چندہ برائے تحفظ

کالج کے اوائل دنوں کی بات ہے ۔ ہمارے محلے میں چوریاں اپنی عروج پر تھیں ۔ کہیں نہ کہیں کسی گھر میں چوری معمول بن چکی تھی ۔ بلکہ بعض اوقات تو ڈکیتی بھی ہورہی تھیں ، یعنی اسلحہ کے زور پر مال لوٹا جارہا تھا ۔ عموماً یہ وارداتیں رات کو انجام پا تیں ۔ اور سردیاں بھی اس وقت اپنے عروج پر تھیں ۔ اس خطرناک صورتحال کے پیشِ نظر محلے کے تمام نوجوانوں نے فیصلہ کیا کہ اب ہم جاگ کر محلے میں پہرہ دیں گے ۔اور اس کے لیئے جو بھی ضروری اقدامات درکار ہوں، وہ کریں گے ۔ چنانچہ کچھ کے پاس اسلحہ تھا ، کچھ ڈنڈوں اور دیگر لوازمات سے لیس تھے ۔ سب نے اپنی استعطاعت کے مطابق حفاظتی اقدامات کا بیڑہ اٹھا لیا تھا ۔ صورتحال جیسی بھی تھی مگر ہم سب کو ایک شغل ہاتھ آگیا تھا ۔ ہم نے گلی کے کونے پر واقع اعجاز کے گھر کے ایک ایسے کمرے پر قبضہ جمالیا ۔ جس کی کھڑکیوں سے پورے محلے کا منظر بآسانی دیکھا جاسکتا تھا ۔ ہم نے اسے ” ہیڈ کوارٹر ” کا نام دیا ۔ چونکہ 12 سے 15 لڑکوں کا گروپ تھا ۔ اس لیئے باقاعدہ ڈیوٹیاں لگتیں تھیں کہ کس گروپ کو کب پہرے پر نکلنا ہے ۔اور باقی لڑکے اسی کمرے میں‌ خوب تان کر سوتے ۔ ایک رات کے پہرے کے بعد احساس ہوا کہ چائے ، کھانا پینا اور کچھ گرم لحافوں کی بھی اشد ضرورت ہے ۔ جس کے بغیر یہ پہرہ داری بیکار ہے ۔ مگر اس کے لیئے سرمایہ درکار تھا ۔ جو وہ ہم کنگلوں کے پاس نہیں تھا ۔ لہذا مل جل کر مشورہ طے پایا کہ محلے والوں سے اس ” خدمت ” کے عوض کچھ مال بٹورا جائے ۔
دوسرے دن ہم نےگھر گھر جا کر چندے بٹورنا شروع کردیئے ۔ لوگوں نے بڑھ چڑھ کر اس کارِ خیر میں حصہ لیا ۔ کیونکہ ایک رات سکون سے گذر چکی تھی ۔ لہذا محلے والوں نے شکر کیا کہ وہ اب سکون سے سو سکیں گے ۔ لہذا انہیں چندہ دینے میں‌کوئی تامل نہیں ہوا ۔ مگر مسئلہ وہاں کھڑا ہوا ۔ جب انکل ماچس نے چندہ دینے سے انکار کیا ۔ اور ہمیں پیسہ بٹورنے اور ان پیسوں سے موج مستیاں اڑانے کا طعنہ دیا ۔ ( انکل ماچس ، محلے کے ایک بہت ہی تیز طرار ، جھگڑالو اور کاروباری آدمی تھے ۔ اور ستم تو یہ تھا کہ ان کی پوری پانچ صاحبزادیاں تھیں ۔ جن میں سے ایک صاحبزادی ہماری ٹیم کے اسلحہ بردار اعجاز کی ” منظورِ نظر ” تھیں ۔ ) ۔اعجاز اس “عزت “ پر بری طرح تلملا اٹھا ۔ مگر ہم سب اسے بہلا پھسلا کر وہاں سے لے آئے ۔ رات آئی تو ” مالِ غنیمت ” سے ایک بھرپور محفل کا اہتمام ہوا ۔ چائے ، بسکٹ ، ریسٹورینٹ کے مزے مزے کے کھانے، اور نئے نئے لحافوں کی گرمی نے وہ مزا دیا کہ سوچا یہ چوریاں ختم ہی نہ ہوں ۔ اور یہ من و سلویٰ اسی طرح چلتا رہے ۔
رات کو اپنی باری پر جب میں اپنے دیگر ساتھیوں کیساتھ پہرہ دیتا ہوا انکل ماچس کے گھر کے سامنے سے گذرا تو میرے ذہن میں ایک خیال بجلی کی مانند کوندا ۔ میں نے انکل ماچس کے گھر کے آگے پیچھے ہوکر جائزہ لیا ۔ جس کو میرے ساتھیوں نے بڑی تعجب کی نگاہ سےدیکھا ۔ میں نے انگلی کے اشارے سے انہیں کچھ کہنے سے منع کیا اور پھر ہم اپنا پہرہ ختم کرکے واپس ” ہیڈ کواٹر ” آگئے ۔ صبح ہونے سے پہلے میں نے سب کو جمع کیا اور اپنے منصوبے کے بارے میں بتایا تو سب کو منصوبہ بیحد پسند آیا اور سب سے زیادہ خوشی اعجاز کو ہوئی ۔ جس کی "منظورِ نظر ” اس گھر میں تھی ۔ اور خوشی میں اس کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا بلکہ لٹکا رہ گیا ۔ جسے بڑی مشکل سے بند کیا گیا ۔
منصوبہ یہ تھا کہ رات 3 بجے کے قریب ، دو لڑکے انکل ماچس کی چھت پر ، دو ان کے گھر کے پیچھے والی گلی Alley میں ، جبکہ اعجاز ( اسلحہ بردار ) اور میں ان کے گھر کے دروازے پر دستک دیں گے ۔ اور اس کے بعد کمانڈو ایکشن شروع ہوجائیگا ۔ سو پلان کے مطابق ہم نے انکل ماچس کے گھر پر دھاوا بول دیا ۔ اعجاز اور میں نے انکل ماچس کے گھر کا دروازہ بری طرح پِٹ ڈالا ، چھت پر سے لڑکوں کی آواز آئی ۔۔۔ پکڑو ۔۔۔۔ وہ انکل کے صحن میں کود گیا ہے ۔ ” سیٹوں اور دھما چوکڑیوں سے جو طوفان اٹھا اس سے سارا محلہ بیدار ہوگیا ۔ اور سونے پہ سہاگہ اعجاز نے اپنی زنگ آلود بندوق سے 2 ، 3 فائر بھی داغ ڈالے ۔جس سے ماحول اور بھی ” رومانوی ” ہوگیا ۔ انکل ماچس نےاس بات کی تسلی کے بعد کہ دروازے پر ہم کھڑے ہیں تو دروازہ کھول دیا ( ہم نے ان کو واضع طور پر کانپتے ہوئے دیکھا ) ۔ ہم دونوں دندناتے ہوئے ان کے گھر میں داخل ہوگئے ۔ اندر شور برپا تھا ۔ انکل ماچس کے پانچوں لڑکیاں اپنی اماں کیساتھ چلا چلا کر بنجیمن سسٹر کی طرح کورس میں رو رہیں تھیں ۔ چھت سے لڑکوں نے آواز لگائی ” وہ یہاں صحن میں کودا ہے ۔” یہ سنتے کیساتھ ہی اعجاز نے ایک اور فائر داغ دیا ۔ ( یہ فائر منصوبے کے مطابق نہیں تھا ، ہوسکتا ہے کہ اپنی ” منظورِ نظر ” کو دیکھ کر اس کے ہاتھ سے بندوق کی لبلبی دب گئی تھی ) ۔ چونکہ صحن میں تھوڑا اندھیرا تھا۔ میں‌ نے اس سے فائدہ اٹھا کر پچھلی گلی میں کھلنے والا دروازہ کھول دیا ۔ جہاں سے اور بھی لڑکے اندر آگئے ۔ اور پھر ہم سب نے پچھلی گلی کی طرف یہ کہتے ہوئے دوڑ لگا دی پکڑو ۔ جانے نہ دینا ۔ پھر منصوبے کے مطابق یہاں بھی اعجاز کو ایک فائر داغنا تھا مگر وہ اپنی ” منظورِ نظر ” کے تصور اس طرح کھویا ہوا تھا کہ مخالف سمت بھاگتے ہوئے بھی اس کا چہرہ انکل ماچس کے گھر کی طرف تھا ۔ ( میں نےگلی میں لگے ہوئے بجلی کے کھمبوں سے اُسے کئی بار بار بچایا ) ۔ لہذا وہاں فائر نہیں ہوسکا ۔
بہرحال منصوبہ میری توقع سے زیادہ کامیاب ثابت ہوا اور اس کا نتیجہ بھی جلد سامنے آگیا ۔ جب شام کو انکل ماچس ” ہیڈ کواٹر ” آئے اور بڑی معصوم صورت بنا کر ہماری کل رات کی سیکوریٹی کے اقدامات پر تقریباً جھک کر شکریہ ادا کیا ۔ اسی دوران انہوں نے اپنی واسکٹ کی جیب سے ایک پھولا ہوا لفافہ بھی ہماری نذر کیا اور جاتے جاتے بڑی رونی صورت میں درخواست بھی کی کہ ” کسی اور چیز کی ضرورت ہو تو بتا دینا ۔۔ بس میرے گھر کی طرف چکر لگاتے رہنا ۔ "‌ ‌