کسی خاص مکتبِ فکر سے براہ راست متاثر ہونے کے بجائے سب کی دلائل اور آراء پر غور کروں ۔ جس کی آراء اور دلیل دل کو مطمئن کردیتی ہے ۔ اللہ کو حاضر و ناظر بنا کر اس پر نیک نیتی سے یقین کر لیتا ہوں ۔ شریعت کیا ہے ۔ ؟ یہ وہ آراء ہیں جو ہمارے فہقا اور دین کے جلیل و القدر عالموں نے اسلامی معاشرے میں مختلف معاملات پر پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کے نتیجے میں اپنے عقل و تدبر اور علم سے دیں ۔ وہ بھی ہماری طرح انسان ہیں ۔ لہذا ہم ان کی بات سنیں گے ، سمجھیں گے ۔ مگر جہاں کوئی اعتراض سامنے آئے گا ۔ بڑے ادب سے بیان کردیں گے ۔ یہی علماء کرام کا طریقہ رہا ہے ۔ پردے سے لیکر موسیقی تک آپ کو بہت سے جلیل و القدر علماؤں میں اختلاف مل جائے گا ۔ برصغیر میں شاہ ولی اللہ رحمتہ علیہ کا ایک خاص مقام ہے ۔ پردے کے بارے میں آپ ان کا نکتہِ نظر معلوم کرلیں ۔ امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کے بارے میں پڑھ لیں جو کہ برصغیر میں اکثریت کا فقہ ہے ۔ ان کے شاگرد حضرت امام محمد کے دلائل کا مطالعہ کرلیں کہ ان کے پردے کے بارے میں‌کیا ارشادات ہیں ۔ مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے ۔ جب ہم ان مسئلوں کو حق و باطل کی جنگ بنا کر پیش کرتے ہیں ۔ کہ انہی چیزوں پر اب جنت اور دوزخ کا فیصلہ ہونا ہے ۔ ہم ایک بات سنتے ہوئے آئے ہیں ۔ جب کوئی ایسی بات سامنے آجاتی ہے تو ہمارے لیئے وہ ایک نئی بات بن جاتی ہے ۔ ہم مخالف کو اپنا حریف مان لیتے ہیں‌ اور پھر سطحی اور عمومی زبان استعمال کرنا شروع کردیتے ہیں ۔ مکی صاحب اور باذوق صاحب جس مکتبِ فکر سے تعلق رکھتے ہیں ۔ میں اس سے واقف ہوں ۔ میری باذوق صاحب سے کئی موضوعات پر کافی بحث‌ ہوچکی ہے ۔ ۔ مگر چونکہ معاملہ مکی صاحب جیسی صورتحال پیدا کردیتا ہے ۔ اس لیئے بحث ایک دوسرے پر مختلف فتوؤں کے آغاز سے دوسرے رکیک جملوں پر ختم ہوجاتا ہے ۔ نہ کوئی بحث ہو پاتی ہے ۔ یعنی آپ کی ہی بات کہ کاپی و پیسٹ کرکے دلائل کے انبار لگا دیئے جاتے ہیں ۔ جبکہ جن باتوں پر اعتراض بآسانی کیا جاسکتا ہے ۔ اس پر کوئی بات نہیں ہوتی ۔ یعنی منبع صرف یہ ہوتا ہے کہ ‘ موسیقی کو جائز کیوں قرار دیا گیا “ ۔ کسی سطر ، کسی دلیل کسی حدیث یا آیت کو کوٹ کرکے یہ نہیں کہا جاتا کہ “ دیکھو یہاں تم نے غلط بات کہی ہے ۔ یہ بات کچھ اس طرح ہے ۔ “ تو پھر آدمی اصلاح کرسکتا ہے یا اپنی کہی ہوئی بات کو مذید دلائل اور ثبوت کے پیش کرسکتا ہے ۔ مگر مسئلہ یہ ہوتا ہے ۔ موضوع ہی نظریات اور عقائد کے خلاف ہوتا ہے تو پھر سب تمام طرح کے کیل کانٹوں کے ساتھ لیس ہوکر میدانِ جنگ کا سماں باندھ دیتے ہیں ۔ اور موضوع پر جہاں اصلاح کی گنجائش ہوتی ہے ۔ وہاں کینہ ، نفرت اور اختلاف پر بات ختم ہوجاتی ہے ۔
      جیسا کہ میں کہہ چکا ہوں کہ میری ساری کوشش اور معلومات ( تحقیق تو نہیں کہوں‌گا کہ میں کوئی عالم نہیں ) کا مرکز ، تمام مکتبِ فکر کی کتابیں ، رسالے ، مراسلے ، آڈیو اور وڈیو وغیرہ ہیں ۔ جہاں سے میں مستفید ہونے کی کوشش کرتا ہوں ۔ لہذا میرے پاس غلطی کا امکان ہمیشہ موجود رہتا ہے ۔ مگر میں کوشش کرتا ہوں کہ اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اگر کسی نے کوئی اہم موضوع پر اپنی آراء کا اظہار کیا ہے تو میں اپنے اطمینان کے لیئے اس کے بارے میں‌ معلومات حاصل کروں ۔ اور جہاں میں‌ مطمئن ہوگیا تو اللہ کا شکر ادا کروں کہ اس نے یہاں میرے دل کی رہنمائی کی ۔ بس اتنی سی بات ہے ۔ اُمید ہے میری یہ طویل تمہید دین کے بارے میں میرے نکتہِ نظر کی وضاحت کرے گی ۔ بصورتِ دیگر مستبقل کی تمام آراء پر شکریہ کیساتھ اپنی بات ختم کردوں گا ۔
      بہرحال میں آپ کے تبصرے اور اس بلاگ میں مسلسل دلچسپی کے لیئے آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں

      جواب دیں

  16. عامر شہزاد
    دسمبر 13, 2010 @ 04:23:31

    (اس سے پہلے بھی ہی تبصرہ کیا مگر پتہ نہیں کیوں نظر نہیں آ رہا)

    جناب، میں دین کا عالم نہیں ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے آپ کی بیان کردہ معلومات سے استفادہ حاصل کرنے کی کوشش کی۔ اپنی طرف سے کوئی آیت یا حدیث پیش نہ کرنے کی وجہ اپنی کم علمی ہے۔

    میرے لیے آپ کی بیان کردہ ‘واحد صحیح حدیث’ ہی حجت ہے جو موسیقی کی ‘عملاً مخالفت’ کرتی ہے۔ کم از کم اس سے موسیقی کی برائی واضح ہے۔ اگر آپ کے لیے یہ حجت کا کام نہیں کرتی تو آپ دین کے کسی عالم سے یہ سوال پوچھیں۔

    جواب دیں

    • zafriusa
      دسمبر 13, 2010 @ 18:57:06

      دیکھیئے ۔۔۔۔ یہی بات ہے جسے ہم اپنا ذاتی نکتہِ نظر کہتے ہیں ۔ جو سو فیصد ہماری عقل و فہم اور فراست سے وجود میں آتا ہے ۔ جس طرح کسی آیت کو سارے سیاق و سباق سے نکال کر کوٹ کیا جاتا ہے ۔ آپ دیکھ لیں وہ آیت اپنا مفہوم ہی تبدیل کرلیتی ہے ۔ سارا پس منظر ہی بدل جاتا ہے ۔ اسی طرح کسی حدیث کو اس کے پس منظر اور سیاق و سباق سے نکال کر بیان کیا جائے گا ۔ وہ بھی بلکل ایک الگ تصویر پیش کرے گی ۔ جس کا اظہار ابھی آپ نے اپنے اس کمنٹس میں‌ کیا ۔ جبکہ آپ اقرار کرچکے ہیں‌ کہ آپ عالم نہیں ۔۔۔ مگر آپ نے اس حدیث کا پس منظر جانے بغیر ایک حتمی رائے قائم کرلی ۔ جس سے حدیث کا اصل مفہوم آپ کی سوچ کے مطابق پیدا ہوا ۔ اگر اسی حوالے سے حدیث کچھ اس طرح ہوتی کہ موسیقی اور سیر سپاٹے قیامت کے قریب اپنے عروج پر ہونگے تو میرا خیال ہے سیر سپاٹا بھی آپ کے لیئے شجرِ ممنوعہ بن چکا ہوتا ۔ میرا خیال ہے مذہب کے بارے میں‌ ہمیں اتنی ہی بات کرنی چاہیئے جتنی بات اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمادی ۔ اپنی طرف سے اس میں کمی و بیشی ایک بڑی جسارت ہے ۔ کم از کم میں اس کا متحمل نہیں ہوسکتا ۔
      اس سلسلے میں جتنے بھی کمنٹس آئے میں نے اس کو اپرو کیا ہے ۔ سوائے ایک صاحب کے جو مسلسل مجھے اپنے بلاگ پر لنک ڈال کر سب کو سینڈ کا کہہ رہے ہیں ۔ میرے نزدیک وہ اسپیم ہے ۔ آپ کا کوئی اور کمنٹس مجھے نظر نہیں آیا ۔

      جواب دیں

  17. باذوق
    دسمبر 13, 2010 @ 13:07:38

    السلام علیکم ظفری صاحب۔ آپ کو بھی بلاگ پر لکھتے دیکھ کر خوشی ہوئی۔ آپ کو اپنا بلاگ مبارک ہو۔
    موسیقی کے اس موضوع کے حوالے سے فورمز پر تو کافی مباحث ہو چکے ہیں۔ لیکن بلاگ پر شائد کم لکھا گیا ہے۔ خاص طور پر میرے اپنے بلاگ پر تو موسیقی کے حوالے سے ایک بھی تحریر موجود نہیں ہے۔
    میں آپ کی اس تحریر پر کوئی تبصرہ بغیر کسی دلیل کے ، کرنے سے احتراز کرنا چاہتا ہوں۔
    اللہ نے توفیق دی تو ان شاءاللہ کچھ فرصت دستیاب ہوتے ہی تفصیل اور تمام حوالہ جات کے ساتھ حاضر ہو جاؤں گا۔ کیونکہ کم سے کم آپ کی اس بات نے متاثر کیا ہے کہ : "اس کے بعد ہمارے محقیقن ، علماء اور اسلاف ہیں ۔ جن کی دین کے لیئے گرانقدر خدمات ہیں ۔ جہاں دین میں ہم کو کوئی بات سمجھ نہیں آتی ۔ وہاں ہم ان کی تشریح و اشاعت سے وہ بات سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔”

    جواب دیں

    • zafriusa
      دسمبر 13, 2010 @ 19:08:48

      شکریہ باذوق صاحب کہ آپ اس بلاگ پر تشریف لائے ۔ آپ سے پہلے بھی کافی مفید ابحاث ہوچکیں ہیں ۔ آپ سے سیکھنے کا کافی موقع ملا ہے ۔ مگر مجھ سے نالائق سے آپ کی کبھی تشفی نہیں ہوئی ۔ مجھے اس کا ہمیشہ افسوس رہے گا ۔ علماء کرام ، صوفی کرام اور اسلاف کا ذکر آپ نے کیا تو میں بتادوں کہ میری آنکھ بھی ایک صوفی خاندان میں کھلی ہے ۔ میرے لیئے یہ سب دین کا ایک قیمتی اثاثہ ہیں ۔ مگر میں اس سلسلے میں شاید اپنا نکتہِ نظر کبھی واضع نہیں کرپایا ۔ اس نالائقی کے لیئے بھی معافی کا خواستگار ہوں ۔ آپ کی دوبارہ آمد کا منتظر رہوں گا

      جواب دیں

  18. یاسر خوامخواہ جاپانی
    دسمبر 13, 2010 @ 16:48:37

    جناب
    اسی لئے دلچسپ تحریر لکھ دیا تھا۔

    جواب دیں

  19. zafriusa
    دسمبر 13, 2010 @ 19:00:03

    شکریہ ۔ 🙂

    جواب دیں

  20. عامر شہزاد
    دسمبر 13, 2010 @ 23:11:43

    جناب، میں عالم ہوں, مگر مختلف چیز کا۔ اسی لیے لکھا کہ میں دین کا عالم نہیں۔

    عالم توآپ بھی نہیں، آپ بھی اس کا اقرار کرچکے (: اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ آپ کی ہر بات اس وجہ سے رد کر دی جائے؟

    چلیں اگر آپ اسے میرا ذاتی نکتہِ نظرسمجھنے ہیں تو ٹھیک ہے میں اسے برا ہی سمجھتا ہوں۔۔ اور آپ اسے حلال سمجھتے ہیں تو میں اسے آپ کا ذاتی نکتہِ نظرسمجھتا ہوں۔ کیوں کہ بے شک دین میں کمی و بیشی کرنا ایک بڑی جسارت ہے۔

    جو تبصرہ غائیب تھا اسی کو میں نے دوبارہ کر دیا تھا، وہ اوپر موجود ہے۔

    جواب دیں

  21. zafriusa
    دسمبر 14, 2010 @ 00:53:13

    اصل چیز یہی ہے کہ ہم کیا سمجھتے ہیں ۔ سب سے اہم یہی بات ہے ۔ چونکہ یہاں حق و باطل کا فیصلہ ہونے نہیں جارہا ۔ اس لیئے آپ کا پورا حق ہے کہ آپ اپنا نکتہِ نظر محفوظ رکھیں ۔ اور بلکل اسی طرح میں بھی حق بہ جانب ہوں ۔ آپ کی بات صحیح ہے کہ یہ میرا نکتہِ نظر ہے ۔ جو میری معلومات کے نتیجے میں میرے استدلال کے طور پر سامنے آیا ۔ ظاہر ہے یہ کوئی حمتی بات یا فتویٰ نہیں ہے ۔ 🙂

    ‌‌

    جواب دیں

  22. جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین
    دسمبر 18, 2010 @ 20:45:39

    محترم!
    گزارش ہے۔ اپنے پہلے تبصرے میں عامر شہزاد صاحب نے نہائت عمدہ طریقہ سے آپ کے بیان کردہ دلائل کو آپ کے بیان کی مخالفت میں بیان کیا ہے۔ مقصد و فائدہ۔ کہ ایک ہی بات کو اگر آپ موسیقی کی حلت میں استعمال کرتے ہیں تو اسے موسیقی کی اسلام میں مخالفت پہ بھی دلیل کیا جاسکتا ہے۔ ویسے مسلمانوں کا آلات موسیقی ایجاد کرنا اس بات پہ دلالت نہیں کرتا کہ کہ موسیقی حلال ہے۔ اگر مسلمان غلط یا درست شئے ایجاد کریں تو اس سے اسلامی احکامات میں تبدیلی کیسے ہوسکتی ہے؟ اس نقطے کی وضاحت فرما دیں؟

    عامر شہزاد صاحب نے نے آپ سے جس حدیث صحیح کے بارے میں استفسار کیا ہے اور آپ کا جواب ہے کہ وہ حکم نہیں بلکہ اطلاع ہے۔ تو عرض یہ کہ اس حدیث مبارکہ میں آپ اس اطلاع میں موسیقی کو "علامت خیر” سمجھتے ہیں یا موسیقی کو "علامت شر” سمجھتے ہیں۔ تو آپ کا مدعا سمجھنے میں آسانی رہے گی۔

    میری رائے میں اس صحیح حدیث میں قیامت کے قرب کی نشانیوں میں سے جس "موسیقی” کے عام ہونے کے بارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے وہ موسیقی کے بارے میں ناپسندیدگی ہے یا کم از کم موسیقی جس طرز پہ جارہی ہے یہ اس موسیقی کے بارے میں ہے۔ اور جو شئے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نزدیک ناپسندیدہ ہو وہ کیسے اچھی ہوسکتی ہے؟۔

    اگر کچھ دیر کے لئیے آپ کا یہ نظریہ متصور کر لیا جائے کہ موسیقی حلال ہے یعنی آپ موسیقی جائز کی بات نہیں کرتے بلکہ موسیقی کی حلت پہ زور دیتے ہیں تو یہ بھی ارشاد فرما دیں کہ وہ کونسی موسیقی ہے جو جائز ہے اور جسے سننے سے بدمستی طاری نہ ہو۔ وقت و دولت کا ضیاع نہ ہو۔ اور ایک لمبی وغیرہ ہے۔

    آخر کوئی تو وجہ رہی ہوگی کہ امراء و صاحبان اقتداران و شاہ وقت دیگر درباری اور خلوت کی خرافات میں موسیقی کا خاص اہتمام کرتے تھے۔

    اسطرح کی کوششیں پہلی بار نہیں ہوئیں بلکہ اسلامی تاریخ میں بارہا اسطرح کے مباحثے ہو چکے ہیں۔ اور طے شدہ امور پہ نئے سرے سے بحث چڑھ جاتی ہے جس سے ماسوائے وقت کے ضیاع اور دلوں میں رنجشوں کے کچھ حاصل نہیں آتا اور بسا اوقات مسلمان آپس میں بھی الجھ پڑے اور نوبت انسانی جانوں کے ضیاع تک پہنچی۔

    آپ کو خدا نے اپنی بات بہتر کہنے کی خداد صلاحیت بخشی ہے اسے مفید کاموں میں لائیں۔ اللہ آپ کو بہت عزت اور ترقی دے گا۔

    جواب دیں

    • zafriusa
      دسمبر 21, 2010 @ 02:27:35

      گوندل صاحب میں آپ کا بیحد مشکور ہوں کہ آپ اس بلاگ پر تشریف آئے ۔ آپ کا طویل تبصرہ پڑھا ۔ بہت خوشی ہوئی کہ آپ نے اپنا قیمتی وقت یہاں صرف کیا ۔ آپ کے تبصرے اور اپنے لیئے کی گئی نیک تمناؤں کے لیئے بھی میں آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں ۔ امید ہے آپ یہاں آکر مذید عزت افزائی کرتے رہیں گے ۔
      میں سمجھتا ہوں چونکہ آپ سب صاحبان کا زیادہ تر اسی بات پر اعتراض ہے کہ میں نے موسیقی کو جائز کیوں قرار دیا ۔ شاید اسی وجہ سے آپ صاحبان نے اس ساری تحریر کے ماخذ کو نظر انداز کردیا ہے – اور میری پیش کئی حدیثوں اور آیت سے اپنا استدلال اپنے نکتہِ نظر کے مطابق قائم کر لیا ہے ۔ خیر۔۔۔ اس میں کوئی مضائقہ نہیں ۔ مگر جہاں تک میں سمجھا ہوں کہ میں اپنی بات یا میری تحریر کا جو ماخذ تھا ۔ وہ میں واضع کرنے میں ناکام رہا ہوں ۔ چونکہ آپ اور انکل اجمل نے تقریباً ایک ہی بات کہی ہے ۔ اس لیئے ان کو ہی مخاطب کرتے ہوئے میں‌ ایک آخری کوشش کرتا ہوں ۔ کیونکہ اگر اس دفعہ بھی یہاں یہی استدلال پیدا ہوگیا کہ “ مسلمانوں کے آلاتِ موسیقی کے ایجاد کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ موسیقی جائز ہوگئی ہے “ تو میں سمجھوں گا کہ مکمل طور پر اپنی بات سمجھانے سے قاصر ہوں ۔ اور اس کی وجہ میں اپنی نااہلی اور نالائقی سمجھوں گا ۔

      جواب دیں

  23. افتخار اجمل بھوپال
    دسمبر 20, 2010 @ 01:42:12

    اُردو سيّارہ ميں شامل ہونے پر خوش آمديد کہتا ہوں
    آپ دلائل دينے کے ماہر لگتے ہيں اور اس پر مبارکباد کے مستحق ہيں
    ميرے خيال ميں عرفان شفقت اور عامر شہزاد صاحبان کا استدلال درست ہے
    آپ کی تحرير پر تبصرہ کرنے کيلئے مجھے ماضی کے مطالعہ يا پھر نئے سرے سے مطالعہ کی طرف جانا پڑے گا ۔ اللہ کرے ميری ياد داشت بحال ہو جائے جو 28 ستمبر کو ايک ٹريفک حادثہ کی نظر ہو گئی تو کام آسان ہو سکتا ہے ۔
    فی الحال ميں اتنا عرض کروں گا کہ اسلام کی شرع کو سمجھنے کيلئے اول قرآن شريف پھر حديث [جس ميں سنّت شامل ہے] کو مجموعی طور پر ديکھنا پڑتا ہے ۔ اگر حديث سے اس طرح سے موسيقی کو درست ثابت کرتے ہيں کہ اسے ممنوع قرار نہيں ديا گيا تو پھر عمر ابن الخطاب رضی اللہ عنہ کے اس قول کا کيا کريں گے ؟ کہ "ايک عمل سّنت ہے اور جو سنّت نہيں وہ بدعت ہے”
    جس حديث کا آپ نے حوالہ ديا ہے کہ "قيامت کے نزديک موسيقی زيادہ ہو گی”۔ اسی سے ميوسيقی غلط ثابت ہو جاتی ہے کہ قرآن شريف اور حديث کا مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر غلط کام قيامت کے نزديک زيادہ ہو گا

    جواب دیں

    • zafriusa
      دسمبر 21, 2010 @ 03:26:28

      اجمل صاحب ! میں ایک بار پھر یہاں آپ کی آمد کے لیئے آپ کا مشکور ہوں ۔ اور میرے لیئے کہے گئے کلمات کے لیئے بھی آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے قول پر بات کہیں اور سے کہیں نکل جائے گی ۔ میرا خیال ہے ہم اس نکتہ پر قائم رہیں کہ موسیقی کی حلت قرآن و حدیث سے کس طرح ثابت کی جاسکتی ہے ۔ اس کے علاوہ کچھ دوستوں نے آلاتِ موسیقی پر بھی کچھ سوالات اٹھا دیئے ہیں ۔ لہذا بہتر ہے کہ ایک الگ سے تحریر اس ضمن میں پیش کروں کہ کمنٹس میں تحریر کی طوالت کی وجہ سے بات شاید اپنی مرکزیت پر قائم نہ رہ سکے ۔ اس طرح مجھے بھی اپنا حتمی استدلال پیش کرنے کا موقع مل سکے ۔ کیونکہ جس طرح کے سوالات حدیث اور آیات اور پھر موسیقی ِ آلات کے ایجاد کرنے پر اٹھائے گئے ۔ ان کے جوابات بھی اسی انداز سے دینا بہت ہی آسان ہے ۔ کیونکہ وہ بحث برائے بحث ہے ، کوئی علمی مباحثہ نہیں ۔ آپ تحریر ضرور پڑھیئے گا ۔ اور میں دعا کروں گا آپ کو اس حوالے سے اپنی پرانی تحریر بھی مل جائے ۔

      جواب دیں

  24. hijabeshab
    دسمبر 23, 2010 @ 14:15:22

    اتنی ثقیل بحث میں میں نہیں پڑتی 🙄

    جواب دیں

  25. zafriusa
    دسمبر 25, 2010 @ 02:49:08

    پڑنا بھی نہیں چاہیئے ۔ کیونکہ ثقیل چیزیں صحت کے لیئے مضر ہوتیں ہیں ۔ :)‌‌

    جواب دیں

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: