چند حسینوں‌کے خطوط ، چند تصویرِ بُتاں ( قصہِ پنجم )

چند حسینوں‌کے خطوط ، چند تصویرِ بُتاں ( قصہِ پنجم )
ہم ہکا بکا بیھٹے رہ گئے ۔ ہمارے وہم و گماں میں بھی نہیں تھا کہ یہ حسینہ شاہد صاحب کی منظورِ نظر نکلے گی ۔ ہمیں یقین تھا کہ شاہد صاحب اپنے عشق کی آگ میں یکطرفہ جل رہے تھے ۔ کیونکہ قرائین و شواہد کہتے تھے کہ موصوفہ شاہد صاحب میں ہرگز دلچسپی نہیں رکھتی اور نہ ہی اس پر شاہد صاحب کے دل کی حالت عیاں ہے ۔ سو ایک تضاد تھا ۔ مگر ہم نے فلمی روایت پر عمل کرتے ہوئے دوستی پر اپنے عشق کو قربان کرنا بہتر سمجھا ۔ کیونکہ ہم نہیں چاہتے تھے کہ شاہد صاحب اپنے انٹولے جیسی آنکھوں میں آنسو لیئے گلی گلی گاتے پھریں کہ ” دوست دوست نہ رہا ، پیار پیار نہ رہا ” ۔
اس دن ہم نےاسکول میں بےکیف سا وقت گذارا ۔ اسکول واپسی پر راستے میں ہم نے شاہد صاحب کو اپنے موبائل سے فون کرکے ان کی محبوبہ کی آمد کی خبر سنا دی ۔ دوسری طرف سے ہمیں ایک ہچکی سی سنائی دی ۔ اب پتا نہیں وہ شاہد صاحب کی آخری ہچکی تھی یا اس خبر سے ان کی قوتِ گویائی کو کوئی نقصان پہنچ چکا تھا ۔ خیر ہم نے اپنا فرض ادا کردیا تھا ۔ مگر آج گھر جانے کے بجائے مرزا کباب والے کی دوکان پر رُک گئے کیونکہ سخت بھوک لگی ہوئی تھی ۔ ( ٹینشن میں ہمیں ہمیشہ بھوک لگتی ہے ) ۔ ہم نے مرزا جی سے کباب بنانے کو کہا اور وہاں بینچ پر بیٹھ گئے ۔ مرزا جی نے کباب کو سیخ پر گھماتے ہوئے کہا ” کیا بات ہے حجور ۔۔۔ آج سکل پر بارہ کیوں بج رہے ہیں ۔ ؟”
ہمارے خیمے میں پہلے سے ہی آگ لگی ہوئی تھی ۔ مرزا جی نے اور تیل چھڑک دیا ۔
ہم نے بھنا کر جواب دیا ” مرزا جی ! ماہر نفسیات مت بنو ، کباب بناؤ ”
ارے ارے ۔۔۔ ۔ آج تو چھوٹے خان صاحب کا مجاج انگاروں کے مافق گرم ہے ۔ خیر تو ہے ۔ ؟ ( والدِ محترم خان‌ صاحب کے لقب سے پہچانے جاتے تھے ) ۔ ” مرزا جی نے ہاتھ کے پنکھے سے انگاروں کو ہوا جھلتے ہوئے اپنی فکر کا اظہار کیا ۔
” ہاں ۔۔۔ سب ٹھیک ہے مرزا جی ” ۔ تھوڑا توقف کے بعد ہم نےکہا ۔
” نہیں ! حجور کوئی بات ہے جرور ۔۔۔ ۔۔ ہمیں تو چھوکری وکری کا چکر لگے ہے ۔ ”
ہمیں ایسا محسوس ہوا کہ جیسے مرزا جی نے سیخ پر کباب نہیں بلکہ ہمارا دل پرو کر انگاروں میں جھونک دیا ہو۔ ہم انکے قیاس پر حیران رہ گئے ۔
” تم یہ کیسے کہہ سکتے ہو‌۔ ؟ ہم نے حیران نہ ہونے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے پوچھا ۔
” ارے چھوٹے خان صاحب ۔۔۔ ۔ آپ کی سکل بتا رہی ہے کہ بہت بے آبرو ہوکے کسی کے کوچے سے نکلے ہو ۔” مرزا جی نے ہماری کیفیت سے لطف اندوز ہوتے ہوئے آنکھ مارتے ہوئے جواب دیا ۔
اچھا ۔۔۔ اچھا ۔۔۔ جلدی سے کباب دو اور ۔۔۔ تفتیش کا اگر اتنا ہی شوق ہے تو پولیس میں نوکری کرلو ۔ اور ہاں ۔۔۔ یہ ساری سیخیں بھی اپنے ساتھ لیتے جانا کہ شاید کسی ملزم سے کچھ اگلوانا پڑجائے ۔ ”
ہم نےجلے بھنے انداز میں ان کے صحیح قیاس پر اپنا ردعمل ظاہر کیا اور کباب لیکر بینچ پر دوبارہ بیٹھکر چپاتی اور کبابوں سے اپنے ناکام عشق کا بدلہ لینا شروع کردیا ۔ عشق کے معاملے میں ہم ہمیشہ چھپڑ پھاڑ قسمت کے مالک رہے تھے ۔مگر اس بار جس عشق کو ہم حتمی سمجھے تھے وہ نہ صرف غیر منطقی انجام کو پہنچا تھا بلکہ ساتھ ساتھ سوئمنامی طوفان کی طرح ہمارے دیگر عشقوں کو بھی بہا کر لے گیا تھا ۔اور ہم جیسے ، کیلے کے درخت پر لٹکے رہ گئے تھے ۔ جس پر زیادہ دیر تک لٹکنا بھی ممکن نہ تھا ۔
ہم اپنے بچھڑے ہوئے عشق کے تصور میں سوگواری کی کیفیت میں کبابوں کیساتھ تاتاریوں والا سلوک روا رکھے ہوئے تھے کہ کسی ہارن کی تیز اور مسلسل آواز نے ہماری سماعت پر برا اثر ڈالا اور ہم نے انتہائی کوفت کے عالم میں ہارن کی آواز کی سمت میں دیکھا تو ایک باریش بزرگ موٹر بائیک پر چلے آرہے تھے ۔ اور انہوں نے ہارن پر اپنی انگلی اس طرح رکھی ہوئی تھی کہ جیسے وہ وہاں سے آکسجین حاصل کر رہے ہوں ۔ بصورتِ دیگر اس طرح سے ہارن سے بدتمیزی کرنا کیا معنی رکھتا تھا ۔ جبکہ سڑک پر اتنا رش بھی نہیں تھا ۔ ان صاحب کے عقب میں ہم نے واضع طور پر کسی خاتون کو روایتی انداز میں موٹر بائیک پر بیٹھا ہوا دیکھا ۔ ہماری تو آج تک یہ سمجھ نہیں آیا کہ کوئی خاتون اس زاویئے سے موٹر بائیک کی پچھلی سیٹ پر بیٹھ کر اپنا توازن کیسے قائم رکھتیں ہیں ۔ یہ معمہ حل کرنے کے لیئے ایک دن ہم نے اپنے ایک دیرینہ دوست کو اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کی کہ وہ اپنی موٹر بائیک پر ہمیں اس طرح بیھٹنے کی اجازت دے تاکہ ہم اس توازن کی کوئی شرعی اور سائنسی توجہہ کو سمجھ سکیں ۔ ہمارے اس دوست نے کچھ دیر تو ہمیں بڑی عجیب نظروں سے دیکھا اور پھر موٹر بائیک اسٹارٹ کرکے یہ جا وہ جا ۔ کمبخت پتا نہیں ۔۔۔ کس قسم کے خیالات اپنے ذہن میں ہمارے خلاف برپا کرکے چلا گیا ۔ اس دن کے بعد ، ہم نے پھر اسے کبھی اپنے پاس پھٹکتے ہوئے نہیں دیکھا ۔ ہارن مسلسل بجتا رہا اور موٹر بائیک ہماری سمت بڑھتی ہوئی ہمارے سامنے سے اب گذرنے لگی تھی ۔ غیر ارادی طور پر ہماری نظر محترم بزرگ سے ہوتی ہوئی ان کے عقب میں بیٹھی ہوئی خاتون پر جا اٹکی، تو ہمیں احساس ہوا کہ وہ کسی کالج کی یونیفارم میں ملبوس کوئی طالبہ ہیں جو شاید اپنے والد کیساتھ موٹر بائیک پر کہیں جا رہیں تھیں ۔ ہم نے ایک اُچٹتی سی نظر اس کے چہرے پر ڈالی تو مرزا جی کا گولہ کباب ہمارے گلے میں گولے کی طرح پھنستے پھنستے رہ گیاسفید دوپٹے کے حصار میں وہ چہرہ ہمیں Pink Rose کی مانند لگا ۔ اللہ کی پناہ ۔۔۔ اتنی بڑی اور گہری سیاہ آنکھیں ہم نے پہلے زندگی میں کسی کی نہیں دیکھیں تھیں ۔
یہ سب لمحوں میں رونما ہوا ۔ اور موٹر بائیک ہمارے سامنے سے گذرگئی ۔ ہم نے تڑپ کر موٹربائیک کے تعاقب میں دیکھا تو موصوفہ دوسری طرف منہ کرکے بیٹھیں ہوئیں تھیں ۔ اب اس کا چہرہ جزوی چاند کی طرح سرسری دیدار تک ہی محدود رہ گیا ۔ اچانک اس نے ہمیں پلٹ کر دیکھا اور مسکرادی ۔ ہمارے جسم میں گویا کرنٹ سا دوڑ گیا ۔ بخدا وہ واقعی بہت بڑی اور روشن آنکھیں تھیں ۔ ہمیں وہ غزل یاد آگئی جس میں جگجیت سنگھ نے ہوش والوں کو بتایا تھا کہ ” بے خودی کیا چیز ہے ” ۔ لمحوں میں یہ قیامت کا سفر ختم ہوگیا ۔ اور موٹر بائیک ہماری نظروں سے اوجھل ہوچکی ہوگئی ۔
ہم عجیب سی سرشاری کے احساس کیساتھ واپس گھر لوٹے ۔ ہم جدھر بھی نظر ڈالتے ۔ وہاں ہمیں وہ دو بڑی بڑی ، کالی سیاہ روشن آنکھیں نظر آتیں ۔ اور ہم پر سرشاری کی کیفیت دوبارہ سوار ہوجاتی ۔ ٹی وی پر ڈرامہ دیکھتے ہوئے ہمیں ہیروئن کی آنکھیں بھی اسی کی مانند نظر آئیں ۔ مگر جب اس سراب کا اطلاق نثار قادری کے چہرے پر نظر آیا تو ہم لاحول پڑھتے ہوئے اس سراب کے گرداب سے باہر نکل آئے اور سونے کی تیاری میں مشغول ہوگئے ۔
صبح چھٹی تھی ۔ ہماری خواہش تھی کہ ہم دیر تک سوتے ۔ مگر جس باقاعدگی سے ہم علی الصباح روز اٹھ رہے تھے تو ڈر تھا کہ والد ِ محترم سے کہیں یہ جملہ سننا نہ پڑ جائے کہ ” اب اٹھے ہو ، آج تو دودھ سارا بک گیا ۔ ” سو نہ چاہتے ہوئے بھی اٹھ گئے ۔ ناشتے کے بعد ہمارا ارادہ تھا کہ آج کچھ بچھڑے ہوئے دوستوں کو اپنا شرفِ دیدار بخشیں گے ۔ چنانچہ اس مقصد کے لیئے جونہی ہم نے اپنی موٹر بائیک گھر سے باہر نکالی تو سامنے والے گھر سے وہی موٹربائیک والے بزرگ بھی اپنی موٹر بائیک باہر نکالتے ہوئے نظر آئے ۔ ہمیں بریک سا لگ گیا ۔ اور ہم گوند لگی گولی کی طرح اپنی موٹر بائیک سے چپک گئے اور اسے اسٹارٹ کر کے اس کے وہ حصے بھی صاف کرنے لگے ۔ جہاں ہاتھ تو درکنار انگلی کی بھی پہنچ ممکن نہیں تھی ۔ ہمیں حیرت تھی کہ جہاں ہم پیدا ہوئے ، جہاں بچپن گذارا اور پھر جوانی کا آغاز کیا ۔ عین اسی محلے میں اس قدر حسن برپا تھا اور ہمیں خبر نہ تھی ۔ اور جانے ہم کہاں کہاں بھٹک رہے تھے ۔ محترم بزرگ نے کسی کو اندر آواز دی اور موٹر بائیک اسٹارٹ کرنے لگے ۔ ہم اکنکھنیوں سے یہ سارا منظر دیکھنے لگے ۔ بزرگ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے وہی دوشیزہ دروازے پر نمودار ہوئی ۔ اس کے ہاتھ میں شاید کچھ کاغذات تھے جو وہ ان بزرگوار کو دینے آئی تھی ۔ اس دوران اس کی بھی نظر ہم پر پڑگئی ۔ اس کی جھیل جیسی آنکھوں میں حیرت کے سائے لہرائے ۔ مگر پھر وہ نارمل ہوگئی ۔ شاید اسے احساس ہوگیا تھا کہ ہمارا تعلق اسی گھر سے ہے ۔ بزرگ رخصت ہوچکے تھے ۔ ہم نے اپنی آنکھیں سامنے اور ہاتھوں کو موٹرسائیکل کی صفائی کی طرف مشغول کردیئے ۔ وہ ہمیں براہِ راست دیکھ رہی تھی اور ہونٹوں پر مسکراہٹ بھی نمایاں تھی ۔ موصوفہ پہلے دن سے ہی ہم میں دلچسپی لے رہیں تھیں ۔ ہمیں تو لگتا تھا کہ یہ سب اُس فئیر اینڈ لوَلی کا کمال ہے جو ہم نے ایک دوست کے کہنے پر گذشتہ ماہ سے استعمال کرنا شروع کی تھی ۔ ہم نے بھی جگجیت سنگھ کی غزل کی حقیقت کو سامنے رکھ کر ” بے خودی ” کے عالم میں موٹر بائیک صاف کرتے ہوئےاپنا ہاتھ جلتے ہوئے سائلنسر پر بھی رکھ دیا ۔ تھوڑی دیر تو کچھ محسوس نہیں ہوا ۔ مگر جب فضا میں مرزا کباب والے کے کبابوں سے ملتی جلتی بو ہم نے محسوس کی سخت تکلیف کا احساس ہوا ۔ پھر جھٹکے کیساتھ ہم نے اپنی ہتیھلی سائلنسر پر سے اٹھانے کی کوشش کی ۔ مگر ہتیھلی کو گویا وہ در چھوڑنا گوارا نہیں تھا ۔ ہم تکلیف سے بلبلا اٹھے ۔ ہماری حالت دیکھ کراُس سے رہا نہ گیا اور وہ حجاب کے تمام پردے چاک کرتی ہوئی ہمارے پاس آپہنچی ۔
” حد کرتے ہیں آپ بھی ۔۔۔ ۔۔ ” آواز تھی یا گویا کسی نے ستار کے تاروں کو چھیڑا تھا ۔ ہم اپنی تکلیف بھول گئے ۔ ہماری ہتیھلی پر دل جیسا نشان بن چکا تھا ۔ جسے وہ اپنے دوپٹے سے لپٹنے کی کوشش کر رہی تھی ۔
” میں ٹھیک ہوں ۔۔۔ ۔۔ میری فکر نہ کجیئے ‘” ہم نے پہلی بار اپنی عاشقانہ طبعیت کے برعکس متانت اور سنجیدگی سے کہا ۔ ( جس پر ہمیں خود بھی حیرت ہوئی ۔ ورنہ ہم سمجھے تھے کہ کسی فلمی گانے کا آغاز ہونے والا ہے )
” کیسے ٹھیک ہیں آپ ۔۔۔ ۔ دیکھیئے آپ نے اپنی ہتیھلی جلا لی ہے ۔ ” اس نے تشویش بھرے لہجے میں ہمیں ہماری ہتیھلی دکھانےکی کوشش کی ۔ اچانک اسے احساس ہوا کہ وہ اور میں عین گلی میں ہیں ۔
” دیکھئے آئندہ احتیاط سے کام لجیئے گا ۔ میں چلتی ہوں ۔ ” جس تیزی سے وہ ہماری طرف آئی تھی اسی تیزی سے وہ اپنے گھر کی طرف دوڑ گئی ۔
” آپ کا دوپٹہ ” ہم نے صدا لگائی ۔
مگر وہ جا چکی تھی ۔
ہم اپنا زخمی ہاتھ لیئے گلی کے کونے پر واقع اپنے جگری یار غیاث کے گھر گئے ۔ صبح کے 11 بج رہے تھے اور وہ صحن کے عین وسط میں منہ کھولے چارپائی پر سو رہا تھا ۔ اس کے چہرے پر چار پانچ مکھیاں منہ کے معائنے میں مصروف تھیں ۔ مگر جراثیموں کے ڈر کہ وجہ سے اندر جانے سےگریز کر رہیں تھیں ۔ ہم نے اس کو لات مار کر اٹھایا تو وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا ۔ ہمیں دیکھا تو کہنے لگا ” ظالم ۔۔۔ آخری سین چل رہا تھا ۔ ۔۔۔ گلے بھی ملنے نہیں دیا ۔ ” ہم نے کہا ” ابے ! اپنی فلم کا مہورت بند کر ۔۔ یہ دیکھ میرا ہاتھ جل گیا ۔ کسی ڈاکٹر کے پاس لے چل ۔
” اوہ ۔۔ یہ کیسے ہوا ۔ ”
” موٹر بائیک اسٹارٹ کرکے اس کی صفائی میں مصروف ہوگیا تھا ۔ بے دھیانی میں سائلنسر پر ہاتھ رکھ دیا ۔ ”
"چل ۔۔۔ ۔ کسی ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں ۔”
یار ۔۔۔ ہماری گلی میں عین میرے گھر کے سامنے کون آیا ہے ۔ پہلے تو یہاں فاروق صاحب رہتے تھے ۔
” تم نے جب سے کالج کی ہوا کھائی ہے ۔ محلے میں جھانک کر ہی کب دیکھا ہے ۔ دو مہینے قبل وہ مکان بیچ کر جاچکے ہیں اور وہاں نئے پڑوسی آئے ہیں ۔ ”
” ہوں ۔۔۔ ۔ ”
” ہوں ۔۔ کیا ” ۔۔۔ ۔۔۔ غیاث نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے استفار کیا ۔
” کچھ نہیں ۔۔۔ ۔ بعد میں بتاؤں گا ”
ڈاکٹر کے کلینک سے مرہم پٹی سے فارغ ہو کر ہم گھر واپس آگئے ۔
غیاث ہمیں گھر چھوڑ کر جاچکا تھا ۔ اور ہم اپنے کمرے میں بیڈ پر لیٹے والدِ محترم کا سپنس ڈائجسٹ چوری چھپے پڑھنے کی کوشش کررہے تھے ۔ مگر دھیان بار بار اسی کی طرف جا رہا تھا ۔ ہم نے سائیڈ ٹیبل سے اس کا دوپٹہ نکالا اور چہرے سے لگایا تو ایک معطر سی خوشبو دل و دماغ میں اُتر گئی ۔ مگر ہمیں ڈر تھا کہ محلے میں اس طرح کی کارستانی کی بھنک اگر والدِ محترم کو پڑگئی تو اس بار وہ چھتر سے نہیں بلکہ اپنی خاندانی بندوق سےگھر کی چھت پر کھڑا کرکے ہمیں شہزادہ سلیم کی طرح داغنے کی کوشش کریں گے ۔ تاریخ کے مطابق رعایا نے شہزادے سلیم کا ساتھ دیا تھا ۔ مگر یہاں سارا محلہ یہ کہتا ” خان صاحب ! ذرا دیکھ کر گولی ماریئے گا ۔ کہیں نشانہ خطا نہ ہوجائے ۔ ” اور والدِ محترم بھی کہتے ” پٹھان کا نشانہ کبھی خطا نہیں ہوتا ۔ اورلوگوں سے پوچھ پوچھ کر نشانہ داغتے ” ہم نے اس تصور کے خوف سے جھرجھری کھا کر دوپٹے سے کھیلنے کا ارادہ ترک کرکے اُسے واپس سائیڈ ٹیبل میں چھپا دیا ۔
ایک دن میں اتنے تغیرات پر ہم یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے کہ ہمارے ساتھ معاملہ کچھ خاص ہے ۔ کیونکہ ایک عشق ختم نہیں ہوتا دوسرا دروازے پر دستک دے رہا ہوتا ہے ۔ پھر اچانک ہماری نظروں کے سامنے پرنسپل کی صاحبزادی کا سراپا لہرایا تو ہمارے دل میں ایک ہوک سی اٹھی ۔ کیا زبردست خاتون تھیں ۔ مگر ہم نے اس عشق کی ناکامی کو قسمت کی ستم ظریفی سے جوڑتے ہوتے خود کو بڑی بڑی آنکھوں میں‌ غرق کرلیا اور نیند کی وادیوں میں کھو گئے ۔
دوسرے دن ہم اسکول روانہ ہوئے ۔ اسمبلی شروع ہونے میں ابھی کچھ دیر تھی ۔ ہم اسٹاف روم میں بیٹھے ہوئے تھے ۔اسی دوران ہمارے رقیبِ ُروسیا اسٹاف روم میں داخل ہوئے ۔ ہمیں بڑا غصہ آیا کہ ایک دن بھی صبر نہیں‌ ہوا اور فوراً ہی اپنی منظورِ نظر کے دیدار کو آدھمکے ۔ شاہد صاحب کو سب نے خوش آمدید کہا اور طبعیت پوچھی ۔ شاہد صاحب نے بڑی خوش دلی سے سب کا شکریہ ادا کیا ۔ منظورِ نظر سے متوقع ملاقات کی خوشی میں ان کی باچھیں ان کے کان سے بھی پیچھے جالگیں تھیں ۔ اور منہ ” بلیک ہول ” کی مانند کھلا ہوا تھا جس میں کم از کم آدھ سیر کا پورا سیب سمایا جاسکتا تھا ۔ شاہد صاحب ہمارے ساتھ والی کرسی پر بیٹھ گئے ۔
"یار ! آج ساتھ ہی رہنا ۔ آج دل قابو میں نہیں‌ ہے ۔ ”
شاہد صاحب نے سب کی نظر بچاتے ہوئے ہمارا ہاتھ دبا کر شادیِ مرگ کی کیفیت میں اپنے دل کی حالت بیان کرنے کی کوشش کی ۔
ہم کوئی جلا بھنا جواب دینے ہی والے تھے مگر شاہد صاحب کے چہرے پر خوشی دیکھ کر ہمیں ان پر ترس آگیا ۔
” یار حوصلہ کرو ۔۔۔ ۔ اگر یہی کیفیت تم پر طاری رہی تو کہیں ایسا نہ ہو کہ پرنسپل صاحب تمہیں اس کی شادی پر شامیانے میں کرسیاں لگانے پر مامور کردیں اور اس کو کسی اور کیساتھ روانہ کردیں۔“
دل میں نہ ہو جرات اسے محبت نہیں ملتی
خیرات میں اتنی بڑی دولت نہیں ملتی
یہ سنتے ہی شاہد صاحب تن کر بیٹھ گئے ۔
ہم نے کہا ” یار ۔۔ حوصلے کی بات کی ہے ۔ درزی کو شیروانی کے ناپ دینے کی نہیں ۔
خالد صاحب ایک دم سے جھینپ گئے ۔
” یار مذاق کر رہا ہوں ۔ اور تم نروس ہو رہے ہو ۔”
ہم نے اپنی ہنسی پر قابو پاتے ہوئے کہا ۔
” تمہیں کیا معلوم کہ حقیقی محبت کیا ہوتی ہے ۔ ؟ تم نے کبھی کی ہوتی تو معلوم ہوتا کہ اس کیفیت میں انسان کے دل کی کیا حالت ہوتی ہے ۔ ”
انہوں نے شکایتی لہجہ اختیار کرتے ہوئے جواب دیا ۔
شاہد صاحب کی اس بات پر ہمارے دل سے ایک آہ سی اٹھی مگر ہم نے اُسے ہونٹوں پر آنے نہ دیا ۔ ہم ان کو کیا بتاتے کہ ظالم ۔۔۔ ۔ حقیقی محبت کا آغاز ہوا ہی تھا کہ تم گرم ہوا بن کر چل پڑے ۔
” کیا آج تم نے اس کو دیکھا ۔؟ ”
شاہد صاحب نے اشتیاق کے عالم نے سوال کیا ۔
” نہیں ابھی تک تو دیدار نہیں ہوا۔ ”
شاہد صاحب خاموش ہوگئے ۔
تھوڑی دیر بعد وہ جلوہ افروز ہوگئی ۔
جیسے ہی وہ کرسی پر بیٹھی تو ہم نے سب سے اجازت چاہی کہ ہمیں پرنسپل صاحب سے ملنا ہے ۔ ہم نے واضع طور پر محترمہ کے چہرے پر حیرت کے آثار دیکھے ۔ پرنسپل صاحب سے ملنے کا مقصد ہمیں اپنے تدریسی شعبے سے سبکدوش ہونا مقصود تھا کہ وہ حسینہ ہماری نظروں کے سامنے کسی اور کی بن کر نظر آئے ۔ دل کو گوارا نہیں تھا ۔ پرنسپل صاحب موجود نہیں تھے ۔ لہذا ہم دوبارہ اسٹاف روم میں آگئے ۔ مگر شاہد صاحب کے چہرے پر معمول کے اثرات دیکھ کر ہمیں حیرت ہوئی ۔ ہم سمجھے تھے کہ اب تک وہ اپنی منظورِ نظر سے ملکر شادیِ مرگ کی کیفیت میں مبتلا ہوچکے ہونگے ۔ ہم ان کے برابر میں بیٹھ گئے ۔ ہم نے سامنے دیکھا تو وہ ہمیں ہی دیکھ رہی تھی اور اس کی نظروں میں بڑی کاٹ تھی ۔ ہم سمجھ گئے کہ وہ ہماری بے رخی پر رنجیدہ ہے ۔ مگر ہم اس کو کیا بتاتے ہم نے عشق پر دوستی کو مقدم رکھا ہے ۔ وہ اٹھ کر باہر چلی گئی ۔ اسی دوران شاہد صاحب نے ہمیں کہنی ماری اور کہا ۔ ” تم نے تو کہا تھا کہ وہ لاہور سے واپس آگئی ہے ” ۔
ہمیں ایک جھٹکا سا لگا ۔
” کیا مطلب ۔۔۔ ۔ یہ جو سامنے بیٹھی تھی ۔ یہی تو آپ کی منظورِ نظر ہے ناں ”
” ارے نہیں یار ۔۔۔ ۔ پرنسپل صاحب کی یہ لڑکی نہیں ، بلکہ اس سے بڑی والی جو کہ اسی کیساتھ لاہور گئی ہوئی تھی ۔ اس کی واپسی شاید اب تک نہیں ہوئی ہے ”
شاہد صاحب نے اپنے چہرے پر مایوسی سجاتے ہوئے ہماری عشق کی ناؤ میں ایک بار پر تلاطم پیدا کردیا ۔
ہم نے اپنا سر کرسی کی پشت پر ٹکا لیا ۔ اور واقعات ِ دہر کے معاملات پر غور کرنے لگے ۔
کل ہم نےاس عشق سے دستبرداری کا اعلان کیا تھا مگر ہمارے عشق کی چھپڑ پھاڑ قسمت نے فوراً ہی دوسرے عشق کی راہ ہموار کردی تھی ۔ ابھی اس تازہ عشق کا سرور اپنے عروج پر پہنچا ہی نہیں تھا کہ فقیر کی بدعا کی تیز ہوا نے ہماری کشتی کا رخ پھر طوفان کی طرف کردیا ۔ یعنی اب پھر وہی دو عشقوں کا معاملہ سامنے کھڑا تھا ۔
میں‌کہاں جاؤں ، ہوتا نہیں فیصلہ
ایک طرف اس کا گھر ، ایک طرف میکدہ
( جاری ہے )‌‌‌

( چند حسینوں‌کے خطوط ، چند تصویرِ بُتاں ( حصہِ انکشاف )

پھر عجب امتحاں آپڑا تھا ۔ ہم عارضی عشق میں مبتلا ہونے آئے تھے ۔ مگر یہاں مستقل عشق کے آثار پیدا ہوچلے تھے ۔ جس سے ہمارے عشقوں کی بقا ، ملک کی سالمیت کی طرح خطرے میں پڑ چکی تھی ۔ کیونکہ صبح کا اجالا اور شام کی شفق کا خیال ہمارے ذہن سے ایکدم محو ہونا شروع ہوگیا تھا۔ سوچا تھا کالج کی چھیٹیوں میں اسکول کی جاب جوائن کرکے جب مصنوعی عشق میں مبتلا ہوجائیں گے تو کالج واپسی پر ہمیں فیصلہ کرنے میں آسانی ہوجائےگی ۔ مگر حالات نے ایسا پلٹا کھایا تھا کہ ہمارا نام تاریخ میں عشق کے حوالے سے ایک مشہور ٹی وی اسٹار کیساتھ لکھے جانے کا خطرہ پیدا ہوگیا تھا ۔ جس کے ہم ہرگز محتمل نہیں ہوسکتے تھے ۔ ناچار ہمیں اس سلسلے میں دوبارہ شاہد صاحب سے رجوع کرنا پڑا جو بیمار تھے ۔ ہمارے ذرائع کے مطابق شاہد صاحب معمولی سے موسمی زکام کا شکار تھے ۔ سو ہم نےاسکول جانے سے قبل ان کی عیادت کا پروگرام بنایا اور ان کے گھر پہنچ گئے ۔
شاہد صاحب کو جس حال میں ہم نے بسترِ علالت پر دیکھا تو سوچا کہ عیادت کے بجائے ان کی تعزیت کرکے چلے جائیں ۔ مگر ہم نے اس فریضے کو کسی اور وقت پر اٹھا رکھا ۔ ہمیں ان کی شکل کسی میز پر پڑی ہوئی سوکھی ہوئی اُلٹی ناسپاتی کی طرح لگی ۔ موصوف دو عدد کنگ سائز کے کمبلوں میں 35 سینٹی گریڈ کے درجہ حرارت میں لپٹے ہوئے پڑے تھے ۔ داوؤں کا ایک وافر ذخیرہ ان کے بستر کی سائیڈ ٹیبل پر موجود تھا ۔ جسے دیکھ کر ہمیں یقین ہوگیا کہ بازار میں داوؤں کی قلت کا ذمہ دار کون ہے ۔ کچھ دیر ہم تحمل سے بیٹھے رہے مگر جب شاہد صاحب نے کوئی حرکت نہ کی تو ہم نے سوچا ان کے گھر والوں کو خبر کردیں کہ شاہد صاحب کا کمرہ ان کے چھوٹے بھائی کے لیئے خالی ہوگیا ہے ۔ اچانک شاہد صاحب زور سےکراہے تو ہم نے اس خبر کی اشاعت موخر کردی ۔ شاہد صاحب نے نیمِ مرگ کی مانند ہمیں دیکھا ۔ ہم نے ان کی خود ساختہ نزع کی حالت کو نظر انداز کرتے ہوئے جھٹ سے سلام جڑ دیا ۔ اور ان کی خیریت پوچھی ۔
انہوں نے خفگی کا اظہار کیا اور کہا ” اب آئے ہو ۔۔۔۔ وہ بھی اکیلے ” ۔
ہم سے رہا نہیں گیا اور کہا ” آپ فکر نہ کریں ۔ تین آدمی بھی کہیں سے مل ہی جائیں گے ۔ ”
انہوں نے ہماری بات کو شاید سمجھا نہیں اور کہا ” میرا مطلب ہے کہ ہماری منظورِ نظر کو بھی ساتھ لے آتے ۔ کم از کم مجھے اس حال میں دیکھ کر اس کا دل پسیجتا اور اپنا دل ہار بیٹھتی ۔ ” ہم سمجھ گئے کہ شاہد صاحب نے روایتی عاشقوں کی طرح اپنی بیماری کا ڈرامہ رچا کر اپنی منظورِ نظر کی ہمددریاں سمیٹنے کی کوشش کی ہے ۔
” شاہد صاحب ۔۔۔ ! ہماری اطلاع کے مطابق ، آپ کی منظور نظر کی اب تک واپسی نہیں‌ ہوئی ہے ۔ مگر آپ کے ڈرامے میں اس قدر جان ہے کہ اگر وہ آ بھی جاتی تو سب سے پہلے آپ کو اس حال میں دیکھ کر آپ کے چالیسویں کا دن ضرور مقرر کرتی ۔ کچھ خدا کا خوف کرو یار ۔ اس قدر گرمی میں دو لحاف لیکر پڑے ہوئے ہو ۔”
” لگتا ہے میں نے غلط اندازہ لگا لیا ۔ کیونکہ میری اطلاع کے مطابق اسے اب تک آجانا چاہیئے تھا ۔ خیر تم سناؤ کیا پروگریس ہے ۔ ”
انہوں نے جھنپتے ہوئے اپنے ایکسرے جیسے جسم سے دونوں لحاف ہٹاتے ہوئے سوال کیا ۔
” کیا بتاؤں ۔۔۔ بس قیامت ہوگئی ہے ۔ ” ہم نے اضطراری کیفیت اختیار کرتے ہوئے جواب دیا ۔
” یا اللہ خیر ۔۔۔۔ اسکول میں تو سب ٹھیک ہے ناں ۔ کہیں تم نے ۔۔۔۔۔ ” اس سے پہلے شاہد صاحب ہمارے کردار پر سیاستدانوں کی طرح انگلیاں اٹھاتے، ہم نے انہیں روک دیا ۔
” یار ! پوری بات سنو ” ہم نے جُھلجھلاتے ہوئے کہا ۔
” ہم تیسرے عشق میں مبتلا ہوگئے ہیں ۔ ” ہم نےاپنی نئی کشمکش کا سبب ان کے سامنے بیان کردیا ۔
” ویری گڈ ۔۔۔ یہ تو بہت اچھا ہوا کہ کالج کی چھٹییاں ختم ہونے سے پہلے تمہارا مسئلہ حل ہوگیا ۔ اب دیکھتے ہیں کہ کالج واپسی پر تمہارے نصیب میں صبحِ نور آتا ہے یا شامِ چراغ ۔ ”
” ایسا نہیں ہے ۔۔۔۔ معاملہ ہمیشہ کی طرح المناک صورت اختیار کرگیا ہے ۔ ” ہم نے رونی سی صورت بنا لی ۔
” کیوں کیا ہوگیا ” شاہد صاحب نے تشویش اور حیرت جیسی ملی جلی کیفیت میں سوال داغا ۔
” کل ہم نے جو حسین سراپا دیکھا ، اس کے بعد دل کسی طرف مائل نہیں ہورہا ۔ سمجھ نہیں آتا کہ ایکدم سے ہمیں کیا ہوگیا ہے ۔ ”
پھر ہم نے بےچارگی کے عالم میں یہ شعر پڑھا ۔۔۔
میری قسمت میں عشق گر اتنے تھے
دل بھی یارب کئی دیے ہوتے
” یار ! کم از کم شعر تو صحیح کہہ لو ” شاہد صاحب نے بسترِ مرگ پر بھی غالب کا دفاع کیا ۔
” جنابِ من ۔۔۔ اگر چچا غالب ایسی کشمکش میں مبتلا ہوتے تو وہ بھی اسی خیال کے مالک ہوتے ۔ “
ہم نے شاہد صاحب پر پوسٹ مارٹم شدہ شعر کے فضائل وضع کرنے کی کوشش کی ۔
” اچھا چھوڑو یہ شعر و شاعری اور بتاؤ ۔۔۔۔۔ پھر کیا ہوا ، کون تھی ، کیا کوئی بات ہوئی ، اسکول ٹیچر تھی یا کوئی وزیٹر تھی ۔ ؟ ”
شاہد صاحب نے ایک ساتھ 12 وٹامن کی گولیاں کھا کر سوالات کی بوچھاڑ کرڈالی ۔
” بس اسکی ایک جھلک دیکھ پایا ، اور اس نے جس نظر سے ہمیں‌ دیکھا ، ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ اس نظر میں کچھ اور تسلسل رہتا تو ہم دیوانے ہوجاتے ۔ ”
ہم نے شاہد صاحب پر اپنی کیفیت عیاں کرنے کی کوشش کی ۔
” ہمممم ۔۔۔۔ ” شاہد صاحب نے سوچ میں پڑگئے ۔
” آج اسکول جاؤ ۔۔۔۔ اگر ٹیچر ہے تو ضرور نظر آجائے گی ۔ ویسے تم نے کسی میلے میں ماں سے بچھڑے ہوئے بچے کی طرح اپنی جو شکل بنا رکھی ہے ۔ اسے دیکھ کر یہ اُمید کی جاسکتی ہے کہ یہ تمہارا آخری اور حتمی عشق ہوگا ۔ اور اگر ایسا ہے تو تم کو چنداں فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں کہ تمہارے "سابقہ ” عشقوں کا کیا ہوگا ۔ میرے بھائی ۔۔۔ ! زندگی میں ایک ہی عشق کافی ہوتا ہے ۔ اگر یہ عشق سچا ہے تو تمہارے عشقوں کو بریک لگ جانا چاہیئے ۔ اس صورتحال میں یہ سودا برا نہیں ہے ۔ ”
شاہد صاحب نے ہمارے موجودہ عشقوں کو سابق قرار دینے کا فتوی جاری کرتے ہوئے ہماری فقیرانہ طبعیت پر بھی چوٹ کی ، مگرہم نے اسے نظرانداز کردیا کیونکہ ہمیں کوئی ایسا سیاسی بہانہ درکار تھا جو ہمیں اپنے پچھلے بیانات ( عشق ) سے منحرف کردے ۔ چنانچہ ہم نے ان کے فتویٰ پر لبیک کہتے ہوئے اپنے دونوں عشقوں سے منحرف ہوتے ہوئے اس کی تمام تراخلاقی ذمہ داری شاہد صاحب پر ڈال دی ۔
” شاہد صاحب ۔۔۔۔ تُسی گریٹ ہو ” ہم جذبات سے مغلوب ہوگئے ۔ مگر ہم نے ان کے ہاتھ چومنے سے پرہیز کرتے ہوئے صرف اسے تھامنے تک ہی محدود رکھا ۔ کیونکہ کسی تمباکو کے پان کی کیساتھ اب ہم میں داؤوں کی بُو سونگھنے کی بلکل ہمت نہیں تھی ۔
شاہد صاحب کی دعاؤں اور فتوے کے بعد ہم اسکول کی طرف روانہ ہوئے ۔ جانے کیوں دل کو یقین ہوچلا تھا کہ آج اُس لالہ رخ سے ملاقات ہوجائے گی ۔ راستے میں اس حسینہ کے تصور میں ہم ایسے منہمک ہوئے کہ اسکول سے بھی تقریبا تین کلو میٹر آگے نکل گئے ۔ ہوش تب آیا جب ہم ایک بھینس سے بغلگیر ہوتے بال بال بچے ۔ بھینس نے غصے کے عالم میں اپنی غزالی آنکھوں سے ہمیں دیکھا اور ایک لمبی سی ” ہوں ” کی ،۔ ہمیں ایسا محسوس ہوا کہ جیسے کہہ رہی ہو ” شرم نہیں آتی کسی کو چھیڑتے ہوئے ۔ ” ۔ بھینس کے اس شکوے پر ہمیں اپنے ذوق کی بے مائیگی کا شدت سے احساس ہوا ۔ مگر ہم نے یہ بھی شکر کیا کہ آس پاس کوئی بیل نہیں تھا ۔ ورنہ اس کو بھینس کے سامنے اپنے نمبر بناتے ہوئے ذرا سی بھی دیر نہیں لگتی ۔ ہم نے کمالِ پھرتی سے موٹر سائیکل کو تقریباً زمین پر لٹاتے ہوئے واپس موڑا اوراسکول کی طرف ایک بار پھر روانہ ہوگئے ۔ اسکول ذرا تاخیر سے پہنچے ۔ اسمبلی شروع ہوچکی تھی اور قرات جاری تھی ۔ ہم سیدھا اپنی جگہ گئے اور وہاں ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوگئے ۔ غیرارادی طور پر ہماری نظر سامنے خواتین ٹیچرز کی قطار پر پڑی ۔ وہ وہاں موجود تھی ۔ ہمارا سانس اوپر کا اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا ۔ ہم نے واضع طور پر اس کو اپنی طرف متوجہ پایا ۔ ہمارے دل کی دھڑکن اتنی بلند ہوگئی کہ ساتھ کھڑے ہوئے مجاہد صاحب ہمیں خونخوار نظروں سے گھورنے لگے۔ شاہد وہ سمجھے کہ ہم اپنی جیب میں موبائل فون پر ایف ایم 11 سے لطف اندوز ہو رہے ہیں ۔ خوشی کے عالم میں ہم قومی ترانے میں بھی ہاتھ باندھے کھڑے رہے ۔
حسبِ معمول اسمبلی سے فارغ ہوکر ہم اسٹاف روم آئے ۔ ہمارے ساتھ مجاہد صاحب بھی تھے ۔ ان کا بھی ہماری طرح کلاس ٹیچر نہ ہونے کی وجہ سے پہلا پریڈ کہیں نہیں تھا ۔ ہمیں بے چینی سے اس حسینہ کے کوائف درکار تھے ۔ مجاہد صاحب سے اس بارے میں پوچھنا ، مطلب پولیس کے تفتیشی مراحل سے گذرنا تھا ۔ سو ہم خاموش رہے ۔ ہم نے وقت گذاری کے لیئے اخبار کی طرف ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ وہ اسٹاف روم میں داخل ہوئی اور عین ہماری سامنے والی کرسی پر آکر بیٹھ گئی ۔
” السلام علیکم سر ” ۔ ہمیں ایسا لگا جیسے کسی نے کوئی مدھر سا گیت چھیڑ دیا ہو ۔ وہ ہم سے ہی ہمکلام تھی اللہ اللہ ۔
” وعلیکم السلام ” ہم نے مشینی انداز میں جواب دیا ۔
” آپ کے بارے میں کافی سنا تھا ، سوچا کہ واپسی پر فوراً آپ سے ملاقات کی جائے ۔ مگر ۔۔۔۔ کل آپ کہاں غائب ہوگئے تھے ۔ ” اس نے شکوے بھرے لہجے میں پوچھا ۔
ہمیں ایسا محسوس ہوا جیسے دفتر سے واپسی پر تاخیری کے سبب ہمیں نخرہ دکھایا جا رہا ہے ۔ اور پھر ہم نے خیالوں ہی خیالوں میں دروازے پر شوہروں کی طرح اسے اپنا بریف کیس پکڑواتے ہوئے بھی دیکھا ۔
” سر ۔۔۔۔ کہاں ہیں آپ ” اس نے ہمیں دوبارہ اسٹاف روم میں لاتے ہوئے پکارا ۔
ہم اس کو کیا بتاتے کہ ” اے حسینہ ! کل تجھ کو کہاں نہیں ڈھونڈا ، ساری رات ہم نے تیرے تصور میں گذاری ، چوبیس گھنٹوں سے بھی کم عرصے میں ہم اپنے تمام سابقہ عشقوں سے بھی تائب ہوئے ۔ ”
” دراصل کل مجھے ایک ضروری کام تھا ۔ اس لیئے اسکول تا دیر ٹہر نہیں سکا ” ہم نے اپنی خودی کو بلند رکھا
ہم نے سوچا کہ کل اسے ہم ڈھونڈتے رہے اور یہ ہمیں ڈھونڈتی رہی ۔ مگر ٹکراؤ کہیں نہیں ہوا یہ بات سمجھ نہیں آئی ۔
” اوہ اچھا۔۔۔۔ خیر آپ سنائیں ، اسکول میں پڑھانے کے سوا اور آپ کیا کرتے ہیں ۔ ” اس نے بڑی انہماکی سے پوچھا
” پڑھانے کے علاوہ ہم بس عشق کرتے ہیں ۔ ” ہمارے منہ سے نکلتے نکلتے رہ گیا ۔
” ہم فرسٹ ائیر کے طالب علم ہیں ۔ شاہد صاحب نے کالج کی چھٹیوں میں اسکول میں پڑھانے پر رحجان دلایا کہ اس سے پچھلے نصابوں کی بھی یاد دہانی ہوجاتی ہے ۔ ”
ہم نے کمالِ ڈھٹائی کیساتھ دروغ گوئی سے کام لیا ۔
” ہاں یہ تو سچ ہے ۔ کیونکہ میں نے بھی یہی سوچ کر یہاں پڑھانے کا سلسلہ جاری کیا اور اس بہانے پاپا کا بھی کچھ کام سنبھال لیتی ہوں ۔ ”
اس کے جملے کے آخری حصے سے ہمارے ذہن میں خطرے کی گھنٹی بجی اور ہم نے استفار کیا ۔
” پاپا کا کام ۔۔۔۔۔ میں کچھ نہیں سمجھا ۔ ”
” ” ارے ۔۔۔ آپ نئے ہیں ناں ۔۔۔ اس لیئے شاید آپ کو علم نہیں کہ پرنسپل صاحب میرے پاپا ہیں ۔ ”
اس نے گویا ہمارے سر کے عین اوپر دھماکہ کرتے ہوئے انکشاف کیا ۔
“ یعنی ۔۔۔۔ آپ ۔۔۔ پرنسپل صاحب کی صاحبزادی ہیں ۔ “ ہم نےعطااللہ خاں نیازی کی طرح شدتِ کرب کے عالم میں اس انکشاف پر جیسے گنگنانے کی کوشش کی ۔
“ جی ہاں ۔۔۔ میں پرنسپل صاحب کی ہی صاحبزادی ہوں ۔“ وہ اُسی طرح مترنم تھی ۔
ہماری آنکھوں کے سامنے جیسے اندھیرا چھانے لگا ۔ یہ کیفیت کالج میں کسی طالبہ کی طرف مسلسل دیکھنے پر اس کی طرف سےصلواتیں سننے پر بھی طاری نہیں ہوئی تھی ۔ مگرہماری حالت اب غیر تھی ۔ ہم اپنی محبت کے تصوراتی ڈرامے کے پہلے ہی سین میں بریف کیس سمیت دروازے پر سے ہی لوٹا دیئے گئے تھے ۔
کیونکہ اس بار ہم اپنا سب کچھ لُٹا کر جسے اپنا دل سونپ چکے تھے ۔ وہ شاہد صاحب کی منظورِ نظر تھی۔
( جاری ہے )‌‌‌‌‌‌

کچھ حسینوں کے خطوط ، کچھ تصویرِ بُتاں ( سانحہِ سوئم )

ہم حسبِ وعدہ شاہد صدیقی کے اسکول پہنچ گئے ۔ ہم نے کارٹن کی شرٹ اور بلو جینز زیب تن کی ہوئی تھی ۔ ہماری معصوم سی شکل سے متاثر ہوکر اسکول کے چوکیدار نے ہمارے پسندیدہ لباس کو اسکول کی یونیفارم سمجھ کر ہمیں اندر جانے سے روک دیا اور کہا ” اوئے خوچہ ! تم اتنی دیر سے اسکول کیوں آیا اے ۔ ام تم کو اندر نئیں جانے دیگا ۔ ”
ہم نے کہا ” خان صاحب ! آپ کو سمجھنے میں غلطی فہمی ہوئی ہے ۔ ام ۔۔۔۔ ہمارا مطلب ہے کہ ہم ۔۔۔ اس اسکول میں پڑھنے نہیں بلکہ پڑھانے آئے ہیں ۔”
خان صاحب بولے ” اوئے امارا ساتھ مخولی مت کرو اور اپنا والدینِ محترم کو ساتھ لاؤ ۔ ”
ابھی یہ بحث جاری تھی کہ شاہد صاحب اندر سے نمودار ہوئے اور کہا ” یار کہاں رہ گئے تھے اور یہاں گیٹ پر کیا کررہے ہو ۔ ”
ہم نے کہا ” لگتا ہے خان صاحب چوکیداری سے پہلے انڈر 19 کرکٹ ٹیم کی سلکیشن کمیٹی میں تھے کہ ان کو اپنی عمر کا یقین دلانا مشکل ہو رہا ہے ۔”
شاہد صاحب نے ہماری بات کو نظرانداز کرتے ہوئے کہا کہ ” چھوڑو اس قصے کو ، اندر چلو ۔ پرنسپل صاحب انتظار کر رہے ہیں ۔ ”
ہم شاہد صاحب کیساتھ پرنسپل کے کمرے میں داخل ہوئے تو پرنسپل صاحب نے ہمیں بیٹھنے کو کہا ۔
پرنسپل صاحب نے ہمارے تعارف اور تعلیمی اسناد دیکھنے کے بعد کہا ۔
” شاہد صاحب نے آپ کواسکول کے قوانین اور باقی تفصیلات سے آگاہ کردیا ہوگا ۔ ”
” آپ کو دن میں چار پریڈز لینے ہیں ۔ دو نویں اور باقی دسویں کلاس میں ۔۔۔۔۔ میں آپ کو ہزار روپے ماہانہ دوں گا ۔ آپ کو قبول ہے ۔ ؟ ”
ہمیں تو پرنسپل صاحب ، پرنسپل سے زیادہ قاضی لگے ۔
اور موصوف ہمیں ایک ہزار روپوں کی نوید ایسے سنا رہے تھے جیسے کسی خزانے کی کنجی ہمارے ہاتھ میں پکڑا رہے ہوں ۔ خیر ہمیں اپنے مقصد کی تکمیل سے غرض تھی اور وہ ان پیسوں کیساتھ پوری ہو رہی تھی تو کیا برا تھا ۔ ؟
جی ۔۔۔ میں راضی ہوں ۔
ہم نے ” قبول ” ہے کہنے سے قدرے اجتناب کیا ۔
"گڈ ۔۔۔۔۔ شاہد صاحب ! آپ انہیں ان کی کلاسز دکھادیں ۔ امید ہے کہ آپ کا یہاں وقت اچھا گذرے گا ۔ ”
پرنسپل صاحب نے گویا ہمیں جانے کی اجازت دیدی ۔
اسکول میں لڑکوں اور لڑکیوں کی تعداد کے تناسب میں خاصا فرق تھا ۔بعد میں ہم نے حساب لگایا تو یہ تناسب لڑکیوں کے حق میں نکلا ۔ یعنی 73 فیصد لڑکیاں اور 27 فیصد لڑکے ۔
سب سے پہلے شاہد صاحب ہمیں اسٹاف روم لے گئے ۔ اور ہمارا تعارف تمام اساتذہ سے کرایا ۔ ہمیں یہ دیکھ کر بیحد خوشی ہوئی کہ پرنسپل صاحب نے ٹیچرز کی تعداد میں بھی اسکول کے طلباء و طالبات جیسا تناسب رکھا ہوا تھا ۔ یعنی یہاں بھی خواتین کو مردوں کی تعداد پر سبقت حاصل تھی ۔ شاہد صاحب کے علاوہ ایک اور حضرت اساتذہ کی فہرست کا حصہ تھے ۔ جن کا نام مجاہد معلوم ہوا ۔ شکل سے ہمیں حُجتی لگے ۔ ماشاءاللہ وہ اتنے باریش تھے کہ ان کو اپنے گربیاں کے چاک ہونے کی چنداں فکر کھانےکی کوئی ضرورت نہیں تھی ۔انہیں اسلامیات کے مضامین پڑھانے کے لیئے مقرر کیا گیا تھا ۔ ہم تینوں کے سوا باقی سب خاتون ٹیچرز تھیں ۔ جن کی تعداد ہم پہلی نظر میں گن چکے تھے ۔ تعداد تواصولاً 9 بنتی تھی ۔ مگر ایک خاتون ٹیچر اتنی صحت مند تھیں کہ ہم اس تعداد کو ساڑھے 9 سے کم قرار دینے پر ہرگز تیار نہ ہوئے ۔ چند ایک اتنی حسین تھیں کہ سوچا کہ آج ہی سے اپنے عشق کے رجسٹر میں کسی ایک کا کھاتہ کھول دیں ۔ مگر شاہد صاحب کی نظروں میں اپنے لیئے تنبیہہ پا کر ہم اس ارادے سے باز رہے ۔ شاہد صاحب نے مذید کہا کہ ابھی چند ٹیچرز کچھ دنوں‌کی رخصت پر ہیں ۔لہذاٰ اُن سے تعارف اُنکی واپسی پر موقوف ٹہرا ۔ یہاں سے شاہد صاحب ہمیں نویں و دسویں کی کلاسز میں لے گئے اور وہاں بھی ہمارا تعارف کرایا گیا ۔ ہمیں محسوس ہوا کہ ہماری اور طلباء و طالبات کی عمروں میں کچھ زیادہ فرق نہ ہونے کی وجہ سےطالبات ہمیں شوخی اور طلباء شکی نظروں سےدیکھ رہے ہیں ۔ خیر پہلا دن تعارف کی نظر ہوگیا ۔ اور ہم پرنسپل اور شاہد صاحب سے اجازت لیکر گھر روانہ ہوگئے ۔ہمیں کل سے باقاعدہ طور پر اسکول ایک استاد کی حثیت سے آنا تھا ۔
دوسرے دن ہم ایک ٹیچر کی حیثیت سے اسکول پہنچ گئے ۔ مگر خان صاحب کو دوبارہ گیٹ پر دیکھ کر ٹھٹکے ۔ لیکن خان صاحب نے ہمیں دیکھ کر اپنی باچھیں پھیلادیں ‘ اور کہا ” پخیر راغلے سر جی ۔۔۔۔آج آپ کو اسکول میں پہلا دن مبارک ہو ” ۔ ہم نے خان صاحب کا شکریہ ادا کیا اور اندر داخل ہوگئے ۔ شاہد صاحب کی ہدایت کے مطابق ہم پہلے اسٹاف روم گئے ۔ جہاں خاتون ٹیچرز کے علاوہ مجاہد صاحب بھی براجمان تھے ۔ ابھی اسکول کی اسمبلی شروع ہونے میں کچھ وقت باقی تھا ۔ سلام کے بعد مجاہد صاحب نے اپنی شخصیت کے تاثر کے عین مطابق باقاعدہ ہمارا انٹرویو لینے کا آغاز کردیا ۔ ہمیں بھی انٹرویو دینے میں کوئی ترّرد نہیں ہوا کہ تمام خاتون ٹیچرز کی نظریں اخبار اور کان ہمارے انٹرویو پر لگے ہوئے تھے ۔ ابھی وہ ہمارے شجرہ ِ نسب پر ہی تھے کہ شاہد صاحب آگئے ۔ جس سے انٹرویو کا سلسلہ موقوف ہوگیا ۔
اسمبلی کے دوران ہم سے شاہد صاحب نے سرگوشی میں پوچھا ” کیا کوئی پیش رفت ہوئی ۔ ؟ ”
ہم نے نفی سے سر ہلا دیا
” خیر ابھی پہلا دن ہے ۔ پہلے سب سے واقفیت پیدا کرلو ۔”
ہم نے شکر کیا کہ شاہد صاحب کےدماغ میں‌ یہ بات آگئی ۔
” آپ کی منظورِ نظر کہاں ہے ۔ آپ نے اس سے تعارف نہیں کرایا ۔ ”
ہم نےایک خدشے کے پیشِ نظر شاہد صاحب سے سوال کیا ۔
” کیوں ۔۔۔۔ اس کے بارے میں کیوں پوچھ رہے ہو ۔ ؟ ”
شاہد صاحب نے شکی لہجہ اختیار کرتے ہوئے ہم سے الٹا سوال کر ڈالا ۔
” وہ اس لیئے کہ کسی سے ” آنکھ مٹکا ” کرنے سے پہلے ہمیں یہ علم ہونا چاہیئے کہ وہ کہیں آپ کی منظورِ نظر تو نہیں ۔ ”
ہم نے جل کر جواب دیا ۔
” اوہ ۔۔۔ ہاں صحیح کہہ رہے ہو ۔ ” شاہد صاحب کے چہرے پر خجالت کے آثار نمودار ہوگئے ۔ مگر ان کی آنکھوں کے ڈیلے پھر بھی کسی تاثر سے بے نیاز رہے ۔
” وہ اپنی خالہ کے گھر لاہور گئی ہوئی ہے ۔ کچھ روز میں واپسی متوقع ہے ۔ ”
اپنی منظورِ نظر کا ذکر کرتے ہوئے ان کی آنکھوں کے ڈیلوں کےدرمیان تعلقات اچانک کشیدہ سے محسوس ہوئے ۔ شاید انہوں نے تصور میں اس کے سراپے کو مختلف زاویوں سے اپنے ڈیلوں میں سمونے کی کوشش کی تھی ۔
ہم اپنی باتونی طبعیت کے باعث خواتین ٹیچرز میں جلد ہی گھل مل گئے ۔ حسبِ توقع ہمیں کئی حسینوں نے آنکھوں کے راستے پیار کے سندیسے بھیجے ۔ جنہیں دیکھ کر ہمارا دل کئی بار مچلا ۔ مگر ہم نے اپنی فقیری عاشقانہ طبعیت کو مشکل سے قابو میں رکھا ، کیونکہ شاہد صاحب کے مشورے کے مطابق ہماری کوشش تھی کہ کسی کیساتھ اپنے مصنوعی عشق کا آغاز کریں ۔ مگر دل اس مصنوعی پن پر ہرگز راضی نہ ہوا ۔ کئی دن اسی شش و پنچ میں گذر گئے ۔ اسی دوران شاہد صاحب کی طبعیت ناساز ہوگئی اور وہ کچھ دن کی رخصت لیکر گھر پر آرام فرما ہوگئے ۔ چنانچہ ان کی کلاسیں لینا بھی ہمارا مقدر ٹہریں اور ہم مکمل طور پر تدریسی شعبے سے وابستہ ہوگئے ۔ ایک دن ہم دسویں کلاس کے آخری پریڈ میں جیومیٹری کے رازوں سے پردے اٹھا رہے تھے کہ اچانک ہماری نظر کلاس کے باہر کھڑکی سے باہر راہدری پر پڑی ۔ جیومیٹری کے جس زاویئے کی ہم تعریف کررہے تھے بلکل اسی زاویئے پر ہمارا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا ۔ ایسا حسین چہرہ ، ایسا حسین سراپا ، ہم نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا ۔ امی حضور کی تمام خواتین ڈائجسٹوں سے چوری چھپے پڑھی جانے والی کہانیوں کے تمام اقتباسات ہمارے ذہن میں یکدم روشن ہوگئے ۔ دودھیا رنگت پر کالی زلفیں ناگ بن کر اس کے کارٹن کے کُرتے پر بنے ہوئے ڈیزائن سے اٹھکھیلیاں کر تی ہوئی نظر آئیں ۔ ہرنی جیسی آنکھوں میں ستاروں جیسی چمک جھلملا رہی تھی ۔ سرخ انگوری ہونٹوں پر جان لیوا مسکراہٹ کا بسیرا لگا ۔ چوڑی دار پاجامے میں اس کی قد و قامت کسی دیودار کے درخت کی مانند لگی ۔ صراحی دار گردن میں ایک سنہری لاکٹ اپنی قسمت پر رشک کرتا ہوا نظر آیا ۔ کانوں میں سلور جُھمکے سورج کی سنہری تپش میں قوح و قزح کا سماں باندھتے ہوئے محسوس ہوئے ۔ سفید کُرتے کے گلے کے کڑائی کے کام میں ہمارا پسندیدہ نیلا رنگ نمایاں تھا ۔ اسکے بائیں رخسار پر پڑے ہوئے گڑھے کے بھنور میں ہم نے خود کو گویا ڈوبتا ہوا محسوس کیا ۔ خواتین ڈائجسٹ کی کہانیوں میں پڑھے ہوئے بہت سے جملے ابھی باقی تھے کہ وہ ظالم حسینہ ہمارے سامنے دیکھتے ہی دیکھتے ، ہرنی کی طرح قلانچیں بھرتی ہوئی نظروں سے اوجھل ہوگئی ۔ اور ہم پلٹ کر دیکھنے والے کی طرح پتھر کے بُت بنے رہ گئے ۔ کب پریڈ ختم ہوا ۔ کب چھٹی ہوئی ، کب کس اسٹوڈینٹ نے آکر ہمارا کُھلا ہوا منہ بند کیا ، کچھ یاد نہیں ۔ بس اتنا یاد ہے کہ اس نے ہمیں ایک لمحے ترچھی نظر سے دیکھا تھا ۔ جو تیر کی مانند ہماری آنکھوں سے ہوتا ہوا دل میں اتر گیا ۔ اور ہم یہ کہنے کی آس دل میں لیئے کھڑے رہ گئے کہ :
ترچھی نگاہ سے نہ دیکھو اپنے عاشق ِ دل گیر کو
کیسے تیر انداز ہو ، سیدھا تو کر لو تیر کو
اسکول کی چھٹی کے بعد ہم اُسے چاروں طرف دیوانہ وار ڈھونڈتے رہے لیکن وہ کہیں نظر نہیں آئی ۔ اور ہم اس تڑپ کیساتھ گھر واپس لوٹے کہ ” ایک بار دیکھا ہے ، دوسری بار دیکھنے کی ہوس ہے "۔ گھر آکر ہم کھانا کھائے بغیر اپنے کمرے میں چلے گئے اور اس کے تصور میں کھو گئے ۔ کاش کسی فلم کے ہیرو ہوتے تو خیالوں میں اس کے ساتھ کسی گانے میں جلوہ افراز ہوجاتے اور گانے کا ایک سین سنگاپور میں فلماتے تو دوسرا سین سوئیزلینڈ میں اور کوئی روک ٹوک بھی نہیں‌ہوتی ، بلکہ پورا فلمی اسٹاف ہمارے عشق کے تحفظ کی خاطر کیمرے لیئے ہمارے آگے پیچھے ہوتا ۔ رات خوابوں میں بھی وہی سراپا لہراتا رہا ۔ ہم خلاف ِمعمول صبح جلدی اٹھ گئے ۔ اور حسب ِ توقع والدِ محترم نے ہمیں حیرت سے دیکھا اور کہا ” جاؤ ! سو جاؤ ۔۔۔ میں دودھ لے آیا ہوں ۔ ” ہم ان کے طنز پر کوئی تبصرہ کیئے بغیر ، فجر کی نماز پڑھنے کا اعادہ کرتے ہوئے وضو کے لیئے باتھ روم میں گھس گئے۔ ہمیں یاد آیا کہ ہم نے آخری بار ساتویں کلاس میں فجر کی نماز پڑھی تھی جس میں اللہ میاں سے سالانہ امتحان کے پرچے میں ہونے والی غلطی کی درستگی کے لیئےگڑگڑا کے دعا کی تھی ۔ کیونکہ ہم تاریخ کے پرچے میں زبردست دھاندلی کے مرتکب ہوئے تھے کہ دیوارِ برلن توڑنے کا سہرا محمود غزنوی کے سر باندھ آئے تھے ۔

(جاری ہے )

چند حسینوں کے خطوط ، چند تصویرِ بُتاں ( قصہ دوم )

ہم نے شاہد صدیقی کو تلاش کیا اور انہیں ایک خان صاحب کے کیفے لے گئے ۔ ہمیں معلوم تھا کہ چائے شاہد صدیقی کی کمزوری ہے ۔ لہذا ان کی خاطر ومدارت بھی چائے سے کرنا لازم و ملزوم ٹہری ۔ ابھی چائے کا نزول ہوا ہی تھا کہ موصوف نے ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے چائے کا چینک ( کیتلی ) ایک سانس میں خالی کردیا ۔ اس قدر گرم چائے اور اس طرح حلق میں اُتارنے کا مظاہرہ ہم نے پہلی بار دیکھا تھا ۔ حلق میں جانے کس کمپنی کی فائبر آپٹیکل کیبل نصب کرائی ہوئی تھی کہ ساری چائے حلق چھوئے بغیر ان کے معدے میں براجمان ہوچکی تھی ۔ ہم نے خان صاحب کو دوسری چینک کا آرڈر دیا اور جلدی سے اپنا مسئلہ شاہد صدیقی کے سامنے گوشوار کردیا کہ ہمارے جیب میں اب مذید چائے کے لیئے معقول رقم موجود نہیں تھی ۔
ہماری داستانِ غم سن کر انہوں نے پہلے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو سر کے پیچھے باندھتے ہوئے ایک سرد آہ بھری اور پھر کسی سوچ میں گُم ہوگئے ۔ یہ بتانا بہت مشکل تھا کہ انہوں نے اپنی آنکھیں بھی بند کر لیں تھیں ۔ کیونکہ ان کی آنکھوں کے پپوٹے ان کی آنکھوں کے ڈیلوں سے بہت چھوٹے تھے ۔ ایک ڈیلے کا سائز تقریباً ایک سواتی سیب جتنا تھا ۔ اور ان پپوٹوں سے ان ڈیلوں کا احاطہ کرنا تقریباً ناممکن تھا ۔ ہم کچھ دیر تو صبر کرتے رہے ۔ مگر جب ان کا استغراق طول کھینچنے لگا تو ہمیں چائے کی آمد کی خبر دیکر ان کو اُلوؤں کی طرح شاخ سے اتارنا پڑا ۔ انہوں نے اپنی کھلی ہوئی آنکھوں کو مذید کھولنے کی ناکام کوشش کی اور میز پر انگلیاں بجاتے ہوئے خان صاحب کی طرف دیکھنے لگے ۔ ہم نے ان کو اپنا مدعا یاد دلایا تو بڑی گھمبیر آواز میں مخاطب ہوئے ۔
” یار تمہارا مسئلہ واقعی بہت پیچیدہ ہے ۔ اور حقیقت یہ ہے کہ تمہیں ایک عشق پانے کے لیئے دوسرے عشق سے دستبردار ہونا پڑے گا ۔”
ہم نے بڑی عاجزی سے عرض کیا ۔
” جی جناب ۔۔۔ ہمیں علم ہے ۔۔۔ مگر کسی ایک عشق سے ہاتھ دھونا ہمیں زندگی سے ہاتھ دھونے کے مترادف لگ رہا ہے ۔ سمجھ نہیں آتا کیا کروں ”
ہم نے شاہ رخ خان کی طرح گھیگیانے کی ناکام ایکٹنگ کی ۔
اے غمِ زندگی ، کچھ تو دے مشورہ
ایک طرف اس کا گھر ، ایک طرف میکدہ
شاہد صدیقی نے دوسری چینک کیساتھ بھی تاتاریوں جیسا سلوک روا رکھا ۔
” دیکھو ۔۔۔۔۔ ” شاہد صاحب نے جیسے کچھ کہنے کا آغاز کیا ۔
” لگتا یہی ہے کہ یہ عشق تمہارے روح کےاندر اُتر چکے ہیں ۔جن سے جدائی تمہارے لیئے ممکن نہیں ۔ اس کا علاج یہی ہے کہ کسی ایک عشق کا اثر تمہارے دل سے کچھ اس طرح زائل ہو جائے کہ دوسرا عشق تمہاری زندگی کی حتمی صورت بن جائے ۔ ”
” مگر یہ کیسے ممکن ہے ۔۔۔۔۔ ؟ ” ہم تقریباً گڑگڑائے ۔
ہمیں ان کے فلسفے سے زیادہ اپنے مسئلے کے حل کی فکر تھی ۔
انہوں نے میز پر دونوں کہنیاں ٹکاتے ہوئے اپنے بڑے بڑے ڈیلوں کو ہماری جھیل جیسی معصوم آنکھوں میں جھانکتے ہوئے جیسے ڈبونے کی کوشش کی اور پھر فلسفیانہ انداز میں کہا ۔
” تمہیں ۔۔۔ ایک تیسرا عشق کرنا پڑے گا ”
ہمیں ایسا لگا کہ کسی بچھو نے ہمیں ڈنگ مار دیا ہو ۔ مگر ہم پٹھان کے ہوٹل کی بوسیدہ چھت کا خیال کرکے اچھلنے سے باز رہے ۔
” شاہد صاحب ۔۔۔ ہم آپ کو اپنا مسیحا سمجھ کراپنا جیب خرچ بمعہ موٹر سائیکل کے پیٹرول کے پیسے ، چائے کی صورت میں آپ پر وار چکے ہیں ۔ کیا یہ صبح کا اجالا اور شام کی شفق ہماری ننھنی سی جان کے لیئے آزمائش نہیں تھا کہ آپ تیسرے عشق کا مشورہ فرما رہے ہیں ۔ کچھ تو خیال کجیئے ۔ ”
“یار ۔۔۔ تم نرے احمق ہو ۔ عشق کا روگ لگا لیتے ہو ۔ پھر دردِ دل کی دوا ڈھونڈتے ہو “۔ شاہد صدیقی نے تقریباً جھنجھلاتے ہوئے کہا ۔
دیکھو ۔۔۔۔ اگر تم تیسرا عشق کروگے تو تمہارے دل سے ان دو عشق میں سے کسی ایک عشق سے بیزاری خود بخود پیدا ہوجائے گی ۔ اور جس سے بیزاری پیدا ہوجائے اس کو الوادع کہہ کر دوسرے والے کو اپنی مستقل منزل بنالینا ۔ آسان سا حل ہے ۔ ”
” پھر تیسرے عشق کا کیا ہوگا ۔؟ ”
ہم نے اپنی زیرو وولیٹج والی کھوپڑی سے ان کے اس عظیم الشان منصوبے کو سمجھتے ہوئے اپنا خدشہ بیان کردیا ۔
” پھر وہی احمقوں والی بات ۔۔۔۔ ارے تم تیسرا عشق کونسا دل کے کہنے پر کروگے ۔ وہ عشق تو تم اپنے ان عشقوں میں سے کسی ایک عشق کو بھلانے کے لیئے انجام دوگے ۔ جب منصوبہ پایہ ِ تکمیل تک پہنچے گا تو تیسرے عشق کو بھلانا کونسا مشکل ہوگا کیونکہ اس کی افادیت صرف قیلوے کے مترادف ہوگی ۔ ”
شاہد صدیقی کو شاید ہماری طبعیت کا اندازہ نہیں تھا ۔ سو ہم نے ڈرتے ڈرتے ان سے سوال کیا
” اگر تیسرے عشق میں بھی ہم دل و جاں سے فدا ہوگئے تو ۔۔۔۔۔۔۔ ؟ ”
یہ سنتے ہی شاہد صدیقی نے پی آئی اے کے پرانے فوکر جہاز کی طرح کرسی پر بیھٹے بیھٹے کئی خوفناک جھٹکے لیئے اور پھر غصے سے کھڑے ہوگئے ۔
” یار ۔۔۔۔ عجیب آدمی ہو ۔۔۔۔ عشق بھی تم اس طرح ہضم کر لیتے ہو جیسے مولوی حلوے کا حشر کرتے ہیں ۔ میں تم کو اتنا مفید مشورہ دے رہا ہوں اور تم عشق میں ڈنڈی پہ ڈنڈی مار رہے ہو ۔ کچھ تو خوفِ خدا کرو ۔ ”
ہم ڈر گئے کہ شاہد صدیقی ناراض ہوگئے تو ان کو منانا پھر بہت مشکل ہوگا ۔
” سوری شاہد صاحب ۔۔۔۔۔ غلطی ہوگئی ۔۔۔ ٹہریئے ۔۔۔ میں چائے کا آرڈر دیتا ہوں۔ ”
ہم نے خان صاحب سے ادھار کا تقاضا کرتے ہوئے تیسری چینک کے لیئے استدعا کی ۔
“‌شاہد صاحب ۔۔۔۔ آپ کا مشورہ پوری طرح سمجھ آگیا ہے ۔ واقعی تیسرا مصنوعی عشق ہی اجالا اور شفق میں‌ سے ، کسی ایک کے انتخاب میں مدد دے سکتا ہے ۔ مگر ہنوز دلّی دور است ” ۔ ہم نے اپنی پریشانی پھر ظاہر کی ۔
” اب کیا ہوگیا ۔ ؟ ”
شاہد صدیقی نے بیزاری سے استفار کیا
” یہ تیسرے عشق کا سامان کہاں سے دستیاب ہوگا ۔ ؟ ”
ہم نے بلآخر اپنا حتمی مدعا بیان کردیا ۔
شاہد صدیقی صاحب نے اپنے ” انٹولے ” کو جیسے بھینچنے کی کوشش کی ۔ اس سے پہلے وہ ہمیں کچھ اور خطابات سے نوازتے ۔ ہم نے فوراً کہا ۔
” لجیئے شاہد صاحب ! چائے آگئی ۔۔۔ پیجیئے اور پلیز ہماری احمقانہ باتوں کو نظرانداز کرکے اس معاملے میں ہماری مدد فرمایئے۔ ”
چائے دیکھ کر شاہد صاحب کی آنکھیں واپس سواتی سیب جتنی ہوگئیں ۔
” میرے پاس اس کا بھی ایک حل ہے ۔ ” شاہد صدیقی نے کچھ توقوف کے بعد کہا ۔
ہماری باچھیں کان سے جا لگیں ۔
” جی جی ارشاد ۔۔۔۔ ”
ہم صبر کی آخری سرحدوں پر کھڑے ہوگئے۔
” میرے اسکول میں دسویں کلاس کے لیئے میتھ کے ٹیچر کی ضرورت ہے ۔ تم وہ جاب جوائن کرلو ۔ ”
ہمیں بہت غصہ آیا کہ پورے 33 امتیازی نمبروں کیساتھ ہم نے حساب کا پرچہ دسویں کلاس میں پاس کیا تھا ۔ اب موصوف ہمیں جانے کس آزمائش کی طرف دوبارہ دھکیل رہے تھے ۔
” اس سے کیا ہوگا جناب ۔۔۔۔ ” ہم نے بڑی عاجزی سے پوچھا ۔
” پوری بات سنو ۔۔۔۔۔ شاہد صاحب نے ایک مشہور مذہبی اسکالر کی طرح ہمیں مذید کچھ کہنے سے روک دیا ۔
” وہاں خاتون ٹیچرز ہیں ۔ جن میں سے اکثر میری طرح کالج میں بھی پڑھتیں ہیں اور اسکول میں بھی پڑھاتیں ہیں ۔ ان میں سے کسی ایک کے ساتھ آنکھ مٹکا کر لو ۔ ”
ہمیں ایسا محسوس ہوا کہ جیسے شاہد صاحب ،گاؤں کے کسی چودھری کی طرح ہمیں اپنا اُچکا سمجھ کر کسی کڑی کو چُک لینے کی بات کر رہے ہیں ۔
” جناب ۔۔ یہ آنکھ مٹکا تو فلرٹ کے دائرے میں آتا ہے ۔ کیا ایسا کرنا مناسب ہوگا۔؟ ”
ہم نے اپنی اخلاقی جرات کو بروئے کار لاتے ہوئے شاہد صاحب سے ان کے مشورے پر نظرِ ثانی کے لیئے اشارہ کیا ۔
” تمہیں فلرٹ ہی کرنا ہے ۔ اس لیئے اس لفظ کا انتخاب کیا ۔ اگر تیسرا سچا عشق کرنا ہے تو میری طرف سے کوئی پابندی نہیں ہے ۔ مگر خدا کے لیئے میرے پاس مت آنا ۔
شاہد صاحب نے ہری جھنڈی ہاتھ میں پکڑ لی ۔ اس سے پہلے وہ ہری جھنڈی لہراتے ۔ ہم نے کہا ۔
” ٹھیک ہے شاہد صاحب ۔۔۔۔ ہم اس منصوبے پر عمل کرنے کے لیئے پوری طرح تیار ہیں ۔ اب آگے آپ جو حکم کریں ”
“پیر کے دن میرے اسکول آجانا ۔ میں اپنے اسکول کے پرنسپل سے اس سلسلے میں بات کرلوں گا ۔ اُمید ہے وہ تمہیں انٹرویو کے بغیر ہی جاب دیدیں گے ۔ ”
ہم نے شاہد صاحب کا ہاتھ کسی مرشد کی طرح بڑی عقیدت سے چوما ۔ جس سے کسی تمباکو کے پان کی بُو آرہی تھی ۔ اور پیر کے دن حاضر ہونے کا وعدہ کرتے ہوئے اجازت طلب کی۔
ہم اپنی موٹر سائیکل پر بیٹھے ہی تھے کہ پیچھے سے شاہد صاحب نے آواز لگائی ۔
” ہاں ایک بات دھیان میں رکھنا ۔ ”
ہم ہمہ تن گوش ہوگئے ۔
” وہاں پرنسپل کی لڑکی بھی پڑھاتی ہے ۔ خبردار ۔۔۔۔ اس کی طرف نظر اٹھا کر بھی دیکھا ۔وہ ہماری منظورِ نظر ہے ۔ ”
” جو حکم جناب ۔۔ بندہ اس طرف دیوارِ چین تعمیر کرلے گا ۔ آپ بےفکر رہیں ۔ ”
” میں بے فکر نہیں رہ سکتا کہ تم وہاں نازل ہو رہے ہو ۔ خیر بس اب دھیان رکھنا ۔ خدا حافظ ”
ہم سوچ میں پڑگئے کہ کوئی لڑکی شاہد صاحب کی منظورِ نظر کیسے ہوگئی ۔ کیونکہ اگر وہ کسی مرد کی آنکھوں میں اپنی بیضوی آنکھوں سے دیکھ لیتے تھے تو وہ بھی چکرا جاتا تھا ۔ اور کسی صنف نازک کی آنکھوں میں براہ راست جھانکنے کا مطلب ، اس غریب کی بے ہوشی سے مشروط ہوتا ہوگا ۔ معاملہ یکطرفہ لگتا تھا ۔ خیر ہمیں اپنے معاملے کی فکر تھی ۔ لہذا ہم نے موٹر سائیکل اسٹارٹ کی اور گھر کی طرف روانہ ہوگئے ۔
(جاری ہے ) ‌

چند حسینوں کے خطوط اور چند تصویرِ بُتاں

زندگی بڑی عجیب شے ہے ۔ انسان اکثر کسی چھوٹی سی چیز کو پانے کے لیئے مچل جاتا ہے مگر مجال ہے کہ وہ چیز میسر آجائے ۔ اور جب تھوڑے پر قناعت کرنا چاہے تو وہی حال ہوتا ہے جو چھپر پھٹنے کے بعد اکثر دیکھنے کو ملتا ہے ۔ یعنی جو چھپر پھاڑ کر ملتا ہے اس کے نصف سے چھپر کی مرمت کرانی پڑتی ہے ۔ اور باقی نصف پولیس والوں کو دینا پڑتا ہے باوجود اس لاکھ دھائی کہ ظالموں ! میں نے ‌کہیں سے چوری نہیں کیا ہے بلکہ اوپر والے نے چھپر پھاڑ کردیا ہے ۔ مگر آج کے زمانے میں‌ کون ان پرانی باتوں پر یقین کرتا ہے اور وہ بھی پولیس والے ۔
تو صاحبو ! قصہ کچھ یوں ہے کہ ہمیں زندگی میں پہلا عشق ہوا ۔ یہ میڑک کے دور کی بات ہے ۔ ابھی اس عشق کو پروان چڑھے تقریباً پونےتین دن ہی ہوئے تھے کہ اچانک ایک انکشاف یہ ہوا کہ کسی اور خاتون کو بھی ہم سے عشق ہوگیا ہے ۔ یہ وہ نکتہِ آغاز ہے، جس کا ہم نےسب سے پہلے اپنی آپ بیتی میں ذکر کیا ۔ مجال ہے کہ آدمی کو عشق ہوجائے اور چلو ہو بھی جائے تو پھر چھپر پھاڑ کر ملنا اس نازک معاملے میں‌ کیا معنی رکھتا ہے ۔ پھر اس دو رخی عشق ( جسے دو رخی تلوار کہنا زیادہ مناسب رہے گا ) میں سب سے بڑا ستم یہ تھا کہ جس سے ہم نے عشق کیا اس کے سامنے ہم جوان ہوئے ۔ سو جب بھی دل کی بات کہنے کی کوشش کی تو معمر مستورات کا احترام جانے کیوں ہمارے زبان کی چاشنی بننے لگتا ۔ اور پھر ہم نے اُسے ہمیشہ باجی کہہ کر مخاطب کیا اور بعد میں کھسیا کر اپنی ادبی طبعیت کو کوستے ہوئے ٹائم وغیرہ پوچھ لیا کرتے تھے ۔ متعدد بار کوشش کی کہ اپنی دل کی بات اس دل ُروبا کو کہہ دیں مگر زبان نے بھی گویا قسم کھا رکھی تھی کہ آپا اور باجی کے علاوہ منہ سے کچھ اور نہیں اُگلنا ۔ ویسے بھی ضیاءالحق کا وہ بڑا نازک دور تھا ۔ اس زمانے میں حقوق العباد کا جذبہ نوجوانوں میں بہت عام ہوا کرتا تھا ۔ جس کے نتیجے میں ہر بس اسٹاپ پر بس کے اگلے حصے سے ( جو خواتین کے لیئے مختص تھا ) وہاں ‌سے نوجوانوں کو برآمد کرکے ڈنڈوں اور لاتوں سے تواضع کی جاتی تھی ۔ اس کارِ خیر میں نوجوانوں کیساتھ کچھ بزرگ بھی حصہ لیکراپنی کھوئی ہوئی جوانی کی بھڑاس نکال لیا کرتے تھے ۔
اسی دوران دوسرے عشق کا سانحہ ہوگیا ۔ دوسرے عشق کا سانحہ پہلے عشق کے المیے کے بلکل برعکس تھا ۔ یعنی جس سے ہمیں عشق ہوا اس کے سامنے ہم جوان ہوئے اور جسے اب ہم سے عشق ہوا ۔ وہ محترمہ ہمارے سامنے جوان ہوئیں ۔ عشقِ اول میں ہماری زبان آپا اور باجی کی تکریم کی پابند تھی جبکہ عشقِ دوم میں زبان ، ِبیٹا رانی کہہ کہہ کر نہیں‌ تھکتی تھی ۔ بہت عرصے تک ہم سر مارتے رہے کہ اپنی زبان کو لگام دیں مگر ہر کوشش بےسود ثابت ہوئی۔ بلآخر فیض کی اس نظم سے ہم نے اپنے دل کے بناسپتی گھی سے جلے ہوئے چراغ بجھائے ۔
کچھ عشق کیا ، کچھ کام کیا
پھر آخر تنگ آکر ہم نے
دونوں کو ادھورا چھوڑ دیا
خیر میڑک کا زمانہ گذر گیا ۔ چونکہ ہم اپنے دیگر دوستوں کی طرح عشق کی اصل روح سے صحیح طور پر واقف نہیں ہو سکے تھے۔ اس لیئے کئی اچھے دوستوں کو اسکول میں‌ چھوڑ کر آگے کالج کی دنیا میں قدم رکھا ۔ دوستوں نے ہمیں بڑی لعنت ملامت کی کہ ہم انہیں چھوڑ کر جا رہے ہیں مگر دوستوں کی گریہ آوزری سے زیادہ ہمیں اپنے والدِ محترم کے اس چھتر کی فکر تھی ۔ جو انہوں نے صرف اس ارادے سے خریدا تھا کہ اگر ہم میڑک میں فیل ہوگئے تو ہماری پشت ہٹا کر یہ وہاں نصب کردیا جائے گا ۔
کالج کی دنیا ، ایک نئی دنیا تھی ۔ حتٰی کہ ہم خود کو بھی نئے نئے سے لگے ۔ اسکول میں اپنا خیال کیا رکھا ہوگا جو ہم نے کالج میں اپنے ہی ناز اٹھائے۔ ہم بوائز اینڈ گرلز کالج میں پدھارے تھے ۔ یوں لگتا تھا کہ جیسے سارے شہر کا حسن ، ہماری کلاس میں بس گیا ہے ۔ ہماری کلاس میں یوں ‌تو کئی حسین چہرے تھے ۔ مگر جس چہرے نے ہمیں متاثر کیا اس کا ذکر کرنا شامتِ اعمال کو دعوت دینے کے مترادف ہوگا کہ آج کل وہ قومی اسمبلی کی ممبر ہیں ۔ اس کی آمد گویا آمدِ بہار ہوتی تھی اور لوگ اسے چوری چھپے دیکھتے تھے ۔ مگر خدا کی قسم ۔۔۔ ہم نے کبھی اسےچوری چھپے نہیں دیکھا ۔ بلکہ جب بھی دیکھا ٹکٹکی باندھ کر دیکھا ۔ جس پر ایک دن ہمارے پروفیسر صاحب خفا ہوگئے اور کہا “ یہ کہاں دیکھ رہے ہو ۔ شرم نہیں آتی کلاس میں بیٹھ کر ایسی حرکتیں کرتے ہو ۔“ ہم نے بڑی عاجزی سے عرض کیا کہ ” سر ! رات سوتے ہوئے گردن توڑ ہوگیا ہے اس لیئے گردن اپنے زوایے پر قائم نہیں رہی ۔ گردن موڑنے سے قاصر ہوں اگر آپ کہیں تو کلاس سے نکل جاتا ہوں ۔ مگر آپ جیسے قابل استاد کا لیکچر سننے سے محروم رہ جاؤں گا ۔ ” پروفیسر صاحب نے تاسف بھرے لہجے میں احیتاط کی ہدایت کی اور اپنے لیکچر میں مشغول ہوگئے اور ہم موصوفہ کو لیکچر کے دوران جی بھر دیکھتے رہے ۔
ٹکٹکی باندھ کر مسلسل دیکھنے سے ہمیں واقعی گردن توڑ ہوگیا ۔ اور ساتھ یہ خوف بھی غالب آگیا کہ اگر کسی دن موصوفہ نے اپنی کرسی بدل لی تو ہمارا کیا ہوگا ۔ اس عمل سے جہاں ہماری زرافے جیسی گردن پر اثر پڑا ۔ وہاں والدِ محترم پر ہماری تعلیمی قابلیت کی قلعی بھی کُھل گئی ۔ انہوں نے اپنے خریدے ہوئے چھتر سے ہمارے وہ طبق روشن کیئے جس کا مڈیکل سائنس کی تاریخ میں کوئی ذکر نہیں ملتا ۔ اس روایتی تشدد کے نتیجے میں ہمیں گردن توڑ کے ساتھ مذید توڑوں سے بھی مستفید ہونا پڑا ۔ مذید ستم یہ ہوا کہ ظالم ڈاکٹروں نے ہمیں اہرامِ مصر کی کوئی ممی سمجھ کر ایسی مرہم پٹی کی کہ صرف ناک سے سانس لینے کا راستہ کُھلا چھوڑا ۔ اور جب ہم پلاسٹر اور پٹیوں میں جکڑے کرسی پر بیٹھے ہوئے ہوتے تو محلے کے بچے ہمیں حرکات و سکنات سے محروم دیکھ کر جھاڑو کے تنکوں سے ہماری ناک میں گدگدی کر کے ہمیں چھینک دلانے کی کوشش کرتے اور جب ہمیں چھینک آتی تو پلاسٹر کی وجہ سے جو کچھ جڑا ہوا ہوتا تھا وہ پلاسٹر کے کُھلنے کے بعد ٹوٹی ہوئی چائینا کی پلیٹوں کی طرح برآمد ہوجاتا ۔ جس پر ڈیوٹی بھی کوئی مقرر نہیں تھی ۔ اور ہم بے پیندہ لوٹے کی طرح سجدہ ریز ہوجاتے ۔اس خاص موقع پر گلی میں ہمارا کوئی دشمن اپنے اسٹیریو پر اقبال کا شعر بغیر کسی کمرشل کے ، حبیب ولی محمد کی آواز میں بار بار دھراتا :
” تیرا دل تو ہے صنم آشنا ، تجھے کیا ملے گا نماز میں ”
ہماری شاندار تعلیمی قابلیت کو دیکھتے ہوئے والد ِ محترم کے ایک دوست نے مشورہ دیا کہ ” لونڈا ۔۔ پڑھائی میں‌ دھیان نہیں دے رہا ہے تو اس کو کوچنگ سینڑ پر بٹھا دو ۔ ( ہمیں تو یوں محسوس ہوا کہ جیسے کسی کوٹھے پر بٹھانے کی بات کہہ رہے ہوں ) ۔
کوچنگ سینٹر میں دوسرا دن تھا کہ اس پر نظر پڑ گئی ۔ کیا بلا کی سادگی تھی ، کیا سانولا پن تھا ۔ یعنی اوپر والے نے پھر چھپر پھاڑ کر دیا تھا ۔ صبح و شام کے اوقات آسان ہوگئے تھے ۔ کالج جاکر آنکھوں کو سیکنے کی خواہش صبح ہی صبح بیدار کردیتی تو والد صاحب بڑی حیرت سے دیکھتے اور پوچھتے کیوں خیریت ! اتنی صبح کیسے اٹھ گئے۔ ؟ کیا دودھ لینے جانا ہے ۔؟ ” اور شام کو ڈوبتے سورج جیسی شفق کو قریب سے دیکھنے کی خواہش بغیر کسی کاہلی کا مظاہرہ کیے ، کوچنگ سینٹر لے جاتی تھی ۔ دونوں جگہ وقت کی پابندی اور تعلیم میں دلچسپی اس بات کا مظہر تھی کہ میں عنقریب کراچی میں ٹاپ کرنے والا ہوں ( یہ میرے والدِ محترم کا نکتہِ نظر تھا ) ۔
ایک جانب کسی کے حسن سے ہم بے حال تھے تو دوسری طرف کسی کے سانولے پن اور سادگی نے ہماری دل کی دھڑکنوں کو بے ترتیب کیا ہوا تھا ۔ کسی طور بھی دل کو قرار نہ تھا ۔ لگتا تھا کہ یہ اسی فقیر کی بدعا کا نتیجہ ہے جس کی لُنگی میں بچپن میں ہم نے پٹاخہ باندھ دیا تھا ۔ اور پھر اس نے دھوتی اٹھا کر جو بدعا دی تھی اس کا تذکرہ کرنا اخلاقی تقاضوں کے مطابق مناسب نہیں لگتا ۔ سو پہلے بھی ہم بیک وقت دو عشقِ بُتاں میں‌ گرفتار ہوئے ۔مگر فیض کے اشارے پر دونوں‌کو ادھورا چھوڑنا پڑا ۔ اب پھر وہی معرکہ آن پڑا تھا ۔ ادھر جائیں تو دل ہاتھ سے نکلتا تھا ۔ اُدھر جائیں‌ تو جگر پیٹنے کا جی کرتا تھا ۔ عجب کشمکش کا عالم تھا ۔ اب فیض بھی نہیں‌ رہے تھے کہ ان سے کوئی دوسری نظم لکھوا لیتے ۔ اچانک ہمیں اپنے دوست شاہد صدیقی کا خیال آیا ۔ جو ہمارے ساتھ کالج میں‌ پڑھتے تھے مگر ذہانت کا وہ عالم تھا کہ ایک پیرائیوٹ اسکول میں شعبہِ تدریسی سے بھی منسلک تھے ۔ ہمیں پورا یقین تھا کہ ان کی ذہانت ہمارا کوئی ” ایک عشق ” متعین کرنے میں کارآمد ثابت ہوگی ۔