موٹر سائیکل

ایک دن میرے والد صاحب کے دوست “ انکل ماچس “ نے بلکل نئی موٹر سائیکل خریدی ۔ اور اپنے گھر کے سامنے ، اسے سارا دن چلائے بغیر اس پر ایسے بیٹھے رہتے جیسے کوئی راجہ سنگھاسن پر بیٹھتا ہے ۔ جب بھی میں وہاں سے گذرتا مجھے دیکھ کر وہ ایک آنکھ بھینچ کر اپنی موٹر سائیکل کپڑے سے صاف کرنے لگ جاتے ۔ ان سے میری روایتی دشمنی تو پہلے ہی سے جاری تھی سو مجھے ان کے اس حرکت سے اور بھی تپ چڑھتی ۔ شام کو میں اپنے دوستوں کے ساتھ گھر کے باہر کھڑا ہوا تھا کہ وہ موصوف اپنی اسی موٹر سائیکل پر آئے اور ابو کا پوچھنے لگے ۔دریں اثناء میرے ایک دوست نے پوچھا ” انکل موٹر سائیکل کتنے کی لی ۔ ؟ ” انہوں نے اپنی مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے کہا کہ ” پورے 55 ہزار کی ہے ” ۔ میں نے کہا ” انکل ۔۔۔ 18 روپے اور ملا کر نئی خرید لیتے ۔ ”
میرا خیال ہے اس دفعہ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ پھر میرے ساتھ کیا ہوا ۔ 🙂

گنجا لڑکا

ہم فرسٹ ائیر سے نکل سیکینڈ ائیر میں سُدھارے ۔ اسی دوران ہمارے تین جگری دوستوں میں سے ایک کے چھوٹے بھائی کا اسی کالج میں فرسٹ ائیر کے لیئے ایڈمیشن ہوگیا ۔ اب فیس جمع کروانی تھی ۔ مگر کیشئیر کی کھڑکی پر رش بہت تھا ۔ ہمارا پروگرام بنا تھا کہ مارننگ شو میں کیپری سنیما جاکر انگلش فلم دیکھیں گے ۔ مگر آثار بتا رہے تھے کہ اتنی لمبی قطار میں اگر کھڑے ہوئے تو شو نکل جائیگا ۔ مجھ سمیت تین دوست بھی اسی کالج میں پڑھتے تھے ۔ مگر خالد کے بھائی شاہد کا ایڈمیشن حال ہی ہوا تھا ۔ ہم کالج کے ماحول سے پوری طرح آشنا تھے ۔ لہذا اس واقفیت کی بناء پر مجھے ایک شیطانی خیال سُوجھا ۔ میں نے شاہد کو قطار میں کھڑا ہونے کو کہا اور باقی ساتھیوں کے ساتھ ، ہاتھ میں پتلون کا بیلٹ لیکر قطار کے گرد گھومنے لگا ۔اور جب کوئی لڑکا قطار سے ذرا بھی باہر نکلتا تو میں اسے زور سے بیلٹ مارتا اور غصے سے کہتا ” اگر اب تُو باہر نکلا تو کالج سے باہر نکال دوں گا “۔ نئے لڑکوں میں ہمارا گروہ دیکھ کرخوف پیدا ہوگیا تھا ۔ ان کی ہمت نہیں ہورہی تھی وہ ہم کو اس حرکت پر روکتے ۔ اسی دوران میں شاہد کو کھسکاتا ہوا تقربیاً کیشئیر کی کھڑکی تک لے آیا تھا ۔ قطار میں ایک چھوٹے سے قد کا گنجا لڑکا بھی کھڑا ہوا تھا ۔ اسے دیکھ کر پتا نہیں کیوں مجھے مستی سوجھی تھی کہ میں ہر چکر میں اس کے سر پر چپت لگانے کے بعد اسے دونوں کانوں سے پکڑ کر پنڈولم کی زور زور سےطرح ہلاتا اور کہتا ۔ “ ابے ! تُو یہاں کیوں آگیا ۔ ابھی تو تیرے دودھ پینے کے دن تھے “ ۔ اور وہ ہر بار میری اس حرکت پر غصے سے سرخ ہوجاتا ۔ اس کا غصہ دیکھ کر میں اُسے پھر کانوں سے پکڑ کر پنڈولم کی طرح ہلاتا اور پھر کہتا “ ابے ! مُنے کو بھی غصہ آتا ہے ۔ “ ہماری بدمعاشی دیکھ کر کسی کی ہمت نہیں ہورہی تھی کہ وہ شاہد کو قطار میں کھڑا کیئے کے بغیر کھڑکی تک جانے سے روک سکیں ۔ شاہد فیس جمع کروا کر فارغ ہوا تو میں سیدھا اسی گنجے لڑکے کے پاس گیا اور جیسے ہی اسے دوبارہ کانوں سے پکڑنے کی کوشش کی تو اس کا ضبط جواب دے گیا ۔ اور وہ مجھ سے گتھم گتھا ہوگیا اور پھر اسکو دیکھ کر لائن میں کھڑے سارے لڑکے بھی ہم چاروں پر پِل پڑے ۔ تعداد میں پچاس سے کیا کم رہے ہونگے ۔
میرا خیال ہے کہ ایک بار پھر یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ کیا ہوا ۔ ۔۔۔ بس اس دفعہ صرف میں ہی نہیں ، بلکہ میرے دیگر دوست بھی پدھارنے کی انمول صلاحیت سے محروم ہوگئے ۔ ( ویسے اس کارِ خیر میں کچھ خواتین نے بھی حصہ لیا تھا جو اپنے ” چھوٹے بھائیوں ” کے ساتھ داخلے کی فیس جمع کروانے آئیں تھیں ۔ پِیٹے پِٹتے جب میں ایک خاتون کے قدموں میں حفظِ ماتقدم کے تحت جا بیٹھا ( یہ الگ بات کہ اُسی خاتون نے مجھے سب سے زیادہ تبرکات سے نوازا تھا ) تو دیکھا کہ کالج کے یونیفارم کے مطابق وہ سب گورنمٹ ویمنز کالج برنس روڈ کی طالبات تھیں ۔ ) :)‌‌