ماچس کا ٹینک

زندگی میں بچپن کے دن بھی بہت عجیب ہوتے ہیں ۔ لاکھ بھلاؤ مگر نہیں بھولتے ۔ کیونکہ بہت سی اچھی یادیں ان دنوں سے وابستہ ہوتیں ہیں ۔ ان دنوں نہ کوئی فکر ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی فاقہ ۔ لہذا زیادہ تر لوگوں کا بچپن مختلف دلچسپ واقعات سے بھرا ہوتا ہے ۔ میں نے “ یادِ رفتگاں “ کے عنوان سے ایک زمرے کا آغاز کیا ہے ۔ جہاں میں اپنے بچپن سے ڈھونڈ ڈھونڈ کر کچھ دلچسپ واقعات آپ کے ساتھ شئیر کروں گا ۔ یہاں سب کو اجازت ہوگی کہ وہ بھی اسی نوعیت کے دلچسپ واقعات یہاں شئیر کرسکتے ہیں ۔
ماچس کا ٹینک :
ابو کے ایک دوست تھے ۔ بہت تند مزاج اور بہت جلد تپنے والے ۔ معلوم نہیں ان کو مجھ سے کیا پُرخاش تھی کہ میرے بارے میں ابو سے اکثر شکایتیں لگایا کرتے تھے کہ میں آج وہاں کھڑا ہوا تھا ، کل وہاں بیٹھا ہوا تھا ۔ دن کو گیا رہ بجے میرے گھر کے سامنے سے گذرا تھا ، کیا آج کل کالج نہیں جا رہا ؟ وغیرہ وغیرہ ۔ ابو بھی ان کی ” شکایت ” یا یوں کہہ لیں کہ ان کی فرمائش پر میری خوب کھنچائی کرتے تھے ۔ ایک دن میں Living Room میں بیٹھا ایک نئے کھیل کی ایجاد میں مصروف تھا کہ دروازے پر دستک ہوئی ۔ میں باہر گیا تو موصوف تھے ۔ انہوں نے ابو کے بارے میں پوچھا ، میں نے کہا “مسجد نماز پڑھنے گئے ہوئے ہیں “۔ انہوں نے درشتی سے کہا ” تم کیوں نہیں گئے ” ۔ دل تو چاہا کہوں کہ “ آپ یہاں کیا کر رہے ہیں “ ۔ مگر چپ رہا ۔ خیر وہ اندر آگئے ۔ انہوں نے دیکھا کہ میز پر ماچس کی تیلیاں بکھری پڑیں ہیں اور ساتھ ہی ماچس کا ڈبہ رکھا ہوا ہے ۔ کہنے لگے “ برخوردار سگریٹ پینے لگے ہو کیا ؟ “ ۔ مجھ سے رہا نہیں گیا اور سوچ لیا کہ اب ان کی کلاس لی جائے پھر جو ہو سو ہو ، دیکھا جائے گا ۔
میں نے کہا : ” نہیں انکل ۔۔۔۔ ایک قسم کا کھیل رہا تھا ۔ ”
” یہ کس قسم کا کھیل ہے ” انہوں نے شکی لہجے سے پوچھا ۔
یہ ایک فوجی کھیل ہے اگر آپ چاہیں تو کھیل سکتے ہیں ۔
شکی تو وہ تھے ہی ، لہذا یہ دیکھنے کے لیئے کہ میری بات صحیح ہے یا نہیں ، انہوں نے کھیلنے پر رضامندی ظاہر کردی ۔
میں نے ماچس کی کچھ تیلیاں میز پر ایک ساتھ رکھ کر ایک لکیر سی بنا دی ۔ اور اسے باڈر کا نام دیا ۔ پھر لکیر کی دوسری طرف ( یعنی ان کی طرف ) ماچس کی ڈبیہ میں ماچس کی ایک تیلی کچھ اس طرح آگے پھنسا دی جیسے وہ ماچس کی ڈبیہ گویا ایک ٹینک ہے ۔ اور خود اپنی طرف دو تیلیاں لیکر ایک تیلی کو رنگروٹ اور دوسری تیلی کو جرنیل کا نام دیکر کر اپنے ہاتھوں میں پکڑ لیں ۔
میں نے کہا ” انکل یہ باڈر ہے ۔ آپ کے پاس ٹینک ہے ۔۔۔ لہذا آپ منہ سے ٹینک کی آواز نکالتے ہوئے اس ٹینک کو آہستہ آہستہ کھسکاتے ہوئے بارڈر کی طرف لائیں ۔ ایک لمحے انہوں نے میری طرف بڑی عجیب نظروں سے دیکھا مگر پھر منہ سے آواز نکال کر آہستہ آہستہ ” ٹینک ” آگے بڑھانا شروع کردیا ۔
میں نے اپنی ہاتھ میں پکڑی ہوئی ایک تیلی ( جرنیل ) کو ہلایا اور دوسری تیلی ( رنگروٹ ) کو کہا کہ جاؤ دیکھ کر آؤ کہ اطلاع ملی ہے باڈر کی طرف دشمن کا ایک ٹینک آرہا ہے ۔
رنگروٹ لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہوا باڈر کی طرف گیا اور سرحد کے اس پار دیکھا اور پھر اسی طرح واپس آیا اور کہا ۔
جناب سرحد پر کوئی خطرہ نہیں ۔۔۔ ایک بیوقوف ماچس کا ٹینک بنا کر لارہا ہے ۔
اس واقعے کے بعد بس اتنا ہوا کہ ابو نے اس جنگ کے نتیجے میں‌ ، مجھے کچھ‌ اس طرح تمغوں سے نوازا کہ میں کئی دن تک تشریف رکھنے کی قدرتی صلاحیت سے محروم ہوگیا ۔

Advertisements

22 تبصرے (+add yours?)

  1. ابوشامل
    جنوری 24, 2011 @ 22:41:14

    ہاہاہاہا ۔۔۔۔۔۔
    بہت خوب ظفری بھائی۔ ایسے واقعات ضرور شیئر کیجیے گا۔

    جواب

  2. یاسر خوامخواہ جاپانی
    جنوری 24, 2011 @ 22:43:45

    ہاہاہا
    بہت خوب۔

    جواب

  3. شگفتہ
    جنوری 24, 2011 @ 22:58:03

    ہاہاہا
    ہاہاہاہاہاہاہاہا

    مجھے اتنی ہنسی آرہی ہے پڑھ کر ، پروفیسر آپ نے پوچھ ہی لینا تھا کہ "انکل ، آپ مسجد چھوڑ کر یہاں کیا کر رہے ہیں ؟” لیکن پھر دشمن سرحد پار سے ماچس کا ٹینک بنا کر کیسے لا پاتا 🙂

    جواب

  4. Asma
    جنوری 24, 2011 @ 23:52:33

    :)…..Interesting event from the past

    جواب

  5. عدنان مسعود
    جنوری 25, 2011 @ 00:02:59

    بہت خوب جناب، ہنسی روکنا محال ہے

    جناب سرحد پر کوئی خطرہ نہیں ۔۔۔ ایک بیوقوف ماچس کا ٹینک بنا کر لارہا ہے

    ان الفاظ کو سننے پر ان صاحب کے چہرے کے تاثرات کا تو بس اندازہ ہی لگایا جا سکتا ہے۔

    جواب

  6. عثمان
    جنوری 25, 2011 @ 00:05:52

    😛

    جواب

  7. عامر شہزاد
    جنوری 25, 2011 @ 00:16:39

    پڑھ کر مزا آ گیا (:

    جواب

  8. محمد احمد
    جنوری 25, 2011 @ 00:53:13

    بہت خوب ظفری بھائی!

    یعنی سو سنہار کی اور ایک لوہار کی۔

    جواب

  9. Imran
    جنوری 25, 2011 @ 04:17:57

    زبردست ظفری بھائی۔۔۔ مزہ آ گیا پڑھ کر۔۔۔

    جواب

  10. sabir786
    جنوری 25, 2011 @ 05:37:06

    بہت عرصہ پہلے اُردو محفل پر پڑھا تھا۔ آج دوبارہ پڑھ کر بھی اتنا ہی ہنسا ہوں۔

    جواب

  11. Zafri
    جنوری 25, 2011 @ 07:39:57

    فہد بھائی :
    ایسے بہت سے واقعات ہیں ۔ جن میں وقتاً فوقتاً یہاں شئیر کرتا رہوں گا ۔ مگر یہاں آنا نہ بھولیئے گا ۔
    یاسر :
    پسندیدگی کے لیئے شکریہ
    شگفتہ جی :
    بلکل بجا فرمایا آپ نے ۔ ان موصوف کے مذید واقعات ہیں ۔ جیسے موقع ملا ۔ ضرور شئیر کروں گا ۔ اور ہاں ہنسنا نہ بھولیئے گا ۔ 🙂
    اسماء:
    آپ کی تشریف آوری کا شکریہ ۔ اللہ کا شکر ہے کہ میرا ماضی ایسا نہیں کہ “ یادِ ماضی عذاب ہے الہی “ اس لیئے آپ کو اور بھی دلچسپ واقعات یہاں پڑھنے کو ضرور ملیں گے ۔ آتی رہیئے گا ۔ 🙂
    عدنان مسعود :
    یقین کریں ایک لمحے کے لیئے تو ان موصوف کو علم نہیں ہوا کہ ان کے ساتھ ہوا کیا ہے ۔ جب انہوں اس کا احساس ہوا تو سب سے پہلے انہوں نے آواز نکالنا بند کی اور ماچس کی ڈبیا پھینک کر باہر نکل گئے ۔ اور مجھے پورا یقین ہے کہ وہ اپنے گھر جانے کے بجائے مسجد کے دروازے پر ہی ابو کو یہ روئیداد سنانے کے لیئے کھڑے ہوگئے ہونگے کہ ابو نے مسجد سے واپسی پر امی سے میرا پوچھا اور پھر جس ہاکی سے میں نے سب سے زیادہ گول کیئے تھے ۔ اسی سے مجھے گنے اور دیکھے بغیر جنگی تمغوں سے خوب نوازا ۔ 🙂

    جواب

  12. Zafri
    جنوری 25, 2011 @ 07:45:40

    عثمان:
    پسندیدگی کا شکریہ
    عامر شہزاد :
    شکریہ بھائی ۔ آتے رہیئے گا
    محمد احمد:
    تشریف آوری کا شکریہ ۔ اور پسندیدگی کے لیئے بھی آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں ۔
    عمران :
    شکریہ عمران بھائی ۔ اور شب و روز کیسے جا رہے ہیں ۔ ؟
    صابر 786:
    تشریف آوری کا شکریہ ۔ ارے آپ اردو محفل پر بھی آتے جاتے رہے ہیں ۔ کبھی آپ کو وہاں اس نک سے نہیں دیکھا ۔ یہ بات صحیح ہے کہ وہاں ایک ٹاپک “ کبھی آپ نے کسی کو چھیڑا “ پر میں نے اس سمت کئی اور واقعات شئیر کیئے تھے ۔ ان شاءاللہ انہیں بھی یہاں شئیر کروں گا ۔ مگر کمال ہے کہ آپ کو اب تک وہ ٹاپک یاد رہا ۔ :)‌

    جواب

    • sabir786
      جنوری 25, 2011 @ 10:41:58

      ظفری بھائی میں نے بڑی دیر بعد ایسے ہی آج ورڈ پریس پر لاگ ان کیا تھا۔ جب میں آپ کے بلاگ پر پہنچا اور کمنٹ کر دیا تو پتا چلا کہ میں اس نام سے کہیں بھی کمنٹ نہیں کرتا اور میں محفل پر "محمدصابر” کے نام سے موجود ہوں۔ آپ کی طرح سبز رنگ میں۔ وہاں میں نے "مراسلہ ڈھونڈیے” کے نام سے ایک دھاگہ شروع کیا تھا جس میں کسی نے آپ کا وہ مراسلہ ڈھونڈنے کے لئے کہا جس میں ماچس کا ذکر ہے۔ میں نے ایک ڈھونڈ لیا لیکن بعد میں شاید شمشاد بھائی نے آپ کے اس مراسلے کا لنک دیا تو میں نے پڑھا تو کافی دیر تک ہنستا رہا۔

      جواب

  13. دوست
    جنوری 25, 2011 @ 09:24:08

    ہاہاہاہہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہا

    جواب

  14. بلاامتیاز
    جنوری 25, 2011 @ 12:55:05

    ہا ہا ہا ہا
    ظفری بھائی
    یقین کیجیئے
    میں پچھلے پندرہ گھنٹوں سے دفتر میں ہوں ۔۔
    ابھی اپنے کسی بلاگ پر تبصرہ کیا تو مجھے اس کا نوٹیفیکیشن آ گیا
    اس کے دیکھتے دیکھتے اپ کے بلاگ پوسٹ پڑھ لی
    ِپ کا واقعہ پڑھ کر طبیعت تازہ ہو گئی۔ میری ادھی سے زیادہ تھکن دور ہو گئی۔۔
    خوش رہیے

    جواب

  15. hijabeshab
    جنوری 25, 2011 @ 15:10:55

    ظفری ، کالج کا زمانہ اور بچپن کا واقعہ کیا یہ کھلا تضاد نہیں ۔۔۔ جبھی آپ اب تک بڑے نہیں ہوئے 😛

    جواب

  16. Zafri
    جنوری 25, 2011 @ 23:08:11

    شاکر :
    یار ۔۔۔ کل سے ہنس رہے ہو ۔ بس ذرا اگلے واقعہ کے لیئے اب تیار ہوجاؤ۔ 🙂
    بلاامتیاز:
    چلیئے ہماری روئیداد کسی کے تو کام آئی ۔ خوش رہیئے ۔ اگلی تھکن اتارنے کے لیئےاسی بلاگ پر “ چند حسینوں‌کے خطوط ، چند تصویرِ بتاں “ پڑھنا نہ بھولیئے ۔ اُمید ہے مذید لطف اندوز ہونگے۔ اور ہاں بلاگ پر آمد کے لیئے مشکور ہوں ۔
    حجاب:
    خاتون ۔۔۔۔ کالج اور بچپن کو کہاں ایک دوسرے سے نتھی کرتیں ہیں آپ ۔ میرے بارے میں تو آج بھی یہ تبصرے ہوتے ہیں “ یار تمہارا بچپن نہیں گیا ۔ “ 🙂 ۔ اس سے آپ کی بات بھی ثابت ہوجاتی ہے ۔
    بائی دے وے اگر کوئی آپ کے بلاگ پر بھی آپ کی معصوم معصوم باتیں پڑھے تو وہ بھی یہی کہے گا “ واقعی بچپن کی کوئی عمر نہیں ہوتی ۔ “ 🙂

    جواب

  17. hijabeshab
    جنوری 26, 2011 @ 04:35:24

    میری باتیں معصوم ہوتی ہیں مان لیا 😳

    جواب

  18. Zafri
    جنوری 26, 2011 @ 22:49:22

    صابر :
    ارے تو آپ وہ صابر ہیں ۔ چلیں اسی بہانے آپ سے تعارف تو ہوا ۔ ورنہ ایک عرصے سے صرف آپ کا نام ہی دیکھ رہے تھے ۔ اردو محفل پر ۔
    حجاب :
    ماننے سے کیا ہوتا ہے ۔ یقین بھی تو آنا چاہیئے ۔ 🙂

    جواب

  19. محب علوی
    جنوری 27, 2011 @ 00:43:36

    بہت عمدہ ظفری ۔

    حقیقت یہ ہے کہ تمہاری انہی دلچسپ اور لطیف پوسٹس کی وجہ سے تمہاری شہرت عام ہے 🙂

    ویسے سچ بتاؤ یہ واقعات ہوتے بھی ہیں یا تمہارے تخیل کی اڑانیں ہیں

    جواب

  20. hijabeshab
    جنوری 27, 2011 @ 13:03:27

    مجھے تو یقین ہے ظفری ۔۔ جو کچھ میں ہوں ویسا ہی لکھتی ہوں ۔۔ یقین تو پڑھنے والوں کو آنا چاہیئے ۔۔

    جواب

  21. Zafri
    جنوری 28, 2011 @ 01:44:24

    محب :
    ذرا میرے ساتھ کچھ دن تو گذارو ۔ اپنے ساتھ تم کو بھی نہیں‌ پِٹوایا تو معلوم ہوجائے گا کہ یہ اصل میں واقعات ہیں یا پھر تخیل کی پروازیں ۔ 🙂
    ہمیشہ کی طرح پسندیدگی کا شکریہ ۔
    حجاب :
    یقین مانیں ! یقین تھا تو اس لیئے تو لکھا کہ “ آپ کی معصوم باتیں “ ۔ میری اس بات سے سب اتفاق کریں گے کہ آپ کی باتوں میں معصومیت اور سادگی انتہائی درجے کی ہوتی ہے ۔

    جواب

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: