ذاتی استدلال اور رائے ۔ ( اسلام اور موسیقی )

اسلام اور موسیقی کے حوالے سے میں ان تمام دوست و احباب کا مشکور ہوں جنہوں نے اپنی قیمتی رائے اور تبصرہ جات سے نوازا ۔ کچھ سوالات اس ضمن میں اٹھائے گئے ہیں ۔ چونکہ زیادہ تر سوالات میری ہی تحریر اور استدلال کے بارے میں ہے ۔ لہذاٰ میں نے کوشش کی ہے کہ میں اپنا وہ استدلال اور رائے واضع کرسکوں ۔ جس کے بارے میں میرا خیال ہے کہ میں اس کو وضع کرنے میں ناکام رہا ۔ میں اُمید کروں گا کہ بجائے اس کے کہ میرے استدلال ، دلائل اور ثبوت کو زیرِ بحث بنایا جائے ، دوست احباب اپنا استدلال ، دلائل اور ثبوت پیش کریں تاکہ ان کے مطالعہ سے کسی مثبت اور مفید بحث کا آغاز ہوسکے ۔ کسی کی بات پر استدلال پیش کرنا بہت آسان ہوتا ہے ۔ مگر جب یہ استدلال ، دلائل اور ثبوت کے ساتھ سامنے آئے تو ہوسکتا ہے کہ میری کم علمی کیساتھ کسی اور کی غلط فہمیوں کا بھی تدارک ممکن ہوسکے ۔
میں نے تحریر میں جس آیتِ کریمہ کا سب سے پہلے حوالہ دیا ہے ۔میرا خیال ہے آپ احباب اس آیاتِ کریمہ کے ترجمے پر غور کریں تو ان آیات ِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اشیاء کی حرمت کی پانچ اساسات بیان فرمائی ہیں۔
1- فواحش (بے حیائی )
2- اثم (حق تلفی )
3- ناحق زیادتی و سرکشی
4- شرک اور اس سے متعلق ہر شے
5- اللہ کی سند کے بغیر کسی چیز کو دین کے طور پر بیان کرنا (بدعت)
ان آیات کو سامنے رکھ کر یہ بات واضع ہوجاتی ہے کہ قرآنِ کریم میں آلاتِ موسیقی کی ممانعت کا براہِ راست حکم نہیں آیا ہے ۔چنانچہ اس کے بعد ان کی حرمت کے لیے ضروری ہے کہ ان کو مذکورہ بالا میں سے کسی کیٹگری سے متعلق کیا جائے ۔ ظاہر ہے کہ یہ ممکن نہیں ، بلکہ ان کا تعلق تو اس زینت سے ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ ان آیات میں دریافت فرماتے ہیں کہ انہیں کس نے حرام قرار دیا ہے؟
موسیقی کے حوالے سے ممانعت کا جو حکم ہمیں احادیث میں ملتا ہے ، اس کا پس منظر سمجھ لینا چاہیے ۔ رسول اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں آلاتِ موسیقی کا استعمال اپنے ساتھ بڑ ی آلائشیں پیدا کر چکا تھا۔ موسیقی کی محفلیں بیہودہ رقص، عریانی، بے حیائی، فحش کلمات و اعمال ، زنا اور شراب نوشی کے اہتمام کے ساتھ آراستہ کی جاتیں تھیں ۔ظاہر ہے کہ یہ چیزیں دین میں ممنوع اور حرام ہیں ۔ چنانچہ اسی پس منظر میں رسول اللہ علیہ وسلم نے “ سدِّ ذریعہ “ کے اصول پر لوگوں کو موسیقی سے سخت متنبہ کیا کیونکہ اس کے سارے لوازم معثیتِ رب کا باعث تھے ۔تاہم اپنی ذات میں چونکہ آلات موسیقی کوئی ممنوع شے نہیں ، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی پس منظر میں بعض موقعوں پر موسیقی کی اجازت دی ہے ۔جیسے:
’’سیدہ عائشہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور اس وقت میرے پاس دو لڑ کیاں جنگ بعاث کے حوالے سے گانا گا رہی تھیں ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا منہ دوسری طرف پھیر کر لیٹ گئے ۔اتنے میں حضرت ابوبکر تشریف لائے ۔ انہوں نے یہ دیکھا تو ناراضی سے فرمانے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں شیطانی آلات ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر سے فرمایا کہ ابو بکر جانے دو ۔(ایک دوسری روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ جانے دوآج ان کی عید کا دن ہے )۔‘‘
( صحیح بخاری: باب العیدین:527)
اگر موسیقی کے ساتھ کوئی فحش یا سفلی جذبات کو انگیخت کرنے والا کلام پڑھا جائے یا اسی مقصد کے تحت رقص وغیرہ کو ساتھ شامل کر لیا جائے تو ایسی موسیقی کی حرمت میں کسی کو اختلاف نہیں ہے۔ اصل اختلاف اس میں ہے کہ وہ زائد وجہ کون کون سی ہو سکتی ہے جس کے پیش نظر موسیقی کو حرام کہا جا سکتا ہے۔ جمہور علما کے نزدیک ایک بڑی اور بنیادی وجہ موسیقی کا ‘لہو’ ہونا ہے، یعنی یہ ایک ایسی چیز ہے جو انسان پر ایک خاص کیفیاتی لذت طاری کر کے اسے اللہ کی یاد سے غافل کر دیتی ہے۔ اب چونکہ یہ صورت کم وبیش ہر موسیقی میں پائی جاتی ہے، اس لیے جمہور علماء دف کے علاوہ ، جس کی اجازت حدیث میں منصوص طور پر بیان ہوئی ہے، باقی کسی بھی آلہ موسیقی کے استعمال کو ناجائز کہتے ہیں۔ اس کے برعکس بعض دوسرے اہل علم فی نفسہ کسی چیز کے ‘لہو’ ہونے کو حرمت کی کافی دلیل نہیں سمجھتے، کیونکہ دل کو بہلانے والے بہت سے امور کی اجازت شریعت میں ثابت ہے، بشرطیکہ وہ دل کو بہلانے تک محدود رہیں اور انسان اس سے آگے بڑھ کر ان میں اس طرح کھو نہ جائے کہ دین ودنیا کے فرائض اور ذمہ داریوں سے ہی غافل ہو جائے۔ مزید برآں ‘دف’ کی اجازت حدیث سے ثابت ہونے کے بعد دوسرے آلات موسیقی کو فی نفسہ مباح تسلیم نہ کرنے کی بھی کوئی معقول وجہ دکھائی نہیں دیتی، اس لیے کہ ایک دلکش اور سرور بخش آواز پید اکرنے میں تمام آلات موسیقی شریک ہیں، چنانچہ اگر باقی آلات موسیقی کو بھی ‘دف’ پر قیاس کرتے ہوئے فی نفسہ مباح کہا جائے تو بظاہر اس میں کوئی مانع دکھائی نہیں دیتا ۔
احادیث میں دف کے ذکر آنے کا پس منظر بھی یہی ہے کہ دین میں موسیقی “اصلاً “ ممنوع نہیں ۔اصل بات یہ ہے کہ دف کے استعمال میں آسانی کی بناء پر اسے پیشہ ور گانے والوں کے علاوہ عام لوگ بھی استعمال کرتے تھے ، اسی لیے اس کا ذکر آ جاتا ہے ۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ دف اسلامی ساز ہے اور باقی غیر اسلامی۔ عہدِ جدید میں تو آپ کا ٹیلفون ، موبائل، کال بیل وغیرہ سب ہی آلاتِ موسیقی بن چکے ہیں ۔ لہٰذا اصل بات یہ کہ اپنی ذات میں گانا اور موسیقی حرام نہیں ، لیکن جب جب اس میں کوئی دوسری اخلاقی آلائش شامل ہو گی (اور اکثر ہو ہی جایا کرتی ہے ) تو اس سے بچنا ضروری ہوجائے گا۔یہ بات ہمیشہ ملحوظ رکھی چاہیے ۔
ان معاملات میں انسانی نفسیات بہت اہم ہے ۔ اس طرح کے تمام معاملات میں انسانی ذہن جس طرح کام کرتا ہے ۔ اس میں وہ حقیقت کو سمجھے گا ۔ اور پھر حقیقت سے معاملات کا تعلق پیدا کرے گا ۔ یعنی چیز کو اصل میں‌ جانے گا اور پھر دیکھے گا کہ وہ فراء میں کیسے جارہی ہے ۔ یعنی انسانی نفسیات ان طرح کے معاملات کو قانونی زاویئے سے دیکھتی ہے ۔ اس سلسلے میں ایک قاعدہ وجود میں آتا ہے ۔ تاکہ لوگوں کو کوئی سوال کرنے کی ضرورت پیش نہ آئے ۔
اس کے برعکس اگر قرآن کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات واضع ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ طریقہ اختیار نہیں کیا ۔ یعنی اللہ کسی بھی چیز کو قانون کے دائرے میں رکھ کر انسانوں کے سامنے نہیں رکھتا ۔ بلکہ وہ اجمالی ہدایاتیں دیتا ہے ۔ بعض چیزوں کے حددو متعین کرتا ہے ۔ پھر اس کے بعد ایک دائرہ ہوگا جو انسانوں پر چھوڑ دیں گے ۔ کیونکہ انسانی فطرت اور مزاج میں‌ تنوع ہوتا ہے ۔ اس لیئے اللہ اس کا خاص خیال رکھتا ہے ۔
ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہی یہی ہے کہ ہم نے مذہب کو قانونی اصطلاحات میں اسیر کرکے ایک طاقت پر قائم رہ جانے والا نظام بنا کر پیش کیا ہے ۔ ہمارا معاشرہ ہو یا ریاست ، اس نے دین کے احکامات کی اخلاقی روح کو اقدار بنانے کے بجائے دین کے احکام کو مجموعہِ قوانین بنا کر اس کو بلا لحاظ نافذ کردینے کا ایک تصور پال رکھا ہے ۔ جو ہمارے یہاں ایک تنوع ، جبر اور ناکامی کا سبب بنا ہے ۔ جب ہم اسلام کو لوگوں کے سامنے پیش کر رہے ہوتے ہیں تو ایسا نہیں ہوتا کہ ہم اقدار پر مبنی کسی تصور کی بات کررہے ہیں بلکہ ہم قوانین پر ایک فکر کو فروغ دے رہے ہوتے ہیں جس پر ہمارا تمام اصرار اسی بات پر ہوتا ہے کہ یہ قانین نافذ کر دیئے جائیں یا یہ حدودِ قوانین آجائیں تو اس سے فلاح آسکتی ہے لہذاٰ اس طرزَ عمل سے اقدار کا جو تصور ہوتا ہے، وہ مجروع ہوجاتا ہے ۔ اسلام بنیادی طور پر اقدار پیدا کرنا چاہتا ہے ۔ مگر ہم اس کو ایک قانونی شکل دیکر معاشرے میں سختیاں اور رکاوٹیں پیدا کردیتے ہیں ۔ اور علامہ اقبال نے بھی شاید اسی بناء پر کہا تھا کہ “ مسلمانوں نے پانچ سو سالوں سے سوچنا چھوڑ دیا ہے ۔ “
موسیقی جائز ہے ، ناجائز ہے ، حلال ہے یا حرام ہے ۔ یہ اپنا زاویہِ نظر اور استدلال ہے ۔ اور یہ زاویہِ نظر اور استدلال اپنے مکتبِ فکر کا محتاج ہے ۔ میری ساری بات کا ماخذ یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جتنی بات فرمائی ہے ۔ ہم اس کو صرف اُتنا ہی رہیں دیں ۔ اس کے بعد اس باتوں پر اپنا کوئی استدلال پیش کرنا کوئی بری بات نہیں ہے ۔ مگر ہم اس کو فرمانِ الہی بھی نہیں بنا سکتے ۔ یہ درست ہے کہ گانوں کی شکل میں جو موسیقی ہر جگہ سنی اور سنائی جا رہی ہے ، اسے قابل قبول قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس طرح کی موسیقی سے پرہیز ہی کرنا چاہیے۔ “ لیکن دین کی اصولی بات بھی اپنی جگہ ہے ۔ اصولاً موسیقی کو ناجائز قرار دینے کی کوئی دلیل نہیں ہے “ ۔ ( میری ساری تحریر کا سارا ماخذ ہی یہی کلیہ تھا ) البتہ موسیقی کے عمومی استعمال میں جو قباحت موجود ہے ، اسے سامنے رکھتے ہوئے اگر استعمال درست نہ ہو تو یہ گنا ہ ہے۔ جائز موسیقی کی بعض صورتیں ہمارے ہاں بھی موجود ہیں، جیسے جنگی اور ملی ترانے ، حمدیہ اور نعتیہ کلام ، اچھے مضامین کی حامل غزلیں اور نظمیں ، جنھیں آلات موسیقی کے ساتھ اور فن موسیقی کے مطابق گایا جاتا ہے ، موسیقی کے صحیح استعمال کی مثالیں ہیں۔
چند دوستوں نے موجودہ تحریر کو سطحی قرار دیا ہے ۔ میں‌ ان کے کمنٹس کا احترام کرتا ہوں کہ میں‌ ایک طالب علم ہوں اور وہ بہت بڑے عالم ہیں ۔ مگر میں‌ نے جن علماء کی کتابوں کا تذکرہ اپنی جس تحریر میں کیا ہے ۔ اس کا مطالعہ شاید ابھی تک کسی نے نہیں کیا ۔ کیونکہ براہ راست ان کتب پر کوئی تنقید میرے سامنے اب تک نہیں آئی ہے ۔ ( واللہ عالم )

Advertisements

3 تبصرے (+add yours?)

  1. دوست
    دسمبر 21, 2010 @ 09:20:44

    سائیں مسئلہ سارا یہ ہے کہ دین پر تحقیق ہوچکی، اجماع امت ہوچکا چاہے یہ اجماع ہزار سال پرانا ہو اور سڑ کر سواہ ہوا چکا ہو لیکن اس اجماع پر قائم رہنا، ققہاء کے اقوال و مذہب پر سختی سے قائم رہنا ہمارا فرض ہے۔ چونکہ ہم نے سوچنا بند کردیا ہے۔
    موسیقی کے حوالے سے میرے احباب دلائل کے ڈھیر لگا سکتے ہیں کہ یہ حرام ہے، اور یہ طعنے بھی دے سکتے ہیں کہ آج کونسی موسیقی ہے جو "حلال” ہونے کے دائرے میں آئے گی۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ اور کچھ ہو نہ ہو، بڑے غلام علی خاں کے پکے راگ، مہدی حسن اور نصرت کی گائی غزلیں کم ازکم "حرام” نہیں ہوسکتیں۔ موسیقی جو آپ کو سکون دیتی ہے، تھکے ہوئے ذہن کی ٹکور کرتی ہے وہ حلال ہے، بطور مسلمان میرا یہ عقیدہ ہے اور میں نے بڑی احتیاط سے مطالعہ کرنے کے بعد اسے قائم کیا ہے۔ اور میں اکیلا نہیں ہوں، کچھ اور روایت شکن بھی ہیں جو ایسے سوچتے ہیں، اور آج نہیں پچھلے 1400 سال سے ایسا سوچتے، کہتے، لکھتے آرہے ہیں۔ اس لیے میں موسیقی کو متنازع مسئلہ قرار دیتا ہوں جس پر امت کا کبھی اتفاق نہیں ہوسکا۔

    جواب

  2. عثمان
    دسمبر 21, 2010 @ 10:56:19

    خوبصورت تحریر ہے۔ اور اتنا ہی خوبصورت دوست بھائی جان کا تبصرہ ہے۔
    باقی یہ ہے کہ آپ جتنے مرضی دلائل لے آئیے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ تقلید پرستی بھی کوئی چیز ہے آخر۔ جن سے آپ مخاطب ہیں ، ان کا پرنالہ وہیں گرنا ہے: فلاں روایت ، فلاں فتوہ۔ اتنے سوسال پہلے فلاں بزرگ نے اس پر یہ تبصرہ دے ڈالا اب تم کون ہوتے ہو "نئی اختراع” کرنے والے۔ یہ استدلال کا کھیل ہی نہیں۔ اندھی تقلید پرستی کا چکر ہے۔ ورنہ اقبال کی شاعری یا پاکستان کے ملی نغمے کو اگر میں کسی ساز اور دھن پر گانا شروع کردوں تو اس میں "حرام و حلال” کا بکھیڑا کہاں سے آگیا ؟

    جواب

  3. zafriusa
    دسمبر 22, 2010 @ 03:38:19

    شاکر اور عثمان ۔۔۔ میں‌ آپ لوگوں کے تبصرہ جات پر آپ کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ آپ نے میرے اس نکتہِ نظر پر غور کیا جو میں اپنی مسلسل دو تحریروں میں واضع کرنے کی کوشش کر رہا تھا ۔
    عثمان نے ایک ایسے مسئلے کی طرف اشارہ کیا ہے ۔ جو ہماری ساری خرابیوں کا باعث ہے ۔ اور وہ ہے تقلید ۔ میری تحریروں پر زیادہ تر جو تبصرے ہوئے ۔ان میں مجھے ‌تقلید کا ہی عکس نظر آیا کہ ایک بات جو اپنے مکتبِ فکر سے ہمیشہ سنتے ہوئے آئے ہیں ۔ وہ کیسے آج مختلف ہوگئی ۔
    دراصل بات یہ ہے کہ فطری طور پر ایک عام آدمی کے لیئے ضروری نہیں ہے کہ وہ ہر بات پر دلیل طلب کرنے لیئے کھڑا ہوجائے ۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ وہ مناظرہ کرے ۔ یہ ضروری نہیں ہے وہ مباحثہ کرے ۔ یہ ضروری نہیں ہے کوئی بات اس کو بتائی جائے تو وہ اس بات پر اعتراض کرے کہ اچھا بتایئے کہ یہ آپ کہاں سے کہہ رہے ہیں ۔ ؟ عام طور پر یہاں اعتماد کیا جاتا ہے ۔ خرابی یہاں سے پیدا نہیں ہوتی ۔ دراصل خرابی وہاں سے پیدا ہوتی ہے جب ہم فطری حدود سے تجاویز کرکے ایک قدم آگے بڑھا دیتے ہیں ‌اور باقاعدہ ایک شرعی حیثیت سے “ تقلید “ کو بیان کرتے ہیں ‌۔ کہ چوتھی صدی کے بعد اب کسی صاحبِ علم کے پاس اصول و فرو میں کوئی رائے قائم کرنے کی گنجائش باقی نہیں رہی ۔ یہ وہ چیز ہے جہاں سے اصل خرابی کا آغاز ہوا ہے ۔ ایک عام آدمی کا فطری طور پر ماہرین کے پاس جانا ، ان سے رائے لینا ، ان سے معلومات حاصل کرنا ایک عام فعل ہے ۔ اگر وہ ان سے پوچھ لیتا ہے کہ یہاں بات کہاں سے آئی تو اس کو اگر بتا دیا جائے کہ یہ بات قرآن یا حدیث میں‌ بیان ہوئی ہے ۔ تو بات ختم ہوجاتی ہے ۔ مگر اگر وہ پھر بھی وہ کوئی تردود رکھتا ہے تو یہ کوئی معیوب بات نہیں ہے ۔ کہ سارے لوگ ایسی باتیں‌ پوچھتے ہیں ۔ مگر خرابی کا آغاز یہاں سے ہوتا ہے جب علماء نے اپنے اوپر یہ بات لازم کرلی کہ اگر وہ حنفی ہیں‌ تو پیدائشی حنفی ہیں ۔ اب ان کو شافعی کی کسی رائے کو تسلیم نہیں کرنا ۔ اگر شافعی ہیں تو ان کے لیئے حرمت کے درجے میں یہ بات ہے کہ انہیں امام مالک کی کوئی رائے نہیں‌ ماننی ۔ یہاں عامی زیرِ بحث نہیں ہے ۔ کیونکہ اگر کسی عامی سے کہا جائے کہ اس کو سلسلے میں کسی ماہرِ علم کی طرف رجوع کرنا چاہیئے تو کون اس سے اختلاف کرے گا ۔ کسی عام آدمی سے کہا جائے کہ وہ اپنی صحت کے معاملے میں کسی ماہرِ طب سے رجوع کرے تو کوئی بھی عالم اس سے اختلاف نہیں کرے گا ۔ مصبیت یہاں پیدا ہوئی ہے کہ اہلِ علم اپنے اوپر یہ چیز حرام قرار دیتے ہیں ۔ اب وہ یہ کہتے ہیں جو حنفی پیدا ہوا ہے وہ حنفی مرے گا ۔ جو شافعی پیدا ہوا ہے وہ شافعی مرے گا ۔ کسی حنفی کے شافعیت اختیار کرنا اور شافعی کے لیئے حنفیت اختیار کرنا یا کسی اور کی رائے کو تسلیم کرنا یہ حرمت کے درجے میں ہے ۔ دراصل یہ وہ چیز ہے جو آئمہ کو پیغمبر کا درجہ دیدیتی ہے ۔ جس کے بعد دین کے تمام نصوص بےمعنی ہوجاتے ہیں ۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی علیہ وآلہ وسلم اور امام ابو حنیفہ ، امام مالک ، امام شافعی اور دوسرے آئمہ میں کوئی فرق باقی نہیں رہتا ۔ لہذا اس خرابی کی اصلاح علماء کے درمیان کرنے ضرورت ہے ۔ عام آدمی تو لکیر کا فقیر ہوتا ہے ۔ اس کو آپ اجتہاد کرنے کو کہہ دیں گے تو پتا نہیں وہ کیا کردے گا ۔ عام آدمی کبھی یہ کام نہیں کرتا ۔ دین میں نہیں ‌کرتا ، طب میں نہیں ‌کرتا ، سائنس میں نہیں کرتا ، کسی میں نہیں کرتا ۔ مگر عالم یہ کہتا ہے کہ ہم کو دین پر براہِ راست غور نہیں‌ کرنا ۔ آپ ان کے سامنے قرآن کی کوئی آیات پیش کردیں وہ کہتے ہیں ہمارا امام یہ کہتا ہے ۔ آپ ان کے سامنے حدیث پیش کردیں وہ کہتے ہیں ہمارا مسلک یہ کہتا ہے ۔ ( جیسا کہ کچھ تبصروں میں یہ بات نمایاں ہے ) ۔ یہ وہ چیز ہے ۔ جس نے آئمہ کو پیغبر کا درجہ دیدیا ہے اور امت میں اتحاد ، اتفاق اور مکالمے کے راستے بند کردیئے ہیں‌ ۔ لہذا اب میں کسی سے مکالمہ نہیں‌کرسکتا ، کیونکہ میں قرآن و حدیث کے سارے نصوص سامنے رکھ دوں گا ۔ یہ کہیں گے کہ ۔۔۔ جی ۔۔۔ میرا مسلک یہ ہے ۔ جب اس طرح کا معاملہ پیش آئے گا تو پھر کیسا مکالمہ ، کیسا اجتہاد ، کیسا اتحاد اور پھر کیسا اتفاق ۔ موسیقی کے حوالے سے ایک ضمنی مقالہ لکھا گیا ہے ۔ مگر آپ دیکھ لیں مکتبِ فکر کو بنیاد بناکر اصل بات کو پسِ پشت ڈال کر کس کس طرح کی تاولیلیں پیش کی گئیں ہیں‌ ۔ بات وہیں آجاتی ہے جیسا کہ شاکر نے کہا ، دلائل کے ڈھیر لگ جائیں گے ، طعنے اور فتوؤں کا طوفان برپا ہوجائے گا ۔ اور ہم روایت شکن کہلائیں گے ۔
    بات خاصی طویل ہوگئی ہے ۔ باقی آئندہ کے لیئے ۔ 🙂

    جواب

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: