کیمسڑی

زندگی کے سفر میں ہم مسلسل سرگرداں ہیں ۔ ہر وقت اپنی زندگی کے مختلف نشیب و فراز سے متعارف ہوتے رہتے ہیں ۔ ان نشیب و فراز کی نوعیت موجودہ صورتحال اور وقت کی مناسبت کے پیشِ نظر ہمہ وقت تبدیل ہوتی رہتی ہے ۔ اپنی پیدائش سے لیکر اپنی آخری سانس تک ہم زندگی کے مختلف نشیب و فراز دیکھتے ہیں ۔ ان نشیب و فراز کے کئی روپ ہیں ۔ جو تعلقات اور رشتوں میں پنہاں ہیں ۔ اور یہ تعلقات اور رشتے کچھ اس طرح ظہور پذیر ہوتے ہیں کہ ان کی چھاپ زندگی کے ہر روپ پر حاوی دکھائی دیتی ہے ۔ کچھ رشتے زندگی کے وجود کے لیئے بنیادی اساس کا درجہ رکھتے ہیں ۔ ہم انہی رشتوں کی ڈور پر اپنے زندگی کی پتنگ کو فضاؤں میں بلند کرتے ہیں ۔ یہ پتنگ ، مناسب بلندی پر ایک متوازی پرواز صرف اسی صورت میں قائم رکھنے میں کامیاب ہوتی ہے ۔ جب ان رشتوں کی ڈور مضبوط ہوتی ہے ۔ اور یہ ڈور “ کیمسٹری “ کہلاتی ہے ۔ ہم اکثر یہ لفظ سنتے ہیں ۔ جس کا تعلق سائنس سے ہے ۔ مگر میں نے اس لفظ کو رشتوں کے باہمی تعلق کے تناظر میں ‌جانچا ہے ۔ ہر انسان میں مختلف کیمیائی عمل رواں ہیں ۔ ایک کیمیائی عمل آپ کو بتاتا ہے کہ آپ کے آس پاس موجود مخلتف لوگوں ‌کے کیمیائی عمل سے آپ کا کیمیائی عمل کتنا مطابقت رکھتا ہے ۔ یہ مخصوص کیمیائی عمل “ احساس “ ہے ۔ جسے قدرت نے انسان میں‌ ودیعت کر رکھا ہے ۔ یہی احساس آپ کو رشتوں کی افادیت اور مضبوطی کا یقین دلاتا ہے ۔ کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے ۔ ہم اس عمل کو مکمل ہونے نہیں دیتے ۔ اور اسی دوران احساس شعور تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے ۔ اور شعور اس احساس کی نفی کردیتا ہے جو نامکمل ہوتا ہے ۔ شعور اور احساس کے اس نامکمل رابطے کی پپیچیدگی‌ سے جو خلاء پیدا ہوتا ہے ۔ وہ زندگی کو غیر متوازی سطح پر لے آتا ہے ۔ ۔ ہر چیز اپنے مرکز سے ہٹ جاتی ہے ۔ جس سے زندگی سے منسلک دوسرے رابطے بھی اپنے مستقر سے بھٹک جاتے ہیں ۔پھر ایک دن یہ ڈور ٹوٹ جاتی ہے ۔ اور پتنگ ڈولتی ہوئی نظروں سے اوجھل ہوجاتی ہے ۔
میں اکثر سوچتا ہوں کہ اس عمل کے مکمل ہونے کا ادراک کیسے ممکن ہو ۔ کیونکہ زندگی میں ہم بہت سے فیصلے کرتے ہیں ۔ کچھ فیصلے عمومی ہوتے ہیں اور کچھ بہت ہی خاص ۔ مگر یہ بہت مشکل ہے کہ ہر فیصلے میں ہی “ کیمسڑی“ متحرک ہو ۔ مگر چند فیصلے جو صدیوں پر میحط ہوتے ہیں ۔ وہاں اس کیمسٹری کا اطلاق بہت نمایاں‌ ہونا چاہیئے ۔ اور یہ صرف اُسی صورت میں ممکن ہے کہ جہاں ایک طرف آپ کوئی فیصلہ کر رہے ہیں ۔ تو دوسری طرف بھی آپ کی اس کیمسٹری کا دوسرا مرکب موجود ہو ۔ اور وہ دوسرا مرکب وہ کرنٹ ہے جس کو ہم “ محبت “ کہتے ہیں ۔ جو آپ کے احساس کو آپ کے شعور سے منسلک کردیتا ہے ۔ جب آپ کا شعور اس کوڈ کو قبول کرلیتا ہے تو آپ کی کیمسٹری مکمل ہوجاتی ہے ۔ شاید پھر بہت ممکن ہو کہ آپ اپنی اس “ پتنگ “ کو بہت بلندی پر ایک متوازن سطح پر بہت دیر تک اُڑاتے رہیں ۔ بصورتِ دیگر بقول شاعر آپ کو ہر دم یہی گلہ رہے گا کہ :
کچھ لوگ شہر میں ہم سے بھی خفا ہیں
ہر ایک سے اپنی بھی طبیعت نہیں ملتی

( چند حسینوں‌کے خطوط ، چند تصویرِ بُتاں ( حصہِ انکشاف )

پھر عجب امتحاں آپڑا تھا ۔ ہم عارضی عشق میں مبتلا ہونے آئے تھے ۔ مگر یہاں مستقل عشق کے آثار پیدا ہوچلے تھے ۔ جس سے ہمارے عشقوں کی بقا ، ملک کی سالمیت کی طرح خطرے میں پڑ چکی تھی ۔ کیونکہ صبح کا اجالا اور شام کی شفق کا خیال ہمارے ذہن سے ایکدم محو ہونا شروع ہوگیا تھا۔ سوچا تھا کالج کی چھیٹیوں میں اسکول کی جاب جوائن کرکے جب مصنوعی عشق میں مبتلا ہوجائیں گے تو کالج واپسی پر ہمیں فیصلہ کرنے میں آسانی ہوجائےگی ۔ مگر حالات نے ایسا پلٹا کھایا تھا کہ ہمارا نام تاریخ میں عشق کے حوالے سے ایک مشہور ٹی وی اسٹار کیساتھ لکھے جانے کا خطرہ پیدا ہوگیا تھا ۔ جس کے ہم ہرگز محتمل نہیں ہوسکتے تھے ۔ ناچار ہمیں اس سلسلے میں دوبارہ شاہد صاحب سے رجوع کرنا پڑا جو بیمار تھے ۔ ہمارے ذرائع کے مطابق شاہد صاحب معمولی سے موسمی زکام کا شکار تھے ۔ سو ہم نےاسکول جانے سے قبل ان کی عیادت کا پروگرام بنایا اور ان کے گھر پہنچ گئے ۔
شاہد صاحب کو جس حال میں ہم نے بسترِ علالت پر دیکھا تو سوچا کہ عیادت کے بجائے ان کی تعزیت کرکے چلے جائیں ۔ مگر ہم نے اس فریضے کو کسی اور وقت پر اٹھا رکھا ۔ ہمیں ان کی شکل کسی میز پر پڑی ہوئی سوکھی ہوئی اُلٹی ناسپاتی کی طرح لگی ۔ موصوف دو عدد کنگ سائز کے کمبلوں میں 35 سینٹی گریڈ کے درجہ حرارت میں لپٹے ہوئے پڑے تھے ۔ داوؤں کا ایک وافر ذخیرہ ان کے بستر کی سائیڈ ٹیبل پر موجود تھا ۔ جسے دیکھ کر ہمیں یقین ہوگیا کہ بازار میں داوؤں کی قلت کا ذمہ دار کون ہے ۔ کچھ دیر ہم تحمل سے بیٹھے رہے مگر جب شاہد صاحب نے کوئی حرکت نہ کی تو ہم نے سوچا ان کے گھر والوں کو خبر کردیں کہ شاہد صاحب کا کمرہ ان کے چھوٹے بھائی کے لیئے خالی ہوگیا ہے ۔ اچانک شاہد صاحب زور سےکراہے تو ہم نے اس خبر کی اشاعت موخر کردی ۔ شاہد صاحب نے نیمِ مرگ کی مانند ہمیں دیکھا ۔ ہم نے ان کی خود ساختہ نزع کی حالت کو نظر انداز کرتے ہوئے جھٹ سے سلام جڑ دیا ۔ اور ان کی خیریت پوچھی ۔
انہوں نے خفگی کا اظہار کیا اور کہا ” اب آئے ہو ۔۔۔۔ وہ بھی اکیلے ” ۔
ہم سے رہا نہیں گیا اور کہا ” آپ فکر نہ کریں ۔ تین آدمی بھی کہیں سے مل ہی جائیں گے ۔ ”
انہوں نے ہماری بات کو شاید سمجھا نہیں اور کہا ” میرا مطلب ہے کہ ہماری منظورِ نظر کو بھی ساتھ لے آتے ۔ کم از کم مجھے اس حال میں دیکھ کر اس کا دل پسیجتا اور اپنا دل ہار بیٹھتی ۔ ” ہم سمجھ گئے کہ شاہد صاحب نے روایتی عاشقوں کی طرح اپنی بیماری کا ڈرامہ رچا کر اپنی منظورِ نظر کی ہمددریاں سمیٹنے کی کوشش کی ہے ۔
” شاہد صاحب ۔۔۔ ! ہماری اطلاع کے مطابق ، آپ کی منظور نظر کی اب تک واپسی نہیں‌ ہوئی ہے ۔ مگر آپ کے ڈرامے میں اس قدر جان ہے کہ اگر وہ آ بھی جاتی تو سب سے پہلے آپ کو اس حال میں دیکھ کر آپ کے چالیسویں کا دن ضرور مقرر کرتی ۔ کچھ خدا کا خوف کرو یار ۔ اس قدر گرمی میں دو لحاف لیکر پڑے ہوئے ہو ۔”
” لگتا ہے میں نے غلط اندازہ لگا لیا ۔ کیونکہ میری اطلاع کے مطابق اسے اب تک آجانا چاہیئے تھا ۔ خیر تم سناؤ کیا پروگریس ہے ۔ ”
انہوں نے جھنپتے ہوئے اپنے ایکسرے جیسے جسم سے دونوں لحاف ہٹاتے ہوئے سوال کیا ۔
” کیا بتاؤں ۔۔۔ بس قیامت ہوگئی ہے ۔ ” ہم نے اضطراری کیفیت اختیار کرتے ہوئے جواب دیا ۔
” یا اللہ خیر ۔۔۔۔ اسکول میں تو سب ٹھیک ہے ناں ۔ کہیں تم نے ۔۔۔۔۔ ” اس سے پہلے شاہد صاحب ہمارے کردار پر سیاستدانوں کی طرح انگلیاں اٹھاتے، ہم نے انہیں روک دیا ۔
” یار ! پوری بات سنو ” ہم نے جُھلجھلاتے ہوئے کہا ۔
” ہم تیسرے عشق میں مبتلا ہوگئے ہیں ۔ ” ہم نےاپنی نئی کشمکش کا سبب ان کے سامنے بیان کردیا ۔
” ویری گڈ ۔۔۔ یہ تو بہت اچھا ہوا کہ کالج کی چھٹییاں ختم ہونے سے پہلے تمہارا مسئلہ حل ہوگیا ۔ اب دیکھتے ہیں کہ کالج واپسی پر تمہارے نصیب میں صبحِ نور آتا ہے یا شامِ چراغ ۔ ”
” ایسا نہیں ہے ۔۔۔۔ معاملہ ہمیشہ کی طرح المناک صورت اختیار کرگیا ہے ۔ ” ہم نے رونی سی صورت بنا لی ۔
” کیوں کیا ہوگیا ” شاہد صاحب نے تشویش اور حیرت جیسی ملی جلی کیفیت میں سوال داغا ۔
” کل ہم نے جو حسین سراپا دیکھا ، اس کے بعد دل کسی طرف مائل نہیں ہورہا ۔ سمجھ نہیں آتا کہ ایکدم سے ہمیں کیا ہوگیا ہے ۔ ”
پھر ہم نے بےچارگی کے عالم میں یہ شعر پڑھا ۔۔۔
میری قسمت میں عشق گر اتنے تھے
دل بھی یارب کئی دیے ہوتے
” یار ! کم از کم شعر تو صحیح کہہ لو ” شاہد صاحب نے بسترِ مرگ پر بھی غالب کا دفاع کیا ۔
” جنابِ من ۔۔۔ اگر چچا غالب ایسی کشمکش میں مبتلا ہوتے تو وہ بھی اسی خیال کے مالک ہوتے ۔ “
ہم نے شاہد صاحب پر پوسٹ مارٹم شدہ شعر کے فضائل وضع کرنے کی کوشش کی ۔
” اچھا چھوڑو یہ شعر و شاعری اور بتاؤ ۔۔۔۔۔ پھر کیا ہوا ، کون تھی ، کیا کوئی بات ہوئی ، اسکول ٹیچر تھی یا کوئی وزیٹر تھی ۔ ؟ ”
شاہد صاحب نے ایک ساتھ 12 وٹامن کی گولیاں کھا کر سوالات کی بوچھاڑ کرڈالی ۔
” بس اسکی ایک جھلک دیکھ پایا ، اور اس نے جس نظر سے ہمیں‌ دیکھا ، ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ اس نظر میں کچھ اور تسلسل رہتا تو ہم دیوانے ہوجاتے ۔ ”
ہم نے شاہد صاحب پر اپنی کیفیت عیاں کرنے کی کوشش کی ۔
” ہمممم ۔۔۔۔ ” شاہد صاحب نے سوچ میں پڑگئے ۔
” آج اسکول جاؤ ۔۔۔۔ اگر ٹیچر ہے تو ضرور نظر آجائے گی ۔ ویسے تم نے کسی میلے میں ماں سے بچھڑے ہوئے بچے کی طرح اپنی جو شکل بنا رکھی ہے ۔ اسے دیکھ کر یہ اُمید کی جاسکتی ہے کہ یہ تمہارا آخری اور حتمی عشق ہوگا ۔ اور اگر ایسا ہے تو تم کو چنداں فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں کہ تمہارے "سابقہ ” عشقوں کا کیا ہوگا ۔ میرے بھائی ۔۔۔ ! زندگی میں ایک ہی عشق کافی ہوتا ہے ۔ اگر یہ عشق سچا ہے تو تمہارے عشقوں کو بریک لگ جانا چاہیئے ۔ اس صورتحال میں یہ سودا برا نہیں ہے ۔ ”
شاہد صاحب نے ہمارے موجودہ عشقوں کو سابق قرار دینے کا فتوی جاری کرتے ہوئے ہماری فقیرانہ طبعیت پر بھی چوٹ کی ، مگرہم نے اسے نظرانداز کردیا کیونکہ ہمیں کوئی ایسا سیاسی بہانہ درکار تھا جو ہمیں اپنے پچھلے بیانات ( عشق ) سے منحرف کردے ۔ چنانچہ ہم نے ان کے فتویٰ پر لبیک کہتے ہوئے اپنے دونوں عشقوں سے منحرف ہوتے ہوئے اس کی تمام تراخلاقی ذمہ داری شاہد صاحب پر ڈال دی ۔
” شاہد صاحب ۔۔۔۔ تُسی گریٹ ہو ” ہم جذبات سے مغلوب ہوگئے ۔ مگر ہم نے ان کے ہاتھ چومنے سے پرہیز کرتے ہوئے صرف اسے تھامنے تک ہی محدود رکھا ۔ کیونکہ کسی تمباکو کے پان کی کیساتھ اب ہم میں داؤوں کی بُو سونگھنے کی بلکل ہمت نہیں تھی ۔
شاہد صاحب کی دعاؤں اور فتوے کے بعد ہم اسکول کی طرف روانہ ہوئے ۔ جانے کیوں دل کو یقین ہوچلا تھا کہ آج اُس لالہ رخ سے ملاقات ہوجائے گی ۔ راستے میں اس حسینہ کے تصور میں ہم ایسے منہمک ہوئے کہ اسکول سے بھی تقریبا تین کلو میٹر آگے نکل گئے ۔ ہوش تب آیا جب ہم ایک بھینس سے بغلگیر ہوتے بال بال بچے ۔ بھینس نے غصے کے عالم میں اپنی غزالی آنکھوں سے ہمیں دیکھا اور ایک لمبی سی ” ہوں ” کی ،۔ ہمیں ایسا محسوس ہوا کہ جیسے کہہ رہی ہو ” شرم نہیں آتی کسی کو چھیڑتے ہوئے ۔ ” ۔ بھینس کے اس شکوے پر ہمیں اپنے ذوق کی بے مائیگی کا شدت سے احساس ہوا ۔ مگر ہم نے یہ بھی شکر کیا کہ آس پاس کوئی بیل نہیں تھا ۔ ورنہ اس کو بھینس کے سامنے اپنے نمبر بناتے ہوئے ذرا سی بھی دیر نہیں لگتی ۔ ہم نے کمالِ پھرتی سے موٹر سائیکل کو تقریباً زمین پر لٹاتے ہوئے واپس موڑا اوراسکول کی طرف ایک بار پھر روانہ ہوگئے ۔ اسکول ذرا تاخیر سے پہنچے ۔ اسمبلی شروع ہوچکی تھی اور قرات جاری تھی ۔ ہم سیدھا اپنی جگہ گئے اور وہاں ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوگئے ۔ غیرارادی طور پر ہماری نظر سامنے خواتین ٹیچرز کی قطار پر پڑی ۔ وہ وہاں موجود تھی ۔ ہمارا سانس اوپر کا اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا ۔ ہم نے واضع طور پر اس کو اپنی طرف متوجہ پایا ۔ ہمارے دل کی دھڑکن اتنی بلند ہوگئی کہ ساتھ کھڑے ہوئے مجاہد صاحب ہمیں خونخوار نظروں سے گھورنے لگے۔ شاہد وہ سمجھے کہ ہم اپنی جیب میں موبائل فون پر ایف ایم 11 سے لطف اندوز ہو رہے ہیں ۔ خوشی کے عالم میں ہم قومی ترانے میں بھی ہاتھ باندھے کھڑے رہے ۔
حسبِ معمول اسمبلی سے فارغ ہوکر ہم اسٹاف روم آئے ۔ ہمارے ساتھ مجاہد صاحب بھی تھے ۔ ان کا بھی ہماری طرح کلاس ٹیچر نہ ہونے کی وجہ سے پہلا پریڈ کہیں نہیں تھا ۔ ہمیں بے چینی سے اس حسینہ کے کوائف درکار تھے ۔ مجاہد صاحب سے اس بارے میں پوچھنا ، مطلب پولیس کے تفتیشی مراحل سے گذرنا تھا ۔ سو ہم خاموش رہے ۔ ہم نے وقت گذاری کے لیئے اخبار کی طرف ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ وہ اسٹاف روم میں داخل ہوئی اور عین ہماری سامنے والی کرسی پر آکر بیٹھ گئی ۔
” السلام علیکم سر ” ۔ ہمیں ایسا لگا جیسے کسی نے کوئی مدھر سا گیت چھیڑ دیا ہو ۔ وہ ہم سے ہی ہمکلام تھی اللہ اللہ ۔
” وعلیکم السلام ” ہم نے مشینی انداز میں جواب دیا ۔
” آپ کے بارے میں کافی سنا تھا ، سوچا کہ واپسی پر فوراً آپ سے ملاقات کی جائے ۔ مگر ۔۔۔۔ کل آپ کہاں غائب ہوگئے تھے ۔ ” اس نے شکوے بھرے لہجے میں پوچھا ۔
ہمیں ایسا محسوس ہوا جیسے دفتر سے واپسی پر تاخیری کے سبب ہمیں نخرہ دکھایا جا رہا ہے ۔ اور پھر ہم نے خیالوں ہی خیالوں میں دروازے پر شوہروں کی طرح اسے اپنا بریف کیس پکڑواتے ہوئے بھی دیکھا ۔
” سر ۔۔۔۔ کہاں ہیں آپ ” اس نے ہمیں دوبارہ اسٹاف روم میں لاتے ہوئے پکارا ۔
ہم اس کو کیا بتاتے کہ ” اے حسینہ ! کل تجھ کو کہاں نہیں ڈھونڈا ، ساری رات ہم نے تیرے تصور میں گذاری ، چوبیس گھنٹوں سے بھی کم عرصے میں ہم اپنے تمام سابقہ عشقوں سے بھی تائب ہوئے ۔ ”
” دراصل کل مجھے ایک ضروری کام تھا ۔ اس لیئے اسکول تا دیر ٹہر نہیں سکا ” ہم نے اپنی خودی کو بلند رکھا
ہم نے سوچا کہ کل اسے ہم ڈھونڈتے رہے اور یہ ہمیں ڈھونڈتی رہی ۔ مگر ٹکراؤ کہیں نہیں ہوا یہ بات سمجھ نہیں آئی ۔
” اوہ اچھا۔۔۔۔ خیر آپ سنائیں ، اسکول میں پڑھانے کے سوا اور آپ کیا کرتے ہیں ۔ ” اس نے بڑی انہماکی سے پوچھا
” پڑھانے کے علاوہ ہم بس عشق کرتے ہیں ۔ ” ہمارے منہ سے نکلتے نکلتے رہ گیا ۔
” ہم فرسٹ ائیر کے طالب علم ہیں ۔ شاہد صاحب نے کالج کی چھٹیوں میں اسکول میں پڑھانے پر رحجان دلایا کہ اس سے پچھلے نصابوں کی بھی یاد دہانی ہوجاتی ہے ۔ ”
ہم نے کمالِ ڈھٹائی کیساتھ دروغ گوئی سے کام لیا ۔
” ہاں یہ تو سچ ہے ۔ کیونکہ میں نے بھی یہی سوچ کر یہاں پڑھانے کا سلسلہ جاری کیا اور اس بہانے پاپا کا بھی کچھ کام سنبھال لیتی ہوں ۔ ”
اس کے جملے کے آخری حصے سے ہمارے ذہن میں خطرے کی گھنٹی بجی اور ہم نے استفار کیا ۔
” پاپا کا کام ۔۔۔۔۔ میں کچھ نہیں سمجھا ۔ ”
” ” ارے ۔۔۔ آپ نئے ہیں ناں ۔۔۔ اس لیئے شاید آپ کو علم نہیں کہ پرنسپل صاحب میرے پاپا ہیں ۔ ”
اس نے گویا ہمارے سر کے عین اوپر دھماکہ کرتے ہوئے انکشاف کیا ۔
“ یعنی ۔۔۔۔ آپ ۔۔۔ پرنسپل صاحب کی صاحبزادی ہیں ۔ “ ہم نےعطااللہ خاں نیازی کی طرح شدتِ کرب کے عالم میں اس انکشاف پر جیسے گنگنانے کی کوشش کی ۔
“ جی ہاں ۔۔۔ میں پرنسپل صاحب کی ہی صاحبزادی ہوں ۔“ وہ اُسی طرح مترنم تھی ۔
ہماری آنکھوں کے سامنے جیسے اندھیرا چھانے لگا ۔ یہ کیفیت کالج میں کسی طالبہ کی طرف مسلسل دیکھنے پر اس کی طرف سےصلواتیں سننے پر بھی طاری نہیں ہوئی تھی ۔ مگرہماری حالت اب غیر تھی ۔ ہم اپنی محبت کے تصوراتی ڈرامے کے پہلے ہی سین میں بریف کیس سمیت دروازے پر سے ہی لوٹا دیئے گئے تھے ۔
کیونکہ اس بار ہم اپنا سب کچھ لُٹا کر جسے اپنا دل سونپ چکے تھے ۔ وہ شاہد صاحب کی منظورِ نظر تھی۔
( جاری ہے )‌‌‌‌‌‌

پت جھڑ اور تنہائی

پت جھڑ کا موسم بھی عجیب موسم ہوتا ہے ۔ سرد اور خشک ہواؤں سے سہمے ہوئے سوکھے پتے درختوں کی برہنہ ہوتی ہوئی شاخوں پر اپنی بقا کی آخری جنگ لڑتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ کچھ سوکھے پتے تھوڑی دیر اور ٹہرنا چاہتے ہیں ۔ جیسےانہیں اس بے ثبات دنیا کی بے ثباتی کا یقین نہ آیا ہو ۔ مگر پت جھڑ کا موسم اُنہیں اتنی مہلت نہیں دیتا ۔ جس طرح رشتوں کو کاٹتی ہوئی نفرت کی خلیج کبھی کم نہیں ہوتی ۔ بلکل اسی طرح سرد و خشک تیز ہوا ان سوکھے پتوں کو سسک سسک کر شاخوں سے جدائی پر مجبور کردیتی ہے ۔ اور پھر یہ سوکھے پتے بےجان ہوکر ہوا کے رحم وکرم پر لہراتے ہوئے زمین پر جاگرتے ہیں‌ ۔ جہاں ہر کوئی انہیں مسلنے کے لیئے ان کا منتظر ہوتا ہے ۔

تنہائی بھی زرد موسم کی مانند ہوتی ہے ۔ مگر پت جھڑ سے یوں مختلف ہوتی ہے کہ یہاں بے وفا شاخوں سے جھڑتے سوکھے پتے دکھائی نہیں دیتے۔ مگر اندر یادوں کے ان سوکھے ہوئے پتوں پر گذرے ہوئے کل کے سایوں کے چلنے کی چانپ صاف سنائی دیتی ہے ۔ پھر یہ چانپ اُمیدوں کی سرسراہٹ کا روپ دھار کر آدمی کو اس موسم میں‌ کچھ اس طرح منہمک کردیتی ہے کہ آدمی باہر کےشور اور اس رنگ بدلتی ہوئی دنیا سے کچھ دیر کے لیئے بے خبر ہوجاتا ہے ۔ اور پھر یہ محویت اس وقت ٹوٹتی ہے جب اندر کا یہ زرد موسم بہار کے کسی تازہ ہوا کے فریب میں آجاتا ہے ۔ مگر زرد موسم اور بہار ایک دوسرے کی ضد ہیں‌ ۔ ان کا ساتھ کب دیر تک ہوا ہے ۔ سو بہار کا یہ پُر فریب جھونکا گرم ہوا بن جاتا ہے کہ تازہ ہوا کو پت جھڑ بننے میں دیر ہی کتنی لگتی ہے مگر پت جھڑ کو بہار بننے میں صدیاں درکار ہوتیں ہیں ۔ اور بھلا صدیوں‌ تک کون جیتا ہے ۔

جب جب پت جھڑ میں پیڑوں سے پیلے پیلے
پتے میرے لان میں آکر گرتے ہیں
رات کو چھت پر جا کر میں
آکاش کو تکتا رہتا ہوں
لگتا ہے کمزور سا پیلا چاند بھی
پیپل کے سوکھے پتے سا
لہراتا لہراتا میرے لان میں آ کر اترے گا
(گلزار )

کچھ حسینوں کے خطوط ، کچھ تصویرِ بُتاں ( سانحہِ سوئم )

ہم حسبِ وعدہ شاہد صدیقی کے اسکول پہنچ گئے ۔ ہم نے کارٹن کی شرٹ اور بلو جینز زیب تن کی ہوئی تھی ۔ ہماری معصوم سی شکل سے متاثر ہوکر اسکول کے چوکیدار نے ہمارے پسندیدہ لباس کو اسکول کی یونیفارم سمجھ کر ہمیں اندر جانے سے روک دیا اور کہا ” اوئے خوچہ ! تم اتنی دیر سے اسکول کیوں آیا اے ۔ ام تم کو اندر نئیں جانے دیگا ۔ ”
ہم نے کہا ” خان صاحب ! آپ کو سمجھنے میں غلطی فہمی ہوئی ہے ۔ ام ۔۔۔۔ ہمارا مطلب ہے کہ ہم ۔۔۔ اس اسکول میں پڑھنے نہیں بلکہ پڑھانے آئے ہیں ۔”
خان صاحب بولے ” اوئے امارا ساتھ مخولی مت کرو اور اپنا والدینِ محترم کو ساتھ لاؤ ۔ ”
ابھی یہ بحث جاری تھی کہ شاہد صاحب اندر سے نمودار ہوئے اور کہا ” یار کہاں رہ گئے تھے اور یہاں گیٹ پر کیا کررہے ہو ۔ ”
ہم نے کہا ” لگتا ہے خان صاحب چوکیداری سے پہلے انڈر 19 کرکٹ ٹیم کی سلکیشن کمیٹی میں تھے کہ ان کو اپنی عمر کا یقین دلانا مشکل ہو رہا ہے ۔”
شاہد صاحب نے ہماری بات کو نظرانداز کرتے ہوئے کہا کہ ” چھوڑو اس قصے کو ، اندر چلو ۔ پرنسپل صاحب انتظار کر رہے ہیں ۔ ”
ہم شاہد صاحب کیساتھ پرنسپل کے کمرے میں داخل ہوئے تو پرنسپل صاحب نے ہمیں بیٹھنے کو کہا ۔
پرنسپل صاحب نے ہمارے تعارف اور تعلیمی اسناد دیکھنے کے بعد کہا ۔
” شاہد صاحب نے آپ کواسکول کے قوانین اور باقی تفصیلات سے آگاہ کردیا ہوگا ۔ ”
” آپ کو دن میں چار پریڈز لینے ہیں ۔ دو نویں اور باقی دسویں کلاس میں ۔۔۔۔۔ میں آپ کو ہزار روپے ماہانہ دوں گا ۔ آپ کو قبول ہے ۔ ؟ ”
ہمیں تو پرنسپل صاحب ، پرنسپل سے زیادہ قاضی لگے ۔
اور موصوف ہمیں ایک ہزار روپوں کی نوید ایسے سنا رہے تھے جیسے کسی خزانے کی کنجی ہمارے ہاتھ میں پکڑا رہے ہوں ۔ خیر ہمیں اپنے مقصد کی تکمیل سے غرض تھی اور وہ ان پیسوں کیساتھ پوری ہو رہی تھی تو کیا برا تھا ۔ ؟
جی ۔۔۔ میں راضی ہوں ۔
ہم نے ” قبول ” ہے کہنے سے قدرے اجتناب کیا ۔
"گڈ ۔۔۔۔۔ شاہد صاحب ! آپ انہیں ان کی کلاسز دکھادیں ۔ امید ہے کہ آپ کا یہاں وقت اچھا گذرے گا ۔ ”
پرنسپل صاحب نے گویا ہمیں جانے کی اجازت دیدی ۔
اسکول میں لڑکوں اور لڑکیوں کی تعداد کے تناسب میں خاصا فرق تھا ۔بعد میں ہم نے حساب لگایا تو یہ تناسب لڑکیوں کے حق میں نکلا ۔ یعنی 73 فیصد لڑکیاں اور 27 فیصد لڑکے ۔
سب سے پہلے شاہد صاحب ہمیں اسٹاف روم لے گئے ۔ اور ہمارا تعارف تمام اساتذہ سے کرایا ۔ ہمیں یہ دیکھ کر بیحد خوشی ہوئی کہ پرنسپل صاحب نے ٹیچرز کی تعداد میں بھی اسکول کے طلباء و طالبات جیسا تناسب رکھا ہوا تھا ۔ یعنی یہاں بھی خواتین کو مردوں کی تعداد پر سبقت حاصل تھی ۔ شاہد صاحب کے علاوہ ایک اور حضرت اساتذہ کی فہرست کا حصہ تھے ۔ جن کا نام مجاہد معلوم ہوا ۔ شکل سے ہمیں حُجتی لگے ۔ ماشاءاللہ وہ اتنے باریش تھے کہ ان کو اپنے گربیاں کے چاک ہونے کی چنداں فکر کھانےکی کوئی ضرورت نہیں تھی ۔انہیں اسلامیات کے مضامین پڑھانے کے لیئے مقرر کیا گیا تھا ۔ ہم تینوں کے سوا باقی سب خاتون ٹیچرز تھیں ۔ جن کی تعداد ہم پہلی نظر میں گن چکے تھے ۔ تعداد تواصولاً 9 بنتی تھی ۔ مگر ایک خاتون ٹیچر اتنی صحت مند تھیں کہ ہم اس تعداد کو ساڑھے 9 سے کم قرار دینے پر ہرگز تیار نہ ہوئے ۔ چند ایک اتنی حسین تھیں کہ سوچا کہ آج ہی سے اپنے عشق کے رجسٹر میں کسی ایک کا کھاتہ کھول دیں ۔ مگر شاہد صاحب کی نظروں میں اپنے لیئے تنبیہہ پا کر ہم اس ارادے سے باز رہے ۔ شاہد صاحب نے مذید کہا کہ ابھی چند ٹیچرز کچھ دنوں‌کی رخصت پر ہیں ۔لہذاٰ اُن سے تعارف اُنکی واپسی پر موقوف ٹہرا ۔ یہاں سے شاہد صاحب ہمیں نویں و دسویں کی کلاسز میں لے گئے اور وہاں بھی ہمارا تعارف کرایا گیا ۔ ہمیں محسوس ہوا کہ ہماری اور طلباء و طالبات کی عمروں میں کچھ زیادہ فرق نہ ہونے کی وجہ سےطالبات ہمیں شوخی اور طلباء شکی نظروں سےدیکھ رہے ہیں ۔ خیر پہلا دن تعارف کی نظر ہوگیا ۔ اور ہم پرنسپل اور شاہد صاحب سے اجازت لیکر گھر روانہ ہوگئے ۔ہمیں کل سے باقاعدہ طور پر اسکول ایک استاد کی حثیت سے آنا تھا ۔
دوسرے دن ہم ایک ٹیچر کی حیثیت سے اسکول پہنچ گئے ۔ مگر خان صاحب کو دوبارہ گیٹ پر دیکھ کر ٹھٹکے ۔ لیکن خان صاحب نے ہمیں دیکھ کر اپنی باچھیں پھیلادیں ‘ اور کہا ” پخیر راغلے سر جی ۔۔۔۔آج آپ کو اسکول میں پہلا دن مبارک ہو ” ۔ ہم نے خان صاحب کا شکریہ ادا کیا اور اندر داخل ہوگئے ۔ شاہد صاحب کی ہدایت کے مطابق ہم پہلے اسٹاف روم گئے ۔ جہاں خاتون ٹیچرز کے علاوہ مجاہد صاحب بھی براجمان تھے ۔ ابھی اسکول کی اسمبلی شروع ہونے میں کچھ وقت باقی تھا ۔ سلام کے بعد مجاہد صاحب نے اپنی شخصیت کے تاثر کے عین مطابق باقاعدہ ہمارا انٹرویو لینے کا آغاز کردیا ۔ ہمیں بھی انٹرویو دینے میں کوئی ترّرد نہیں ہوا کہ تمام خاتون ٹیچرز کی نظریں اخبار اور کان ہمارے انٹرویو پر لگے ہوئے تھے ۔ ابھی وہ ہمارے شجرہ ِ نسب پر ہی تھے کہ شاہد صاحب آگئے ۔ جس سے انٹرویو کا سلسلہ موقوف ہوگیا ۔
اسمبلی کے دوران ہم سے شاہد صاحب نے سرگوشی میں پوچھا ” کیا کوئی پیش رفت ہوئی ۔ ؟ ”
ہم نے نفی سے سر ہلا دیا
” خیر ابھی پہلا دن ہے ۔ پہلے سب سے واقفیت پیدا کرلو ۔”
ہم نے شکر کیا کہ شاہد صاحب کےدماغ میں‌ یہ بات آگئی ۔
” آپ کی منظورِ نظر کہاں ہے ۔ آپ نے اس سے تعارف نہیں کرایا ۔ ”
ہم نےایک خدشے کے پیشِ نظر شاہد صاحب سے سوال کیا ۔
” کیوں ۔۔۔۔ اس کے بارے میں کیوں پوچھ رہے ہو ۔ ؟ ”
شاہد صاحب نے شکی لہجہ اختیار کرتے ہوئے ہم سے الٹا سوال کر ڈالا ۔
” وہ اس لیئے کہ کسی سے ” آنکھ مٹکا ” کرنے سے پہلے ہمیں یہ علم ہونا چاہیئے کہ وہ کہیں آپ کی منظورِ نظر تو نہیں ۔ ”
ہم نے جل کر جواب دیا ۔
” اوہ ۔۔۔ ہاں صحیح کہہ رہے ہو ۔ ” شاہد صاحب کے چہرے پر خجالت کے آثار نمودار ہوگئے ۔ مگر ان کی آنکھوں کے ڈیلے پھر بھی کسی تاثر سے بے نیاز رہے ۔
” وہ اپنی خالہ کے گھر لاہور گئی ہوئی ہے ۔ کچھ روز میں واپسی متوقع ہے ۔ ”
اپنی منظورِ نظر کا ذکر کرتے ہوئے ان کی آنکھوں کے ڈیلوں کےدرمیان تعلقات اچانک کشیدہ سے محسوس ہوئے ۔ شاید انہوں نے تصور میں اس کے سراپے کو مختلف زاویوں سے اپنے ڈیلوں میں سمونے کی کوشش کی تھی ۔
ہم اپنی باتونی طبعیت کے باعث خواتین ٹیچرز میں جلد ہی گھل مل گئے ۔ حسبِ توقع ہمیں کئی حسینوں نے آنکھوں کے راستے پیار کے سندیسے بھیجے ۔ جنہیں دیکھ کر ہمارا دل کئی بار مچلا ۔ مگر ہم نے اپنی فقیری عاشقانہ طبعیت کو مشکل سے قابو میں رکھا ، کیونکہ شاہد صاحب کے مشورے کے مطابق ہماری کوشش تھی کہ کسی کیساتھ اپنے مصنوعی عشق کا آغاز کریں ۔ مگر دل اس مصنوعی پن پر ہرگز راضی نہ ہوا ۔ کئی دن اسی شش و پنچ میں گذر گئے ۔ اسی دوران شاہد صاحب کی طبعیت ناساز ہوگئی اور وہ کچھ دن کی رخصت لیکر گھر پر آرام فرما ہوگئے ۔ چنانچہ ان کی کلاسیں لینا بھی ہمارا مقدر ٹہریں اور ہم مکمل طور پر تدریسی شعبے سے وابستہ ہوگئے ۔ ایک دن ہم دسویں کلاس کے آخری پریڈ میں جیومیٹری کے رازوں سے پردے اٹھا رہے تھے کہ اچانک ہماری نظر کلاس کے باہر کھڑکی سے باہر راہدری پر پڑی ۔ جیومیٹری کے جس زاویئے کی ہم تعریف کررہے تھے بلکل اسی زاویئے پر ہمارا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا ۔ ایسا حسین چہرہ ، ایسا حسین سراپا ، ہم نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا ۔ امی حضور کی تمام خواتین ڈائجسٹوں سے چوری چھپے پڑھی جانے والی کہانیوں کے تمام اقتباسات ہمارے ذہن میں یکدم روشن ہوگئے ۔ دودھیا رنگت پر کالی زلفیں ناگ بن کر اس کے کارٹن کے کُرتے پر بنے ہوئے ڈیزائن سے اٹھکھیلیاں کر تی ہوئی نظر آئیں ۔ ہرنی جیسی آنکھوں میں ستاروں جیسی چمک جھلملا رہی تھی ۔ سرخ انگوری ہونٹوں پر جان لیوا مسکراہٹ کا بسیرا لگا ۔ چوڑی دار پاجامے میں اس کی قد و قامت کسی دیودار کے درخت کی مانند لگی ۔ صراحی دار گردن میں ایک سنہری لاکٹ اپنی قسمت پر رشک کرتا ہوا نظر آیا ۔ کانوں میں سلور جُھمکے سورج کی سنہری تپش میں قوح و قزح کا سماں باندھتے ہوئے محسوس ہوئے ۔ سفید کُرتے کے گلے کے کڑائی کے کام میں ہمارا پسندیدہ نیلا رنگ نمایاں تھا ۔ اسکے بائیں رخسار پر پڑے ہوئے گڑھے کے بھنور میں ہم نے خود کو گویا ڈوبتا ہوا محسوس کیا ۔ خواتین ڈائجسٹ کی کہانیوں میں پڑھے ہوئے بہت سے جملے ابھی باقی تھے کہ وہ ظالم حسینہ ہمارے سامنے دیکھتے ہی دیکھتے ، ہرنی کی طرح قلانچیں بھرتی ہوئی نظروں سے اوجھل ہوگئی ۔ اور ہم پلٹ کر دیکھنے والے کی طرح پتھر کے بُت بنے رہ گئے ۔ کب پریڈ ختم ہوا ۔ کب چھٹی ہوئی ، کب کس اسٹوڈینٹ نے آکر ہمارا کُھلا ہوا منہ بند کیا ، کچھ یاد نہیں ۔ بس اتنا یاد ہے کہ اس نے ہمیں ایک لمحے ترچھی نظر سے دیکھا تھا ۔ جو تیر کی مانند ہماری آنکھوں سے ہوتا ہوا دل میں اتر گیا ۔ اور ہم یہ کہنے کی آس دل میں لیئے کھڑے رہ گئے کہ :
ترچھی نگاہ سے نہ دیکھو اپنے عاشق ِ دل گیر کو
کیسے تیر انداز ہو ، سیدھا تو کر لو تیر کو
اسکول کی چھٹی کے بعد ہم اُسے چاروں طرف دیوانہ وار ڈھونڈتے رہے لیکن وہ کہیں نظر نہیں آئی ۔ اور ہم اس تڑپ کیساتھ گھر واپس لوٹے کہ ” ایک بار دیکھا ہے ، دوسری بار دیکھنے کی ہوس ہے "۔ گھر آکر ہم کھانا کھائے بغیر اپنے کمرے میں چلے گئے اور اس کے تصور میں کھو گئے ۔ کاش کسی فلم کے ہیرو ہوتے تو خیالوں میں اس کے ساتھ کسی گانے میں جلوہ افراز ہوجاتے اور گانے کا ایک سین سنگاپور میں فلماتے تو دوسرا سین سوئیزلینڈ میں اور کوئی روک ٹوک بھی نہیں‌ہوتی ، بلکہ پورا فلمی اسٹاف ہمارے عشق کے تحفظ کی خاطر کیمرے لیئے ہمارے آگے پیچھے ہوتا ۔ رات خوابوں میں بھی وہی سراپا لہراتا رہا ۔ ہم خلاف ِمعمول صبح جلدی اٹھ گئے ۔ اور حسب ِ توقع والدِ محترم نے ہمیں حیرت سے دیکھا اور کہا ” جاؤ ! سو جاؤ ۔۔۔ میں دودھ لے آیا ہوں ۔ ” ہم ان کے طنز پر کوئی تبصرہ کیئے بغیر ، فجر کی نماز پڑھنے کا اعادہ کرتے ہوئے وضو کے لیئے باتھ روم میں گھس گئے۔ ہمیں یاد آیا کہ ہم نے آخری بار ساتویں کلاس میں فجر کی نماز پڑھی تھی جس میں اللہ میاں سے سالانہ امتحان کے پرچے میں ہونے والی غلطی کی درستگی کے لیئےگڑگڑا کے دعا کی تھی ۔ کیونکہ ہم تاریخ کے پرچے میں زبردست دھاندلی کے مرتکب ہوئے تھے کہ دیوارِ برلن توڑنے کا سہرا محمود غزنوی کے سر باندھ آئے تھے ۔

(جاری ہے )

چند حسینوں کے خطوط ، چند تصویرِ بُتاں ( قصہ دوم )

ہم نے شاہد صدیقی کو تلاش کیا اور انہیں ایک خان صاحب کے کیفے لے گئے ۔ ہمیں معلوم تھا کہ چائے شاہد صدیقی کی کمزوری ہے ۔ لہذا ان کی خاطر ومدارت بھی چائے سے کرنا لازم و ملزوم ٹہری ۔ ابھی چائے کا نزول ہوا ہی تھا کہ موصوف نے ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے چائے کا چینک ( کیتلی ) ایک سانس میں خالی کردیا ۔ اس قدر گرم چائے اور اس طرح حلق میں اُتارنے کا مظاہرہ ہم نے پہلی بار دیکھا تھا ۔ حلق میں جانے کس کمپنی کی فائبر آپٹیکل کیبل نصب کرائی ہوئی تھی کہ ساری چائے حلق چھوئے بغیر ان کے معدے میں براجمان ہوچکی تھی ۔ ہم نے خان صاحب کو دوسری چینک کا آرڈر دیا اور جلدی سے اپنا مسئلہ شاہد صدیقی کے سامنے گوشوار کردیا کہ ہمارے جیب میں اب مذید چائے کے لیئے معقول رقم موجود نہیں تھی ۔
ہماری داستانِ غم سن کر انہوں نے پہلے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو سر کے پیچھے باندھتے ہوئے ایک سرد آہ بھری اور پھر کسی سوچ میں گُم ہوگئے ۔ یہ بتانا بہت مشکل تھا کہ انہوں نے اپنی آنکھیں بھی بند کر لیں تھیں ۔ کیونکہ ان کی آنکھوں کے پپوٹے ان کی آنکھوں کے ڈیلوں سے بہت چھوٹے تھے ۔ ایک ڈیلے کا سائز تقریباً ایک سواتی سیب جتنا تھا ۔ اور ان پپوٹوں سے ان ڈیلوں کا احاطہ کرنا تقریباً ناممکن تھا ۔ ہم کچھ دیر تو صبر کرتے رہے ۔ مگر جب ان کا استغراق طول کھینچنے لگا تو ہمیں چائے کی آمد کی خبر دیکر ان کو اُلوؤں کی طرح شاخ سے اتارنا پڑا ۔ انہوں نے اپنی کھلی ہوئی آنکھوں کو مذید کھولنے کی ناکام کوشش کی اور میز پر انگلیاں بجاتے ہوئے خان صاحب کی طرف دیکھنے لگے ۔ ہم نے ان کو اپنا مدعا یاد دلایا تو بڑی گھمبیر آواز میں مخاطب ہوئے ۔
” یار تمہارا مسئلہ واقعی بہت پیچیدہ ہے ۔ اور حقیقت یہ ہے کہ تمہیں ایک عشق پانے کے لیئے دوسرے عشق سے دستبردار ہونا پڑے گا ۔”
ہم نے بڑی عاجزی سے عرض کیا ۔
” جی جناب ۔۔۔ ہمیں علم ہے ۔۔۔ مگر کسی ایک عشق سے ہاتھ دھونا ہمیں زندگی سے ہاتھ دھونے کے مترادف لگ رہا ہے ۔ سمجھ نہیں آتا کیا کروں ”
ہم نے شاہ رخ خان کی طرح گھیگیانے کی ناکام ایکٹنگ کی ۔
اے غمِ زندگی ، کچھ تو دے مشورہ
ایک طرف اس کا گھر ، ایک طرف میکدہ
شاہد صدیقی نے دوسری چینک کیساتھ بھی تاتاریوں جیسا سلوک روا رکھا ۔
” دیکھو ۔۔۔۔۔ ” شاہد صاحب نے جیسے کچھ کہنے کا آغاز کیا ۔
” لگتا یہی ہے کہ یہ عشق تمہارے روح کےاندر اُتر چکے ہیں ۔جن سے جدائی تمہارے لیئے ممکن نہیں ۔ اس کا علاج یہی ہے کہ کسی ایک عشق کا اثر تمہارے دل سے کچھ اس طرح زائل ہو جائے کہ دوسرا عشق تمہاری زندگی کی حتمی صورت بن جائے ۔ ”
” مگر یہ کیسے ممکن ہے ۔۔۔۔۔ ؟ ” ہم تقریباً گڑگڑائے ۔
ہمیں ان کے فلسفے سے زیادہ اپنے مسئلے کے حل کی فکر تھی ۔
انہوں نے میز پر دونوں کہنیاں ٹکاتے ہوئے اپنے بڑے بڑے ڈیلوں کو ہماری جھیل جیسی معصوم آنکھوں میں جھانکتے ہوئے جیسے ڈبونے کی کوشش کی اور پھر فلسفیانہ انداز میں کہا ۔
” تمہیں ۔۔۔ ایک تیسرا عشق کرنا پڑے گا ”
ہمیں ایسا لگا کہ کسی بچھو نے ہمیں ڈنگ مار دیا ہو ۔ مگر ہم پٹھان کے ہوٹل کی بوسیدہ چھت کا خیال کرکے اچھلنے سے باز رہے ۔
” شاہد صاحب ۔۔۔ ہم آپ کو اپنا مسیحا سمجھ کراپنا جیب خرچ بمعہ موٹر سائیکل کے پیٹرول کے پیسے ، چائے کی صورت میں آپ پر وار چکے ہیں ۔ کیا یہ صبح کا اجالا اور شام کی شفق ہماری ننھنی سی جان کے لیئے آزمائش نہیں تھا کہ آپ تیسرے عشق کا مشورہ فرما رہے ہیں ۔ کچھ تو خیال کجیئے ۔ ”
“یار ۔۔۔ تم نرے احمق ہو ۔ عشق کا روگ لگا لیتے ہو ۔ پھر دردِ دل کی دوا ڈھونڈتے ہو “۔ شاہد صدیقی نے تقریباً جھنجھلاتے ہوئے کہا ۔
دیکھو ۔۔۔۔ اگر تم تیسرا عشق کروگے تو تمہارے دل سے ان دو عشق میں سے کسی ایک عشق سے بیزاری خود بخود پیدا ہوجائے گی ۔ اور جس سے بیزاری پیدا ہوجائے اس کو الوادع کہہ کر دوسرے والے کو اپنی مستقل منزل بنالینا ۔ آسان سا حل ہے ۔ ”
” پھر تیسرے عشق کا کیا ہوگا ۔؟ ”
ہم نے اپنی زیرو وولیٹج والی کھوپڑی سے ان کے اس عظیم الشان منصوبے کو سمجھتے ہوئے اپنا خدشہ بیان کردیا ۔
” پھر وہی احمقوں والی بات ۔۔۔۔ ارے تم تیسرا عشق کونسا دل کے کہنے پر کروگے ۔ وہ عشق تو تم اپنے ان عشقوں میں سے کسی ایک عشق کو بھلانے کے لیئے انجام دوگے ۔ جب منصوبہ پایہ ِ تکمیل تک پہنچے گا تو تیسرے عشق کو بھلانا کونسا مشکل ہوگا کیونکہ اس کی افادیت صرف قیلوے کے مترادف ہوگی ۔ ”
شاہد صدیقی کو شاید ہماری طبعیت کا اندازہ نہیں تھا ۔ سو ہم نے ڈرتے ڈرتے ان سے سوال کیا
” اگر تیسرے عشق میں بھی ہم دل و جاں سے فدا ہوگئے تو ۔۔۔۔۔۔۔ ؟ ”
یہ سنتے ہی شاہد صدیقی نے پی آئی اے کے پرانے فوکر جہاز کی طرح کرسی پر بیھٹے بیھٹے کئی خوفناک جھٹکے لیئے اور پھر غصے سے کھڑے ہوگئے ۔
” یار ۔۔۔۔ عجیب آدمی ہو ۔۔۔۔ عشق بھی تم اس طرح ہضم کر لیتے ہو جیسے مولوی حلوے کا حشر کرتے ہیں ۔ میں تم کو اتنا مفید مشورہ دے رہا ہوں اور تم عشق میں ڈنڈی پہ ڈنڈی مار رہے ہو ۔ کچھ تو خوفِ خدا کرو ۔ ”
ہم ڈر گئے کہ شاہد صدیقی ناراض ہوگئے تو ان کو منانا پھر بہت مشکل ہوگا ۔
” سوری شاہد صاحب ۔۔۔۔۔ غلطی ہوگئی ۔۔۔ ٹہریئے ۔۔۔ میں چائے کا آرڈر دیتا ہوں۔ ”
ہم نے خان صاحب سے ادھار کا تقاضا کرتے ہوئے تیسری چینک کے لیئے استدعا کی ۔
“‌شاہد صاحب ۔۔۔۔ آپ کا مشورہ پوری طرح سمجھ آگیا ہے ۔ واقعی تیسرا مصنوعی عشق ہی اجالا اور شفق میں‌ سے ، کسی ایک کے انتخاب میں مدد دے سکتا ہے ۔ مگر ہنوز دلّی دور است ” ۔ ہم نے اپنی پریشانی پھر ظاہر کی ۔
” اب کیا ہوگیا ۔ ؟ ”
شاہد صدیقی نے بیزاری سے استفار کیا
” یہ تیسرے عشق کا سامان کہاں سے دستیاب ہوگا ۔ ؟ ”
ہم نے بلآخر اپنا حتمی مدعا بیان کردیا ۔
شاہد صدیقی صاحب نے اپنے ” انٹولے ” کو جیسے بھینچنے کی کوشش کی ۔ اس سے پہلے وہ ہمیں کچھ اور خطابات سے نوازتے ۔ ہم نے فوراً کہا ۔
” لجیئے شاہد صاحب ! چائے آگئی ۔۔۔ پیجیئے اور پلیز ہماری احمقانہ باتوں کو نظرانداز کرکے اس معاملے میں ہماری مدد فرمایئے۔ ”
چائے دیکھ کر شاہد صاحب کی آنکھیں واپس سواتی سیب جتنی ہوگئیں ۔
” میرے پاس اس کا بھی ایک حل ہے ۔ ” شاہد صدیقی نے کچھ توقوف کے بعد کہا ۔
ہماری باچھیں کان سے جا لگیں ۔
” جی جی ارشاد ۔۔۔۔ ”
ہم صبر کی آخری سرحدوں پر کھڑے ہوگئے۔
” میرے اسکول میں دسویں کلاس کے لیئے میتھ کے ٹیچر کی ضرورت ہے ۔ تم وہ جاب جوائن کرلو ۔ ”
ہمیں بہت غصہ آیا کہ پورے 33 امتیازی نمبروں کیساتھ ہم نے حساب کا پرچہ دسویں کلاس میں پاس کیا تھا ۔ اب موصوف ہمیں جانے کس آزمائش کی طرف دوبارہ دھکیل رہے تھے ۔
” اس سے کیا ہوگا جناب ۔۔۔۔ ” ہم نے بڑی عاجزی سے پوچھا ۔
” پوری بات سنو ۔۔۔۔۔ شاہد صاحب نے ایک مشہور مذہبی اسکالر کی طرح ہمیں مذید کچھ کہنے سے روک دیا ۔
” وہاں خاتون ٹیچرز ہیں ۔ جن میں سے اکثر میری طرح کالج میں بھی پڑھتیں ہیں اور اسکول میں بھی پڑھاتیں ہیں ۔ ان میں سے کسی ایک کے ساتھ آنکھ مٹکا کر لو ۔ ”
ہمیں ایسا محسوس ہوا کہ جیسے شاہد صاحب ،گاؤں کے کسی چودھری کی طرح ہمیں اپنا اُچکا سمجھ کر کسی کڑی کو چُک لینے کی بات کر رہے ہیں ۔
” جناب ۔۔ یہ آنکھ مٹکا تو فلرٹ کے دائرے میں آتا ہے ۔ کیا ایسا کرنا مناسب ہوگا۔؟ ”
ہم نے اپنی اخلاقی جرات کو بروئے کار لاتے ہوئے شاہد صاحب سے ان کے مشورے پر نظرِ ثانی کے لیئے اشارہ کیا ۔
” تمہیں فلرٹ ہی کرنا ہے ۔ اس لیئے اس لفظ کا انتخاب کیا ۔ اگر تیسرا سچا عشق کرنا ہے تو میری طرف سے کوئی پابندی نہیں ہے ۔ مگر خدا کے لیئے میرے پاس مت آنا ۔
شاہد صاحب نے ہری جھنڈی ہاتھ میں پکڑ لی ۔ اس سے پہلے وہ ہری جھنڈی لہراتے ۔ ہم نے کہا ۔
” ٹھیک ہے شاہد صاحب ۔۔۔۔ ہم اس منصوبے پر عمل کرنے کے لیئے پوری طرح تیار ہیں ۔ اب آگے آپ جو حکم کریں ”
“پیر کے دن میرے اسکول آجانا ۔ میں اپنے اسکول کے پرنسپل سے اس سلسلے میں بات کرلوں گا ۔ اُمید ہے وہ تمہیں انٹرویو کے بغیر ہی جاب دیدیں گے ۔ ”
ہم نے شاہد صاحب کا ہاتھ کسی مرشد کی طرح بڑی عقیدت سے چوما ۔ جس سے کسی تمباکو کے پان کی بُو آرہی تھی ۔ اور پیر کے دن حاضر ہونے کا وعدہ کرتے ہوئے اجازت طلب کی۔
ہم اپنی موٹر سائیکل پر بیٹھے ہی تھے کہ پیچھے سے شاہد صاحب نے آواز لگائی ۔
” ہاں ایک بات دھیان میں رکھنا ۔ ”
ہم ہمہ تن گوش ہوگئے ۔
” وہاں پرنسپل کی لڑکی بھی پڑھاتی ہے ۔ خبردار ۔۔۔۔ اس کی طرف نظر اٹھا کر بھی دیکھا ۔وہ ہماری منظورِ نظر ہے ۔ ”
” جو حکم جناب ۔۔ بندہ اس طرف دیوارِ چین تعمیر کرلے گا ۔ آپ بےفکر رہیں ۔ ”
” میں بے فکر نہیں رہ سکتا کہ تم وہاں نازل ہو رہے ہو ۔ خیر بس اب دھیان رکھنا ۔ خدا حافظ ”
ہم سوچ میں پڑگئے کہ کوئی لڑکی شاہد صاحب کی منظورِ نظر کیسے ہوگئی ۔ کیونکہ اگر وہ کسی مرد کی آنکھوں میں اپنی بیضوی آنکھوں سے دیکھ لیتے تھے تو وہ بھی چکرا جاتا تھا ۔ اور کسی صنف نازک کی آنکھوں میں براہ راست جھانکنے کا مطلب ، اس غریب کی بے ہوشی سے مشروط ہوتا ہوگا ۔ معاملہ یکطرفہ لگتا تھا ۔ خیر ہمیں اپنے معاملے کی فکر تھی ۔ لہذا ہم نے موٹر سائیکل اسٹارٹ کی اور گھر کی طرف روانہ ہوگئے ۔
(جاری ہے ) ‌

آنکھ ہے بھری بھری ۔۔۔۔

جب کوئی مسکرانے کی بات کرتا ہے تو جانے کیوں‌ یہ گانا لبوں‌ پر مچل جاتا ہے ۔

چند حسینوں کے خطوط اور چند تصویرِ بُتاں

زندگی بڑی عجیب شے ہے ۔ انسان اکثر کسی چھوٹی سی چیز کو پانے کے لیئے مچل جاتا ہے مگر مجال ہے کہ وہ چیز میسر آجائے ۔ اور جب تھوڑے پر قناعت کرنا چاہے تو وہی حال ہوتا ہے جو چھپر پھٹنے کے بعد اکثر دیکھنے کو ملتا ہے ۔ یعنی جو چھپر پھاڑ کر ملتا ہے اس کے نصف سے چھپر کی مرمت کرانی پڑتی ہے ۔ اور باقی نصف پولیس والوں کو دینا پڑتا ہے باوجود اس لاکھ دھائی کہ ظالموں ! میں نے ‌کہیں سے چوری نہیں کیا ہے بلکہ اوپر والے نے چھپر پھاڑ کردیا ہے ۔ مگر آج کے زمانے میں‌ کون ان پرانی باتوں پر یقین کرتا ہے اور وہ بھی پولیس والے ۔
تو صاحبو ! قصہ کچھ یوں ہے کہ ہمیں زندگی میں پہلا عشق ہوا ۔ یہ میڑک کے دور کی بات ہے ۔ ابھی اس عشق کو پروان چڑھے تقریباً پونےتین دن ہی ہوئے تھے کہ اچانک ایک انکشاف یہ ہوا کہ کسی اور خاتون کو بھی ہم سے عشق ہوگیا ہے ۔ یہ وہ نکتہِ آغاز ہے، جس کا ہم نےسب سے پہلے اپنی آپ بیتی میں ذکر کیا ۔ مجال ہے کہ آدمی کو عشق ہوجائے اور چلو ہو بھی جائے تو پھر چھپر پھاڑ کر ملنا اس نازک معاملے میں‌ کیا معنی رکھتا ہے ۔ پھر اس دو رخی عشق ( جسے دو رخی تلوار کہنا زیادہ مناسب رہے گا ) میں سب سے بڑا ستم یہ تھا کہ جس سے ہم نے عشق کیا اس کے سامنے ہم جوان ہوئے ۔ سو جب بھی دل کی بات کہنے کی کوشش کی تو معمر مستورات کا احترام جانے کیوں ہمارے زبان کی چاشنی بننے لگتا ۔ اور پھر ہم نے اُسے ہمیشہ باجی کہہ کر مخاطب کیا اور بعد میں کھسیا کر اپنی ادبی طبعیت کو کوستے ہوئے ٹائم وغیرہ پوچھ لیا کرتے تھے ۔ متعدد بار کوشش کی کہ اپنی دل کی بات اس دل ُروبا کو کہہ دیں مگر زبان نے بھی گویا قسم کھا رکھی تھی کہ آپا اور باجی کے علاوہ منہ سے کچھ اور نہیں اُگلنا ۔ ویسے بھی ضیاءالحق کا وہ بڑا نازک دور تھا ۔ اس زمانے میں حقوق العباد کا جذبہ نوجوانوں میں بہت عام ہوا کرتا تھا ۔ جس کے نتیجے میں ہر بس اسٹاپ پر بس کے اگلے حصے سے ( جو خواتین کے لیئے مختص تھا ) وہاں ‌سے نوجوانوں کو برآمد کرکے ڈنڈوں اور لاتوں سے تواضع کی جاتی تھی ۔ اس کارِ خیر میں نوجوانوں کیساتھ کچھ بزرگ بھی حصہ لیکراپنی کھوئی ہوئی جوانی کی بھڑاس نکال لیا کرتے تھے ۔
اسی دوران دوسرے عشق کا سانحہ ہوگیا ۔ دوسرے عشق کا سانحہ پہلے عشق کے المیے کے بلکل برعکس تھا ۔ یعنی جس سے ہمیں عشق ہوا اس کے سامنے ہم جوان ہوئے اور جسے اب ہم سے عشق ہوا ۔ وہ محترمہ ہمارے سامنے جوان ہوئیں ۔ عشقِ اول میں ہماری زبان آپا اور باجی کی تکریم کی پابند تھی جبکہ عشقِ دوم میں زبان ، ِبیٹا رانی کہہ کہہ کر نہیں‌ تھکتی تھی ۔ بہت عرصے تک ہم سر مارتے رہے کہ اپنی زبان کو لگام دیں مگر ہر کوشش بےسود ثابت ہوئی۔ بلآخر فیض کی اس نظم سے ہم نے اپنے دل کے بناسپتی گھی سے جلے ہوئے چراغ بجھائے ۔
کچھ عشق کیا ، کچھ کام کیا
پھر آخر تنگ آکر ہم نے
دونوں کو ادھورا چھوڑ دیا
خیر میڑک کا زمانہ گذر گیا ۔ چونکہ ہم اپنے دیگر دوستوں کی طرح عشق کی اصل روح سے صحیح طور پر واقف نہیں ہو سکے تھے۔ اس لیئے کئی اچھے دوستوں کو اسکول میں‌ چھوڑ کر آگے کالج کی دنیا میں قدم رکھا ۔ دوستوں نے ہمیں بڑی لعنت ملامت کی کہ ہم انہیں چھوڑ کر جا رہے ہیں مگر دوستوں کی گریہ آوزری سے زیادہ ہمیں اپنے والدِ محترم کے اس چھتر کی فکر تھی ۔ جو انہوں نے صرف اس ارادے سے خریدا تھا کہ اگر ہم میڑک میں فیل ہوگئے تو ہماری پشت ہٹا کر یہ وہاں نصب کردیا جائے گا ۔
کالج کی دنیا ، ایک نئی دنیا تھی ۔ حتٰی کہ ہم خود کو بھی نئے نئے سے لگے ۔ اسکول میں اپنا خیال کیا رکھا ہوگا جو ہم نے کالج میں اپنے ہی ناز اٹھائے۔ ہم بوائز اینڈ گرلز کالج میں پدھارے تھے ۔ یوں لگتا تھا کہ جیسے سارے شہر کا حسن ، ہماری کلاس میں بس گیا ہے ۔ ہماری کلاس میں یوں ‌تو کئی حسین چہرے تھے ۔ مگر جس چہرے نے ہمیں متاثر کیا اس کا ذکر کرنا شامتِ اعمال کو دعوت دینے کے مترادف ہوگا کہ آج کل وہ قومی اسمبلی کی ممبر ہیں ۔ اس کی آمد گویا آمدِ بہار ہوتی تھی اور لوگ اسے چوری چھپے دیکھتے تھے ۔ مگر خدا کی قسم ۔۔۔ ہم نے کبھی اسےچوری چھپے نہیں دیکھا ۔ بلکہ جب بھی دیکھا ٹکٹکی باندھ کر دیکھا ۔ جس پر ایک دن ہمارے پروفیسر صاحب خفا ہوگئے اور کہا “ یہ کہاں دیکھ رہے ہو ۔ شرم نہیں آتی کلاس میں بیٹھ کر ایسی حرکتیں کرتے ہو ۔“ ہم نے بڑی عاجزی سے عرض کیا کہ ” سر ! رات سوتے ہوئے گردن توڑ ہوگیا ہے اس لیئے گردن اپنے زوایے پر قائم نہیں رہی ۔ گردن موڑنے سے قاصر ہوں اگر آپ کہیں تو کلاس سے نکل جاتا ہوں ۔ مگر آپ جیسے قابل استاد کا لیکچر سننے سے محروم رہ جاؤں گا ۔ ” پروفیسر صاحب نے تاسف بھرے لہجے میں احیتاط کی ہدایت کی اور اپنے لیکچر میں مشغول ہوگئے اور ہم موصوفہ کو لیکچر کے دوران جی بھر دیکھتے رہے ۔
ٹکٹکی باندھ کر مسلسل دیکھنے سے ہمیں واقعی گردن توڑ ہوگیا ۔ اور ساتھ یہ خوف بھی غالب آگیا کہ اگر کسی دن موصوفہ نے اپنی کرسی بدل لی تو ہمارا کیا ہوگا ۔ اس عمل سے جہاں ہماری زرافے جیسی گردن پر اثر پڑا ۔ وہاں والدِ محترم پر ہماری تعلیمی قابلیت کی قلعی بھی کُھل گئی ۔ انہوں نے اپنے خریدے ہوئے چھتر سے ہمارے وہ طبق روشن کیئے جس کا مڈیکل سائنس کی تاریخ میں کوئی ذکر نہیں ملتا ۔ اس روایتی تشدد کے نتیجے میں ہمیں گردن توڑ کے ساتھ مذید توڑوں سے بھی مستفید ہونا پڑا ۔ مذید ستم یہ ہوا کہ ظالم ڈاکٹروں نے ہمیں اہرامِ مصر کی کوئی ممی سمجھ کر ایسی مرہم پٹی کی کہ صرف ناک سے سانس لینے کا راستہ کُھلا چھوڑا ۔ اور جب ہم پلاسٹر اور پٹیوں میں جکڑے کرسی پر بیٹھے ہوئے ہوتے تو محلے کے بچے ہمیں حرکات و سکنات سے محروم دیکھ کر جھاڑو کے تنکوں سے ہماری ناک میں گدگدی کر کے ہمیں چھینک دلانے کی کوشش کرتے اور جب ہمیں چھینک آتی تو پلاسٹر کی وجہ سے جو کچھ جڑا ہوا ہوتا تھا وہ پلاسٹر کے کُھلنے کے بعد ٹوٹی ہوئی چائینا کی پلیٹوں کی طرح برآمد ہوجاتا ۔ جس پر ڈیوٹی بھی کوئی مقرر نہیں تھی ۔ اور ہم بے پیندہ لوٹے کی طرح سجدہ ریز ہوجاتے ۔اس خاص موقع پر گلی میں ہمارا کوئی دشمن اپنے اسٹیریو پر اقبال کا شعر بغیر کسی کمرشل کے ، حبیب ولی محمد کی آواز میں بار بار دھراتا :
” تیرا دل تو ہے صنم آشنا ، تجھے کیا ملے گا نماز میں ”
ہماری شاندار تعلیمی قابلیت کو دیکھتے ہوئے والد ِ محترم کے ایک دوست نے مشورہ دیا کہ ” لونڈا ۔۔ پڑھائی میں‌ دھیان نہیں دے رہا ہے تو اس کو کوچنگ سینڑ پر بٹھا دو ۔ ( ہمیں تو یوں محسوس ہوا کہ جیسے کسی کوٹھے پر بٹھانے کی بات کہہ رہے ہوں ) ۔
کوچنگ سینٹر میں دوسرا دن تھا کہ اس پر نظر پڑ گئی ۔ کیا بلا کی سادگی تھی ، کیا سانولا پن تھا ۔ یعنی اوپر والے نے پھر چھپر پھاڑ کر دیا تھا ۔ صبح و شام کے اوقات آسان ہوگئے تھے ۔ کالج جاکر آنکھوں کو سیکنے کی خواہش صبح ہی صبح بیدار کردیتی تو والد صاحب بڑی حیرت سے دیکھتے اور پوچھتے کیوں خیریت ! اتنی صبح کیسے اٹھ گئے۔ ؟ کیا دودھ لینے جانا ہے ۔؟ ” اور شام کو ڈوبتے سورج جیسی شفق کو قریب سے دیکھنے کی خواہش بغیر کسی کاہلی کا مظاہرہ کیے ، کوچنگ سینٹر لے جاتی تھی ۔ دونوں جگہ وقت کی پابندی اور تعلیم میں دلچسپی اس بات کا مظہر تھی کہ میں عنقریب کراچی میں ٹاپ کرنے والا ہوں ( یہ میرے والدِ محترم کا نکتہِ نظر تھا ) ۔
ایک جانب کسی کے حسن سے ہم بے حال تھے تو دوسری طرف کسی کے سانولے پن اور سادگی نے ہماری دل کی دھڑکنوں کو بے ترتیب کیا ہوا تھا ۔ کسی طور بھی دل کو قرار نہ تھا ۔ لگتا تھا کہ یہ اسی فقیر کی بدعا کا نتیجہ ہے جس کی لُنگی میں بچپن میں ہم نے پٹاخہ باندھ دیا تھا ۔ اور پھر اس نے دھوتی اٹھا کر جو بدعا دی تھی اس کا تذکرہ کرنا اخلاقی تقاضوں کے مطابق مناسب نہیں لگتا ۔ سو پہلے بھی ہم بیک وقت دو عشقِ بُتاں میں‌ گرفتار ہوئے ۔مگر فیض کے اشارے پر دونوں‌کو ادھورا چھوڑنا پڑا ۔ اب پھر وہی معرکہ آن پڑا تھا ۔ ادھر جائیں تو دل ہاتھ سے نکلتا تھا ۔ اُدھر جائیں‌ تو جگر پیٹنے کا جی کرتا تھا ۔ عجب کشمکش کا عالم تھا ۔ اب فیض بھی نہیں‌ رہے تھے کہ ان سے کوئی دوسری نظم لکھوا لیتے ۔ اچانک ہمیں اپنے دوست شاہد صدیقی کا خیال آیا ۔ جو ہمارے ساتھ کالج میں‌ پڑھتے تھے مگر ذہانت کا وہ عالم تھا کہ ایک پیرائیوٹ اسکول میں شعبہِ تدریسی سے بھی منسلک تھے ۔ ہمیں پورا یقین تھا کہ ان کی ذہانت ہمارا کوئی ” ایک عشق ” متعین کرنے میں کارآمد ثابت ہوگی ۔

اختیامِ سفر پر پیار آیا

آج کافی برسوں بعد وطن کی سرزمین پر جب میں نے پاؤں رکھا تو مجھےایسا محسوس ہوا کہ جیسے کسی نے میرے جلتے ہوئے پیروں نیچےٹھنڈے پانی سے بھیگے ہوئے ہزاروں گُل بچھا دیئے ہوں ۔ وطن کی مٹی کے جکڑ کے احساس نے مجھے یاد دلایا کہ میں اب تک ایسے سفر میں تھا ، جس میں مجھے ہر قدم پر آبلہ پا ہی ہونا پڑا تھا۔ کم پا کر بہت کچھ لٹا کر واپس آیا تھا۔ زندگی کے بہت سے ماہ و سال پیسہ اور باہر رہنے کی خواہش میں ہاتھ سے اس طرح چُھوٹ گئے تھے ۔۔۔۔ جیسے کوئی ساری عمر کاسہ ہاتھ میں لیئے کھڑا رہے مگر اُس میں کوئی ایک پیسہ بھی نہ ڈالے۔ زندگی کو ایک اُجلے دامن کی طرح اور آنکھ میں جانے کیسے کیسے خواب سجا کے گھر سے نکلا تھا۔ مگر واپسی پر نہ صرف خواب ریزہ ریزہ تھے، بلکہ دامن بھی تار تار تھا۔
ائیر پورٹ سے گھر تک کا سفر کار میں امی اور ابو کے درمیان بیٹھ کر ہی طے کیا ۔ اُن دونوں کے وجود سے مجھے ایک تحفظ کا سا احساس ہو رہا تھا اور مجھے یوں لگ رہا تھا کہ میں کسی سخت جلتی ہوئی دوپہر میں دو سایہ دار شجروں کے بھر پُور سایے میں آگیا ہوں۔
گھر پہنچ کر امی نے مجھے سب سے پہلے آرام کرنے کا حکم صادر فرمایا ۔ ابو نے بھی اس کی تائید کی ۔ میں نہا دھو کر اپنے کمرے میں آیا تو دیکھا کہ میرا کمرہ آج بھی اُسی حالت میں ہے جیسا کہ میں آج سے بہت سالوں پہلے چھوڑ کر گیا تھا۔ ہر چیز قرینے سے رکھی ہوئی تھی ۔ کسی چیز پر بھی کوئی گرد کا نشان تک بھی نہیں تھا ۔ کمرے کی حالت دیکھ کر لگتا تھا کہ امی نے میرے کمرے کی خاص طور پر بڑی دیکھ بھال کی تھی ۔ میں اپنے بیڈ پر لیٹ گیا ۔اچانک ہی ایک خیال نے مجھے اپنے بستر سے اُٹھنے پر مجبور کردیا ۔ میں ہمیشہ کی طرح اُسی کھڑکی پر جا کھڑا ہوا جو اُس کے گھر کی طرف کُھلتی تھی ۔آج بھی اُس کا گھر چند ایک تبدیلوں کے ساتھ میری نظروں کے سامنے تھا۔ مگر میں جانتا تھا کہ وہ اب یہاں نہیں ہے ۔ میرے وطن چھوڑنے سے پہلے ہی وہ اپنے پیا کے گھر جا چکی تھی۔ مجھے بھی کچھ تبدیلی کی ضروت تھی ، لہذاٰ میں نے بھی وطن چھوڑ دیا ۔میری نظر میرے گھر کی آنگن کے اُس حصے میں بھی پڑی جہاں ہم کھیلا کرتے تھے ، کبھی آنکھ مچولی تو کبھی گڑیا گُڈے کی شادی کا کھیل ۔
دیکھو ۔۔۔ تم کو میرا ہی دولہا بننا ہے ۔۔۔ خبردار اگر کسی اور کا دولہا بننے کی کوشش کی ۔ اگر کسی کے بن بھی گئے تو میں تًم کو اپنا دولہا بنا کر ہی رکھوں گی ۔۔۔سمجھے” میری آنکھوں کے سامنے اچانک ہی بچپن کے ایک واقعے کی یاد تازہ ہوگئی ۔
ارے پگلی ۔۔۔ یہ میری اور تمہاری شادی تھوڑی ہو رہی ہے ۔ یہ تو گڑیا اور گڈے کی شادی ہے۔
ہاں میں جانتی ہوں ۔۔۔ مگر میں بھی کون سا گڑیا اور گڈے کی شادی کی بات کر رہی ہوں ۔
میں نے اپنے ننھے سے ذ ہن پر زور دیتے ہوئے اُس کی بات سمجھنے کی کوشش کرتا تھا اور بات سمجھ میں آجانے کے بعد مسکرا کر اُسے دیکھتا تھا تو ایک دم سے وہ اپنا چہرہ دونوں ہاتھ میں چُھپا کے شرما کر بھاگ جاتی تھی ۔ ( میں جب بھی اُس کی آنکھوں میں جھانکتا تھا وہ اسی طرح ہمیشہ ایسا ہی کرتی تھی )۔
ارے ۔۔۔ ہم براتیوں کو مھٹائی کون کھلائے گا اور یہ اپنی گڑیا کو چھوڑ کر کہاں بھاگ رہی ہو۔
بچپن کی ساتھیوں میں سے ناہید کا جملہ بھی میرے کان میں سرگوشیاں کرنے لگا ۔جو اُس وقت اپنے بھائی خالد اور دیگر دوسرے بچپن کے ساتھیوں کے ساتھ گڑیا کی ماں بن کر آئی تھی ۔
عجیب دور تھا وہ ۔۔۔ نہ کوئی غم تھا نہ کوئی فاقہ ۔۔۔۔۔
شام کو تازہ دم ہو کر باہر نکلا تو لوگوں نے مجھے پہچان کرخوش آمدید کہا ۔۔۔ کافی بُزرگ اب دنیا میں نہیں رہے تھے ۔ کچھ دوست یار بھی ذریعہ معاش کے چکر میں یا تو وطن سے باہر تھے یا پھر اپنی ضرورتوں کے مطابق شہر کے کسی اور حصے میں منتقل ہو چکے تھے۔مگر اپنے بہت ہی دیرینہ دوست کو وہاں پا کرمجھے بیحد خوشی ہوئی ۔
ارے احمر ۔۔۔۔ تُم ۔۔۔ کب واپس آیا یا ر ۔۔۔ ؟ کسی نے بتایا بھی نہیں کہ تم واپس آگئے ہو ۔
ارشد نے مجھے ایک زمانے کے بعد دیکھا تو بہت ہی خوش ہوا ۔
میں نے کہا کہ بس یار کل ہی آگیا ۔ تُو سُنا کیسا ہے ۔۔۔ ؟ یہ تیرا بیٹا ہے ۔ میں نے اُس کے جسم سے تقریباٰ لپٹے ہوئے ایک بچے کو دیکھ کر کہا ۔
ہاں یہ میرا تین سالہ بیٹا واحد ہے ۔۔۔ اور ابھی تک واحد ہی ہے ۔
ہم دونوں کھلھلا کر ہنس پڑے ۔
لگتا نہیں ہے مگر مان لیتا ہوں کہ اتنا خوبصورت بچہ ہےتیرا ۔۔۔ یقینا بھابھی پر ہی گیا ہوگا۔
ہم ایک پھر ہنس پڑے۔
کچھ دیر دوستوں کے درمیان شام گذارنے کے بعد میں گھر واپس آگیا ۔ میں نے گھر کے آگے والے حصے یعنی لان میں بیٹھنے کے بجائے گھر کے پیچھلے حصے آنگن میں ہی بیھٹنے کو ہی ترجیح دی ۔ پتا نہیں گھر کے اس حصے سے مجھے کسی قسم کی اُنسیت تھی کہ پردیس میں بھی میں اسے ہی یاد کرتا تھا۔
بیٹا ۔۔۔ میں چائے لاتی ہوں تُم بیٹھو۔
امی نے کچن سے آواز لگائی جہاں سے آنگن واضع طور پر نظر آتا تھا۔
امی نے چائےلا کر میز پر رکھی تو میں سنبھل کر بیٹھ گیا۔ مجھے معلوم تھا کہ اب وہ کیا پُوچھنے والی ہیں۔
بیٹا ۔۔۔ جو ہوگیا آسے بھول جا ۔۔۔ یہ سب قسمت کے کھیل ہیں ۔ کوئی کچھ نہیں کر سکتا ۔
ہاں اپنی آپ ٹھیک ہی کہتی ہیں ۔ مگر میں اپنے وجود کے جن حصوں کو وہاں چھوڑ کر جو آیا ہوں ۔ وہ کیسے بھلائے جا سکتے ہیں ۔
اللہ نہ کرے کہ تم اُ ن کو۔۔۔ یا وہ تم کو بُھلائیں ۔۔ تم تو اُن سے وہاں مل بھی سکتے ہو اور تم نے ہی بتایا تھا کہ کورٹ نے تمہیں یہ اجا زت دے رکھی ہے کہ تم اُن کو گرمیوں کی چھٹی میں یہاں پاکستان بھی لا سکتے ہو۔
ہاں یہ تو ہے امی ۔۔۔۔ مگر میں اُن معصوموں کی ایسی تقسیم نہیں چاہتا تھا۔ مگر قدرت نے میرے لیئے کوئی راستہ بھی نہیں چھوڑا تھا۔
اس میں تمہارا کوئی قصور نہیں ہے ۔ تم نے اپنی طرف سے مصحالت کی پوری کوشش کی ۔ یہ سب جانتے ہیں ۔ مگر وہ عورت پر مغربیت کا جو بُخار چڑھا ہوا ہے ۔۔۔ تم دیکھنا ایک دن وہ اُسے لے ڈُوبے گا۔
امی اب روایتی کوسنے پر آگئیں تو میں نے باتوں کا سلسلہ موقوف کردیا۔
چائے ختم کرنے کے بعد میں اپنے کمرے میں واپس آگیا اور چُپکے سے سگریٹ سلگائی ۔ امی اور ابو کو یہ علم نہیں تھا کہ میں نے سگریٹ پینا شروع کردی ہے۔
میں امریکہ میں گذارے ہوئے اپنے قیمتی سالوں کو تو بھول سکتا تھا ۔ مگر میں اپنے اُن بچوں کو نہیں بھول سکتا تھا ۔ جن کے لیئے میں نے ہر قدم پر کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا۔ میری یہ قربانی جب سارہ کے لیئے ایک بلیک میکنگ کا راستہ بن گئی تو مجھے احساس ہو گیا کہ اب وقت آگیا ہے کہ علیحدگی اختیار کر لی جائے کہ جب میاں اور بیوی کے درمیان رشتہ صرف ایک کاروبار کی حثیت اختیار کر لے تو پھر اس رشتہ کو طول دینا کسی بھی طور سے مناسب نہیں۔
میرے اس فیصلے سے سارہ کو بہت خوشی ہوئی تھی ۔۔۔ اور مجھے تو بعد میں تو ایسا بھی لگا کہ شاید وہ جان بُوجھ کر ہی ایسے اقدام اُٹھاتی تھی کہ میں امریکہ کے قوانین کے مطابق علیحدگی کا فیصلہ خود ہی کورٹ تک لے کر جاؤں۔
بعد میں میرے اس خدشے کی تصدیق بھی ہوگئی کہ اُس نے سال کے اندر اندر دوسری شادی کر لی ۔مگر بچے قانون کے مطابق بدستُور اُس کی ہی تحویل میں تھے ۔ مجھے ہفتے میں دو بار بچے اپنے ساتھ لے جانے کی اجازت تھی۔
دوسرے دن مجھے کوئی خاص کام نہیں تھا ۔ بس ایسے ہی ارشد کے ساتھ طارق روڈ کی طرف نکل گیا۔
یار ۔۔۔ توُ طارق روڈ کو اب دیکھ کر حیران ہو جائے گا ۔ بہت ہی زیادہ ڈویلوپمینٹ ہوئی ہے اور بعد میں اُس کی بات کی تصدیق بھی ہوگئی کہ طارق روڈ پر کئی فلک بوس عمارتیں سے سر اُٹھائے مجھے کھڑی نظر آئیں ۔جو زیادہ تر کاروباری مقاصد کےلیئے بنائی گئیں تھیں کچھ دیر یونہی گھومتے گھومتے ہم ایک ریسٹورینٹ میں جا بیٹھے۔
کھانےکے آڈر کے بعد ارشد مجھے کچھ دیر دیکھتا رہا ۔۔۔ بلآخر کہا ۔۔
یار مجھے بڑا افسوس ہوا کہ تیری ازداوجی زندگی کامیاب نہیں ہوسکی ۔ تم نے فون پر کئی بار تو تذ کرہ تو کیا تھا ۔ مگر حالات یہاں تک پہنچے گے کسی کو کیا خبر تھی۔
ہاں بس ۔۔۔ کچھ ایسا ہی ہو گیا ۔
میں نے مختصر سا جواب دیا تو وہ بھی خاموش ہوگیا۔
اچھا ہاں اگلے ہفتے میرے چھوٹے بھائی آصف کی شادی ہے ۔۔۔ میں نے پرانے دوستوں کے ساتھ ساتھ پُرانے ہمسایوں کو بھی بلایا ہے جو اب شہر کے مختلف حصوں میں رہائش پذیر ہیں۔ذرا موڈ ٹھیک کر کے آنا ۔۔۔ زندگی ابھی ختم نہیں ہوئی ہے ۔ویسے بھی پُرانے لوگوں سے مل کر تمہیں خوشی ہوگی۔
میں بس مُسکرا کر رہ گیا ۔
بچپن کی محبت میں ناکامی کے بعد میں نے امریکہ میں فطری خواہش کے مطابق سارہ کو اپنا جیون ساتھی بنایا ۔۔ بعد میں مجھےاحساس ہوا کہ میرے اور اُسے درمیان نہ صرف مزاج کا ایک بڑا فرق ہے بلکہ مذ ہب اور کلچر کا بھی ایک واضع تضاد موجود ہے ۔ مگر اُس وقت بچے دُنیا میں آچکے تھے۔ لہذاٰ میں نے اس فرق کو اپنا نصیب مان لیا ۔ مگر جب سارہ کی فطرت کے منفی پہلو مجھ پر آشکار ہوئے تو پھر میں نے ہھتیار ڈال دیئے۔
انسان جب سب کچھ کھو دیتا ہے تو پھر اُسے وہ سب کچھ یاد آتا ہے جس کے کھونے میں اُس کا کوئی ہاتھ نہیں ہوتا اور یہی وجہ تھی کہ پاکستان آنے کے پہلے دن ہی مجھے شبانہ کا خیال آگیا تھا ۔کیوں کہ میں یہ سمجھتا تھا کہ اُس کو کھونے میں میرا کوئی ہاتھ نہیں تھا ۔
شادی ہال میں کافی لوگ موجود تھے ۔ ارشد نے واقعی محلے کے پُرانے لوگوں کو بھی مدعو کیاتھا۔
مجھے اُن سب سے مل کر بہت خوشی ہوئی ۔ خاص کر شبانہ کے والد سے ۔۔۔۔ مگر مجھے شبانہ کے بارے میں پُوچھنے کی ہمت نہیں ہوسکی۔
شادی کے آخری رسومات کا آغاز ہوچکا تھا ۔۔۔ زیادہ تر مہمان واپس اپنے گھروں کی طرف لوٹ چکے تھے۔ دولہا اور دولہن کے عزیز اور اقارب فرداٰ فرداٰ دولہے اور دولہن کے ساتھ اپنی اپنی تصویریں اُتر وا رہے تھے ۔ میں بے زار ہوکر شادی ہال کے اگلے حصے میں آگیا جہاں ایک خوبصورت لان تھا ، وہا ں کچھ کرسیاں بچھی ہوئیں تھیں ۔ میں ایک کرسی پر بیٹھ گیا ۔ مجھے ابھی بیٹھے ہوئی کچھ لمحے ہی ہوئے تھے کہ وہ میرے سامنے والی کرسی پر آکر بیٹھ گئی۔
میرا ہاتھ میری جیب میں ہی رہ گیا جو میں نے سگریٹ نکالنے کے لئے جیب میں ڈالا تھا۔
کیسے ہو احمر ۔۔۔۔ ؟
میں ۔۔۔ میں ۔۔ ٹھیک ہوں ۔
میں گڑبڑا گیا ۔
تم سناؤں تًم کیسی ہو ۔ ؟
میں ۔۔۔ میں ۔۔۔ بھی ٹھیک ہوں
اُ س نے میری نقل کی ۔۔۔۔ اور ہنس پڑی
میں بھی ہنس پڑا
میں نے اب اُسے غور سے دیکھا ۔
وقت نے گویا کہ اُ س کے چہرے پر گذری ہوئی ساعتوں کے کچھ نشانیاں ضرور چھوڑیں تھیں۔ مگر اُس کے چہرے کی دلکشی میں کوئی فرق نہیں آیا تھا ۔
کب آئے ۔۔۔ ؟
پچھلے ہفتے ۔۔۔
تم کہاں ہوتی ہو ۔۔۔ آج تمہیں دیکھ کر یوں لگا کہ صدیوں بعد دیکھا ہے ۔
وقت تو احمر ۔۔۔۔ انسان کے اندر اپنا سفر طے کرتا ہے ۔ کیونکہ مجھے نہیں لگا کہ میں نے تمہیں ایک زمانے کے بعد دیکھا ہے ۔
وہ کیوں ۔۔۔ ؟ میں نے حیرت سے پُوچھا۔
میں نے اپنی آنکھوں میں وقت کو روک دیا تھا اور تمہیں کبھی بھی اپنی نظروں سے اُوجھل نہیں ہونے دیا ۔
مجھے ایک احساس َ ندامت سا ہونے لگا کہ میں نے اُسے بھلا کر ایک نئی زندگی کا آغاز کیا تھا اور ایک وہ تھی کہ اپنی نئی زندگی کا آغاز کرنے کے باوجود بھی مجھے ہمیشہ یاد رکھا۔
تمہیں شرمندہ ہونے کی ضرورت نہیں ۔۔۔
شاید وہ میرے چہرے کے تاثرات سے اندازہ کر چکی تھی کہ میں کیا سوچ رہا ہوں ۔
قصور میرا ہی تھا کہ میں اپنی پسند کے بارے میں اپنے گھر والوں کو نہیں بتا سکی کہ امی کا کینسر آخری اسٹیج پر تھا اور وہ بضد تھیں کہ میری شادی اُن کی بہن کے بیٹے کے ساتھ ہو۔
خیر ۔۔۔ بیتی ہوئی باتوں کو دُھرانے کا کیا فائدہ ۔ تُم سناؤں ۔۔کیسی گذر رہی ہے ۔ تمہارے شوہر کہاں ہوتے ہیں ۔ اور ہاں کتنے بچے ہیں۔؟
میں نے بات کا رُخ تبدیل کرتے ہوئے اُس سے کئی سوال کر ڈالے ۔
شادی کے تین سال بعد مجھے طلاق ہو گئی تھی ۔
میں ایک دم سے سناٹے میں آگیا ۔
مگر مجھے تو یہ کسی نے بھی نہیں بتایا۔
تم نے میرے بارے میں کسی سے پُوچھا ہی نہیں ہوگا۔
اُس نے صیح اندازہ لگایا۔
مگر ایسا کیوں ہوا ۔۔ ؟ ، جبکہ وہ تمہارا اپنا کزن تھا
اس سے کیا فرق پڑتا تھا، شادی کے تین سال گذرنے کے باوجود بھی جب میں ماں نہیں بن سکی تو اُس نے مجھے طلاق دے کر دوسری شادی کر لی۔
اس حساب تو اس بات کو کافی عرصہ ہو گیا ۔ تم نے پھر دوسری شادی کیوں نہیں کی۔
پتا نہیں ۔۔۔ مگر کسی اور کے نام کے ساتھ اپنی زندگی گذارنے پر میں نے اپنی محبت کے سہارے زندگی کو ترجیح دی ۔مگر اب یہ نہیں سمجھ لینا کہ میں یہ کہوں گی کہ تم اپنی بیوی بچوں کو چھوڑ کر میرے ساتھ شادی کرلو۔
یہ کہہ کر وہ کھکھلا کر ہنس پڑی۔
میں قدرت کے کارخانے کےاس عجیب کھیل کے بارے میں سوچنے میں مجبور ہوگیا کہ اگر اُوپر والے کو ہم کو ملانا ہی مقصود تھا تو پھر یہ تھکا دینے والا طویل سفر کیوں طے کروایا۔
میری بھی علیحدگی ہو چکی ہے ۔
میں نے قدرے توقف کے بعد اُس کو بتایا۔
اُس کے چہرے پر ایک رنگ آ کر گذر گیا۔
وہ کچھ دیر سَکتے کی حالت میں مجھے دیکھتی رہی اور پھر کسی کی بھی پروا کیئے بغیر میری بانہوں میں آکر بُری طرح رو پڑی۔
میں اور شبانہ آج بہت خوش ہیں ۔ اللہ نے اُس کو تو اولاد سے محروم رکھا تھا مگر میرے بچوں نے اُس کی ما ں کی کمی کو پُورا کردیا ۔ سارہ کی دوسری شادی اور بچوں کو وقت نہ دینے پر کورٹ نے بچوں کو میرے حوالے کردیا تھا۔شبا نہ نے ان بچوں کو وہ پیار دیا کہ میرے اپنے ہی بچے مجھے چھیڑتے تھےکہ ممی (شبانہ) یہ پاپا ( یعنی کہ میں ) کون ہیں۔
میں بھی کبھی کبھی شبانہ کو چھیڑ دیتا ہوں کہ اگر تم بچپن میں صرف یہ کہتیں کہ ”تمہیں صرف میرا دولہا بننا ہے تو شاید یہ ایسا ہی ہو جاتا”
مگر مجھ سے شرما کر بھاگ جانے والی شبانہ اب میری بات سُن کر یہ کہہ کے مجھے لاجواب کردیتی ہے کہ اگر ایسا ہوتا تو ہمارے آنگن میں یہ پُھول سے بچے کہاں سے آتے “۔
میں بھی جب اس سارے عرصے پر ایک نظرڈالتا ہوں تو مجھے احساس ہوجاتا ہے کہ قدرت نے جس کٹھن سفر کے لیئے مجھے مجبور کیا تھا ۔ وہ صرف ان بچوں کے لیئے ہی مختص تھا۔ اب اختیتامِ سفر کو دیکھ کر میں ہمیشہ اللہ کے حضور سجدہ ریز ہوجاتا ہوں “
واہ ۔۔۔۔ اختیامِ سفر پر پیار آیا

تم سے بچھڑ کر زندہ ہیں

آج رات میری آنکھوں سے نیند کوسوں دُور تھی۔ مجبوراً سگریٹ پر سگریٹ پھونک رہا تھا۔ کل میری وطن روانگی تھی ۔۔۔ پُورے آٹھ سال بعد ۔۔۔ ان آٹھ سالوں میں جہاں میں نے پایا تھا ۔۔ وہاں کھویا بھی بہت کچھ تھا۔ بلکہ یُوں کہنا بہتر رہے گا کہ میں نے کھویا ہی کھویا تھا۔
وطن چھوڑنے کے بعد بھی میرے دل میں وہ کسک اب بھی موجود تھی جو میں یہاں امریکہ آتے ہوئے ساتھ لایا تھا۔ وہ آخری رات کا منظر میری نظروں میں ابھی تک اس طرح محفوظ تھا کہ جیسے کل کی ہی بات ہو۔ اُس رات فرح کی شادی تھی اور میری امریکہ روانگی ۔۔۔ اور فرح میرے پاس عجلہ عروسی کے جوڑے میں میرے گھر میں آکر میرے کمرے میں کھڑی تھی ۔۔۔۔ (اور اُس رات میرے گھر والے میرے لئے گرم کپڑوں کی خریداری کے لئے باہر نکلے ہوئے تھے کہ امریکہ میں ضرورت پڑے گی۔) وہ دسمبر کی بڑی سرد رات تھی۔ جب وہ سارے رشتے ، سارے بندھن میری خاطر توڑ کر آئی تھی۔ اُس کے گھر پر برات آنے والی تھی اور وہ میرے گھر اور میرے کمرے میں کھڑی سیسکیاں بھر رہی تھی۔
جہانزیب ۔۔۔۔ دیکھو ۔۔۔ میں تمہاری خاطر ہر چیز کو داؤ پر لگا کر آئی ہوں ۔۔۔۔ حتٰی کے اپنی اور اپنی گھر کی عزت وناموس کو بھی ۔۔۔ پلیز مجھے اپنا لو ۔۔۔اب بھی وقت ہے ۔۔۔ میں تمہارے علاوہ کسی اور کی ہو ہی نہیں سکتی ۔۔۔ میں اپنی محبت کو اپنے اور تمہارے گھر کے جھگڑوں میں دفن نہیں کروں گی۔
میں اور فرح بچپن ہی ایک ساتھ کھیل کود کر جوان ہوئے تھے۔ لڑکپن کی معصومیت اور اپنائیت کا رشتہ اب محبت کے عظیم رشتے میں تبدیل ہو چکا تھا۔ مجھے اُس کو اور اُسے مجھے دیکھے بغیر چین نہیں آتا تھا ۔ میرا گھراُس کے گھر کے عین سامنے تھا۔ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ ہماری محبت میں ایسا والہانہ پن آگیا کہ جسے دیکھ کر میرے اور اُس کے گھر والوں نے اشاروں ہی اشاروں میں ہمیں ایک دوسرے سے منسُوب کر دیا ۔ ہم مسرور اور مطمئن تھے کہ ہم خوشنصیب ہیں جنہیں محبت کی منزل بغیر کسی دُشواری کےمل جائےگی۔ مگر قدرت ایک ایسا طوفان ہم دو گھروں کی بیچ لے کر آگئی کہ جس کے بارے میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ میرے اور اُس کے والد ایک ہی فرم میں کام کرتے تھے ۔ وہاں ایک دن رقم کی لین دین کا کچھ ایسا معاملہ اُٹھ کھڑا ہوا کہ ابو اور فرح کے پاپا نے ایک دوسرے پر الزام رکھ دیا ۔ صیح واقعہ کا مجھے آج تک علم نہیں ۔۔۔ مگر وہ واقعہ میرے اور فرح کے گھروں کے درمیان ایسی خلیج پیدا کر گیا کہ فرح اور میرے گھر والوں نے نہ صرف ایک دوسرے سے قطع تعلق کرلیا بلکہ فرح کے والد اپنا گھر بیچ کر کسی اور علاقے منتقل ہو گئے۔
میں نے بہت کوشش کی کہ مصالحت کا کوئی راستہ نکل آئے مگر بے سُود ۔۔ فرح کے پاپا نے تو یہاں تک کہہ دیا تھا کہ وہ اپنی بیٹی کو ختم دیں گے مگر مجھ سے اُس کی شادی نہیں کریں گے۔ فرح نے بھی بہت کوشش کی مگر کوئی حل نہ نکلا۔ میں اور فرح کبھی کبھار چوری چھپے کہیں مل لیتے اور اپنی قسمت کو روتے رہتے۔
ایک سال گذرنے کے بعد فرح کا پاپا نے اُس کی شادی کہیں طے کردی اور ہمیں شادی کا دعوت نامہ بھی بھیجا جسے میرے ابو نے پُرزہ پُرزہ کردیا ۔۔۔۔فرح کی شادی والے دن ہی میری سیٹ اچانک ہی کنفیرم ہوگئی اور گھر والوں کو عُلجت میں میرے کپڑوں کی خریداری کے لئے نکلنا پڑا تھا اور میں گھر رُک گیا تھا کہ جو اور جتنا ہو سکے میں پیکنگ کر لوں ۔ ابو بھی ۔۔ امی اور چھوٹی بہن شگفتہ کے ساتھ چلے گئے تھے (جو کہ عموماً نہیں جاتے تھے) میرے ابو کو یہی یہی دکھ تھا کہ ایک چھوٹی سی غلط فہمی نے اُن کے بیٹے کی محبت چھین لی ، مگر وہ یہ ضرور کہتے تھے کہ بیٹا ! جو ہوگیا سو ہوگیا مگر کوئی ایسا قدم نہ اُٹھانا کہ مجھے اُس دن کی ذلت سے بھی بڑی ذلت دیکھنا پڑے ) ۔۔۔ اور یہ وہی وقت تھا جب فرح سارے رشتوں کو چھوڑ کر میرے گھر میں میرے سامنے کھڑی تھی۔
تُم جواب کیوں نہیں دیتے جہانزیب ۔۔۔ کیا تم ایک قدم بھی بڑھا نہیں سکتے ۔۔۔ دیکھو ۔۔۔ سارا سفر تو میں کر کر آئی ہوں ۔۔۔ تمہیں تو صرف ایک قدم بڑھانا ہے ۔
دیکھو فرح ۔۔۔۔ ! (میں نے کچھ دیر خاموشی کے بعد کہا ) میں اور تم ایک دوسرے کو اچھی طرح جانتے ہیں ۔۔۔ مگر جو قسمت نے اپنا کھیل کھیلا ہے اُسے ہم مات نہیں دے سکتے ۔ میں یہ نہیں چاہتا کہ میں یا تم اپنی محبت ۔۔ اپنے بڑوں کی عزت کی قربانی دے کر حاصل کریں ۔۔۔۔ یہ نہیں ہوسکتا ۔۔۔ پلیز واپس لوٹ جاؤ اب بھی وقت ہے ۔
میرا جواب سن کر وہ ایک دم خاموش ہوگئی ۔۔۔ اُس کے چہرے کا کرب دیکھ کر میری روح میں جیسےشگاف پڑ نے سے لگے ۔۔۔ مگر میں خاموش رہا۔ کچھ دیر توقف کے بعد اُس نے کہا ۔۔ ” تمہارے چہرے سے ظاہر ہوتا ہے کہ تم حتمی ٍفیصلہ کر چکے ہو ۔۔۔ تو میں بھی اب کوئی فیصلہ کر ہی لوں گی ۔۔۔ مگر مجھے اس بات کی اجازت دو کہ میں تمہیں آخری بار چُھو لوں” ۔۔۔ میری خاموشی دیکھ کر وہ خود ہی آگے بڑھی اور میرا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام کر ِٹکٹتی باندھ کر مجھے دیکھتی رہی۔ اس کی آنکھوں میں عجیب سی ایک چمک دیکھ کر مجھے جھرجُھری سی آگئی مگر میں اُسں چمک کو کوئی نام نہیں دے سکا۔
”بس اب میں چلتی ہوں ۔۔۔ ” یہ کہہ کر وہ واپس مڑ گئی مگر اس بار اُس کی چال میں بلا کی خوداعتمادی تھی ۔۔۔۔ اُس نے مجھے مڑ کر دوبارہ نہیں دیکھا اور چلی گئی۔
گھر والوں کے آنے بعد میں نے سامان گاڑی میں ڈالا اور گھر والوں کے ساتھ گاڑی میں بیٹھا ہی تھا کہ غیاث اور شاہد بھی اپنی گاڑی میں آ گئے مجھے خوشی ہوئی کہ میرے دوست میری ایک کال پر مجھے الوادع کہنےآگئے۔ ہم سب ائیر پورٹ پہنچے اور میں سب کی دُعائیں لے کر اور اپنی زندگی یہاں چھوڑ کر پردیس روانہ ہوگیا۔
امریکہ آنے کے بعد جیسے مجھے کوئی وحشت سی ہوگئی ۔۔ کہیں دل نہیں لگتا تھا ۔۔۔ یونی ورسٹی میں شروع کے تین سالوں میں مجھ سے کئی سمسٹر بھی مِس ہوئے۔ میں کبھی کبھار گھر فون کرلیا کرتا تھا ۔۔۔ ویسے توعموماً گھر سے ہی کال آتی تھی۔ میں نے اپنے دوستوں کہ بھی ان آٹھ سالوں میں کبھی فون نہیں کیا۔ ایک عجیب سی بے چینی تھی ایک آگ تھی جو مجھے چین ہی نہیں لینے دیتی تھی ۔
جیسے تیسے میں کمپیوٹر سانئس میں میں نے ایم سی ایس کیا ۔۔ ایک دو سال جاب بھی کی لیکن ایک دن طبعیت ایسی یہاں سے اُچاٹ ہوگئی کہ اگلے ہفتے کی واپسی کی سیٹ کر والی۔
میرے پاکستان پہنچنے پر امی ابو کا خوشی سے بُرا حال تھا ۔شگفتہ کی شادی ہوچکی تھی وہ بھی اپنے تن سالہ بچے اور شوہر کے ساتھ مجھے ملنے آئی تھی۔
سب کے جانے کے بعد میں اپنے اُس کمرے میں چلا گیا، جہاں میری فرح سے آخری ملاقات ہوئی تھی۔ ابھی میں بیڈ پر بیٹھا ہی تھا کہ فون کی بیل بج پڑی۔ میں نے رسیور کان سے لگایا اور ہیلو کہا ۔۔۔ دوسری جانب غیاث تھا ۔۔۔ اُسے جانے کیسے علم ہوگیا تھا کہ میں پاکستان آگیا ہوں ۔ مجھے بہت بُرا بھلا کہا ۔۔۔۔ کہ کبھی پلٹ کر ہی نہیں پُوچھا ۔۔۔ میں نے کہا یار بس غلطی ہوگئی کل گھر آجا ۔۔۔ پھر بات کرتے ہیں۔ کہنے لگا ۔۔۔ ٹھیک ہے میں کل شام کو آؤں گا تجھ لینے مگر تُو صیح ٹائم پر آیا ہے کہ کل شاہد کی شادی ہے ، کسی کو اُس پر رحم آگیا ہے ۔۔۔ میں یہ سن کی بے ساختہ ہنس پڑا ۔۔۔ پتا نہیں کتنی صدیوں بعد ہنسا تھا ۔۔۔ بچپن کے ساتھی اور اچھے دوستوں کی یہی نشانیاں ہوتیں ہیں جن کی قُربت میں انسان کچھ دیر کے لیئے اپنا غم بھول جاتا ہے۔
غیاث شام کو تو نہیں البتہ دوپہر کو ہی آگیا ۔ شاہد اُس کے ساتھ تھا ۔۔۔ ہم باہر گئے اور بچپن کی کئی یادیں تازہ کیں۔ خوب باتیں کیں ۔۔مگر میں نے ایک بات نوٹ کی کہ دونوں نے میرے زندگی کے اُس عظیم سانحے کا ذکر تک نہیں کیا جس نے میری زندگی کو سب سے دُور کر دیا تھا ۔ مجھے خوشی ہوئی کہ وہ مجھے رنجیدہ نہیں کرنا چاہتے۔
شام کو میں اپنی گاڑی میں غیاث کے ساتھ برات کے ساتھ چلا ۔۔۔ مگر جس محلے میں برات جا کر رُکی وہ میرے لئے نیا نہیں تھا ۔۔۔ یہاں میری فرح رہتی تھی ۔ میں نے غیاث کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا تو اُس نے کہا کہ یار ۔۔۔ شاہد کی شادی فرح کے برابر والے گھر میں ہورہی ہے ۔ یعنی فرح کے پڑوس میں ۔۔ مجھے غصہ آیا کہ یہ بات اُس نے پہلے کیوں نہیں بتائی ۔
دسمبر میں کبھی کراچی میں ایسی ٹھنڈ نہیں پڑتی جیسی کہ آج پڑ رہی تھی یا پھر اُس روز پڑی تھی جب فرح اپنا سب کچھ چھوڑ کر میرے پاس آئی تھی ۔
مجھے سگریٹ کی طلب ہوئی تو میں ٹینٹ سے باہر نکل کر آگیا ۔۔۔ پیچھے اندھیرا تھا مگر ٹینٹ کے قمقموں سے کہیں نہ کہیں سے روشنی اسطرح آرہی تھی کہ اندھیرے کا احساس نہیں ہورہا تھا ۔ میں نے ساتھ والے مکان کی دیوار کے پاس کھڑے ہو کر اپنی سگریٹ سُلگائی اور منہ اُوپر کر کے دھواں چھوڑا تو مجھے احساس ہوگیا کہ یہ فرح کا گھر ہے اچانک ہی مجھے چُوڑیوں کی کھنک سُنائی دی ۔ میں نے اپنے دائیں جانب دیکھا تو وہاں فرح کھڑی تھی۔
میں سُن ہوکر رہ گیا ۔۔۔ میرے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ فرح سےکبھی اس طرح ملاقات ہوگی۔۔۔
” کیوں کیا ہوا ۔۔ ؟ اُس دن کی طرح آج بھی تمہیں سانپ سونگھ گیا۔ ”
میں جھینپ گیا ۔۔۔ اور کہا نہیں۔۔۔ یہ بات نہیں ہے دراصل میں نے کبھی سوچا نہیں تھا کہ زندگی میں تم سے یوں اور اس طرح ملاقات ہو جائے گی۔
ا گر دل میں ملنے کا جذبہ ہو تو پھر ملاقات زندگی میں کیا زندگی کے بعد بھی ہو جاتی ہے ۔” اُس نے کہا
۔مجھے معلوم تھا کہ وہ مجھ پر طنز کر رہی ہے جو کہ اُس کا حق بھی تھا۔
وہ کچھ اور قریب آگئی
میں نے دیکھا کہ وہ آج بھی اُسی طرح کے عجلہ عروسی کے جوڑے میں تھی جیسا کہ میں نے اُسے آخری بار دیکھا تھا۔اور آٹھ برسوں نے اُس کے حُسن کو ُچھوا تک بھی نہیں تھا۔
تم نے آج کسی اور کی شادی میں اپنی شادی کا جوڑا کیوں پہن رکھا ہے ۔۔۔ میں نے ماحول کو خوشگوار بنانے کی کوشش کی۔
میں نے یہ اُتارا ہی کب تھا جو دوبارہ پہنتی ۔۔۔ یہ کہہ کر وہ ہنس پڑی تو میں بھی مُسکرا پڑا۔
پتا ہے جہانزیب ۔۔! میں تم کو آج آخری بار دیکھنے کے لئے آئی ہوں ۔ میں نے اس وقت کا پُورے آٹھ برس انتظار کیا ہے کیونکہ میں نے اُس دن جاتے وقت تم کو دیکھا نہیں تھا ۔۔ تم تو جانتے ہو کہ جب بھی ہم تم ملتے تھے ۔۔۔ میں تم کو اُس وقت تک دیکھتی رہتی تھی جب تک میری نظروں سے اوجھل نہیں ہوجاتے تھے۔
اُس کی اس بات نےگویا جیسے میرے دل کے زخموں کو ایک آگ سی لگا دی۔ میں اپنی آنکھوں میں آتی ہوئی نَمی کو روک نہیں سکا ۔ ابھی میں کچھ کہنے ہی والا تھا کہ میرے عقب سے کسی کے قدموں کی آواز سُنائی دی۔ میں نے مُڑ کر دیکھا تو غیاث چلا آرہا تھا۔
یار ۔۔ ! سگریٹ پینی ہی تھی تو ٹینٹ میں ہی پی لیتے ، اتنی سردی میں پینے کی کیا ضرورت تھی ۔۔۔ ویسے بھی یہ کوئی امریکہ نہیں ہے ، یہاں کوئی کچھ نہیں کہتا۔
میں نے فرح کی طرف مُڑ کر دیکھا تو وہ وہاں نہیں تھی ۔۔۔ شاید غیاث کے آنے کی وجہ سے چلی گئی تھی ۔ مجھے ایک دن میں غیاث پر دوسری بار غصہ آیا۔
شادی کی رسومات سے فارغ ہوکر میں اور غیاث واپس گھر پہنچے ۔ آج غیاث کا میرے گھر ہی رات گذارنے کا ارادہ تھا۔ کمرے میں پہنچ کر میں نے ایک بار پھر سگریٹ سلگائی ۔ غیاث مجھے غور سے دیکھتا رہا ۔ کچھ دیر بعد اُس نے کہا ” یار جہانزیب ۔۔۔ مجھے تیرے غم کا ہمیشہ دُکھ رہے گا ۔ کوشش کر کہ تُو اُس کو بُھلا دے ۔ میں نے کچھ نہیں کہا ۔۔۔ بس ایک سگریٹ کا کش لے کر دھواں فضا میں چھوڑ دیا۔
اُس دن کے واقعے کا مجھے ہمیشہ افسوس رہے گا ۔ وہ کہتا رہا ۔۔۔ مجھے معلوم ہے جب تُو نے یہ سُنا ہوگا تو تجھے کتنا دکھ ہوا ہوگا ۔۔۔ شاید اسی وجہ سے تُو نے ہم سب سے کوئی رابطہ نہیں رکھا کہ ہم اُسی واقعے کا ہی ذکر کریں گے۔
میری نظروں کے سامنے فرح کی شادی اور پھر اپنی امریکہ روانگی کا منظر گھوم گیا
اُس روز ہم جب تجھے چھوڑ کر گھر پہنچے تو بارش شروع ہو چکی تھی وہ مسلسل بولتا رہا ۔۔۔ ہمیں بھی اُس کی شادی کا دعوت نامہ ملا تھا مگر میں اور شاہد نہیں گئے ورنہ شاید یہ بات ہمیں اُسی رات معلوم ہوجاتی ۔
یار ۔۔۔ ! وہ تجھے بہت چاہتی تھی ۔۔۔ یہ تو بعد میں صبح مجھے فرح کی گلی میں رہنے والے میرے ایک دوست کے فون کرنے پر معلوم ہوا کہ عین برات کی آمد پر فرح نے خواب آور گولیاں کھا کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا تھا۔

Next Newer Entries