چند حسینوں‌کے خطوط ، چند تصویرِ بُتاں ( قصہِ پنجم )

چند حسینوں‌کے خطوط ، چند تصویرِ بُتاں ( قصہِ پنجم )
ہم ہکا بکا بیھٹے رہ گئے ۔ ہمارے وہم و گماں میں بھی نہیں تھا کہ یہ حسینہ شاہد صاحب کی منظورِ نظر نکلے گی ۔ ہمیں یقین تھا کہ شاہد صاحب اپنے عشق کی آگ میں یکطرفہ جل رہے تھے ۔ کیونکہ قرائین و شواہد کہتے تھے کہ موصوفہ شاہد صاحب میں ہرگز دلچسپی نہیں رکھتی اور نہ ہی اس پر شاہد صاحب کے دل کی حالت عیاں ہے ۔ سو ایک تضاد تھا ۔ مگر ہم نے فلمی روایت پر عمل کرتے ہوئے دوستی پر اپنے عشق کو قربان کرنا بہتر سمجھا ۔ کیونکہ ہم نہیں چاہتے تھے کہ شاہد صاحب اپنے انٹولے جیسی آنکھوں میں آنسو لیئے گلی گلی گاتے پھریں کہ ” دوست دوست نہ رہا ، پیار پیار نہ رہا ” ۔
اس دن ہم نےاسکول میں بےکیف سا وقت گذارا ۔ اسکول واپسی پر راستے میں ہم نے شاہد صاحب کو اپنے موبائل سے فون کرکے ان کی محبوبہ کی آمد کی خبر سنا دی ۔ دوسری طرف سے ہمیں ایک ہچکی سی سنائی دی ۔ اب پتا نہیں وہ شاہد صاحب کی آخری ہچکی تھی یا اس خبر سے ان کی قوتِ گویائی کو کوئی نقصان پہنچ چکا تھا ۔ خیر ہم نے اپنا فرض ادا کردیا تھا ۔ مگر آج گھر جانے کے بجائے مرزا کباب والے کی دوکان پر رُک گئے کیونکہ سخت بھوک لگی ہوئی تھی ۔ ( ٹینشن میں ہمیں ہمیشہ بھوک لگتی ہے ) ۔ ہم نے مرزا جی سے کباب بنانے کو کہا اور وہاں بینچ پر بیٹھ گئے ۔ مرزا جی نے کباب کو سیخ پر گھماتے ہوئے کہا ” کیا بات ہے حجور ۔۔۔ آج سکل پر بارہ کیوں بج رہے ہیں ۔ ؟”
ہمارے خیمے میں پہلے سے ہی آگ لگی ہوئی تھی ۔ مرزا جی نے اور تیل چھڑک دیا ۔
ہم نے بھنا کر جواب دیا ” مرزا جی ! ماہر نفسیات مت بنو ، کباب بناؤ ”
ارے ارے ۔۔۔ ۔ آج تو چھوٹے خان صاحب کا مجاج انگاروں کے مافق گرم ہے ۔ خیر تو ہے ۔ ؟ ( والدِ محترم خان‌ صاحب کے لقب سے پہچانے جاتے تھے ) ۔ ” مرزا جی نے ہاتھ کے پنکھے سے انگاروں کو ہوا جھلتے ہوئے اپنی فکر کا اظہار کیا ۔
” ہاں ۔۔۔ سب ٹھیک ہے مرزا جی ” ۔ تھوڑا توقف کے بعد ہم نےکہا ۔
” نہیں ! حجور کوئی بات ہے جرور ۔۔۔ ۔۔ ہمیں تو چھوکری وکری کا چکر لگے ہے ۔ ”
ہمیں ایسا محسوس ہوا کہ جیسے مرزا جی نے سیخ پر کباب نہیں بلکہ ہمارا دل پرو کر انگاروں میں جھونک دیا ہو۔ ہم انکے قیاس پر حیران رہ گئے ۔
” تم یہ کیسے کہہ سکتے ہو‌۔ ؟ ہم نے حیران نہ ہونے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے پوچھا ۔
” ارے چھوٹے خان صاحب ۔۔۔ ۔ آپ کی سکل بتا رہی ہے کہ بہت بے آبرو ہوکے کسی کے کوچے سے نکلے ہو ۔” مرزا جی نے ہماری کیفیت سے لطف اندوز ہوتے ہوئے آنکھ مارتے ہوئے جواب دیا ۔
اچھا ۔۔۔ اچھا ۔۔۔ جلدی سے کباب دو اور ۔۔۔ تفتیش کا اگر اتنا ہی شوق ہے تو پولیس میں نوکری کرلو ۔ اور ہاں ۔۔۔ یہ ساری سیخیں بھی اپنے ساتھ لیتے جانا کہ شاید کسی ملزم سے کچھ اگلوانا پڑجائے ۔ ”
ہم نےجلے بھنے انداز میں ان کے صحیح قیاس پر اپنا ردعمل ظاہر کیا اور کباب لیکر بینچ پر دوبارہ بیٹھکر چپاتی اور کبابوں سے اپنے ناکام عشق کا بدلہ لینا شروع کردیا ۔ عشق کے معاملے میں ہم ہمیشہ چھپڑ پھاڑ قسمت کے مالک رہے تھے ۔مگر اس بار جس عشق کو ہم حتمی سمجھے تھے وہ نہ صرف غیر منطقی انجام کو پہنچا تھا بلکہ ساتھ ساتھ سوئمنامی طوفان کی طرح ہمارے دیگر عشقوں کو بھی بہا کر لے گیا تھا ۔اور ہم جیسے ، کیلے کے درخت پر لٹکے رہ گئے تھے ۔ جس پر زیادہ دیر تک لٹکنا بھی ممکن نہ تھا ۔
ہم اپنے بچھڑے ہوئے عشق کے تصور میں سوگواری کی کیفیت میں کبابوں کیساتھ تاتاریوں والا سلوک روا رکھے ہوئے تھے کہ کسی ہارن کی تیز اور مسلسل آواز نے ہماری سماعت پر برا اثر ڈالا اور ہم نے انتہائی کوفت کے عالم میں ہارن کی آواز کی سمت میں دیکھا تو ایک باریش بزرگ موٹر بائیک پر چلے آرہے تھے ۔ اور انہوں نے ہارن پر اپنی انگلی اس طرح رکھی ہوئی تھی کہ جیسے وہ وہاں سے آکسجین حاصل کر رہے ہوں ۔ بصورتِ دیگر اس طرح سے ہارن سے بدتمیزی کرنا کیا معنی رکھتا تھا ۔ جبکہ سڑک پر اتنا رش بھی نہیں تھا ۔ ان صاحب کے عقب میں ہم نے واضع طور پر کسی خاتون کو روایتی انداز میں موٹر بائیک پر بیٹھا ہوا دیکھا ۔ ہماری تو آج تک یہ سمجھ نہیں آیا کہ کوئی خاتون اس زاویئے سے موٹر بائیک کی پچھلی سیٹ پر بیٹھ کر اپنا توازن کیسے قائم رکھتیں ہیں ۔ یہ معمہ حل کرنے کے لیئے ایک دن ہم نے اپنے ایک دیرینہ دوست کو اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کی کہ وہ اپنی موٹر بائیک پر ہمیں اس طرح بیھٹنے کی اجازت دے تاکہ ہم اس توازن کی کوئی شرعی اور سائنسی توجہہ کو سمجھ سکیں ۔ ہمارے اس دوست نے کچھ دیر تو ہمیں بڑی عجیب نظروں سے دیکھا اور پھر موٹر بائیک اسٹارٹ کرکے یہ جا وہ جا ۔ کمبخت پتا نہیں ۔۔۔ کس قسم کے خیالات اپنے ذہن میں ہمارے خلاف برپا کرکے چلا گیا ۔ اس دن کے بعد ، ہم نے پھر اسے کبھی اپنے پاس پھٹکتے ہوئے نہیں دیکھا ۔ ہارن مسلسل بجتا رہا اور موٹر بائیک ہماری سمت بڑھتی ہوئی ہمارے سامنے سے اب گذرنے لگی تھی ۔ غیر ارادی طور پر ہماری نظر محترم بزرگ سے ہوتی ہوئی ان کے عقب میں بیٹھی ہوئی خاتون پر جا اٹکی، تو ہمیں احساس ہوا کہ وہ کسی کالج کی یونیفارم میں ملبوس کوئی طالبہ ہیں جو شاید اپنے والد کیساتھ موٹر بائیک پر کہیں جا رہیں تھیں ۔ ہم نے ایک اُچٹتی سی نظر اس کے چہرے پر ڈالی تو مرزا جی کا گولہ کباب ہمارے گلے میں گولے کی طرح پھنستے پھنستے رہ گیاسفید دوپٹے کے حصار میں وہ چہرہ ہمیں Pink Rose کی مانند لگا ۔ اللہ کی پناہ ۔۔۔ اتنی بڑی اور گہری سیاہ آنکھیں ہم نے پہلے زندگی میں کسی کی نہیں دیکھیں تھیں ۔
یہ سب لمحوں میں رونما ہوا ۔ اور موٹر بائیک ہمارے سامنے سے گذرگئی ۔ ہم نے تڑپ کر موٹربائیک کے تعاقب میں دیکھا تو موصوفہ دوسری طرف منہ کرکے بیٹھیں ہوئیں تھیں ۔ اب اس کا چہرہ جزوی چاند کی طرح سرسری دیدار تک ہی محدود رہ گیا ۔ اچانک اس نے ہمیں پلٹ کر دیکھا اور مسکرادی ۔ ہمارے جسم میں گویا کرنٹ سا دوڑ گیا ۔ بخدا وہ واقعی بہت بڑی اور روشن آنکھیں تھیں ۔ ہمیں وہ غزل یاد آگئی جس میں جگجیت سنگھ نے ہوش والوں کو بتایا تھا کہ ” بے خودی کیا چیز ہے ” ۔ لمحوں میں یہ قیامت کا سفر ختم ہوگیا ۔ اور موٹر بائیک ہماری نظروں سے اوجھل ہوچکی ہوگئی ۔
ہم عجیب سی سرشاری کے احساس کیساتھ واپس گھر لوٹے ۔ ہم جدھر بھی نظر ڈالتے ۔ وہاں ہمیں وہ دو بڑی بڑی ، کالی سیاہ روشن آنکھیں نظر آتیں ۔ اور ہم پر سرشاری کی کیفیت دوبارہ سوار ہوجاتی ۔ ٹی وی پر ڈرامہ دیکھتے ہوئے ہمیں ہیروئن کی آنکھیں بھی اسی کی مانند نظر آئیں ۔ مگر جب اس سراب کا اطلاق نثار قادری کے چہرے پر نظر آیا تو ہم لاحول پڑھتے ہوئے اس سراب کے گرداب سے باہر نکل آئے اور سونے کی تیاری میں مشغول ہوگئے ۔
صبح چھٹی تھی ۔ ہماری خواہش تھی کہ ہم دیر تک سوتے ۔ مگر جس باقاعدگی سے ہم علی الصباح روز اٹھ رہے تھے تو ڈر تھا کہ والد ِ محترم سے کہیں یہ جملہ سننا نہ پڑ جائے کہ ” اب اٹھے ہو ، آج تو دودھ سارا بک گیا ۔ ” سو نہ چاہتے ہوئے بھی اٹھ گئے ۔ ناشتے کے بعد ہمارا ارادہ تھا کہ آج کچھ بچھڑے ہوئے دوستوں کو اپنا شرفِ دیدار بخشیں گے ۔ چنانچہ اس مقصد کے لیئے جونہی ہم نے اپنی موٹر بائیک گھر سے باہر نکالی تو سامنے والے گھر سے وہی موٹربائیک والے بزرگ بھی اپنی موٹر بائیک باہر نکالتے ہوئے نظر آئے ۔ ہمیں بریک سا لگ گیا ۔ اور ہم گوند لگی گولی کی طرح اپنی موٹر بائیک سے چپک گئے اور اسے اسٹارٹ کر کے اس کے وہ حصے بھی صاف کرنے لگے ۔ جہاں ہاتھ تو درکنار انگلی کی بھی پہنچ ممکن نہیں تھی ۔ ہمیں حیرت تھی کہ جہاں ہم پیدا ہوئے ، جہاں بچپن گذارا اور پھر جوانی کا آغاز کیا ۔ عین اسی محلے میں اس قدر حسن برپا تھا اور ہمیں خبر نہ تھی ۔ اور جانے ہم کہاں کہاں بھٹک رہے تھے ۔ محترم بزرگ نے کسی کو اندر آواز دی اور موٹر بائیک اسٹارٹ کرنے لگے ۔ ہم اکنکھنیوں سے یہ سارا منظر دیکھنے لگے ۔ بزرگ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے وہی دوشیزہ دروازے پر نمودار ہوئی ۔ اس کے ہاتھ میں شاید کچھ کاغذات تھے جو وہ ان بزرگوار کو دینے آئی تھی ۔ اس دوران اس کی بھی نظر ہم پر پڑگئی ۔ اس کی جھیل جیسی آنکھوں میں حیرت کے سائے لہرائے ۔ مگر پھر وہ نارمل ہوگئی ۔ شاید اسے احساس ہوگیا تھا کہ ہمارا تعلق اسی گھر سے ہے ۔ بزرگ رخصت ہوچکے تھے ۔ ہم نے اپنی آنکھیں سامنے اور ہاتھوں کو موٹرسائیکل کی صفائی کی طرف مشغول کردیئے ۔ وہ ہمیں براہِ راست دیکھ رہی تھی اور ہونٹوں پر مسکراہٹ بھی نمایاں تھی ۔ موصوفہ پہلے دن سے ہی ہم میں دلچسپی لے رہیں تھیں ۔ ہمیں تو لگتا تھا کہ یہ سب اُس فئیر اینڈ لوَلی کا کمال ہے جو ہم نے ایک دوست کے کہنے پر گذشتہ ماہ سے استعمال کرنا شروع کی تھی ۔ ہم نے بھی جگجیت سنگھ کی غزل کی حقیقت کو سامنے رکھ کر ” بے خودی ” کے عالم میں موٹر بائیک صاف کرتے ہوئےاپنا ہاتھ جلتے ہوئے سائلنسر پر بھی رکھ دیا ۔ تھوڑی دیر تو کچھ محسوس نہیں ہوا ۔ مگر جب فضا میں مرزا کباب والے کے کبابوں سے ملتی جلتی بو ہم نے محسوس کی سخت تکلیف کا احساس ہوا ۔ پھر جھٹکے کیساتھ ہم نے اپنی ہتیھلی سائلنسر پر سے اٹھانے کی کوشش کی ۔ مگر ہتیھلی کو گویا وہ در چھوڑنا گوارا نہیں تھا ۔ ہم تکلیف سے بلبلا اٹھے ۔ ہماری حالت دیکھ کراُس سے رہا نہ گیا اور وہ حجاب کے تمام پردے چاک کرتی ہوئی ہمارے پاس آپہنچی ۔
” حد کرتے ہیں آپ بھی ۔۔۔ ۔۔ ” آواز تھی یا گویا کسی نے ستار کے تاروں کو چھیڑا تھا ۔ ہم اپنی تکلیف بھول گئے ۔ ہماری ہتیھلی پر دل جیسا نشان بن چکا تھا ۔ جسے وہ اپنے دوپٹے سے لپٹنے کی کوشش کر رہی تھی ۔
” میں ٹھیک ہوں ۔۔۔ ۔۔ میری فکر نہ کجیئے ‘” ہم نے پہلی بار اپنی عاشقانہ طبعیت کے برعکس متانت اور سنجیدگی سے کہا ۔ ( جس پر ہمیں خود بھی حیرت ہوئی ۔ ورنہ ہم سمجھے تھے کہ کسی فلمی گانے کا آغاز ہونے والا ہے )
” کیسے ٹھیک ہیں آپ ۔۔۔ ۔ دیکھیئے آپ نے اپنی ہتیھلی جلا لی ہے ۔ ” اس نے تشویش بھرے لہجے میں ہمیں ہماری ہتیھلی دکھانےکی کوشش کی ۔ اچانک اسے احساس ہوا کہ وہ اور میں عین گلی میں ہیں ۔
” دیکھئے آئندہ احتیاط سے کام لجیئے گا ۔ میں چلتی ہوں ۔ ” جس تیزی سے وہ ہماری طرف آئی تھی اسی تیزی سے وہ اپنے گھر کی طرف دوڑ گئی ۔
” آپ کا دوپٹہ ” ہم نے صدا لگائی ۔
مگر وہ جا چکی تھی ۔
ہم اپنا زخمی ہاتھ لیئے گلی کے کونے پر واقع اپنے جگری یار غیاث کے گھر گئے ۔ صبح کے 11 بج رہے تھے اور وہ صحن کے عین وسط میں منہ کھولے چارپائی پر سو رہا تھا ۔ اس کے چہرے پر چار پانچ مکھیاں منہ کے معائنے میں مصروف تھیں ۔ مگر جراثیموں کے ڈر کہ وجہ سے اندر جانے سےگریز کر رہیں تھیں ۔ ہم نے اس کو لات مار کر اٹھایا تو وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا ۔ ہمیں دیکھا تو کہنے لگا ” ظالم ۔۔۔ آخری سین چل رہا تھا ۔ ۔۔۔ گلے بھی ملنے نہیں دیا ۔ ” ہم نے کہا ” ابے ! اپنی فلم کا مہورت بند کر ۔۔ یہ دیکھ میرا ہاتھ جل گیا ۔ کسی ڈاکٹر کے پاس لے چل ۔
” اوہ ۔۔ یہ کیسے ہوا ۔ ”
” موٹر بائیک اسٹارٹ کرکے اس کی صفائی میں مصروف ہوگیا تھا ۔ بے دھیانی میں سائلنسر پر ہاتھ رکھ دیا ۔ ”
"چل ۔۔۔ ۔ کسی ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں ۔”
یار ۔۔۔ ہماری گلی میں عین میرے گھر کے سامنے کون آیا ہے ۔ پہلے تو یہاں فاروق صاحب رہتے تھے ۔
” تم نے جب سے کالج کی ہوا کھائی ہے ۔ محلے میں جھانک کر ہی کب دیکھا ہے ۔ دو مہینے قبل وہ مکان بیچ کر جاچکے ہیں اور وہاں نئے پڑوسی آئے ہیں ۔ ”
” ہوں ۔۔۔ ۔ ”
” ہوں ۔۔ کیا ” ۔۔۔ ۔۔۔ غیاث نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے استفار کیا ۔
” کچھ نہیں ۔۔۔ ۔ بعد میں بتاؤں گا ”
ڈاکٹر کے کلینک سے مرہم پٹی سے فارغ ہو کر ہم گھر واپس آگئے ۔
غیاث ہمیں گھر چھوڑ کر جاچکا تھا ۔ اور ہم اپنے کمرے میں بیڈ پر لیٹے والدِ محترم کا سپنس ڈائجسٹ چوری چھپے پڑھنے کی کوشش کررہے تھے ۔ مگر دھیان بار بار اسی کی طرف جا رہا تھا ۔ ہم نے سائیڈ ٹیبل سے اس کا دوپٹہ نکالا اور چہرے سے لگایا تو ایک معطر سی خوشبو دل و دماغ میں اُتر گئی ۔ مگر ہمیں ڈر تھا کہ محلے میں اس طرح کی کارستانی کی بھنک اگر والدِ محترم کو پڑگئی تو اس بار وہ چھتر سے نہیں بلکہ اپنی خاندانی بندوق سےگھر کی چھت پر کھڑا کرکے ہمیں شہزادہ سلیم کی طرح داغنے کی کوشش کریں گے ۔ تاریخ کے مطابق رعایا نے شہزادے سلیم کا ساتھ دیا تھا ۔ مگر یہاں سارا محلہ یہ کہتا ” خان صاحب ! ذرا دیکھ کر گولی ماریئے گا ۔ کہیں نشانہ خطا نہ ہوجائے ۔ ” اور والدِ محترم بھی کہتے ” پٹھان کا نشانہ کبھی خطا نہیں ہوتا ۔ اورلوگوں سے پوچھ پوچھ کر نشانہ داغتے ” ہم نے اس تصور کے خوف سے جھرجھری کھا کر دوپٹے سے کھیلنے کا ارادہ ترک کرکے اُسے واپس سائیڈ ٹیبل میں چھپا دیا ۔
ایک دن میں اتنے تغیرات پر ہم یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے کہ ہمارے ساتھ معاملہ کچھ خاص ہے ۔ کیونکہ ایک عشق ختم نہیں ہوتا دوسرا دروازے پر دستک دے رہا ہوتا ہے ۔ پھر اچانک ہماری نظروں کے سامنے پرنسپل کی صاحبزادی کا سراپا لہرایا تو ہمارے دل میں ایک ہوک سی اٹھی ۔ کیا زبردست خاتون تھیں ۔ مگر ہم نے اس عشق کی ناکامی کو قسمت کی ستم ظریفی سے جوڑتے ہوتے خود کو بڑی بڑی آنکھوں میں‌ غرق کرلیا اور نیند کی وادیوں میں کھو گئے ۔
دوسرے دن ہم اسکول روانہ ہوئے ۔ اسمبلی شروع ہونے میں ابھی کچھ دیر تھی ۔ ہم اسٹاف روم میں بیٹھے ہوئے تھے ۔اسی دوران ہمارے رقیبِ ُروسیا اسٹاف روم میں داخل ہوئے ۔ ہمیں بڑا غصہ آیا کہ ایک دن بھی صبر نہیں‌ ہوا اور فوراً ہی اپنی منظورِ نظر کے دیدار کو آدھمکے ۔ شاہد صاحب کو سب نے خوش آمدید کہا اور طبعیت پوچھی ۔ شاہد صاحب نے بڑی خوش دلی سے سب کا شکریہ ادا کیا ۔ منظورِ نظر سے متوقع ملاقات کی خوشی میں ان کی باچھیں ان کے کان سے بھی پیچھے جالگیں تھیں ۔ اور منہ ” بلیک ہول ” کی مانند کھلا ہوا تھا جس میں کم از کم آدھ سیر کا پورا سیب سمایا جاسکتا تھا ۔ شاہد صاحب ہمارے ساتھ والی کرسی پر بیٹھ گئے ۔
"یار ! آج ساتھ ہی رہنا ۔ آج دل قابو میں نہیں‌ ہے ۔ ”
شاہد صاحب نے سب کی نظر بچاتے ہوئے ہمارا ہاتھ دبا کر شادیِ مرگ کی کیفیت میں اپنے دل کی حالت بیان کرنے کی کوشش کی ۔
ہم کوئی جلا بھنا جواب دینے ہی والے تھے مگر شاہد صاحب کے چہرے پر خوشی دیکھ کر ہمیں ان پر ترس آگیا ۔
” یار حوصلہ کرو ۔۔۔ ۔ اگر یہی کیفیت تم پر طاری رہی تو کہیں ایسا نہ ہو کہ پرنسپل صاحب تمہیں اس کی شادی پر شامیانے میں کرسیاں لگانے پر مامور کردیں اور اس کو کسی اور کیساتھ روانہ کردیں۔“
دل میں نہ ہو جرات اسے محبت نہیں ملتی
خیرات میں اتنی بڑی دولت نہیں ملتی
یہ سنتے ہی شاہد صاحب تن کر بیٹھ گئے ۔
ہم نے کہا ” یار ۔۔ حوصلے کی بات کی ہے ۔ درزی کو شیروانی کے ناپ دینے کی نہیں ۔
خالد صاحب ایک دم سے جھینپ گئے ۔
” یار مذاق کر رہا ہوں ۔ اور تم نروس ہو رہے ہو ۔”
ہم نے اپنی ہنسی پر قابو پاتے ہوئے کہا ۔
” تمہیں کیا معلوم کہ حقیقی محبت کیا ہوتی ہے ۔ ؟ تم نے کبھی کی ہوتی تو معلوم ہوتا کہ اس کیفیت میں انسان کے دل کی کیا حالت ہوتی ہے ۔ ”
انہوں نے شکایتی لہجہ اختیار کرتے ہوئے جواب دیا ۔
شاہد صاحب کی اس بات پر ہمارے دل سے ایک آہ سی اٹھی مگر ہم نے اُسے ہونٹوں پر آنے نہ دیا ۔ ہم ان کو کیا بتاتے کہ ظالم ۔۔۔ ۔ حقیقی محبت کا آغاز ہوا ہی تھا کہ تم گرم ہوا بن کر چل پڑے ۔
” کیا آج تم نے اس کو دیکھا ۔؟ ”
شاہد صاحب نے اشتیاق کے عالم نے سوال کیا ۔
” نہیں ابھی تک تو دیدار نہیں ہوا۔ ”
شاہد صاحب خاموش ہوگئے ۔
تھوڑی دیر بعد وہ جلوہ افروز ہوگئی ۔
جیسے ہی وہ کرسی پر بیٹھی تو ہم نے سب سے اجازت چاہی کہ ہمیں پرنسپل صاحب سے ملنا ہے ۔ ہم نے واضع طور پر محترمہ کے چہرے پر حیرت کے آثار دیکھے ۔ پرنسپل صاحب سے ملنے کا مقصد ہمیں اپنے تدریسی شعبے سے سبکدوش ہونا مقصود تھا کہ وہ حسینہ ہماری نظروں کے سامنے کسی اور کی بن کر نظر آئے ۔ دل کو گوارا نہیں تھا ۔ پرنسپل صاحب موجود نہیں تھے ۔ لہذا ہم دوبارہ اسٹاف روم میں آگئے ۔ مگر شاہد صاحب کے چہرے پر معمول کے اثرات دیکھ کر ہمیں حیرت ہوئی ۔ ہم سمجھے تھے کہ اب تک وہ اپنی منظورِ نظر سے ملکر شادیِ مرگ کی کیفیت میں مبتلا ہوچکے ہونگے ۔ ہم ان کے برابر میں بیٹھ گئے ۔ ہم نے سامنے دیکھا تو وہ ہمیں ہی دیکھ رہی تھی اور اس کی نظروں میں بڑی کاٹ تھی ۔ ہم سمجھ گئے کہ وہ ہماری بے رخی پر رنجیدہ ہے ۔ مگر ہم اس کو کیا بتاتے ہم نے عشق پر دوستی کو مقدم رکھا ہے ۔ وہ اٹھ کر باہر چلی گئی ۔ اسی دوران شاہد صاحب نے ہمیں کہنی ماری اور کہا ۔ ” تم نے تو کہا تھا کہ وہ لاہور سے واپس آگئی ہے ” ۔
ہمیں ایک جھٹکا سا لگا ۔
” کیا مطلب ۔۔۔ ۔ یہ جو سامنے بیٹھی تھی ۔ یہی تو آپ کی منظورِ نظر ہے ناں ”
” ارے نہیں یار ۔۔۔ ۔ پرنسپل صاحب کی یہ لڑکی نہیں ، بلکہ اس سے بڑی والی جو کہ اسی کیساتھ لاہور گئی ہوئی تھی ۔ اس کی واپسی شاید اب تک نہیں ہوئی ہے ”
شاہد صاحب نے اپنے چہرے پر مایوسی سجاتے ہوئے ہماری عشق کی ناؤ میں ایک بار پر تلاطم پیدا کردیا ۔
ہم نے اپنا سر کرسی کی پشت پر ٹکا لیا ۔ اور واقعات ِ دہر کے معاملات پر غور کرنے لگے ۔
کل ہم نےاس عشق سے دستبرداری کا اعلان کیا تھا مگر ہمارے عشق کی چھپڑ پھاڑ قسمت نے فوراً ہی دوسرے عشق کی راہ ہموار کردی تھی ۔ ابھی اس تازہ عشق کا سرور اپنے عروج پر پہنچا ہی نہیں تھا کہ فقیر کی بدعا کی تیز ہوا نے ہماری کشتی کا رخ پھر طوفان کی طرف کردیا ۔ یعنی اب پھر وہی دو عشقوں کا معاملہ سامنے کھڑا تھا ۔
میں‌کہاں جاؤں ، ہوتا نہیں فیصلہ
ایک طرف اس کا گھر ، ایک طرف میکدہ
( جاری ہے )‌‌‌

Advertisements

3 تبصرے (+add yours?)

  1. Rizwan
    اپریل 11, 2012 @ 07:04:04

    لگتا ہے آج کل پھر دماغی جھاڑ جھنکاڑ کی صفائی چل رہی ہے کہ پرانا سامان نکل آیا بھائی ذراء جلدی جلدی کام کیا کرو۔
    بہت خاصے کے نشتر ہیں؛
    صبح کے 11 بج رہے تھے اور وہ صحن کے عین وسط میں منہ کھولے چارپائی پر سو رہا تھا ۔ اس کے چہرے پر چار پانچ مکھیاں منہ کے معائنے میں مصروف تھیں ۔ مگر جراثیموں کے ڈر کہ وجہ سے اندر جانے سےگریز کر رہیں تھیں ۔
    مگر یہاں تو پورا محلہ یہ کہتا ” خان صاحب ! ذرا دیکھ کر گولی ماریئے گا ۔ کہیں نشانہ خطا نہ ہوجائے۔

    ” یار حوصلہ کرو ۔۔۔ ۔ اگر یہی کیفیت ہمیشہ طاری تم پر رہی تو کہیں ایسا نہ ہو کہ پرنسپل صاحب تمہیں اس کی شادی پر شامیانے میں کرسیاں لگانے پر مامور نہ کردیں اور اس کو کسی اور کیساتھ کار میں سوار کرادیں ۔

    جواب دیں

  2. Zafri
    اپریل 12, 2012 @ 20:22:47

    شکریہ رضوان ۔۔۔
    بس بلاگ پر ایسے ہی گرد صاف کرنے آیا تھا ۔۔۔ کچھ زمانے کی گرد تھی اور کچھ تعطل کی ۔ آپ نے بجا فرمایا کہ کچھ نکل ہی آیا اس جھاڑ جھنکاڑ میں ۔۔۔ خیر اتنے عرصے بعد کچھ یہاں لکھا اور آپ نے فوراً ہی رپلائی بھی دیا ۔ اس کے لیئے بہت ممنون ہوں ۔ ‌اُمید ہے جو دوست مایوس ہوکر بیٹھ گئے تھے ۔ اُمید ہے کہ وہ بھی دوبارہ حوصلہ افزائی کے لیئے آئیں گے ۔

    جواب دیں

  3. Asif sanwal… .
    دسمبر 31, 2014 @ 04:45:57

    ﻣﯿﮟﮐﮩﺎﮞ ﺟﺎﺅﮞ ، ﮨﻮﺗﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﻓﯿﺼﻠﮧ
    ﺍﯾﮏ ﻃﺮﻑ ﺍﺱ ﮐﺎ ﮔﮭﺮ ، ﺍﯾﮏ ﻃﺮﻑ ﻣﯿﮑﺪﮦ

    یہ کوئی گانا تھا کیا?
    مجھے بہت اچھا لگا یہ ڈائجسٹ….

    جواب دیں

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: