تعارف

“ تعارف “ سے واقفیت کم از کم میرے لیئے ایک مشکل ترین کام ہے ۔ کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ اپنی شناخت کا حوالہ دینا ہرگز آسان کام نہیں ہوتا کہ زندگی گذر جاتی ہے مگر خود کا سامنا تک نہیں ہو پاتا ، زندگی کے نشیب و فراز میں کئی ایسے بھی مرحلے آتے ہیں جب انسان کی شناخت اپنے لیئے بھی ناممکن ہوجاتی ہے ۔ ایسی صورت میں کسی کو اپنا تعارف دینا تو دور کی بات ہے ۔ اور سچ تو یہ ہے اگر کبھی یہ کوشش کی بھی جائے تو ذہن کے پردے پر تعارف کے حوالوں سے گویا ایک فلم سی چلنے لگتی ہے ۔ چند رفاقتوں کے چہرے ، چند بیتی ہوئی ساعتیں ، چند سُلگتی ہوئی یادیں ، ہاتھ میں تھمی ہوئی کاغذ کی چند ڈگریاں ، گھر کے دروازے پر لگی ہوئی نام کی جھولتی ہوئی تختی ، چند رنگ اُڑے خطوط ، جو باور کراتے ہیں کہ زمانے نے کبھی کوئی شناخت دی تھی ، مگر اب یہ شناخت انہی حوالوں کے وجود پر ہی قائم ہے ۔ پھر یہ حوالے ان گنت رنگوں سے مزین رشتوں میں جکڑے تعارف کے صفحے پر چند پھیکے رنگوں کی مانند بکھرے پڑے نظر آتے ہیں ۔ اور ان رنگوں کی خاص بات کہ یہ ایک دوسرے کے سامنے بہت پھیکے نظرآتے ہیں ۔ پھرانہی رنگوں کو لیکر کوئی نام سے جانتا ہے تو کوئی کام سے پہچانتا ہے ۔ کوئی حوالہ دیکھتا ہے تو کوئی ساخت پرکھتا ہے ۔ ہر کوئی اپنی حدِّ نظر کا پابند ہے ۔ ہر تعارف مدِّ مقابل میں اپنے غرض کی چیزوں کا جائزہ لینے سے مشروط ہوتا ہے ۔ اگر چیزوں میں اپنی مرضی کی مطابقت مل جائے تو تعارف مکمل ہوجاتا ہے ۔ ورنہ تعارف کسی کام کا نہیں ہوتا ۔
میں یہ نہیں کہتا کہ میرا کوئی تعارف نہیں ہے ۔ مگر میں جسے جانتا ہوں وہ مجھے نہیں پہچانتا ۔ میری اکثر نفی کر دیتا ہے ۔ اور پھر مجھے بھی اس کی نفی کر دینی پڑتی ہے ۔ گویا میں اور میرا تعارف ایک دوسرے کی ضد ہیں ۔ میرا تعارف وہ نہیں جو میں ہوں ، یا یوں کہہ لیں کہ جو میں ہوں وہ میرا تعارف نہیں ہے ۔ میں جیسا نظر آنا چاہتا ہوں اس سے میرا تعارف الجھن محسوس کرتا ہے اور الجھی چیزیں کوئی بھی پسند نہیں کرتا ۔ایک عجیب سی گتھی ہے ، جسے سلجھانا میرے بس کی بات نہیں ۔ سوچتا ہوں تعارف کے دائروں میں اپنی شخصیت کیوں مقید کروں ۔ کیوں ناں اس کو ایک آزاد پنچھی کی طرح اڑنے دوں ۔ ‌شاید کہیں میری ہی طرح کوئی اپنی شخصیت کو تعارف کی گرم لُو سے بچاتا ہوا کسی سایہ دار درخت کی سبز ٹہنی پر مجھ سے آن ملے اور شاید پھر میرا “ تعارف “ مکمل ہوجائے ۔

Advertisements

20 تبصرے (+add yours?)

  1. عمار ابنِ ضیا
    دسمبر 30, 2010 @ 08:16:05

    توقعات کے عین مطابق تعارف سے محروم رہا 😛

    جواب دیں

    • zafriusa
      دسمبر 30, 2010 @ 08:23:24

      ہاہاہا ۔۔۔ یہ تم کہاں سے نمودار ہوگئے بھئی ۔۔۔۔ اس پارٹی میں آخر ایسی کیا بات تھی کہ اس دن کے بعد سے آج تمہارا دیدار نصیب ہوا ( وہ بھی قلمی ) ۔ 🙂

      جواب دیں

      • عمار ابنِ ضیا
        دسمبر 30, 2010 @ 13:40:14

        مجھے یہ خبر ہی نہیں تھی کہ آپ نے بلاگ پر جمی گرد ہٹاکر پھر سے لکھنا شروع کردیا ہے۔۔۔ دوسرا یہ کہ مصروفیت کی وجہ سے بلاگز بھی کم ہی دیکھنے کا وقت ملتا ہے۔۔۔ آج بس اس طرف نظر کی تو کچھ بلاگز کا دیدار کرلیا، کچھ کو اپنا دیدار کروادیا 😀
        آپ کیسے ہیں؟ اور وہ چند حسینوں کے خطوط والا سلسلہ تو بہت ہی خوب ہے۔۔۔ مزا آگیا۔

      • zafriusa
        دسمبر 30, 2010 @ 19:57:57

        اے عشقِ مرحبا وہ یہاں تک تو آگئے ۔ 🙂
        خیر اسی بہانے تم آئے تو سہی ۔ کچھ دوستوں نے پھر اصرار کیا کہ لکھو ۔۔۔ لکھنا کیا اب اتنا آسان ہے ۔ جتنا آسان لگ رہا ہے سو لکھ رہا ہوں ۔ اب آئے ہو تو اس طرف بھی چکر لگاتے رہنا ۔ چند حسینوں کے خطوط ۔۔۔۔ کی پسندیدگی کا شکریہ ۔ خطوط آنا بند ہوگئے ہیں ۔ فون پر ہی بات چیت ہے ۔ اس لیئے نئی اقساط میں ‌تعطل پیدا ہوگیا ہے ۔ 🙂

  2. امن ایمان
    دسمبر 30, 2010 @ 11:13:37

    عمار میں نے ظفری سے اردو محفل پر تعارف کی کوشش تو کی تھی بس کچھ ان کی خوش قسمتی کہ یہ میرے ہاتھوں سے بچ نکلے۔۔۔:)

    جواب دیں

  3. ابن سعید
    دسمبر 30, 2010 @ 18:13:08

    میرے خیال میں ظفری بھائی کے پاس کوئی ایسی مشین ضرور ہے جو آں جناب کی کنپٹیوں میں گھسے ہوئے دو پینچوں سے برقی توانائی حاصل کرتا ہے۔ جس میں ایک جانب کئی ساری دقیق ادب، سیاست، فلسفہ، معاشرت، لطائف و لغات کی کتابیں رکھی ہیں بغل میں ترتیبات کے لئے کچھ پینچ ہیں اور دوسری جانب ایک کی بورڈ ہے جہاں الفاظ کا ملغوبہ بن بن کر گرتا رہتا ہے۔

    بہر کیف ہماری دعا ہے کہ آپ کا تعارف جس قدر جلدی ممکن ہو مکمل ہو جائے۔

    جواب دیں

    • zafriusa
      دسمبر 30, 2010 @ 20:01:29

      بس سعود بھیا ۔۔۔ آپ بزرگوں کی دعا درکار ہے ۔ ایک مرشد نے کہا کہ کوئی تمہیں بیٹا کہہ کر تمہارے تعارف مکمل ہونے کی دعا دے تو تمہارا تعارف مکمل ہونے کے آثار پیدا ہوجائیں گے ۔ 🙂
      بلاگ پر آمد کے لیئے ممنون ہوں ۔

      جواب دیں

  4. افتخار اجمل بھوپال
    دسمبر 31, 2010 @ 00:37:27

    کوئی تو ملا غم گُسار مجھے ۔ واہ بھئی واہ ۔ آپ نے تو ميری ڈھارس بندھائی ۔ روزانہ کم از کم ايک بار بے خودی ميں ميرے منہ سے يہ فقرہ نکلتا ہے ” ميں کون ہوں ؟ ميں کيا ہوں ؟ ”
    آپ ديکھ ليجئے ميرے اُردو بلاگ کا عنوان بھی يہی ہے ” ميں کيا ہوں ؟ ”
    مگر حسرت ہی رہی کہ کوئی پوچھے مجھ سے کہ ميں کيا ہوں ؟

    جواب دیں

  5. zafriusa
    دسمبر 31, 2010 @ 05:30:03

    ہاہاہا ۔۔۔۔ یہ تو بہت اچھا ہوا اجمل صاحب ۔ خوب گذرے گی جب مل بیٹھیں گے دیوانے ایک ۔
    آپ کو اس شعر میں شامل کرنا میرے لیئے گستاخی کا باعث ہوتا ۔اس لیئے میں نےصرف خود ہی دیوانہ گردانا ۔ ۔ 🙂

    جواب دیں

  6. Daniyal Danish
    دسمبر 31, 2010 @ 18:01:26

    ہر تعارف مدِّ مقابل میں اپنے غرض کی چیزوں کا جائزہ لینے سے مشروط ہوتا ہے ۔ اگر چیزوں میں اپنی مرضی کی مطابقت مل جائے تو تعارف مکمل ہوجاتا ہے ۔ ورنہ تعارف کسی کام کا نہیں ہوتا ۔

    زبردست ،جناب بہت خوب نکلا ۔

    جواب دیں

  7. عثمان
    دسمبر 31, 2010 @ 21:32:49

    تعارف ساری عمر بدلتا رہتا ہے۔ آپ جگہیں بدلتے ہیں۔ رشتے بدلتے ہیں۔ پیشے بدلتے ہیں۔ عادات ، خواص ، شخصیت ہر چیز بدلتے ہیں۔ آپ کے ساتھ ساتھ آپ کا تعارف بھی سفر میں ہے۔ بہت ہو گیا تو نام ساتھ رہتا ہے۔ خیر کئی لوگ تو یہ بھی بدلتے ہیں۔ مکمل تعارف تو شائد موت کے بعد ہی ممکن ہے۔ لیکن اس وقت آپ تعارف کروانے کے قابل نہیں رہتے۔ دوسرے ہی آپ کا تعارف کرواتے ہیں۔

    جواب دیں

  8. محب علوی
    جنوری 15, 2011 @ 22:52:00

    کیا بات ہے ظفری ، تعارف کے گرد ایسی دقیق اور فلسفیانہ دیواریں کھڑی کی ہیں کہ لوگ تعارف بھول کر انداز تحریر میں ہی کھو جائیں ویسے جو کچھ جانتے ہیں وہ تو یہ کہتے ہیں کہ ظفری کو تعارف کی کیا ضرورت ہے کہ

    میں نام نہ بھی لوں تو لوگ جان جائیں گے
    کہ آپ اپنا تعارف ہوا بہار کی ہے

    ویسے تعارف پر کیسی پوسٹ کی ہے کہ اگلا سال ہی نہیں دیکھا اب تک تمہارے بلاگ نے ، اب دو ہزار گیارہ میں کب تک سر فہرست دو ہزار دس کا تعارف رہے گا

    جواب دیں

  9. Zafri
    جنوری 19, 2011 @ 00:04:36

    عثمان :
    جی حضور میں نے بھی یہی کہنے کی کوشش کی ہے ۔ 🙂
    ویسے موت کے بعد تعارف کی وضاحت تو کجیئے ۔ یہ ایک نیا نکتہِ نظر میرے سامنے آیا ہے ۔
    محب :
    کیا بات ہے حضور ۔۔۔۔ سب خیریت تو ہے ناں‌ ۔ ماشاءاللہ ایسی تعریفیں تو پہلے کبھی نہ دیکھیں‌ نہ سُنی ۔ کہیں کسی انشورنس کمپنی میں تو کام نہیں شروع کردیا ہے ۔ 🙂
    مذاق برطرف ۔۔۔۔ تمہارا شکریہ کہ تم نے ہمیشہ کی طرح مجھے پھر متحرک کیا ۔ آج کل نیٹ پر آنے کے لیئے+ وقت کم مل رہا ہے ۔ حالانکہ تعطیلات ہیں‌ ۔ مگر پھر بھی ۔۔۔۔ ہزاروں غم ہیں‌ جہاں میں اک بلاگ کے سوا ۔ تمہاری فرمائش سر آنکھوں پر ۔ ان شاءاللہ جلد ہی کسی نئی تحریر کے ساتھ اپنے بلاگ پر 2011 کی آمد پر جلوہ افروز ہوتا ہوں ۔ ‌ 🙂

    جواب دیں

  10. عثمان
    جنوری 19, 2011 @ 17:40:42

    آپ کی شخصیت و کردار و اعمال کا کھاتہ زندگی کے اختتام پر ہی مکمل ہوتا ہے۔ آپ کے بعد ظاہر ہے دوسرے لوگ ہی آپ کا کوئی تعارف یاد رکھیں گے اگر یہ اس قابل ہوا تو۔ کچھ کا تعارف تو محض ان کی اگلی نسل ہی یاد رکھتی ہے۔ کچھ کا تعارف صدیوں تک رہے گا۔

    جواب دیں

  11. Zubair Mirza
    جون 08, 2013 @ 20:51:07

    "شاید کہیں میری ہی طرح کوئی اپنی شخصیت کو تعارف کی گرم لُو سے بچاتا ہوا کسی سایہ دار درخت کی سبز ٹہنی پر مجھ سے آن ملے اور شاید پھر میرا “ تعارف “ مکمل ہوجائے ۔”
    تعارف مکمل ہوجائے یا تلاش؟
    تعارف اجنبیت دورکرنے کے لیے ایجاد ہوا ہوگا لیکن اب تو اجنبیت بڑھاتا نظرآتا یہ تعارف –

    جواب دیں

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: