ذاتی استدلال اور رائے ۔ ( اسلام اور موسیقی )

اسلام اور موسیقی کے حوالے سے میں ان تمام دوست و احباب کا مشکور ہوں جنہوں نے اپنی قیمتی رائے اور تبصرہ جات سے نوازا ۔ کچھ سوالات اس ضمن میں اٹھائے گئے ہیں ۔ چونکہ زیادہ تر سوالات میری ہی تحریر اور استدلال کے بارے میں ہے ۔ لہذاٰ میں نے کوشش کی ہے کہ میں اپنا وہ استدلال اور رائے واضع کرسکوں ۔ جس کے بارے میں میرا خیال ہے کہ میں اس کو وضع کرنے میں ناکام رہا ۔ میں اُمید کروں گا کہ بجائے اس کے کہ میرے استدلال ، دلائل اور ثبوت کو زیرِ بحث بنایا جائے ، دوست احباب اپنا استدلال ، دلائل اور ثبوت پیش کریں تاکہ ان کے مطالعہ سے کسی مثبت اور مفید بحث کا آغاز ہوسکے ۔ کسی کی بات پر استدلال پیش کرنا بہت آسان ہوتا ہے ۔ مگر جب یہ استدلال ، دلائل اور ثبوت کے ساتھ سامنے آئے تو ہوسکتا ہے کہ میری کم علمی کیساتھ کسی اور کی غلط فہمیوں کا بھی تدارک ممکن ہوسکے ۔
میں نے تحریر میں جس آیتِ کریمہ کا سب سے پہلے حوالہ دیا ہے ۔میرا خیال ہے آپ احباب اس آیاتِ کریمہ کے ترجمے پر غور کریں تو ان آیات ِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اشیاء کی حرمت کی پانچ اساسات بیان فرمائی ہیں۔
1- فواحش (بے حیائی )
2- اثم (حق تلفی )
3- ناحق زیادتی و سرکشی
4- شرک اور اس سے متعلق ہر شے
5- اللہ کی سند کے بغیر کسی چیز کو دین کے طور پر بیان کرنا (بدعت)
ان آیات کو سامنے رکھ کر یہ بات واضع ہوجاتی ہے کہ قرآنِ کریم میں آلاتِ موسیقی کی ممانعت کا براہِ راست حکم نہیں آیا ہے ۔چنانچہ اس کے بعد ان کی حرمت کے لیے ضروری ہے کہ ان کو مذکورہ بالا میں سے کسی کیٹگری سے متعلق کیا جائے ۔ ظاہر ہے کہ یہ ممکن نہیں ، بلکہ ان کا تعلق تو اس زینت سے ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ ان آیات میں دریافت فرماتے ہیں کہ انہیں کس نے حرام قرار دیا ہے؟
موسیقی کے حوالے سے ممانعت کا جو حکم ہمیں احادیث میں ملتا ہے ، اس کا پس منظر سمجھ لینا چاہیے ۔ رسول اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں آلاتِ موسیقی کا استعمال اپنے ساتھ بڑ ی آلائشیں پیدا کر چکا تھا۔ موسیقی کی محفلیں بیہودہ رقص، عریانی، بے حیائی، فحش کلمات و اعمال ، زنا اور شراب نوشی کے اہتمام کے ساتھ آراستہ کی جاتیں تھیں ۔ظاہر ہے کہ یہ چیزیں دین میں ممنوع اور حرام ہیں ۔ چنانچہ اسی پس منظر میں رسول اللہ علیہ وسلم نے “ سدِّ ذریعہ “ کے اصول پر لوگوں کو موسیقی سے سخت متنبہ کیا کیونکہ اس کے سارے لوازم معثیتِ رب کا باعث تھے ۔تاہم اپنی ذات میں چونکہ آلات موسیقی کوئی ممنوع شے نہیں ، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی پس منظر میں بعض موقعوں پر موسیقی کی اجازت دی ہے ۔جیسے:
’’سیدہ عائشہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور اس وقت میرے پاس دو لڑ کیاں جنگ بعاث کے حوالے سے گانا گا رہی تھیں ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا منہ دوسری طرف پھیر کر لیٹ گئے ۔اتنے میں حضرت ابوبکر تشریف لائے ۔ انہوں نے یہ دیکھا تو ناراضی سے فرمانے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں شیطانی آلات ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر سے فرمایا کہ ابو بکر جانے دو ۔(ایک دوسری روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ جانے دوآج ان کی عید کا دن ہے )۔‘‘
( صحیح بخاری: باب العیدین:527)
اگر موسیقی کے ساتھ کوئی فحش یا سفلی جذبات کو انگیخت کرنے والا کلام پڑھا جائے یا اسی مقصد کے تحت رقص وغیرہ کو ساتھ شامل کر لیا جائے تو ایسی موسیقی کی حرمت میں کسی کو اختلاف نہیں ہے۔ اصل اختلاف اس میں ہے کہ وہ زائد وجہ کون کون سی ہو سکتی ہے جس کے پیش نظر موسیقی کو حرام کہا جا سکتا ہے۔ جمہور علما کے نزدیک ایک بڑی اور بنیادی وجہ موسیقی کا ‘لہو’ ہونا ہے، یعنی یہ ایک ایسی چیز ہے جو انسان پر ایک خاص کیفیاتی لذت طاری کر کے اسے اللہ کی یاد سے غافل کر دیتی ہے۔ اب چونکہ یہ صورت کم وبیش ہر موسیقی میں پائی جاتی ہے، اس لیے جمہور علماء دف کے علاوہ ، جس کی اجازت حدیث میں منصوص طور پر بیان ہوئی ہے، باقی کسی بھی آلہ موسیقی کے استعمال کو ناجائز کہتے ہیں۔ اس کے برعکس بعض دوسرے اہل علم فی نفسہ کسی چیز کے ‘لہو’ ہونے کو حرمت کی کافی دلیل نہیں سمجھتے، کیونکہ دل کو بہلانے والے بہت سے امور کی اجازت شریعت میں ثابت ہے، بشرطیکہ وہ دل کو بہلانے تک محدود رہیں اور انسان اس سے آگے بڑھ کر ان میں اس طرح کھو نہ جائے کہ دین ودنیا کے فرائض اور ذمہ داریوں سے ہی غافل ہو جائے۔ مزید برآں ‘دف’ کی اجازت حدیث سے ثابت ہونے کے بعد دوسرے آلات موسیقی کو فی نفسہ مباح تسلیم نہ کرنے کی بھی کوئی معقول وجہ دکھائی نہیں دیتی، اس لیے کہ ایک دلکش اور سرور بخش آواز پید اکرنے میں تمام آلات موسیقی شریک ہیں، چنانچہ اگر باقی آلات موسیقی کو بھی ‘دف’ پر قیاس کرتے ہوئے فی نفسہ مباح کہا جائے تو بظاہر اس میں کوئی مانع دکھائی نہیں دیتا ۔
احادیث میں دف کے ذکر آنے کا پس منظر بھی یہی ہے کہ دین میں موسیقی “اصلاً “ ممنوع نہیں ۔اصل بات یہ ہے کہ دف کے استعمال میں آسانی کی بناء پر اسے پیشہ ور گانے والوں کے علاوہ عام لوگ بھی استعمال کرتے تھے ، اسی لیے اس کا ذکر آ جاتا ہے ۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ دف اسلامی ساز ہے اور باقی غیر اسلامی۔ عہدِ جدید میں تو آپ کا ٹیلفون ، موبائل، کال بیل وغیرہ سب ہی آلاتِ موسیقی بن چکے ہیں ۔ لہٰذا اصل بات یہ کہ اپنی ذات میں گانا اور موسیقی حرام نہیں ، لیکن جب جب اس میں کوئی دوسری اخلاقی آلائش شامل ہو گی (اور اکثر ہو ہی جایا کرتی ہے ) تو اس سے بچنا ضروری ہوجائے گا۔یہ بات ہمیشہ ملحوظ رکھی چاہیے ۔
ان معاملات میں انسانی نفسیات بہت اہم ہے ۔ اس طرح کے تمام معاملات میں انسانی ذہن جس طرح کام کرتا ہے ۔ اس میں وہ حقیقت کو سمجھے گا ۔ اور پھر حقیقت سے معاملات کا تعلق پیدا کرے گا ۔ یعنی چیز کو اصل میں‌ جانے گا اور پھر دیکھے گا کہ وہ فراء میں کیسے جارہی ہے ۔ یعنی انسانی نفسیات ان طرح کے معاملات کو قانونی زاویئے سے دیکھتی ہے ۔ اس سلسلے میں ایک قاعدہ وجود میں آتا ہے ۔ تاکہ لوگوں کو کوئی سوال کرنے کی ضرورت پیش نہ آئے ۔
اس کے برعکس اگر قرآن کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات واضع ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ طریقہ اختیار نہیں کیا ۔ یعنی اللہ کسی بھی چیز کو قانون کے دائرے میں رکھ کر انسانوں کے سامنے نہیں رکھتا ۔ بلکہ وہ اجمالی ہدایاتیں دیتا ہے ۔ بعض چیزوں کے حددو متعین کرتا ہے ۔ پھر اس کے بعد ایک دائرہ ہوگا جو انسانوں پر چھوڑ دیں گے ۔ کیونکہ انسانی فطرت اور مزاج میں‌ تنوع ہوتا ہے ۔ اس لیئے اللہ اس کا خاص خیال رکھتا ہے ۔
ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہی یہی ہے کہ ہم نے مذہب کو قانونی اصطلاحات میں اسیر کرکے ایک طاقت پر قائم رہ جانے والا نظام بنا کر پیش کیا ہے ۔ ہمارا معاشرہ ہو یا ریاست ، اس نے دین کے احکامات کی اخلاقی روح کو اقدار بنانے کے بجائے دین کے احکام کو مجموعہِ قوانین بنا کر اس کو بلا لحاظ نافذ کردینے کا ایک تصور پال رکھا ہے ۔ جو ہمارے یہاں ایک تنوع ، جبر اور ناکامی کا سبب بنا ہے ۔ جب ہم اسلام کو لوگوں کے سامنے پیش کر رہے ہوتے ہیں تو ایسا نہیں ہوتا کہ ہم اقدار پر مبنی کسی تصور کی بات کررہے ہیں بلکہ ہم قوانین پر ایک فکر کو فروغ دے رہے ہوتے ہیں جس پر ہمارا تمام اصرار اسی بات پر ہوتا ہے کہ یہ قانین نافذ کر دیئے جائیں یا یہ حدودِ قوانین آجائیں تو اس سے فلاح آسکتی ہے لہذاٰ اس طرزَ عمل سے اقدار کا جو تصور ہوتا ہے، وہ مجروع ہوجاتا ہے ۔ اسلام بنیادی طور پر اقدار پیدا کرنا چاہتا ہے ۔ مگر ہم اس کو ایک قانونی شکل دیکر معاشرے میں سختیاں اور رکاوٹیں پیدا کردیتے ہیں ۔ اور علامہ اقبال نے بھی شاید اسی بناء پر کہا تھا کہ “ مسلمانوں نے پانچ سو سالوں سے سوچنا چھوڑ دیا ہے ۔ “
موسیقی جائز ہے ، ناجائز ہے ، حلال ہے یا حرام ہے ۔ یہ اپنا زاویہِ نظر اور استدلال ہے ۔ اور یہ زاویہِ نظر اور استدلال اپنے مکتبِ فکر کا محتاج ہے ۔ میری ساری بات کا ماخذ یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جتنی بات فرمائی ہے ۔ ہم اس کو صرف اُتنا ہی رہیں دیں ۔ اس کے بعد اس باتوں پر اپنا کوئی استدلال پیش کرنا کوئی بری بات نہیں ہے ۔ مگر ہم اس کو فرمانِ الہی بھی نہیں بنا سکتے ۔ یہ درست ہے کہ گانوں کی شکل میں جو موسیقی ہر جگہ سنی اور سنائی جا رہی ہے ، اسے قابل قبول قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس طرح کی موسیقی سے پرہیز ہی کرنا چاہیے۔ “ لیکن دین کی اصولی بات بھی اپنی جگہ ہے ۔ اصولاً موسیقی کو ناجائز قرار دینے کی کوئی دلیل نہیں ہے “ ۔ ( میری ساری تحریر کا سارا ماخذ ہی یہی کلیہ تھا ) البتہ موسیقی کے عمومی استعمال میں جو قباحت موجود ہے ، اسے سامنے رکھتے ہوئے اگر استعمال درست نہ ہو تو یہ گنا ہ ہے۔ جائز موسیقی کی بعض صورتیں ہمارے ہاں بھی موجود ہیں، جیسے جنگی اور ملی ترانے ، حمدیہ اور نعتیہ کلام ، اچھے مضامین کی حامل غزلیں اور نظمیں ، جنھیں آلات موسیقی کے ساتھ اور فن موسیقی کے مطابق گایا جاتا ہے ، موسیقی کے صحیح استعمال کی مثالیں ہیں۔
چند دوستوں نے موجودہ تحریر کو سطحی قرار دیا ہے ۔ میں‌ ان کے کمنٹس کا احترام کرتا ہوں کہ میں‌ ایک طالب علم ہوں اور وہ بہت بڑے عالم ہیں ۔ مگر میں‌ نے جن علماء کی کتابوں کا تذکرہ اپنی جس تحریر میں کیا ہے ۔ اس کا مطالعہ شاید ابھی تک کسی نے نہیں کیا ۔ کیونکہ براہ راست ان کتب پر کوئی تنقید میرے سامنے اب تک نہیں آئی ہے ۔ ( واللہ عالم )

Advertisements

اسلام اور موسیقی

مسلمان معاشرے ان دنوں Transformation کے ایک دور سے گذر رہے ہیں ۔ عالم ِ اسلام میں ہر طرف روایت اور جدت کی ایک کشمکش ہے ۔ یہ کشمکش کسی قوم کے مستقبل کے لیئے بڑی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے ۔ علامہ اقبال نے اس طرف توجہ دیتے ہوئے فرمایا تھا کہ :
آئینِ نو سے ڈرنا ، طرزِ کوہن پہ اَڑنا
منزل یہی کھٹن ہے قوموں کی زندگی میں
کشمکش کے یہ میدان بہت سے ہیں ۔ لیکن اس میں سب سے واضع اور نمایاں میدان فنونِ لطیفہ کا ہے ۔ اور اس میں بھی نمایاں تر موسیقی کی بحث ہے ۔ ایک مسلمان معاشرے میں کیا موسیقی کے لیے گنجائش موجود ہے ۔ ؟ اسلام جس تہذیب کو فروغ دینا چاہتا ہے ۔ کیا اس میں موسیقی کے لیے کوئی جگہ ہے ۔ جو تزکیہ انسان کو مذہب میں مطلوب ہے کیا موسیقی اس میں معاون ہے یا اس کا کردار منفی ہے ۔ ؟
جو چیز انسان کو شرک اور بے حیائی کی طرف مائل کردے یا کوئی ایسی چیز جو انسان کو اس کی بنیادی ذمہ داریوں ، عبادات اور ضروریات سے غافل کردے ۔ ایسی صورت میں جو جائز چیز ہوگی وہ بھی اس وقت ناجائز ہوجائے گی ۔ اور اسکا تعلق صرف موسیقی سے ہی نہیں بلکہ وہ کوئی بھی چیز ہوسکتی ہے ۔ مثلاً اگر کوئی شخص صرف سیر وتفریح ہی کرنے لگے یا کوئی شخص اس طرح شاعری کرنے لگے کہ وہ اپنے فرائض سے غافل ہوجائے ۔ تو یہ چیزیں بھی ناجائز بن جائیں گی ۔ اگر بات موسیقی کی ہے تو پوری کائنات میں موسیقیت کے مظاہر ہر جگہ ملیں گے ۔ پانی کے جھرنوں کا گنگنانا ، پرندوں کا مخصوص انداز میں چہچہانا ، ہوا کی سرسراہٹ ۔ سب فطرت کی موسیقی کے ہی مظاہر ہیں ۔ اور قرآن نے جس طریقے سے کہہ دیا ہے ۔
کہ ۔
” قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِینَةَ اللهِ الَّتِی أَخْرَجَ لِعِبَادِہِ وَالطَّیِّبَاتِ مِنْ الرِّزْقِ قُلْ ہِیَ لِلَّذِینَ آمَنُوا فِی الْحَیَاةِ الدُّنْیَا خَالِصَةً یَوْمَ الْقِیَامَةِ کَذَلِکَ نُفَصِّلُ الْآیَاتِ لِقَوْمٍ یَعْلَمُونَ ۔ ( سورہ مائدہ ۔ آیت نمبر 90 )
ترجمہ: کہہ دو کہ کس نے اللہ کی اس زینت کو جو اس نے اپنے بندوں کے لئے پیدا کی ہے اور دلپسند اور پاکیز ہ رزق کو اپنے اوپر بغیر کی دلیل کے حرام قرار دیا ہے۔ کہہ دو کہ یہ نعمتیں دنیوی زندگی میں مومنین کے لئے ہیں (اگرچہ کفار بھی ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔)۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ موسیقی بنیادی طور سے جائز ہے بشرطیکہ اس میں شرک اور بے حیائی نہ ہو ۔ اور وہ انسان کو اس کی اہم زندگی کی ضروریات سے غافل نہ کردے ۔ یہی وجہ ہے کہ جب ہم قرآن مجید کو سامنے رکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ موسیقی کو حرام قرار دینے کے لیئے قرآن مجید میں کوئی بنیاد موجود نہیں ہے ۔ اور جب ہم احادیث کا مطالعہ کرتے ہیں تو جتنی بھی صحیح احادیث ہیں ۔ وہ موسیقی کی حلت پر یعنی اس کے حلال ہونے کی طرف اشارہ کرتیں ہیں ۔ اور جتنی بھی ضعیف احادیث ہیں وہ اس کو حرام قرار دیتیں ہیں ۔
ایک حدیث کی طرف توجہ مبذول کرواتا ہوں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ” مجھے آلاتِ موسیقی کو توڑنے کے لیئے بھیجا گیا ہے ” اور جب اس کی تفصیل میں جانے کا اتفاق ہوا تو معلوم ہوا کہ یہ ایک انتہائی ضعیف حدیث ہے ۔ یعنی اس بات کا تعلق حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ثابت نہیں ہوتا ۔ اس کو ثابت کرنا ایک بہت بڑی جسارت ہوگی ۔ لہذا ایسی احادیث پر کسی چیز کے حرام ہونے کا فتویٰ نہیں لگایا جاسکتا ۔
سو سال پہلے علامہ اقبال نے اپنے لیکچر Reconstruction Religoin Theory Of ISLAM میں کہا تھا کہ ” مسلمانوں نے پانچ سو سال سے سوچنا بند کردیا ہے ۔ ” اب ایک لکیر پر سفر شروع ہوگیا ہے ۔ اگر اس پر کسی قسم کے خیالات یا نظریات کا اظہار کیا جائے تو وہ فتوؤں کی گرفت میں آجاتا ہے ۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ موسیقی کے اکثر آلات مسلمانوں کی ہی ایجاد کردہ ہیں ۔ گٹار اسپین کے مسلمانوں نے ایجاد کیا ۔ طبلہ اور ستار امیر خسرو کی ایجاد ہیں ۔ ۔ مسلمان معاشرے میں جو بھی ترقی ہوئیں وہ پندرھویں یا سولویں صدی سے قبل کی ہیں کہ اس وقت مسلمان سوچ رہا تھا ۔ اور مسلمانوں نے اس قسم کی جو بھی ایجادات کیں وہ محض تفریح کے لیئے نہیں بلکہ ایک تخلیقی کام کو آگے بڑھانے اور زندہ رکھنے کے لیئے تھیں ۔ کیونکہ تفیہمِ نو کا سفر جاری تھا ۔
کسی بھی چیز کو ناجائز قرار دینے کے لیئے ایک مضبوط دلیل کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اس کو آپ محض کمزور احادیث پر حرام قرار نہیں دے سکتے ۔ جب ہم موسیقی کے حوالے سے تمام روایات کو اکٹھا کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ بخاری اور مسلم میں جو احادیث ہیں ۔ وہ اس طرف اشارہ کرتیں ہیں کہ بغیر کسی استثناء کے وہ تمام چیزیں جن میں شرک اور بےحیائی نہ ہو تو ان میں کوئی ناجائز ہونے کی بات نہیں ہے ۔
واحد صحیح حدیث جس میں موسیقی کا تذکرہ ملتا ہے وہ یہ ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ” جن چیزوں کی قیامت کے دن اکثریت ہوجائے گی ۔ ان میں سے ایک چیز موسیقی بھی ہے ۔ ”
یہ حدیث بلکل ٹھیک ہے ۔ لیکن اس حدیث میں خبر دی گئی ہے کوئی حکم نہیں دیا گیا ہے ۔ تو اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ قربِ قیامت میں لوگ ان چیزوں میں اس طرح منہمک ہوجائیں گے کہ وہ نہ صرف اپنی عبادات بلکہ اپنی زندگی کی ذمہ داریوں کو بھی بھلا دیں گے ۔ اب بانسری کی بات ہے تو ایک صحیح روایت میں یہ بات بھی آئی ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک سائبان کو بانسری بجاتے ہوئے دیکھا تو فرمایا کہ ” یہ سفر کی کلفت دور کرنے کا کتنا اچھا طریقہ ہے ۔ ” چنانچہ جتنی بھی دو چار حدیثیں جو موسیقی کے خلاف پیش کی جاتیں ہیں ۔ اور محدثین نے ان پر جس طرح کے اعتراضات کیئے ہیں اور بتایا ہے کہ ان میں سے ہر ایک روایت میں ایسی چیزیں ہیں جو ان کو کمزور بنا دیتیں ہیں اور جن بنیاد پر یہ کہنا کہ موسیقی حرام ہے یہ بات ٹھیک نہیں ہے ۔ البتہ اس کی بنیاد پر ہم یہ ضرور کہہ سکتے ہیں کہ وہ تمام چیزیں جو انسان جو بےحیائی کی طرف راغب کر ے اور ذمہ داریوں اور عبادات سے دور لے جائے ان میں موسیقی ” بھی ” ہوسکتی ہے ۔ ایسی صورت میں موسیقی کی بھی ممانیت ہوجائیگی ۔
اگر حضورِ پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی چیز کو حرام قرار دیا ہے اور ہم کوشش کر کے اس کو جائز ثابت کریں تو یہ دین سے انحراف کے مترادف ہوگا ۔ جس کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حرام قرار دیا ہو اس کو کوئی بھی مسلمان حلال قرار دے نہیں سکتا ۔ لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ بھی ایک ناپسندیدہ رویہ ہے کہ اگر ہمارے درمیان کوئی علمی اختلاف ہو رہا ہو اور اٹھ کر کوئی یہ کہہ دے کہ تم اپنی خواہشِ نفس کی بنیاد پر یہ بات یہ کہہ رہے ہو تو یہ بھی ایک ناپسندیدہ رویہ ہوگا جتنا کہ پہلے والا ہے ۔ لیکن اگر کوئی موسیقی کو سننا چاہتا ہے تو میں اس کے جواز کو مانتا ہوں ۔ اب یہ جواز کو ماننے والی بات کیا ہے کہ جتنی بھی چیزیں جو حلال و حرام اور گناہ کبیرہ کی نوعیت کی ہیں ۔ یا فرض کی نوعیت کی ہیں ۔ تو اس کا ذکر لازماً قرآن میں ہوا ہے ۔ کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوا ہو کہ
” یٰٓاَ یُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اِنَّمَا الْخَمْرُوَ الْمَیْسِرُ وَ الْاَنْصَابُ وَالْاَزْلَامُُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْہُ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ ہ ( سورہ اعراف ۔ آیت نمبر ( 32)
ترجمہ۔ اے ایماندارو! شراب، جوا، بت اور قرعہ کے تیر تو پلیدی اور شیطانی کاموں میں سے ہیں لہٰذا تم ان سے اجتناب کرو ہو سکتا ہے کہ تم فلاح پا جاؤ۔
یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ ان کے ساتھ اللہ موسیقی کو نہ ملائے ۔ اس کے بعد جب ہم روایت کی بنیاد پر آتے ہیں تو کسی روایت کے ذریعے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی ایسی بات ہمیں پہنچی ہوئی ہوتی کہ اے مسلمانو! موسیقی تم پر مکمل طور پر حرام ہے ۔ اس کے آلات تم پر حرام ہیں ۔ اس کا سننا تم پر حرام ہے تو مسلمان اس کے سامنے اپنا سرخم تسلیم کر لیتے ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کی کوئی بات موجود ہی نہیں ہے ۔ مہیز مختلف ذرائع سے سے بالواسطہ یہ بات لائی جانے کی کوشش کی جاتی ہے ۔
بہت ساری چیزیں ایسی ہیں کہ جو سنداً ثابت ہوجاتیں ہیں ۔ لیکن محدثین ان پر تنقید درایت کے اصولوں پر کرتے ہیں ۔ یہ ایسی ہی بات ہے کہ ایک دفعہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا کہ ” حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ گھر ، گھوڑے اور عورت میں نحوست ہوتی ہے ۔ ” یہ بات جب حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا تک پہنچی تو انہوں نے ارشاد فرمایا کہ ” ابوہریرہ نے ہمیں تو گھر اور گھوڑے کے ساتھ ملا دیا ۔ ” حقیقت یہ نہیں تھی کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسے فرمایا تھا ۔ بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوں ارشاد فرمایا تھا کہ ” زمانہ جاہلیت میں لوگ ان چیزوں کے درمیان نحوست محسوس کرتے تھے ۔ ” چناچہ درایت کے اصولوں کے مطابق بےشمار روایتوں پر نقد و جرح ہوچکی ہے اور یہ بات کہی جاچکی ہے کہ یہ چیز اس طرح عقل و فطرت اور قرآن مجید کے اصولوں کے خلاف ہے ۔ اور اس بنیاد پر ایسی روایات ماننے کے قابل نہیں ہوتیں ۔ جب ان تمام چیزوں کو اس طرح ملا لیا جاتا ہے ۔
اس سلسلے میں دو کتابیں پڑھنے کے قابل ہیں ۔
ایک ” اسلام اور موسیقی ” جو مولانا جعفر شاہ پھلواری نے لکھی ہے ۔
اور دوسری کتاب جس کا نام بھی ” اسلام اور موسیقی ” ہے ۔ اس کو جناب مفتی محمد شفیع نے لکھا ہے ۔
اگر ان دو کتابوں کو پڑھ لیا جائے اور پھر اپنے اندر کے مفتی سے پوچھا جائے تو وہ صاف طور پر بتا دیتا ہے کہ کونسی روایت غلط ہے اور کونسا اس کا طریقہ کمزور ہے ۔

رشتے

معاشرے میں لوگوں کے باہمی تعلقات اور روابط کو رشتوں کا نام دیا جاتا ہے ۔ یہ رشتے مخلتف نوعیت کے ہوسکتے ہیں ۔ چونکہ رشتوں کی نوعیت مخلتف ہوتی ہے ۔ اسی وجہ سے رشتوں میں پختگی ، مضبوطی ، اور دیگر عوامل کے معیار میں تضاد کا بھی امکان موجود رہتا ہے ۔ ایک فرد سے خاندان اور خاندان سے معاشرے تک رشتوں کا ایک طویل جال پھیلا ہوا ہوتا ہے ۔ ہر رشتے کی طنابیں ، احساس کی شدت سے مزین ہوتی ہیں ۔ یہ احساس ، انسان کے اندر اس کی اپنی فطرت ، ذاتی خواہشات اور دلچسپی کا مرہونِ منت ہوتا ہے ۔ چونکہ کسی بھی رشتہ کے وجود کے لیئے ایک سے زائد فرد کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اس لیئے کوئی بھی رشتہ ، فریقین کی صورت میں ظہور پذیر ہوجاتا ہے ۔ جہاں مختلف فطرت ، سوچ ، نظریات ، رحجانات اور توقعات کارفرما ہوتیں ہیں ۔ چنانچہ احساس کی شدت جو کسی بھی رشتے کے وجود کی بنیاد ہوتی ہے ۔ اس میں اتار چڑھاؤ ، وقت اور حالات کی تبدیلی کے ساتھ رونما ہوتا رہتا ہے ۔ رشتہ کسی بھی نوعیت کا ہو ۔ وہ احساس کی شدت کے گرد گھومتا ہے ۔ ہم اسی شدت کو خلوص ، محبت ، نفرت اور دیگر جذبات کے مخلتف پہلوؤں سے تعبیر کرتے ہیں ۔ اور اسی احساس کی شدت میں کمی وبیشی ہمیں رشتوں میں درجات بنانے پر مجبور کرتی ہے ۔
رشتوں میں کامیابی اور ناکامیابی کا انحصار فریقین کے مابین امیدوں اور توقعات کے توازن پر ہوتا ہے ۔ محبت خلوص سے مشروط ہے اور خلوص احساس سے ۔ احساس کی نوعیت جیسی ہوگی ۔ یہ عوامل بھی اسی سطح پر اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے ۔ ہر رشتے میں احساس خلوص کو متحرک کرتا ہے اور خلوص محبت کی صورت میں ظہور پذیر ہوجاتا ہے ۔ چونکہ رشتوں کی نوعیت مختلف ہوتی ہے لہذاٰ احساس کی شدت بھی قدرے مختلف ہوگی ۔ اسی شدت کے درجات پر رشتے کی کامیابی اور ناکامی کا دارومدار ہے ۔ انسان میں احساس ، خلوص کی انتہا پر ہو تو احساس کی شدت بھی انتہائی درجے پر ہوگی جوکہ رشتوں کی مناسبت سے محبت کی کسی بھی صورت میں ظاہر ہوجائے گی ۔ ایسی صورت میں انسان ہمیشہ اُس رشتے کو مقدم رکھے گا جس سے احساس اس درجہ منسلک ہوگا ۔ اگر یہ معاملہ کسی فریقین کے مابین موجود ہو تو رشتے میں ہم آہنگی پیدا ہوجائے گی اور رشتوں میں کامیابی کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے ۔ کیونکہ یہاں امیدوں اور توقعات کے درمیان ایسا توازن پیدا ہوجاتا ہے ، جو کبھی بھی اپنے دائرہِ اختیار سے باہر سفر اختیار نہیں کرتے ۔ اور یہی دائرہ رشتوں کو ایک دوسرے کی اہمیت کا احساس دلا کر انہیں مضبوطی سے ایک توازن میں قائم رکھتا ہے ۔ توازن کی اس شرح پر رشتہ ہمیشہ پائیدار اور دیرپا ہوگا ۔ بصورتِ دیگر اس میں دڑاریں پڑنے جانے کا احتمال رہنے کا امکان موجودرہے گا ۔
احساس ، انسان میں قدرت کی طرف سے ودیعت کردہ ایک ایسا عنصر ہے ۔ جو کہ انسان کو نہ صرف اس کے وجود کا جواز فراہم کرتا ہے بلکہ اس کے وجود سے منسلک ان تمام چیزوں کے تعلقات کی اہمیت کے ادراک کا مشاہدہ بھی کرواتا ہے ، جو انسان کی زندگی سے وابستہ ہوتیں ہیں ۔ میری نظر میں دراصل احساس ” زندگی ” کا نام ہے ۔ جس کو ہم “روح “ سے گردانتے ہیں ۔ ہرانسان کی زندگی فطرت کے مختلف اصولوں پر مرتب کی گئی ہے ۔ لہذاٰ جب انسان خود کو ان اصولوں پر پرکھتا ہے تو وہ خود کو دوسروں سے بلکل مخلتف پاتا ہے ۔ اور اسی اختلاف کی بناء پر وہ تعلقات اور رشتوں میں بھی امیتاز رکھنے پر مجبور ہوجاتا ہے ۔ جب انسان فطرت کے بنیادی اصولوں کے مطابق ، دوسرے انسان سے مخلتف ہے تو اس قاعدے کے مطابق اس میں دوسرے سے روابط رکھنے کا معیار کا پیمانہ بھی مخلتف ہوگا ۔ احساس چونکہ زندگی کا نام ہے ۔ چنانچہ جب زندگی میں کسی بھی رشتے کے تعلق کا فطری سفر عمل پذیر ہوگا تو اس میں سب سے پہلے امیدیں اور توقعات شامل ہونگیں ۔ اب چونکہ احساس کی نوعیت مخلتف ہے تو اس لیئے انسان پہلےاپنی امیدوں اور توقعات کو اسی نوعیت کے مطابق اہمیت دیگا۔ تاکہ احساس کو آسودگی میسر آسکے۔ اسی مقام پر خلوص ، احساس کی Intention کی وجہ سے پیدا ہوجائےگا ۔ اور یہی Intention رشتوں میں اپنی فطرت کے مطابق ، ترجیحات کے فارمولے پر عمل کرتے ہوئے درجات بناتی ہوئی نظر آئے گی ۔ اس وجہ سے رشتوں میں تفریق پیدا ہوجاتی ہے ۔
چونکہ رشتوں کے آغاز کے لیئے احساس کو سب سے اپنے وجود کا ثبوت فراہم کرنا پڑتا ہے ۔ لہذا ہر وہ شے میں جو اس کی زندگی سے منسلک ہونگیں ، اس میں اپنے وجود سے تعلق کی بنیاد تلاش کرنےکی کوشش کرے گا ۔ ہر تعلق خلوص اور Intention سے وابستہ ہوتا ہے ۔ مگر ہر تعلق میں خلوص یکساں نہیں رہ سکتا ۔ کیونکہ Intention ہر تعلق میں مختلف ہوتی ہے ، سو Intention ، محبت یا نفرت کی کسی بھی صورت میں نمودار ہوجائے گی ۔ یعنی احساس نے اپنے وجود کا جواز تعلقات میں ڈھونڈا ، تعلقات نے جذبات پیدا کیئے ( جو صریحاً انسان کی اپنی ذاتی فطرت کے مطابق خلوص اور Intention کے محتاج ہوتے ہیں ) ۔ جذبات نے شدت پیدا کی اور شدت نے رویوں کو روشناس کروایا ۔ رویوں نے رشتوں کے درجات بنائے ۔ اور کوئی بھی درجہ اپنی شدت کی شرح کی بنیاد پر محبت یا نفرت کی صورت میں سامنے آگیا ۔
احساس ، خلوص ( Intention ) اور محبت ایک ایسی عمارت بناتے ہیں ۔ جسے ہم کسی بھی رشتے سے تعبیر کرتے ہیں ۔ فرض کریں کہ آپ ایک آرٹیکٹ ہیں ۔ آپ نے سوچا کہ ایک عمارت بنائی جائے ۔ یہ احساس ہے ۔ آپ نے پوری تندہی ، لگن ، محنت سے اس ” احساس ” پر کام کرنا شروع کیا کہ کہاں کیسے چوکھٹیں لگائیں جائیں ۔ کہاں کیسا در ہوگا ۔ درودیوار پر روغن کیسا ہوگا ۔ یہ Intention یا خلوص ہے ۔ جب عمارت بن کر سامنے آگئی تو یہ وہ “ رشتہ “ ہے ۔ جس کی بقاء کا دارومداراُس محبت پر ہے ۔ جو Intention یا خلوص سے وجود میں آئی یا یوں کہہ لیں کہ احساس اور خلوص کے باہمی اشتراک سے وجود میں آئی ۔ احساس اور خلوص کی شدت محبت کی معراج متعین کرے گی ۔ جس پر کسی بھی رشتے (عمارت )
کی پائیداری کا انحصار ہوگا۔

کیمسڑی

زندگی کے سفر میں ہم مسلسل سرگرداں ہیں ۔ ہر وقت اپنی زندگی کے مختلف نشیب و فراز سے متعارف ہوتے رہتے ہیں ۔ ان نشیب و فراز کی نوعیت موجودہ صورتحال اور وقت کی مناسبت کے پیشِ نظر ہمہ وقت تبدیل ہوتی رہتی ہے ۔ اپنی پیدائش سے لیکر اپنی آخری سانس تک ہم زندگی کے مختلف نشیب و فراز دیکھتے ہیں ۔ ان نشیب و فراز کے کئی روپ ہیں ۔ جو تعلقات اور رشتوں میں پنہاں ہیں ۔ اور یہ تعلقات اور رشتے کچھ اس طرح ظہور پذیر ہوتے ہیں کہ ان کی چھاپ زندگی کے ہر روپ پر حاوی دکھائی دیتی ہے ۔ کچھ رشتے زندگی کے وجود کے لیئے بنیادی اساس کا درجہ رکھتے ہیں ۔ ہم انہی رشتوں کی ڈور پر اپنے زندگی کی پتنگ کو فضاؤں میں بلند کرتے ہیں ۔ یہ پتنگ ، مناسب بلندی پر ایک متوازی پرواز صرف اسی صورت میں قائم رکھنے میں کامیاب ہوتی ہے ۔ جب ان رشتوں کی ڈور مضبوط ہوتی ہے ۔ اور یہ ڈور “ کیمسٹری “ کہلاتی ہے ۔ ہم اکثر یہ لفظ سنتے ہیں ۔ جس کا تعلق سائنس سے ہے ۔ مگر میں نے اس لفظ کو رشتوں کے باہمی تعلق کے تناظر میں ‌جانچا ہے ۔ ہر انسان میں مختلف کیمیائی عمل رواں ہیں ۔ ایک کیمیائی عمل آپ کو بتاتا ہے کہ آپ کے آس پاس موجود مخلتف لوگوں ‌کے کیمیائی عمل سے آپ کا کیمیائی عمل کتنا مطابقت رکھتا ہے ۔ یہ مخصوص کیمیائی عمل “ احساس “ ہے ۔ جسے قدرت نے انسان میں‌ ودیعت کر رکھا ہے ۔ یہی احساس آپ کو رشتوں کی افادیت اور مضبوطی کا یقین دلاتا ہے ۔ کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے ۔ ہم اس عمل کو مکمل ہونے نہیں دیتے ۔ اور اسی دوران احساس شعور تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے ۔ اور شعور اس احساس کی نفی کردیتا ہے جو نامکمل ہوتا ہے ۔ شعور اور احساس کے اس نامکمل رابطے کی پپیچیدگی‌ سے جو خلاء پیدا ہوتا ہے ۔ وہ زندگی کو غیر متوازی سطح پر لے آتا ہے ۔ ۔ ہر چیز اپنے مرکز سے ہٹ جاتی ہے ۔ جس سے زندگی سے منسلک دوسرے رابطے بھی اپنے مستقر سے بھٹک جاتے ہیں ۔پھر ایک دن یہ ڈور ٹوٹ جاتی ہے ۔ اور پتنگ ڈولتی ہوئی نظروں سے اوجھل ہوجاتی ہے ۔
میں اکثر سوچتا ہوں کہ اس عمل کے مکمل ہونے کا ادراک کیسے ممکن ہو ۔ کیونکہ زندگی میں ہم بہت سے فیصلے کرتے ہیں ۔ کچھ فیصلے عمومی ہوتے ہیں اور کچھ بہت ہی خاص ۔ مگر یہ بہت مشکل ہے کہ ہر فیصلے میں ہی “ کیمسڑی“ متحرک ہو ۔ مگر چند فیصلے جو صدیوں پر میحط ہوتے ہیں ۔ وہاں اس کیمسٹری کا اطلاق بہت نمایاں‌ ہونا چاہیئے ۔ اور یہ صرف اُسی صورت میں ممکن ہے کہ جہاں ایک طرف آپ کوئی فیصلہ کر رہے ہیں ۔ تو دوسری طرف بھی آپ کی اس کیمسٹری کا دوسرا مرکب موجود ہو ۔ اور وہ دوسرا مرکب وہ کرنٹ ہے جس کو ہم “ محبت “ کہتے ہیں ۔ جو آپ کے احساس کو آپ کے شعور سے منسلک کردیتا ہے ۔ جب آپ کا شعور اس کوڈ کو قبول کرلیتا ہے تو آپ کی کیمسٹری مکمل ہوجاتی ہے ۔ شاید پھر بہت ممکن ہو کہ آپ اپنی اس “ پتنگ “ کو بہت بلندی پر ایک متوازن سطح پر بہت دیر تک اُڑاتے رہیں ۔ بصورتِ دیگر بقول شاعر آپ کو ہر دم یہی گلہ رہے گا کہ :
کچھ لوگ شہر میں ہم سے بھی خفا ہیں
ہر ایک سے اپنی بھی طبیعت نہیں ملتی

( چند حسینوں‌کے خطوط ، چند تصویرِ بُتاں ( حصہِ انکشاف )

پھر عجب امتحاں آپڑا تھا ۔ ہم عارضی عشق میں مبتلا ہونے آئے تھے ۔ مگر یہاں مستقل عشق کے آثار پیدا ہوچلے تھے ۔ جس سے ہمارے عشقوں کی بقا ، ملک کی سالمیت کی طرح خطرے میں پڑ چکی تھی ۔ کیونکہ صبح کا اجالا اور شام کی شفق کا خیال ہمارے ذہن سے ایکدم محو ہونا شروع ہوگیا تھا۔ سوچا تھا کالج کی چھیٹیوں میں اسکول کی جاب جوائن کرکے جب مصنوعی عشق میں مبتلا ہوجائیں گے تو کالج واپسی پر ہمیں فیصلہ کرنے میں آسانی ہوجائےگی ۔ مگر حالات نے ایسا پلٹا کھایا تھا کہ ہمارا نام تاریخ میں عشق کے حوالے سے ایک مشہور ٹی وی اسٹار کیساتھ لکھے جانے کا خطرہ پیدا ہوگیا تھا ۔ جس کے ہم ہرگز محتمل نہیں ہوسکتے تھے ۔ ناچار ہمیں اس سلسلے میں دوبارہ شاہد صاحب سے رجوع کرنا پڑا جو بیمار تھے ۔ ہمارے ذرائع کے مطابق شاہد صاحب معمولی سے موسمی زکام کا شکار تھے ۔ سو ہم نےاسکول جانے سے قبل ان کی عیادت کا پروگرام بنایا اور ان کے گھر پہنچ گئے ۔
شاہد صاحب کو جس حال میں ہم نے بسترِ علالت پر دیکھا تو سوچا کہ عیادت کے بجائے ان کی تعزیت کرکے چلے جائیں ۔ مگر ہم نے اس فریضے کو کسی اور وقت پر اٹھا رکھا ۔ ہمیں ان کی شکل کسی میز پر پڑی ہوئی سوکھی ہوئی اُلٹی ناسپاتی کی طرح لگی ۔ موصوف دو عدد کنگ سائز کے کمبلوں میں 35 سینٹی گریڈ کے درجہ حرارت میں لپٹے ہوئے پڑے تھے ۔ داوؤں کا ایک وافر ذخیرہ ان کے بستر کی سائیڈ ٹیبل پر موجود تھا ۔ جسے دیکھ کر ہمیں یقین ہوگیا کہ بازار میں داوؤں کی قلت کا ذمہ دار کون ہے ۔ کچھ دیر ہم تحمل سے بیٹھے رہے مگر جب شاہد صاحب نے کوئی حرکت نہ کی تو ہم نے سوچا ان کے گھر والوں کو خبر کردیں کہ شاہد صاحب کا کمرہ ان کے چھوٹے بھائی کے لیئے خالی ہوگیا ہے ۔ اچانک شاہد صاحب زور سےکراہے تو ہم نے اس خبر کی اشاعت موخر کردی ۔ شاہد صاحب نے نیمِ مرگ کی مانند ہمیں دیکھا ۔ ہم نے ان کی خود ساختہ نزع کی حالت کو نظر انداز کرتے ہوئے جھٹ سے سلام جڑ دیا ۔ اور ان کی خیریت پوچھی ۔
انہوں نے خفگی کا اظہار کیا اور کہا ” اب آئے ہو ۔۔۔۔ وہ بھی اکیلے ” ۔
ہم سے رہا نہیں گیا اور کہا ” آپ فکر نہ کریں ۔ تین آدمی بھی کہیں سے مل ہی جائیں گے ۔ ”
انہوں نے ہماری بات کو شاید سمجھا نہیں اور کہا ” میرا مطلب ہے کہ ہماری منظورِ نظر کو بھی ساتھ لے آتے ۔ کم از کم مجھے اس حال میں دیکھ کر اس کا دل پسیجتا اور اپنا دل ہار بیٹھتی ۔ ” ہم سمجھ گئے کہ شاہد صاحب نے روایتی عاشقوں کی طرح اپنی بیماری کا ڈرامہ رچا کر اپنی منظورِ نظر کی ہمددریاں سمیٹنے کی کوشش کی ہے ۔
” شاہد صاحب ۔۔۔ ! ہماری اطلاع کے مطابق ، آپ کی منظور نظر کی اب تک واپسی نہیں‌ ہوئی ہے ۔ مگر آپ کے ڈرامے میں اس قدر جان ہے کہ اگر وہ آ بھی جاتی تو سب سے پہلے آپ کو اس حال میں دیکھ کر آپ کے چالیسویں کا دن ضرور مقرر کرتی ۔ کچھ خدا کا خوف کرو یار ۔ اس قدر گرمی میں دو لحاف لیکر پڑے ہوئے ہو ۔”
” لگتا ہے میں نے غلط اندازہ لگا لیا ۔ کیونکہ میری اطلاع کے مطابق اسے اب تک آجانا چاہیئے تھا ۔ خیر تم سناؤ کیا پروگریس ہے ۔ ”
انہوں نے جھنپتے ہوئے اپنے ایکسرے جیسے جسم سے دونوں لحاف ہٹاتے ہوئے سوال کیا ۔
” کیا بتاؤں ۔۔۔ بس قیامت ہوگئی ہے ۔ ” ہم نے اضطراری کیفیت اختیار کرتے ہوئے جواب دیا ۔
” یا اللہ خیر ۔۔۔۔ اسکول میں تو سب ٹھیک ہے ناں ۔ کہیں تم نے ۔۔۔۔۔ ” اس سے پہلے شاہد صاحب ہمارے کردار پر سیاستدانوں کی طرح انگلیاں اٹھاتے، ہم نے انہیں روک دیا ۔
” یار ! پوری بات سنو ” ہم نے جُھلجھلاتے ہوئے کہا ۔
” ہم تیسرے عشق میں مبتلا ہوگئے ہیں ۔ ” ہم نےاپنی نئی کشمکش کا سبب ان کے سامنے بیان کردیا ۔
” ویری گڈ ۔۔۔ یہ تو بہت اچھا ہوا کہ کالج کی چھٹییاں ختم ہونے سے پہلے تمہارا مسئلہ حل ہوگیا ۔ اب دیکھتے ہیں کہ کالج واپسی پر تمہارے نصیب میں صبحِ نور آتا ہے یا شامِ چراغ ۔ ”
” ایسا نہیں ہے ۔۔۔۔ معاملہ ہمیشہ کی طرح المناک صورت اختیار کرگیا ہے ۔ ” ہم نے رونی سی صورت بنا لی ۔
” کیوں کیا ہوگیا ” شاہد صاحب نے تشویش اور حیرت جیسی ملی جلی کیفیت میں سوال داغا ۔
” کل ہم نے جو حسین سراپا دیکھا ، اس کے بعد دل کسی طرف مائل نہیں ہورہا ۔ سمجھ نہیں آتا کہ ایکدم سے ہمیں کیا ہوگیا ہے ۔ ”
پھر ہم نے بےچارگی کے عالم میں یہ شعر پڑھا ۔۔۔
میری قسمت میں عشق گر اتنے تھے
دل بھی یارب کئی دیے ہوتے
” یار ! کم از کم شعر تو صحیح کہہ لو ” شاہد صاحب نے بسترِ مرگ پر بھی غالب کا دفاع کیا ۔
” جنابِ من ۔۔۔ اگر چچا غالب ایسی کشمکش میں مبتلا ہوتے تو وہ بھی اسی خیال کے مالک ہوتے ۔ “
ہم نے شاہد صاحب پر پوسٹ مارٹم شدہ شعر کے فضائل وضع کرنے کی کوشش کی ۔
” اچھا چھوڑو یہ شعر و شاعری اور بتاؤ ۔۔۔۔۔ پھر کیا ہوا ، کون تھی ، کیا کوئی بات ہوئی ، اسکول ٹیچر تھی یا کوئی وزیٹر تھی ۔ ؟ ”
شاہد صاحب نے ایک ساتھ 12 وٹامن کی گولیاں کھا کر سوالات کی بوچھاڑ کرڈالی ۔
” بس اسکی ایک جھلک دیکھ پایا ، اور اس نے جس نظر سے ہمیں‌ دیکھا ، ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ اس نظر میں کچھ اور تسلسل رہتا تو ہم دیوانے ہوجاتے ۔ ”
ہم نے شاہد صاحب پر اپنی کیفیت عیاں کرنے کی کوشش کی ۔
” ہمممم ۔۔۔۔ ” شاہد صاحب نے سوچ میں پڑگئے ۔
” آج اسکول جاؤ ۔۔۔۔ اگر ٹیچر ہے تو ضرور نظر آجائے گی ۔ ویسے تم نے کسی میلے میں ماں سے بچھڑے ہوئے بچے کی طرح اپنی جو شکل بنا رکھی ہے ۔ اسے دیکھ کر یہ اُمید کی جاسکتی ہے کہ یہ تمہارا آخری اور حتمی عشق ہوگا ۔ اور اگر ایسا ہے تو تم کو چنداں فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں کہ تمہارے "سابقہ ” عشقوں کا کیا ہوگا ۔ میرے بھائی ۔۔۔ ! زندگی میں ایک ہی عشق کافی ہوتا ہے ۔ اگر یہ عشق سچا ہے تو تمہارے عشقوں کو بریک لگ جانا چاہیئے ۔ اس صورتحال میں یہ سودا برا نہیں ہے ۔ ”
شاہد صاحب نے ہمارے موجودہ عشقوں کو سابق قرار دینے کا فتوی جاری کرتے ہوئے ہماری فقیرانہ طبعیت پر بھی چوٹ کی ، مگرہم نے اسے نظرانداز کردیا کیونکہ ہمیں کوئی ایسا سیاسی بہانہ درکار تھا جو ہمیں اپنے پچھلے بیانات ( عشق ) سے منحرف کردے ۔ چنانچہ ہم نے ان کے فتویٰ پر لبیک کہتے ہوئے اپنے دونوں عشقوں سے منحرف ہوتے ہوئے اس کی تمام تراخلاقی ذمہ داری شاہد صاحب پر ڈال دی ۔
” شاہد صاحب ۔۔۔۔ تُسی گریٹ ہو ” ہم جذبات سے مغلوب ہوگئے ۔ مگر ہم نے ان کے ہاتھ چومنے سے پرہیز کرتے ہوئے صرف اسے تھامنے تک ہی محدود رکھا ۔ کیونکہ کسی تمباکو کے پان کی کیساتھ اب ہم میں داؤوں کی بُو سونگھنے کی بلکل ہمت نہیں تھی ۔
شاہد صاحب کی دعاؤں اور فتوے کے بعد ہم اسکول کی طرف روانہ ہوئے ۔ جانے کیوں دل کو یقین ہوچلا تھا کہ آج اُس لالہ رخ سے ملاقات ہوجائے گی ۔ راستے میں اس حسینہ کے تصور میں ہم ایسے منہمک ہوئے کہ اسکول سے بھی تقریبا تین کلو میٹر آگے نکل گئے ۔ ہوش تب آیا جب ہم ایک بھینس سے بغلگیر ہوتے بال بال بچے ۔ بھینس نے غصے کے عالم میں اپنی غزالی آنکھوں سے ہمیں دیکھا اور ایک لمبی سی ” ہوں ” کی ،۔ ہمیں ایسا محسوس ہوا کہ جیسے کہہ رہی ہو ” شرم نہیں آتی کسی کو چھیڑتے ہوئے ۔ ” ۔ بھینس کے اس شکوے پر ہمیں اپنے ذوق کی بے مائیگی کا شدت سے احساس ہوا ۔ مگر ہم نے یہ بھی شکر کیا کہ آس پاس کوئی بیل نہیں تھا ۔ ورنہ اس کو بھینس کے سامنے اپنے نمبر بناتے ہوئے ذرا سی بھی دیر نہیں لگتی ۔ ہم نے کمالِ پھرتی سے موٹر سائیکل کو تقریباً زمین پر لٹاتے ہوئے واپس موڑا اوراسکول کی طرف ایک بار پھر روانہ ہوگئے ۔ اسکول ذرا تاخیر سے پہنچے ۔ اسمبلی شروع ہوچکی تھی اور قرات جاری تھی ۔ ہم سیدھا اپنی جگہ گئے اور وہاں ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوگئے ۔ غیرارادی طور پر ہماری نظر سامنے خواتین ٹیچرز کی قطار پر پڑی ۔ وہ وہاں موجود تھی ۔ ہمارا سانس اوپر کا اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا ۔ ہم نے واضع طور پر اس کو اپنی طرف متوجہ پایا ۔ ہمارے دل کی دھڑکن اتنی بلند ہوگئی کہ ساتھ کھڑے ہوئے مجاہد صاحب ہمیں خونخوار نظروں سے گھورنے لگے۔ شاہد وہ سمجھے کہ ہم اپنی جیب میں موبائل فون پر ایف ایم 11 سے لطف اندوز ہو رہے ہیں ۔ خوشی کے عالم میں ہم قومی ترانے میں بھی ہاتھ باندھے کھڑے رہے ۔
حسبِ معمول اسمبلی سے فارغ ہوکر ہم اسٹاف روم آئے ۔ ہمارے ساتھ مجاہد صاحب بھی تھے ۔ ان کا بھی ہماری طرح کلاس ٹیچر نہ ہونے کی وجہ سے پہلا پریڈ کہیں نہیں تھا ۔ ہمیں بے چینی سے اس حسینہ کے کوائف درکار تھے ۔ مجاہد صاحب سے اس بارے میں پوچھنا ، مطلب پولیس کے تفتیشی مراحل سے گذرنا تھا ۔ سو ہم خاموش رہے ۔ ہم نے وقت گذاری کے لیئے اخبار کی طرف ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ وہ اسٹاف روم میں داخل ہوئی اور عین ہماری سامنے والی کرسی پر آکر بیٹھ گئی ۔
” السلام علیکم سر ” ۔ ہمیں ایسا لگا جیسے کسی نے کوئی مدھر سا گیت چھیڑ دیا ہو ۔ وہ ہم سے ہی ہمکلام تھی اللہ اللہ ۔
” وعلیکم السلام ” ہم نے مشینی انداز میں جواب دیا ۔
” آپ کے بارے میں کافی سنا تھا ، سوچا کہ واپسی پر فوراً آپ سے ملاقات کی جائے ۔ مگر ۔۔۔۔ کل آپ کہاں غائب ہوگئے تھے ۔ ” اس نے شکوے بھرے لہجے میں پوچھا ۔
ہمیں ایسا محسوس ہوا جیسے دفتر سے واپسی پر تاخیری کے سبب ہمیں نخرہ دکھایا جا رہا ہے ۔ اور پھر ہم نے خیالوں ہی خیالوں میں دروازے پر شوہروں کی طرح اسے اپنا بریف کیس پکڑواتے ہوئے بھی دیکھا ۔
” سر ۔۔۔۔ کہاں ہیں آپ ” اس نے ہمیں دوبارہ اسٹاف روم میں لاتے ہوئے پکارا ۔
ہم اس کو کیا بتاتے کہ ” اے حسینہ ! کل تجھ کو کہاں نہیں ڈھونڈا ، ساری رات ہم نے تیرے تصور میں گذاری ، چوبیس گھنٹوں سے بھی کم عرصے میں ہم اپنے تمام سابقہ عشقوں سے بھی تائب ہوئے ۔ ”
” دراصل کل مجھے ایک ضروری کام تھا ۔ اس لیئے اسکول تا دیر ٹہر نہیں سکا ” ہم نے اپنی خودی کو بلند رکھا
ہم نے سوچا کہ کل اسے ہم ڈھونڈتے رہے اور یہ ہمیں ڈھونڈتی رہی ۔ مگر ٹکراؤ کہیں نہیں ہوا یہ بات سمجھ نہیں آئی ۔
” اوہ اچھا۔۔۔۔ خیر آپ سنائیں ، اسکول میں پڑھانے کے سوا اور آپ کیا کرتے ہیں ۔ ” اس نے بڑی انہماکی سے پوچھا
” پڑھانے کے علاوہ ہم بس عشق کرتے ہیں ۔ ” ہمارے منہ سے نکلتے نکلتے رہ گیا ۔
” ہم فرسٹ ائیر کے طالب علم ہیں ۔ شاہد صاحب نے کالج کی چھٹیوں میں اسکول میں پڑھانے پر رحجان دلایا کہ اس سے پچھلے نصابوں کی بھی یاد دہانی ہوجاتی ہے ۔ ”
ہم نے کمالِ ڈھٹائی کیساتھ دروغ گوئی سے کام لیا ۔
” ہاں یہ تو سچ ہے ۔ کیونکہ میں نے بھی یہی سوچ کر یہاں پڑھانے کا سلسلہ جاری کیا اور اس بہانے پاپا کا بھی کچھ کام سنبھال لیتی ہوں ۔ ”
اس کے جملے کے آخری حصے سے ہمارے ذہن میں خطرے کی گھنٹی بجی اور ہم نے استفار کیا ۔
” پاپا کا کام ۔۔۔۔۔ میں کچھ نہیں سمجھا ۔ ”
” ” ارے ۔۔۔ آپ نئے ہیں ناں ۔۔۔ اس لیئے شاید آپ کو علم نہیں کہ پرنسپل صاحب میرے پاپا ہیں ۔ ”
اس نے گویا ہمارے سر کے عین اوپر دھماکہ کرتے ہوئے انکشاف کیا ۔
“ یعنی ۔۔۔۔ آپ ۔۔۔ پرنسپل صاحب کی صاحبزادی ہیں ۔ “ ہم نےعطااللہ خاں نیازی کی طرح شدتِ کرب کے عالم میں اس انکشاف پر جیسے گنگنانے کی کوشش کی ۔
“ جی ہاں ۔۔۔ میں پرنسپل صاحب کی ہی صاحبزادی ہوں ۔“ وہ اُسی طرح مترنم تھی ۔
ہماری آنکھوں کے سامنے جیسے اندھیرا چھانے لگا ۔ یہ کیفیت کالج میں کسی طالبہ کی طرف مسلسل دیکھنے پر اس کی طرف سےصلواتیں سننے پر بھی طاری نہیں ہوئی تھی ۔ مگرہماری حالت اب غیر تھی ۔ ہم اپنی محبت کے تصوراتی ڈرامے کے پہلے ہی سین میں بریف کیس سمیت دروازے پر سے ہی لوٹا دیئے گئے تھے ۔
کیونکہ اس بار ہم اپنا سب کچھ لُٹا کر جسے اپنا دل سونپ چکے تھے ۔ وہ شاہد صاحب کی منظورِ نظر تھی۔
( جاری ہے )‌‌‌‌‌‌

پت جھڑ اور تنہائی

پت جھڑ کا موسم بھی عجیب موسم ہوتا ہے ۔ سرد اور خشک ہواؤں سے سہمے ہوئے سوکھے پتے درختوں کی برہنہ ہوتی ہوئی شاخوں پر اپنی بقا کی آخری جنگ لڑتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ کچھ سوکھے پتے تھوڑی دیر اور ٹہرنا چاہتے ہیں ۔ جیسےانہیں اس بے ثبات دنیا کی بے ثباتی کا یقین نہ آیا ہو ۔ مگر پت جھڑ کا موسم اُنہیں اتنی مہلت نہیں دیتا ۔ جس طرح رشتوں کو کاٹتی ہوئی نفرت کی خلیج کبھی کم نہیں ہوتی ۔ بلکل اسی طرح سرد و خشک تیز ہوا ان سوکھے پتوں کو سسک سسک کر شاخوں سے جدائی پر مجبور کردیتی ہے ۔ اور پھر یہ سوکھے پتے بےجان ہوکر ہوا کے رحم وکرم پر لہراتے ہوئے زمین پر جاگرتے ہیں‌ ۔ جہاں ہر کوئی انہیں مسلنے کے لیئے ان کا منتظر ہوتا ہے ۔

تنہائی بھی زرد موسم کی مانند ہوتی ہے ۔ مگر پت جھڑ سے یوں مختلف ہوتی ہے کہ یہاں بے وفا شاخوں سے جھڑتے سوکھے پتے دکھائی نہیں دیتے۔ مگر اندر یادوں کے ان سوکھے ہوئے پتوں پر گذرے ہوئے کل کے سایوں کے چلنے کی چانپ صاف سنائی دیتی ہے ۔ پھر یہ چانپ اُمیدوں کی سرسراہٹ کا روپ دھار کر آدمی کو اس موسم میں‌ کچھ اس طرح منہمک کردیتی ہے کہ آدمی باہر کےشور اور اس رنگ بدلتی ہوئی دنیا سے کچھ دیر کے لیئے بے خبر ہوجاتا ہے ۔ اور پھر یہ محویت اس وقت ٹوٹتی ہے جب اندر کا یہ زرد موسم بہار کے کسی تازہ ہوا کے فریب میں آجاتا ہے ۔ مگر زرد موسم اور بہار ایک دوسرے کی ضد ہیں‌ ۔ ان کا ساتھ کب دیر تک ہوا ہے ۔ سو بہار کا یہ پُر فریب جھونکا گرم ہوا بن جاتا ہے کہ تازہ ہوا کو پت جھڑ بننے میں دیر ہی کتنی لگتی ہے مگر پت جھڑ کو بہار بننے میں صدیاں درکار ہوتیں ہیں ۔ اور بھلا صدیوں‌ تک کون جیتا ہے ۔

جب جب پت جھڑ میں پیڑوں سے پیلے پیلے
پتے میرے لان میں آکر گرتے ہیں
رات کو چھت پر جا کر میں
آکاش کو تکتا رہتا ہوں
لگتا ہے کمزور سا پیلا چاند بھی
پیپل کے سوکھے پتے سا
لہراتا لہراتا میرے لان میں آ کر اترے گا
(گلزار )

کچھ حسینوں کے خطوط ، کچھ تصویرِ بُتاں ( سانحہِ سوئم )

ہم حسبِ وعدہ شاہد صدیقی کے اسکول پہنچ گئے ۔ ہم نے کارٹن کی شرٹ اور بلو جینز زیب تن کی ہوئی تھی ۔ ہماری معصوم سی شکل سے متاثر ہوکر اسکول کے چوکیدار نے ہمارے پسندیدہ لباس کو اسکول کی یونیفارم سمجھ کر ہمیں اندر جانے سے روک دیا اور کہا ” اوئے خوچہ ! تم اتنی دیر سے اسکول کیوں آیا اے ۔ ام تم کو اندر نئیں جانے دیگا ۔ ”
ہم نے کہا ” خان صاحب ! آپ کو سمجھنے میں غلطی فہمی ہوئی ہے ۔ ام ۔۔۔۔ ہمارا مطلب ہے کہ ہم ۔۔۔ اس اسکول میں پڑھنے نہیں بلکہ پڑھانے آئے ہیں ۔”
خان صاحب بولے ” اوئے امارا ساتھ مخولی مت کرو اور اپنا والدینِ محترم کو ساتھ لاؤ ۔ ”
ابھی یہ بحث جاری تھی کہ شاہد صاحب اندر سے نمودار ہوئے اور کہا ” یار کہاں رہ گئے تھے اور یہاں گیٹ پر کیا کررہے ہو ۔ ”
ہم نے کہا ” لگتا ہے خان صاحب چوکیداری سے پہلے انڈر 19 کرکٹ ٹیم کی سلکیشن کمیٹی میں تھے کہ ان کو اپنی عمر کا یقین دلانا مشکل ہو رہا ہے ۔”
شاہد صاحب نے ہماری بات کو نظرانداز کرتے ہوئے کہا کہ ” چھوڑو اس قصے کو ، اندر چلو ۔ پرنسپل صاحب انتظار کر رہے ہیں ۔ ”
ہم شاہد صاحب کیساتھ پرنسپل کے کمرے میں داخل ہوئے تو پرنسپل صاحب نے ہمیں بیٹھنے کو کہا ۔
پرنسپل صاحب نے ہمارے تعارف اور تعلیمی اسناد دیکھنے کے بعد کہا ۔
” شاہد صاحب نے آپ کواسکول کے قوانین اور باقی تفصیلات سے آگاہ کردیا ہوگا ۔ ”
” آپ کو دن میں چار پریڈز لینے ہیں ۔ دو نویں اور باقی دسویں کلاس میں ۔۔۔۔۔ میں آپ کو ہزار روپے ماہانہ دوں گا ۔ آپ کو قبول ہے ۔ ؟ ”
ہمیں تو پرنسپل صاحب ، پرنسپل سے زیادہ قاضی لگے ۔
اور موصوف ہمیں ایک ہزار روپوں کی نوید ایسے سنا رہے تھے جیسے کسی خزانے کی کنجی ہمارے ہاتھ میں پکڑا رہے ہوں ۔ خیر ہمیں اپنے مقصد کی تکمیل سے غرض تھی اور وہ ان پیسوں کیساتھ پوری ہو رہی تھی تو کیا برا تھا ۔ ؟
جی ۔۔۔ میں راضی ہوں ۔
ہم نے ” قبول ” ہے کہنے سے قدرے اجتناب کیا ۔
"گڈ ۔۔۔۔۔ شاہد صاحب ! آپ انہیں ان کی کلاسز دکھادیں ۔ امید ہے کہ آپ کا یہاں وقت اچھا گذرے گا ۔ ”
پرنسپل صاحب نے گویا ہمیں جانے کی اجازت دیدی ۔
اسکول میں لڑکوں اور لڑکیوں کی تعداد کے تناسب میں خاصا فرق تھا ۔بعد میں ہم نے حساب لگایا تو یہ تناسب لڑکیوں کے حق میں نکلا ۔ یعنی 73 فیصد لڑکیاں اور 27 فیصد لڑکے ۔
سب سے پہلے شاہد صاحب ہمیں اسٹاف روم لے گئے ۔ اور ہمارا تعارف تمام اساتذہ سے کرایا ۔ ہمیں یہ دیکھ کر بیحد خوشی ہوئی کہ پرنسپل صاحب نے ٹیچرز کی تعداد میں بھی اسکول کے طلباء و طالبات جیسا تناسب رکھا ہوا تھا ۔ یعنی یہاں بھی خواتین کو مردوں کی تعداد پر سبقت حاصل تھی ۔ شاہد صاحب کے علاوہ ایک اور حضرت اساتذہ کی فہرست کا حصہ تھے ۔ جن کا نام مجاہد معلوم ہوا ۔ شکل سے ہمیں حُجتی لگے ۔ ماشاءاللہ وہ اتنے باریش تھے کہ ان کو اپنے گربیاں کے چاک ہونے کی چنداں فکر کھانےکی کوئی ضرورت نہیں تھی ۔انہیں اسلامیات کے مضامین پڑھانے کے لیئے مقرر کیا گیا تھا ۔ ہم تینوں کے سوا باقی سب خاتون ٹیچرز تھیں ۔ جن کی تعداد ہم پہلی نظر میں گن چکے تھے ۔ تعداد تواصولاً 9 بنتی تھی ۔ مگر ایک خاتون ٹیچر اتنی صحت مند تھیں کہ ہم اس تعداد کو ساڑھے 9 سے کم قرار دینے پر ہرگز تیار نہ ہوئے ۔ چند ایک اتنی حسین تھیں کہ سوچا کہ آج ہی سے اپنے عشق کے رجسٹر میں کسی ایک کا کھاتہ کھول دیں ۔ مگر شاہد صاحب کی نظروں میں اپنے لیئے تنبیہہ پا کر ہم اس ارادے سے باز رہے ۔ شاہد صاحب نے مذید کہا کہ ابھی چند ٹیچرز کچھ دنوں‌کی رخصت پر ہیں ۔لہذاٰ اُن سے تعارف اُنکی واپسی پر موقوف ٹہرا ۔ یہاں سے شاہد صاحب ہمیں نویں و دسویں کی کلاسز میں لے گئے اور وہاں بھی ہمارا تعارف کرایا گیا ۔ ہمیں محسوس ہوا کہ ہماری اور طلباء و طالبات کی عمروں میں کچھ زیادہ فرق نہ ہونے کی وجہ سےطالبات ہمیں شوخی اور طلباء شکی نظروں سےدیکھ رہے ہیں ۔ خیر پہلا دن تعارف کی نظر ہوگیا ۔ اور ہم پرنسپل اور شاہد صاحب سے اجازت لیکر گھر روانہ ہوگئے ۔ہمیں کل سے باقاعدہ طور پر اسکول ایک استاد کی حثیت سے آنا تھا ۔
دوسرے دن ہم ایک ٹیچر کی حیثیت سے اسکول پہنچ گئے ۔ مگر خان صاحب کو دوبارہ گیٹ پر دیکھ کر ٹھٹکے ۔ لیکن خان صاحب نے ہمیں دیکھ کر اپنی باچھیں پھیلادیں ‘ اور کہا ” پخیر راغلے سر جی ۔۔۔۔آج آپ کو اسکول میں پہلا دن مبارک ہو ” ۔ ہم نے خان صاحب کا شکریہ ادا کیا اور اندر داخل ہوگئے ۔ شاہد صاحب کی ہدایت کے مطابق ہم پہلے اسٹاف روم گئے ۔ جہاں خاتون ٹیچرز کے علاوہ مجاہد صاحب بھی براجمان تھے ۔ ابھی اسکول کی اسمبلی شروع ہونے میں کچھ وقت باقی تھا ۔ سلام کے بعد مجاہد صاحب نے اپنی شخصیت کے تاثر کے عین مطابق باقاعدہ ہمارا انٹرویو لینے کا آغاز کردیا ۔ ہمیں بھی انٹرویو دینے میں کوئی ترّرد نہیں ہوا کہ تمام خاتون ٹیچرز کی نظریں اخبار اور کان ہمارے انٹرویو پر لگے ہوئے تھے ۔ ابھی وہ ہمارے شجرہ ِ نسب پر ہی تھے کہ شاہد صاحب آگئے ۔ جس سے انٹرویو کا سلسلہ موقوف ہوگیا ۔
اسمبلی کے دوران ہم سے شاہد صاحب نے سرگوشی میں پوچھا ” کیا کوئی پیش رفت ہوئی ۔ ؟ ”
ہم نے نفی سے سر ہلا دیا
” خیر ابھی پہلا دن ہے ۔ پہلے سب سے واقفیت پیدا کرلو ۔”
ہم نے شکر کیا کہ شاہد صاحب کےدماغ میں‌ یہ بات آگئی ۔
” آپ کی منظورِ نظر کہاں ہے ۔ آپ نے اس سے تعارف نہیں کرایا ۔ ”
ہم نےایک خدشے کے پیشِ نظر شاہد صاحب سے سوال کیا ۔
” کیوں ۔۔۔۔ اس کے بارے میں کیوں پوچھ رہے ہو ۔ ؟ ”
شاہد صاحب نے شکی لہجہ اختیار کرتے ہوئے ہم سے الٹا سوال کر ڈالا ۔
” وہ اس لیئے کہ کسی سے ” آنکھ مٹکا ” کرنے سے پہلے ہمیں یہ علم ہونا چاہیئے کہ وہ کہیں آپ کی منظورِ نظر تو نہیں ۔ ”
ہم نے جل کر جواب دیا ۔
” اوہ ۔۔۔ ہاں صحیح کہہ رہے ہو ۔ ” شاہد صاحب کے چہرے پر خجالت کے آثار نمودار ہوگئے ۔ مگر ان کی آنکھوں کے ڈیلے پھر بھی کسی تاثر سے بے نیاز رہے ۔
” وہ اپنی خالہ کے گھر لاہور گئی ہوئی ہے ۔ کچھ روز میں واپسی متوقع ہے ۔ ”
اپنی منظورِ نظر کا ذکر کرتے ہوئے ان کی آنکھوں کے ڈیلوں کےدرمیان تعلقات اچانک کشیدہ سے محسوس ہوئے ۔ شاید انہوں نے تصور میں اس کے سراپے کو مختلف زاویوں سے اپنے ڈیلوں میں سمونے کی کوشش کی تھی ۔
ہم اپنی باتونی طبعیت کے باعث خواتین ٹیچرز میں جلد ہی گھل مل گئے ۔ حسبِ توقع ہمیں کئی حسینوں نے آنکھوں کے راستے پیار کے سندیسے بھیجے ۔ جنہیں دیکھ کر ہمارا دل کئی بار مچلا ۔ مگر ہم نے اپنی فقیری عاشقانہ طبعیت کو مشکل سے قابو میں رکھا ، کیونکہ شاہد صاحب کے مشورے کے مطابق ہماری کوشش تھی کہ کسی کیساتھ اپنے مصنوعی عشق کا آغاز کریں ۔ مگر دل اس مصنوعی پن پر ہرگز راضی نہ ہوا ۔ کئی دن اسی شش و پنچ میں گذر گئے ۔ اسی دوران شاہد صاحب کی طبعیت ناساز ہوگئی اور وہ کچھ دن کی رخصت لیکر گھر پر آرام فرما ہوگئے ۔ چنانچہ ان کی کلاسیں لینا بھی ہمارا مقدر ٹہریں اور ہم مکمل طور پر تدریسی شعبے سے وابستہ ہوگئے ۔ ایک دن ہم دسویں کلاس کے آخری پریڈ میں جیومیٹری کے رازوں سے پردے اٹھا رہے تھے کہ اچانک ہماری نظر کلاس کے باہر کھڑکی سے باہر راہدری پر پڑی ۔ جیومیٹری کے جس زاویئے کی ہم تعریف کررہے تھے بلکل اسی زاویئے پر ہمارا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا ۔ ایسا حسین چہرہ ، ایسا حسین سراپا ، ہم نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا ۔ امی حضور کی تمام خواتین ڈائجسٹوں سے چوری چھپے پڑھی جانے والی کہانیوں کے تمام اقتباسات ہمارے ذہن میں یکدم روشن ہوگئے ۔ دودھیا رنگت پر کالی زلفیں ناگ بن کر اس کے کارٹن کے کُرتے پر بنے ہوئے ڈیزائن سے اٹھکھیلیاں کر تی ہوئی نظر آئیں ۔ ہرنی جیسی آنکھوں میں ستاروں جیسی چمک جھلملا رہی تھی ۔ سرخ انگوری ہونٹوں پر جان لیوا مسکراہٹ کا بسیرا لگا ۔ چوڑی دار پاجامے میں اس کی قد و قامت کسی دیودار کے درخت کی مانند لگی ۔ صراحی دار گردن میں ایک سنہری لاکٹ اپنی قسمت پر رشک کرتا ہوا نظر آیا ۔ کانوں میں سلور جُھمکے سورج کی سنہری تپش میں قوح و قزح کا سماں باندھتے ہوئے محسوس ہوئے ۔ سفید کُرتے کے گلے کے کڑائی کے کام میں ہمارا پسندیدہ نیلا رنگ نمایاں تھا ۔ اسکے بائیں رخسار پر پڑے ہوئے گڑھے کے بھنور میں ہم نے خود کو گویا ڈوبتا ہوا محسوس کیا ۔ خواتین ڈائجسٹ کی کہانیوں میں پڑھے ہوئے بہت سے جملے ابھی باقی تھے کہ وہ ظالم حسینہ ہمارے سامنے دیکھتے ہی دیکھتے ، ہرنی کی طرح قلانچیں بھرتی ہوئی نظروں سے اوجھل ہوگئی ۔ اور ہم پلٹ کر دیکھنے والے کی طرح پتھر کے بُت بنے رہ گئے ۔ کب پریڈ ختم ہوا ۔ کب چھٹی ہوئی ، کب کس اسٹوڈینٹ نے آکر ہمارا کُھلا ہوا منہ بند کیا ، کچھ یاد نہیں ۔ بس اتنا یاد ہے کہ اس نے ہمیں ایک لمحے ترچھی نظر سے دیکھا تھا ۔ جو تیر کی مانند ہماری آنکھوں سے ہوتا ہوا دل میں اتر گیا ۔ اور ہم یہ کہنے کی آس دل میں لیئے کھڑے رہ گئے کہ :
ترچھی نگاہ سے نہ دیکھو اپنے عاشق ِ دل گیر کو
کیسے تیر انداز ہو ، سیدھا تو کر لو تیر کو
اسکول کی چھٹی کے بعد ہم اُسے چاروں طرف دیوانہ وار ڈھونڈتے رہے لیکن وہ کہیں نظر نہیں آئی ۔ اور ہم اس تڑپ کیساتھ گھر واپس لوٹے کہ ” ایک بار دیکھا ہے ، دوسری بار دیکھنے کی ہوس ہے "۔ گھر آکر ہم کھانا کھائے بغیر اپنے کمرے میں چلے گئے اور اس کے تصور میں کھو گئے ۔ کاش کسی فلم کے ہیرو ہوتے تو خیالوں میں اس کے ساتھ کسی گانے میں جلوہ افراز ہوجاتے اور گانے کا ایک سین سنگاپور میں فلماتے تو دوسرا سین سوئیزلینڈ میں اور کوئی روک ٹوک بھی نہیں‌ہوتی ، بلکہ پورا فلمی اسٹاف ہمارے عشق کے تحفظ کی خاطر کیمرے لیئے ہمارے آگے پیچھے ہوتا ۔ رات خوابوں میں بھی وہی سراپا لہراتا رہا ۔ ہم خلاف ِمعمول صبح جلدی اٹھ گئے ۔ اور حسب ِ توقع والدِ محترم نے ہمیں حیرت سے دیکھا اور کہا ” جاؤ ! سو جاؤ ۔۔۔ میں دودھ لے آیا ہوں ۔ ” ہم ان کے طنز پر کوئی تبصرہ کیئے بغیر ، فجر کی نماز پڑھنے کا اعادہ کرتے ہوئے وضو کے لیئے باتھ روم میں گھس گئے۔ ہمیں یاد آیا کہ ہم نے آخری بار ساتویں کلاس میں فجر کی نماز پڑھی تھی جس میں اللہ میاں سے سالانہ امتحان کے پرچے میں ہونے والی غلطی کی درستگی کے لیئےگڑگڑا کے دعا کی تھی ۔ کیونکہ ہم تاریخ کے پرچے میں زبردست دھاندلی کے مرتکب ہوئے تھے کہ دیوارِ برلن توڑنے کا سہرا محمود غزنوی کے سر باندھ آئے تھے ۔

(جاری ہے )

Previous Older Entries Next Newer Entries