ذاتی استدلال اور رائے ۔ ( اسلام اور موسیقی )

اسلام اور موسیقی کے حوالے سے میں ان تمام دوست و احباب کا مشکور ہوں جنہوں نے اپنی قیمتی رائے اور تبصرہ جات سے نوازا ۔ کچھ سوالات اس ضمن میں اٹھائے گئے ہیں ۔ چونکہ زیادہ تر سوالات میری ہی تحریر اور استدلال کے بارے میں ہے ۔ لہذاٰ میں نے کوشش کی ہے کہ میں اپنا وہ استدلال اور رائے واضع کرسکوں ۔ جس کے بارے میں میرا خیال ہے کہ میں اس کو وضع کرنے میں ناکام رہا ۔ میں اُمید کروں گا کہ بجائے اس کے کہ میرے استدلال ، دلائل اور ثبوت کو زیرِ بحث بنایا جائے ، دوست احباب اپنا استدلال ، دلائل اور ثبوت پیش کریں تاکہ ان کے مطالعہ سے کسی مثبت اور مفید بحث کا آغاز ہوسکے ۔ کسی کی بات پر استدلال پیش کرنا بہت آسان ہوتا ہے ۔ مگر جب یہ استدلال ، دلائل اور ثبوت کے ساتھ سامنے آئے تو ہوسکتا ہے کہ میری کم علمی کیساتھ کسی اور کی غلط فہمیوں کا بھی تدارک ممکن ہوسکے ۔
میں نے تحریر میں جس آیتِ کریمہ کا سب سے پہلے حوالہ دیا ہے ۔میرا خیال ہے آپ احباب اس آیاتِ کریمہ کے ترجمے پر غور کریں تو ان آیات ِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اشیاء کی حرمت کی پانچ اساسات بیان فرمائی ہیں۔
1- فواحش (بے حیائی )
2- اثم (حق تلفی )
3- ناحق زیادتی و سرکشی
4- شرک اور اس سے متعلق ہر شے
5- اللہ کی سند کے بغیر کسی چیز کو دین کے طور پر بیان کرنا (بدعت)
ان آیات کو سامنے رکھ کر یہ بات واضع ہوجاتی ہے کہ قرآنِ کریم میں آلاتِ موسیقی کی ممانعت کا براہِ راست حکم نہیں آیا ہے ۔چنانچہ اس کے بعد ان کی حرمت کے لیے ضروری ہے کہ ان کو مذکورہ بالا میں سے کسی کیٹگری سے متعلق کیا جائے ۔ ظاہر ہے کہ یہ ممکن نہیں ، بلکہ ان کا تعلق تو اس زینت سے ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ ان آیات میں دریافت فرماتے ہیں کہ انہیں کس نے حرام قرار دیا ہے؟
موسیقی کے حوالے سے ممانعت کا جو حکم ہمیں احادیث میں ملتا ہے ، اس کا پس منظر سمجھ لینا چاہیے ۔ رسول اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں آلاتِ موسیقی کا استعمال اپنے ساتھ بڑ ی آلائشیں پیدا کر چکا تھا۔ موسیقی کی محفلیں بیہودہ رقص، عریانی، بے حیائی، فحش کلمات و اعمال ، زنا اور شراب نوشی کے اہتمام کے ساتھ آراستہ کی جاتیں تھیں ۔ظاہر ہے کہ یہ چیزیں دین میں ممنوع اور حرام ہیں ۔ چنانچہ اسی پس منظر میں رسول اللہ علیہ وسلم نے “ سدِّ ذریعہ “ کے اصول پر لوگوں کو موسیقی سے سخت متنبہ کیا کیونکہ اس کے سارے لوازم معثیتِ رب کا باعث تھے ۔تاہم اپنی ذات میں چونکہ آلات موسیقی کوئی ممنوع شے نہیں ، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی پس منظر میں بعض موقعوں پر موسیقی کی اجازت دی ہے ۔جیسے:
’’سیدہ عائشہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور اس وقت میرے پاس دو لڑ کیاں جنگ بعاث کے حوالے سے گانا گا رہی تھیں ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا منہ دوسری طرف پھیر کر لیٹ گئے ۔اتنے میں حضرت ابوبکر تشریف لائے ۔ انہوں نے یہ دیکھا تو ناراضی سے فرمانے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں شیطانی آلات ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر سے فرمایا کہ ابو بکر جانے دو ۔(ایک دوسری روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ جانے دوآج ان کی عید کا دن ہے )۔‘‘
( صحیح بخاری: باب العیدین:527)
اگر موسیقی کے ساتھ کوئی فحش یا سفلی جذبات کو انگیخت کرنے والا کلام پڑھا جائے یا اسی مقصد کے تحت رقص وغیرہ کو ساتھ شامل کر لیا جائے تو ایسی موسیقی کی حرمت میں کسی کو اختلاف نہیں ہے۔ اصل اختلاف اس میں ہے کہ وہ زائد وجہ کون کون سی ہو سکتی ہے جس کے پیش نظر موسیقی کو حرام کہا جا سکتا ہے۔ جمہور علما کے نزدیک ایک بڑی اور بنیادی وجہ موسیقی کا ‘لہو’ ہونا ہے، یعنی یہ ایک ایسی چیز ہے جو انسان پر ایک خاص کیفیاتی لذت طاری کر کے اسے اللہ کی یاد سے غافل کر دیتی ہے۔ اب چونکہ یہ صورت کم وبیش ہر موسیقی میں پائی جاتی ہے، اس لیے جمہور علماء دف کے علاوہ ، جس کی اجازت حدیث میں منصوص طور پر بیان ہوئی ہے، باقی کسی بھی آلہ موسیقی کے استعمال کو ناجائز کہتے ہیں۔ اس کے برعکس بعض دوسرے اہل علم فی نفسہ کسی چیز کے ‘لہو’ ہونے کو حرمت کی کافی دلیل نہیں سمجھتے، کیونکہ دل کو بہلانے والے بہت سے امور کی اجازت شریعت میں ثابت ہے، بشرطیکہ وہ دل کو بہلانے تک محدود رہیں اور انسان اس سے آگے بڑھ کر ان میں اس طرح کھو نہ جائے کہ دین ودنیا کے فرائض اور ذمہ داریوں سے ہی غافل ہو جائے۔ مزید برآں ‘دف’ کی اجازت حدیث سے ثابت ہونے کے بعد دوسرے آلات موسیقی کو فی نفسہ مباح تسلیم نہ کرنے کی بھی کوئی معقول وجہ دکھائی نہیں دیتی، اس لیے کہ ایک دلکش اور سرور بخش آواز پید اکرنے میں تمام آلات موسیقی شریک ہیں، چنانچہ اگر باقی آلات موسیقی کو بھی ‘دف’ پر قیاس کرتے ہوئے فی نفسہ مباح کہا جائے تو بظاہر اس میں کوئی مانع دکھائی نہیں دیتا ۔
احادیث میں دف کے ذکر آنے کا پس منظر بھی یہی ہے کہ دین میں موسیقی “اصلاً “ ممنوع نہیں ۔اصل بات یہ ہے کہ دف کے استعمال میں آسانی کی بناء پر اسے پیشہ ور گانے والوں کے علاوہ عام لوگ بھی استعمال کرتے تھے ، اسی لیے اس کا ذکر آ جاتا ہے ۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ دف اسلامی ساز ہے اور باقی غیر اسلامی۔ عہدِ جدید میں تو آپ کا ٹیلفون ، موبائل، کال بیل وغیرہ سب ہی آلاتِ موسیقی بن چکے ہیں ۔ لہٰذا اصل بات یہ کہ اپنی ذات میں گانا اور موسیقی حرام نہیں ، لیکن جب جب اس میں کوئی دوسری اخلاقی آلائش شامل ہو گی (اور اکثر ہو ہی جایا کرتی ہے ) تو اس سے بچنا ضروری ہوجائے گا۔یہ بات ہمیشہ ملحوظ رکھی چاہیے ۔
ان معاملات میں انسانی نفسیات بہت اہم ہے ۔ اس طرح کے تمام معاملات میں انسانی ذہن جس طرح کام کرتا ہے ۔ اس میں وہ حقیقت کو سمجھے گا ۔ اور پھر حقیقت سے معاملات کا تعلق پیدا کرے گا ۔ یعنی چیز کو اصل میں‌ جانے گا اور پھر دیکھے گا کہ وہ فراء میں کیسے جارہی ہے ۔ یعنی انسانی نفسیات ان طرح کے معاملات کو قانونی زاویئے سے دیکھتی ہے ۔ اس سلسلے میں ایک قاعدہ وجود میں آتا ہے ۔ تاکہ لوگوں کو کوئی سوال کرنے کی ضرورت پیش نہ آئے ۔
اس کے برعکس اگر قرآن کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات واضع ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ طریقہ اختیار نہیں کیا ۔ یعنی اللہ کسی بھی چیز کو قانون کے دائرے میں رکھ کر انسانوں کے سامنے نہیں رکھتا ۔ بلکہ وہ اجمالی ہدایاتیں دیتا ہے ۔ بعض چیزوں کے حددو متعین کرتا ہے ۔ پھر اس کے بعد ایک دائرہ ہوگا جو انسانوں پر چھوڑ دیں گے ۔ کیونکہ انسانی فطرت اور مزاج میں‌ تنوع ہوتا ہے ۔ اس لیئے اللہ اس کا خاص خیال رکھتا ہے ۔
ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہی یہی ہے کہ ہم نے مذہب کو قانونی اصطلاحات میں اسیر کرکے ایک طاقت پر قائم رہ جانے والا نظام بنا کر پیش کیا ہے ۔ ہمارا معاشرہ ہو یا ریاست ، اس نے دین کے احکامات کی اخلاقی روح کو اقدار بنانے کے بجائے دین کے احکام کو مجموعہِ قوانین بنا کر اس کو بلا لحاظ نافذ کردینے کا ایک تصور پال رکھا ہے ۔ جو ہمارے یہاں ایک تنوع ، جبر اور ناکامی کا سبب بنا ہے ۔ جب ہم اسلام کو لوگوں کے سامنے پیش کر رہے ہوتے ہیں تو ایسا نہیں ہوتا کہ ہم اقدار پر مبنی کسی تصور کی بات کررہے ہیں بلکہ ہم قوانین پر ایک فکر کو فروغ دے رہے ہوتے ہیں جس پر ہمارا تمام اصرار اسی بات پر ہوتا ہے کہ یہ قانین نافذ کر دیئے جائیں یا یہ حدودِ قوانین آجائیں تو اس سے فلاح آسکتی ہے لہذاٰ اس طرزَ عمل سے اقدار کا جو تصور ہوتا ہے، وہ مجروع ہوجاتا ہے ۔ اسلام بنیادی طور پر اقدار پیدا کرنا چاہتا ہے ۔ مگر ہم اس کو ایک قانونی شکل دیکر معاشرے میں سختیاں اور رکاوٹیں پیدا کردیتے ہیں ۔ اور علامہ اقبال نے بھی شاید اسی بناء پر کہا تھا کہ “ مسلمانوں نے پانچ سو سالوں سے سوچنا چھوڑ دیا ہے ۔ “
موسیقی جائز ہے ، ناجائز ہے ، حلال ہے یا حرام ہے ۔ یہ اپنا زاویہِ نظر اور استدلال ہے ۔ اور یہ زاویہِ نظر اور استدلال اپنے مکتبِ فکر کا محتاج ہے ۔ میری ساری بات کا ماخذ یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جتنی بات فرمائی ہے ۔ ہم اس کو صرف اُتنا ہی رہیں دیں ۔ اس کے بعد اس باتوں پر اپنا کوئی استدلال پیش کرنا کوئی بری بات نہیں ہے ۔ مگر ہم اس کو فرمانِ الہی بھی نہیں بنا سکتے ۔ یہ درست ہے کہ گانوں کی شکل میں جو موسیقی ہر جگہ سنی اور سنائی جا رہی ہے ، اسے قابل قبول قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس طرح کی موسیقی سے پرہیز ہی کرنا چاہیے۔ “ لیکن دین کی اصولی بات بھی اپنی جگہ ہے ۔ اصولاً موسیقی کو ناجائز قرار دینے کی کوئی دلیل نہیں ہے “ ۔ ( میری ساری تحریر کا سارا ماخذ ہی یہی کلیہ تھا ) البتہ موسیقی کے عمومی استعمال میں جو قباحت موجود ہے ، اسے سامنے رکھتے ہوئے اگر استعمال درست نہ ہو تو یہ گنا ہ ہے۔ جائز موسیقی کی بعض صورتیں ہمارے ہاں بھی موجود ہیں، جیسے جنگی اور ملی ترانے ، حمدیہ اور نعتیہ کلام ، اچھے مضامین کی حامل غزلیں اور نظمیں ، جنھیں آلات موسیقی کے ساتھ اور فن موسیقی کے مطابق گایا جاتا ہے ، موسیقی کے صحیح استعمال کی مثالیں ہیں۔
چند دوستوں نے موجودہ تحریر کو سطحی قرار دیا ہے ۔ میں‌ ان کے کمنٹس کا احترام کرتا ہوں کہ میں‌ ایک طالب علم ہوں اور وہ بہت بڑے عالم ہیں ۔ مگر میں‌ نے جن علماء کی کتابوں کا تذکرہ اپنی جس تحریر میں کیا ہے ۔ اس کا مطالعہ شاید ابھی تک کسی نے نہیں کیا ۔ کیونکہ براہ راست ان کتب پر کوئی تنقید میرے سامنے اب تک نہیں آئی ہے ۔ ( واللہ عالم )