گنجا لڑکا

ہم فرسٹ ائیر سے نکل سیکینڈ ائیر میں سُدھارے ۔ اسی دوران ہمارے تین جگری دوستوں میں سے ایک کے چھوٹے بھائی کا اسی کالج میں فرسٹ ائیر کے لیئے ایڈمیشن ہوگیا ۔ اب فیس جمع کروانی تھی ۔ مگر کیشئیر کی کھڑکی پر رش بہت تھا ۔ ہمارا پروگرام بنا تھا کہ مارننگ شو میں کیپری سنیما جاکر انگلش فلم دیکھیں گے ۔ مگر آثار بتا رہے تھے کہ اتنی لمبی قطار میں اگر کھڑے ہوئے تو شو نکل جائیگا ۔ مجھ سمیت تین دوست بھی اسی کالج میں پڑھتے تھے ۔ مگر خالد کے بھائی شاہد کا ایڈمیشن حال ہی ہوا تھا ۔ ہم کالج کے ماحول سے پوری طرح آشنا تھے ۔ لہذا اس واقفیت کی بناء پر مجھے ایک شیطانی خیال سُوجھا ۔ میں نے شاہد کو قطار میں کھڑا ہونے کو کہا اور باقی ساتھیوں کے ساتھ ، ہاتھ میں پتلون کا بیلٹ لیکر قطار کے گرد گھومنے لگا ۔اور جب کوئی لڑکا قطار سے ذرا بھی باہر نکلتا تو میں اسے زور سے بیلٹ مارتا اور غصے سے کہتا ” اگر اب تُو باہر نکلا تو کالج سے باہر نکال دوں گا “۔ نئے لڑکوں میں ہمارا گروہ دیکھ کرخوف پیدا ہوگیا تھا ۔ ان کی ہمت نہیں ہورہی تھی وہ ہم کو اس حرکت پر روکتے ۔ اسی دوران میں شاہد کو کھسکاتا ہوا تقربیاً کیشئیر کی کھڑکی تک لے آیا تھا ۔ قطار میں ایک چھوٹے سے قد کا گنجا لڑکا بھی کھڑا ہوا تھا ۔ اسے دیکھ کر پتا نہیں کیوں مجھے مستی سوجھی تھی کہ میں ہر چکر میں اس کے سر پر چپت لگانے کے بعد اسے دونوں کانوں سے پکڑ کر پنڈولم کی زور زور سےطرح ہلاتا اور کہتا ۔ “ ابے ! تُو یہاں کیوں آگیا ۔ ابھی تو تیرے دودھ پینے کے دن تھے “ ۔ اور وہ ہر بار میری اس حرکت پر غصے سے سرخ ہوجاتا ۔ اس کا غصہ دیکھ کر میں اُسے پھر کانوں سے پکڑ کر پنڈولم کی طرح ہلاتا اور پھر کہتا “ ابے ! مُنے کو بھی غصہ آتا ہے ۔ “ ہماری بدمعاشی دیکھ کر کسی کی ہمت نہیں ہورہی تھی کہ وہ شاہد کو قطار میں کھڑا کیئے کے بغیر کھڑکی تک جانے سے روک سکیں ۔ شاہد فیس جمع کروا کر فارغ ہوا تو میں سیدھا اسی گنجے لڑکے کے پاس گیا اور جیسے ہی اسے دوبارہ کانوں سے پکڑنے کی کوشش کی تو اس کا ضبط جواب دے گیا ۔ اور وہ مجھ سے گتھم گتھا ہوگیا اور پھر اسکو دیکھ کر لائن میں کھڑے سارے لڑکے بھی ہم چاروں پر پِل پڑے ۔ تعداد میں پچاس سے کیا کم رہے ہونگے ۔
میرا خیال ہے کہ ایک بار پھر یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ کیا ہوا ۔ ۔۔۔ بس اس دفعہ صرف میں ہی نہیں ، بلکہ میرے دیگر دوست بھی پدھارنے کی انمول صلاحیت سے محروم ہوگئے ۔ ( ویسے اس کارِ خیر میں کچھ خواتین نے بھی حصہ لیا تھا جو اپنے ” چھوٹے بھائیوں ” کے ساتھ داخلے کی فیس جمع کروانے آئیں تھیں ۔ پِیٹے پِٹتے جب میں ایک خاتون کے قدموں میں حفظِ ماتقدم کے تحت جا بیٹھا ( یہ الگ بات کہ اُسی خاتون نے مجھے سب سے زیادہ تبرکات سے نوازا تھا ) تو دیکھا کہ کالج کے یونیفارم کے مطابق وہ سب گورنمٹ ویمنز کالج برنس روڈ کی طالبات تھیں ۔ ) :)‌‌

Advertisements

7 تبصرے (+add yours?)

  1. یاسر خوامخواہ جاپانی
    جنوری 26, 2011 @ 01:07:23

    ہاہاہاہا۔بہت خوب۔زبردست یادیں ہیں
    ایسے کاموں میں ایسا تو ہوتا ہی ہے۔
    یہ بتائیں کہ اس واقعے کے کتنے عرصے بعد آپ گنجے ہوئے؟

    جواب دیں

  2. عمران اقبال
    جنوری 26, 2011 @ 01:31:41

    اس طرح تو ہوتا ہے۔۔۔ اس طرح کے کاموں میں۔۔۔

    جواب دیں

  3. بلاامتیاز
    جنوری 26, 2011 @ 01:40:34

    سر اس کا منڈا ہوا تھا
    لیکن اولے آپ پر پڑ گئے۔۔۔۔
    سینما جانا تھا آپنے لیکن اپکی اپنی فلم بن گئی۔۔

    جواب دیں

  4. hijabeshab
    جنوری 26, 2011 @ 04:33:45

    واہ بہت خوب یعنی لڑکیوں سے پٹائی بھی کھا چکے آپ ۔۔۔ اور معافی مانگنے کے لیئے قدموں میں بیٹھنے کی کیا ضرورت تھی کھڑے کھڑے مانگ لیتے 😛

    جواب دیں

  5. عثمان
    جنوری 26, 2011 @ 11:35:28

    آپ شریف آدمی معلوم نہیں ہوتے۔ 😛
    دلچسپ سلسلہ ہے۔ جاری رکھیے۔

    جواب دیں

  6. جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین
    جنوری 26, 2011 @ 13:21:30

    مجھے اس صورت میں مایوسی ہوتی اگر آپ کے ساتھ یوں نہ ہوا ہوتا۔ 🙂 بہتر یہ ہوتا کہ انکل ماچس ٹینک بھی آپکے گھر اطاع باہم پہنچاتے اور پھر جو ْ ْ ْ ْ ْ کا جو حال ہوتا سو وہ تو ہوتا۔۔ 🙂 🙂 مگر آئیندہ کے لئیے عقل قابو میں آجاتی۔ سیانے ایسے تو نہیں کہتے کہ عقل مول بکتی ہوتی تو ہر کوئی خرید لیتا۔ بس یہ بھی یون ہی آتی ہے، آتے آتے۔

    جواب دیں

  7. Zafri
    جنوری 26, 2011 @ 22:30:17

    یاسر :
    ارے بھائی ! میں گنجا ابھی تک نہیں ہوا ۔ کیونکہ میں آپ کی طرح بار بار نہیں پیٹا ۔ 🙂
    عمران :
    ہاں بھائی ! اسی لیئے تو اب پھرتے ہیں جیب میں ہاتھ ڈالے سردی کی شاموں میں ۔ 🙂
    بلاامتیاز:
    بس بھائی چھوٹے چھوٹے شہروں میں اس طرح کی بڑی بڑی باتیں ہوجایا کرتیں ہیں ۔ 🙂
    حجاب :
    ارے معافی مانگنے کون بیٹھا تھا ۔ میں نے تو دامن پکڑنا چاہا تھا مگر انہوں دو پیمپی ٹِکا دیں ۔ اور وہ دن ہے اور آج کا دن کہ جس کا بھی اب دامن پکڑو وہ یہی حشر کرتا ہے ۔ 🙂
    عثمان:
    قبلہ ! لگتا ہے آپ کو میری صلاحیتوں کا علم نہیں ۔ آپ کی خواہش پر سلسلہ جاری ہے ۔ مستفید ہوتے رہیئے گا ۔ 🙂
    گوندل :
    ہاہاہا ۔۔۔۔۔ کہتے عقل کی کوئی حد نہیں ہوتی ۔ جہاں انتہا محسوس ہو ۔ وہیں سے پھر ابتداء کا گماں ہوتا ہے ۔ ویسے بے فکر رہیں ۔ انکل ماچس نے کئی بار مجھے بیھٹنے کی سعادت سے محروم کیا ہے ۔ وہ واقعات بھی آپ کے نذر کرنے کی کوشش کروں گا ۔ 🙂

    جواب دیں

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: